پچھلے ستاسٹھ سال سے کشمیر ی اپنی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں اور عالمی برادری اپنے ضمیر کو سلاکر سو رہی ہے ۔ بھارت کشمیر پرقابض ہے اور جیسا چاہتا ہے سلوک کشمیریوں کے ساتھ کر رہا ہے ۔ پاکستان کشمیر کی بات کرتا ہے تو بھارت اعلیٰ سطحی مذاکرات سے انکار کر دیتا ہے ۔ وہ کشمیر پر صرف ایک ہی معاملہ کرتا ہے اور وہ ہے جنگ کا اور کشمیریوں کے قتل کا۔ لیکن بے شمار شہادتوں کے باوجود کشمیر آج بھی محکوم اور غلام ہے اور ایسا صرف اور صرف بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے اگر وہ آج بھی غیر جانبدارانہ استصواب رائے کرالے اور کشمیریوں کو اپنی رائے استعمال کرکے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دے دے تو مسئلہ حل ہوجائے لیکن وہ ایسا کر نہیں رہا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسا ہوا تو فیصلہ اُس کے خلاف ہی آئے گا ۔ 27 اکتوبر 1947 کشمیر کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب بھارت نے کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کردیں تھیں اور کشمیر ی آج بھی ہر سال یہ دن بطور یوم سیاہ مناتے ہیں ۔ لیکن اس سال اس دن سے ایک دن پہلے برطانیہ اور یورپ میں بسنے والے کشمیریوں نے لندن میں ملین مارچ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ دنیا والوں کو کم از کم یاد تو دلا سکیں کہ دنیا میں اب بھی قابض اور محکوم اقوام موجود ہیں اور ان کے درمیان جنگ بھی جاری ہے ۔کشمیری اسی آزادی کی خاطر روز کٹتے مرتے ہیں چاہے وہ اپنی جدوجہد کو پرامن ہی کیوں نہ بنا دیں قابض بھارت کبھی سرحد کے اس پار کبھی اُس پار انہیں تشدد اور گولیوں کا نشانہ بنا د یتا ہے اور اسی سب کچھ کے خلاف برطانیہ میں بسنے والے کشمیریوں نے جب اپنی آواز بلند کی تو ایک بار پھر بھارت نے اسے دبانے کی کوشش کی اور اُس کی وزیرخارجہ سشماسوراج نے لندن پہنچ کر برطانیہ کے نائب وزیراعظم نک کلیگ سے ملاقات کی اور اس مارچ کو رکوانے کا مطالبہ کیا جس کو برطانوی حکومت نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ برطانیہ میں ہر ایک کو اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے لہٰذا اس مارچ کو روکا نہیں جا سکتا اور کشمیریوں کو بھی اپنی بات دنیاتک پہنچانے کا پورا حق حاصل ہے۔ ملین مارچ کے شرکا ء میں خود برطانوی پارلیمنٹ کے پچیس ارکان نے بھی شرکت کی اور کشمیریوں اورپاکستانیوں کے ساتھ ساتھ سکھ برادری بھی اس مارچ میں شریک ہوئی جب کہ خود برطانیہ کے باشندوں نے بھی اس مارچ میں کثیر تعداد میں شرکت کی جس نے اس مارچ کی کامیابی ظاہر کردی کہ کسی حد تک سہی کشمیریوں نے اپنی آواز کو دنیا والوں تک پہنچایا اور انہیں یہ احساس دلایا کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے لیے اگر بھارت دو طرفہ حل سے انکار کرتا ہے تو اسے عالمی برادری کی مدد سے حل کیا جانا چاہیے کیونکہ بھارت دوطرفہ مذاکرات کو حیلے بہانے سے ملتوی کر دیتا ہے، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو وہ خاطر میں نہیں لاتا ۔ کشمیری اگر مسلح جدوجہد کریں تو وہ انہیں دہشت گرد قرار دے دیتا ہے اور اگر وہ پر امن جدوجہد کریں تو وہ دنیا کو یہ تاثر دیتا ہے کہ کشمیر میں سب کچھ پر امن ہے اور یہاں کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں ۔ لہٰذا ملین مارچ جیسے اقدام سے کشمیر اور پاکستان دوسری اقوام کی توجہ اس مسئلے کی طرف کراسکیں تو یہ ایک مثبت اقدام اور اچھا ذریعہ ہوگا اور بھارت کا یہ کہنا بھی اپنی حیثیت کھودے گا کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے اور یہ کہ کشمیر میں پاکستان، بھارت مخالف لیڈر شپ کو سپورٹ کرتا ہے یا اس ریاست میں دخل اندازی کرتا ہے ۔کشمیر مذہبی ثقافتی اور جغرافیائی ہر لحاظ سے پاکستان سے جڑا ہوا ہے یہاں کے لوگوں کے رشتے ناطے سب پاکستان سے جڑے ہوئے ہیں، یہ لوگ مذہبی رشتہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی مدد ضرور کر تا ہے لیکن اس ملین مارچ کا بیرسٹر سلطان محمود نے انتظام کیا جن کا تعلق کشمیر سے ہے اور وہ آزاد کشمیر کے صدربھی رہ چکے ہیں۔ پاکستانیوں نے اس میں شرکت ضرور کی لیکن اس میں حکومت پاکستان کی کوئی مدد شامل نہیں تھی تاہم اس میں برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے خوب شرکت کی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم پر اٹھایا جائے اور عالمی رائے عامہ کو مسئلہ کی سنگینی کااحساس دلایا جائے اگر چہ بنیادی حقوق کی تنظیمیں وقتاََ فوقتاََ کشمیر میں بھارتی مظالم کے بارے میں آواز اٹھالیتی ہیں تاہم یہ یا تو اتنی معمولی ہوتی ہیں کہ کسی کو سنائی ہی نہیں دیتیں یا بھارت انہیں گردانتا ہی نہیں لہٰذا اس کو مزید بڑھانا چاہیے اور پاکستان کو مزید آگے بڑھ کر سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیر پر بھارت کے ناجائز قبضے، وہاں کے لوگوں پر اس کے مظالم اور پاکستان کی سرحدوں پر بلا جواز فائرنگ جیسے مسائل کو اٹھانا ہوگا ۔ اگرچہ وزیراعظم پاکستان اقوام متحدہ میں بڑے کھلے الفاظ میں کشمیر کے بارے میں پاکستانی موقف ظاہر کر چکے ہیں لیکن اب اس سلسلے کو رکنا نہیں چاہیے جب تک کہ عالمی برادری بھارت کو مجبورنہ کر دے کہ وہ کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلاکر کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کر لے ۔ 

876
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...