ہما رے ملک کے دشمن تو کئی ہیں لیکن ہماری سرحد سے جڑا ہوا بھارت ہمارے خلاف جو کردار ادا کرتا ہے وہ سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور اس کے لیے ایسا کرنا بہت آسان بھی ہو جاتا ہے کیونکہ اُس کو نہ تو لمبا سفر کرنا پڑتا ہے اور نہ ہی اُس کے لوگوں کی پہچان آسان ہوتی ہے بلکہ یوں کہیے کہ ایک جیسی شکل و صورت اور زبان کی وجہ سے بسا اوقات ایسا ممکن ہی نہیں رہتا اور اس چیز کا وہ دہرا فائدہ بھی اٹھاتا ہے اور بھارت میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پاکستان کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔ دہشت گرد خود بناتا ہے خود اُن سے دہشت گردی کرواتا ہے خود ہی گرفتار کرتا ہے اور انہیں پاکستانی بنا کر پیش کر دیتا ہے ایسے کئی واقعات ثابت ہو چکے ہیں جن کے ملزمان کو پہلے پاکستانی بنا کر پیش کیا گیا لیکن بعد میں وہ بھارتی ہی ثابت ہوئے۔ اور ایسے واقعات تو بے شمار ہیں جو بعد میں ہر انداز سے بھارت اور اس کے اداروں کی سازش ثابت ہوئے ۔ جن میں ممبئی حملوں کے بارے میں بھارت کے ہی کچھ لوگوں نے انکشاف کیا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی بھارت کے اندر ہی ہوئی ۔ بھارت جیسے ملک کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں کہ وہ اپنے چند لوگوں کو مروا کر دنیا کی ہمدردی سمیٹے اور پاکستان کو بدنام کرکے اسے دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کرے اور ایسی ہی ایک کوشش کی ایک بار پھر بھارت میں منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کے لیے آئی ایس آئی کو پہلے ہی نا مزد کر لیا گیا ہے ۔ اخبار دکن کرو نیکل میں نام راتھا بی جی اہوجا کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنے دہشت گرد راجھستان کے راستے بھارت میں داخل کر دئیے ہیں جوپُونے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ان کا مقصد ہندو شخصیات اور اہم مقامات پر پہنچ کر اِن پر حملے کرنا ہیں ان میں خاص کر معاشی اور تجارتی اہمیت کے مقامات پر حملے کرنا شامل ہیں۔ اِن میں ریزروبینک ،ممبئی سٹاک ایکسچینج ، تہار جیل دہلی، بی ایس ایف ہیڈ کوارٹرز جالندھر،پٹیالہ جیل پنجاب اور اوانتی پورا جموں کشمیر شامل ہیں۔ مضمون میں کہا گیا ہے آئی بی نے منصوبہ بندی کی تمام معلومات قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دے دی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ منصوبہ بندی آئی ایس آئی نے کی ہے تو اس کی ہر قسم کی اور مکمل معلومات آئی بی یا را کو کیسے فراہم ہو گئیں ۔ کیا آئی ایس آئی اتنی ہی نا پختہ کار ہے کہ اُس کا منصوبہ نہ صرف یہ کہ طشت از بام ہوا بلکہ تمام تر تفصیلات کے ساتھ ہوا۔ بات دراصل یہ ہے کہ ایسے منصوبے راء بناتی ہے اِن پر عمل در آمد کرتی ہے اور پھر آئی ایس آئی کو ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے۔ بھارت میں اس وقت بھی شدت پسند دہشت گردوں کی حکومت ہے اور کم از کم نریندرمودی کی دہشت گردی تو اتنی سقہ ہے کہ اِس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے اگر چہ بھارتی ذہنیت ہمیشہ سے ایک جیسی ہی رہی ہے لیکن اب تو اس میں جو شدت آئی ہے اُس کو حکومت کی کامیابی سمجھا جارہا ہے کیونکہ ان کا سربراہ خود ایک دہشت گرد ہے۔ 
پاکستان بھارت کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے جتنی بھی کوشش کرے یہ یک طرفہ کوشش کامیاب ہو ہی نہیں سکتی جب تک کہ دوسری طرف بھی خیر سگالی کے جذبات نہ ہوں۔جبکہ دوسری طرف سے نہ صرف الزامات لگانے کا سلسلہ جاری ہے بلکہ پاکستان کے خلاف عملی اقدامات بھی زیادہ زور پکڑ رہے ہیں، سرحدی خلاف ورزیاں اس کا کھلا ثبوت ہیں۔ بھارت پاکستان کے اندر بھی امن و امان کی خراب صورتحال کا بہت بڑا ذمہ دار ہے۔ افغانستان کے راستے وہ فاٹا اور بلوچستان میں جس طرح حالات کو خراب کر رہا ہے اُس نے پورے ملک کا امن و امان خراب کر رکھا ہے اور اس مداخلت کے ثبوت بھی موجود ہیں جو بھارت کو فراہم بھی کیے گئے۔ سر بجیت سنگھ او رسُر جیت جیسے جاسوس بھی پکڑے گئے جنہوں نے اعتراف جرم بھی کیا اور ابھی حال ہی میں وزیرستان سے پکڑا جانے والا بھارت ساختہ اسلحہ اس مداخلت کا ایک اور کھلا ثبوت ہے لیکن پہلا نہیں، دنیا جانتی ہے کہ اس سے پہلے بھی یہ اسلحہ پکڑا جاتا رہا ہے اور دنیا کو دکھایا بھی گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف بھارت میں ہونے والے کئی واقعات جن کا الزام اُس نے پاکستان پر لگایا تھا اُس کے بارے میں خود بھارت کے اندر ہی ثابت ہو گیا کہ وہ خود اس کا ذمہ دار تھا اور یہ منصوبے بھارت ہی کی ایجنسیوں نے بنائے تھے اور انہیں عملی جامہ پہنانے والے مجرم بھی بھارتی شہری تھے جن میں کرنل سری کا نت کی’’ سمجھوتہ ٹرین بربریت‘‘ سر فہرست ہے ۔بھارت مستقل بنیادوں پر پاکستان کے خلاف مصروف عمل ہے اور اسے دہشت قرار دینے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہا ہے ۔ جس میں دکن کرونیکل میں لگائے گئے حا لیہ الزامات ایک تازہ اضافہ ہے لیکن یہ سب کچھ کرتے ہوئے اُسے سوچ لینا چاہیے کہ کب تک وہ اپنے لوگوں کو مروا کر الزام پاکستان کے سرڈالتا رہے گا اور اپنے عوام کو دھوکہ دیتا رہے گا آخرکار وہ بھی جان جائیں گے کہ اُن کا اصل قاتل اُن کا اپنا ملک ہے۔ پاکستان کی طرف سے امن کی جتنی بھی کوشش کی جائے وہ بارآورنہیں ہو سکتی جب تک کہ دوسری طرف سے بھی ایسی کوشش اور خواہش موجود نہ ہو۔ برصغیر کے امن کے لیے بھارت کو ایسے الزامات اور اقدامات سے باز رہنا ہوگا اور دنیا کو بھی اس کا نوٹس لینا چاہیے اور بھارت کو مجبور کرنا چاہیے کہ مثبت رویہ اپنائے تاکہ علاقے میں امن قائم ہوسکے اور یہ خطہ اور دنیا کسی بہت بڑے ناخوشگوار واقعے سے بچی رہے۔ 

947
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...