آپریشن ضرب عضب جاری ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے اور قوم کو مسلسل تسلی دی جا رہی ہے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔فوجی جوان اپنی جانوں کی قربانی پیش کرنے اور اپنی زندگیاں قربان کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کر رہے وہ اُسی بہادری سے لڑ رہے ہیں جو ایک مجاہد کی شان ہے اور بظاہر دہشت گردی کی کاروائیوں میں کمی بھی نظر آرہی ہے اگرچہ یہ کمی بہت معمولی سی ہے لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود سچ یہ ہے کہ دہشت گرد ابھی بھی سرگرم عمل ہیں، اب بھی وہ قوت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔حیرت ہے کہ پشاور کے شہری باڑہ سے دھماکوں کی آوازیں مسلسل سن رہے ہیں،وزیرستان کے پہاڑ دہل رہے ہیں، پاک فوج مسلسل مصروف عمل ہے، فضائی کمک بھی ہر وقت میسر ہے تو آخر یہ دہشت گرد ان خشک پہاڑوں میں کیسے زندہ ہیں،ان کے اسلحہ اور بارود کے ذخائر ختم کیوں نہیں ہو رہے ،یہ دنیا کی سخت ترین افواج میں شمار ہونے والی پاکستانی فوج سے کیسے ٹکر لے رہے ہیں، واہگہ بارڈر تک ان کی رسائی کیسے ممکن ہوئی، ہماری سیکیورٹی اداروں کی کمزوری کیسے اور کہاں ہے۔ بقول وزیر داخلہ اس حملے کی وارننگ جاری کر دی گئی تھی، ایک اوراطلاع کے مطابق صبح بھی بتا دیا گیا تھا اور دو نئی چیک پوسٹیں بھی قائم کر دی گئیں تھیں پھر بھی دھماکہ ہو گیا تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ اطلاعات وصول کرنے والے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتے یا جو انتظامات کیے جاتے ہیں وہ صرف خانہ پُری ہوتی ہے یا ہم نے یہ سوچ لیا ہے کہ ہم خود کش دھماکوں کونہیں روک سکتے لہٰذا ہونے دو اور ہماری شکست خوردہ ذہنیت پچپن یا سینکڑوں یا ہزاروں افراد کی جان لے لیتی ہے۔پنجاب پولیس کا ایک بیان یہ بھی سامنے آیا کہ ہمارے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ دہشت گرد عام لوگوں پر حملہ کریں گے تو کیا اب تک کوئی عام آدمی دہشت گردوں کے نشانے پر نہیں آیا تھا۔ مسجدیں عام آدمی سے ہی بھری ہوتی ہیں جب ان پر حملہ کیا جاتاہے، بازار میں بھی عام آدمی ہوتا ہے اور چوکوں پر بھی، مون مارکیٹ لاہور میں بھی عام آدمی مرا تھا اور قصہ خوانی پشاور میں بھی ۔ دہشت گرد اپنی منصوبہ بندی اچانک بدل کر ہمارے اداروں اور حکومت کو حیران و پریشان بلکہ بے بس کر دیتے ہیں لیکن ہماری ایک ہی سٹریٹیجی ہے کہ ہم خود کش دھماکوں کو کسی طرح نہیں روک سکتے۔ سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ آخر ان دہشت گرد تنظیموں میں کونسی ا یسے اعلیٰ دماغ بیٹھے ہوئے ہیں اور انہوں نے زیر زمین بیٹھ کر کن عظیم درسگاہوں سے تعلیم اور تربیت حاصل کی ہے کہ اُن کا کوئی نشانہ خطا نہیں جاتا۔ واہگہ بارڈر حملے کے بعد یہ بھی کہا گیا کہ خودکش بمبار پریڈ تک نہ پہنچ سکا اور بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دھماکہ پریڈ کے بعد ہوا اور خالی پریڈ گراونڈ میں دھماکہ ہونے سے کیا اتنا بڑا جانی نقصان ممکن تھا جتنا اب ہوا اور اُس صورت میں سرحد کے دوسری طرف بھی تو نقصان ممکن تھا۔ تو کہیں ایسا تو نہیں کہ کرنے والوں نے خود کو بچا لیا اور تباہی پاکستان کی طرف بھیج دی۔ چاہے ہم امن کو خواہش میں کتنے ہی دیوانے ہو جائیں لیکن دوسری طرف کسی نیک نیتی کا شائبہ تک نہیں اور اب تو اُنہوں نے ایک دہشت گرد کو اپنا وزیر اعظم بھی چُن لیا ہے لہٰذا دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں بھی مسئلہ درپیش نہیں ہے بلکہ اب تو یہ اعلیٰ ترین سطح پر ہو رہی ہے۔ دراصل یہ ممکن ہی نہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر دہشت گردی بیرونی امداد کے بغیر ممکن ہو۔ آخر ان دہشت گردوں کے پاس کتنا اسلحہ ہے جو ختم ہونے میں نہیں آرہا ان کی سپلائی لائن میں کو ئی رکاوٹ کیوں نہیں آئی کیا سرحدوں کے اُس پار سے مسلسل یہ ترسیل جاری نہیں ہے۔اس کا ایک ثبوت تو وہ بھارت ساختہ دوائیں تھیں جو کراچی ائرپورٹ حملے کے دوران ملیں اور بھارت ساختہ اسلحہ ملنا تو ایک عام سی بات ہے۔اس بات میں اب کسی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ امریکہ، بھارت ،اسرائیل بصورت سی آئی اے، را اور موساد پاکستان میں دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈ بھی ہیں اور مالکان بھی جو انہیں بھاری تنخواہوں پر رکھے ہوئے ہیں ورنہ چھوٹی موٹی مزدوریاں کرنے والے، تھڑے لگانے والے،چھولے اور پکوڑے بیچ کر رزق کمانے والے فکر معاش سے اتنے آزاد کیسے ہو گئے بلکہ اپنی تنخوادار فوجیں رکھنے کے قابل کیسے ہو گئے کہ فوج اور حکومت سے ٹکر لے سکیں۔واہگہ دھماکے کے بعد تو یہ بات اور بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ دھماکہ کہیں اور سے کیا گیا اور ذمہ داری کئی اور جگہوں سے قبول کی گئی، پہلے جند اللہ، پھر احرا رالہند اور آخر میں احسان اللہ احسا ن کا بیان سامنے آیا اور ہر ایک نے اس ظلم اور ناحق قتلِ عام کا اعزاز قبول کیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس با ر ایسا کرنے کے لیے انہیں استعمال ہی نہیں کیا گیا اور یہ خدمت کسی اور سے یا خود ہی سرانجام دی گئی ہو لیکن ہر نمک خوار نے آقا کو خوش کرنے کے لیے اس ظلم کی ذمہ داری قبول کر لی ہو۔ہماری حکومت انٹرپرائزز مودی اینڈ کو کے ساتھ اگر اپنے ذاتی تجارتی مفادات کو کچھ دیر کو بھلا کر قومی درد میں شریک ہو جائے تو ہو سکتا ہے کہ قوم اس دہشت گردی کا کوئی ایسا سرا تلاش کر لے جس کو اگر کاٹا جائے تو مزید خونِ معصوم نہ بہے اور لہو لہو پاکستان کے زخم کچھ مندمل ہو سکیں لیکن ایسا ہونے کے لیے ہمارے حکمرانوں اور ذمہ داران کو امریکہ ، بھارت اور دیگر دہشت گرد ملکوں سے وابستہ اپنے مفادات کی قربانی دینا ہو گی ۔ اس کے لیے صرف دہشت گردوں کو ہلاک کرنا کافی نہیں ہو گا بلکہ ان کی سپلائی لائن کاٹنی ہو گی جب ان کے پاس اسلحہ اور گولہ بارود نہ رہے گا، جب یہ خوراک کو ترسیں گے ، جب ان کو اپنے اور بیوی بچوں کے علاج کی فکر ستائے گی، جب ان کے پاس بھارتی، امریکی اور اسرائیلی ساختہ دوائیں نہ ہونگی، جب یہ غم روز گار میں اور فکر معاش میں الجھیں گے تو دوسرے انسانوں کا درد بھی محسوس کر لیں گے لیکن شرط ان کے آقاوءں سے ان کے رابطے منقطع کر نے کی ہے۔

993
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...