سولہ کروڑ کی آبادی کا ملک پاکستان سٹرٹیجک لحاظ سے ایک انتہائی اہم ملک ہے یہ دنیا میں ایک ایسے نکتے پر واقع ہے جو ہمیشہ سے بڑی قوتوں اور طاقتوں کے لئے اہم ترین رہا ہے۔ آج کی دنیا اور آج کے حالات میں پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اگر یہ اہمیت مثبت انداز میں دی گئی ہوتی جو ہمارا حق ہے تو تب تو خوشی کی بات تھی لیکن ایسا نہیں ہوا اور پاکستان کو خواہ مخواہ ہدف تنقید بنایا جانے لگا۔ آج کل امریکہ یورپ اور تقریباً تمام مغرب اسی کام میں جتا ہوا نظر آتا ہے۔ صدر بش اپنی صدارت کے چند آخری مہینوں میں کسی بڑی مہم جوئی کے موڈ میں نظر آرہے ہیں یا کم از کم غیر منطقی قسم کے بیانات اور مطالبات کر کے ہی وہ امریکہ کی تاریخ میں ایک عظیم کروسیڈ کے طور پر اپنا نام رقم کرنا چاہتے ہیں۔صدر بش کا تازہ بیان کچھ اسی قسم کا تاثر دے رہا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ پر 9/11کی طرز کا کوئی حملہ ہوا تو اس کی منصوبہ بندی پاکستان سے کی جائے گی۔ یہ بیان سراسر ان کی نیت کی چغلی کھا رہا ہے۔
امریکہ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ایک بے معنی سے پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔ پہلے تو اس نے یہ واویلا کیا کہ یہ ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اس لئے امریکہ ان کی نگرانی کرے گا پھر اس نے افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں سے ایٹم بم کے لئے خطرہ محسوس کیا کہ کچھ ’’ انتہا پسند‘‘ فوجی ایٹمی ہتھیاروں پر قابض ہو سکتے ہیں۔ پھراس نے گیارہ مطالبات کی ایک ایسی فہرست پاکستان کو دی جو کسی نو آبادی کو دی جاتی تو شاید اس کی کوئی منطق بنتی۔ لیکن جب اس کے ان تمام خدشات اور مطالبات کو پاکستان نے پر زور انداز میں رد کیا اور اس کی وزارت خارجہ کے دو اہلکاروں جان نیگرو پونٹے اور رچرڈباوچر نے اپنے حالیہ دورے میں پاکستان کی نئی حکومت اور عوام کا موڈدیکھا اور اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ پاکستان میں ایک نا پسندیدہ ملک ہے تاہم انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کے محفوظ ہونے کی بھی تصدیق کی توصدر بش نے پاکستان سے پھر شدید خطرہ محسوس کیا۔ خدا جانے امریکہ کو پاکستان اور اس کے ایٹمی ہتھیاروں کی اتنی فکر کیوں ہے اور یا انہیں بہانہ بنا کر وہ کوئی اور مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ دراصل امریکہ کے لئے یہ بات کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں کہ ایک مسلمان ملک کے پاس ایٹمی قوت ہو۔ اور یہی وہ طاقت بھی ہے جس نے ابھی تک پاکستان کو امریکہ اور کسی بھی دشمن کے وار سے محفوظ رکھا ہوا ہے اور وہ براہ راست یا بلواسطہ پاکستان پر حملہ نہیں کر سکتا۔ اسی
لئے وہ اس رکاوٹ کو راستے سے ہٹانے کے درپے ہے اور اسی کے لئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور اسی لئے یہ پیش گوئی کی گئی کہ حملہ پاکستان سے ہو سکتا ہے۔ حالانکہ پاکستان گیارہ ستمبر 2001کے بعد خود شدید دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے امریکہ تو کبھی بھی مسلمان اور پاکستان کے لئے مخلص نہیں رہا اور یہ بات ہم سب ہی جانتے ہیں تو پھر کیوں نہ خامی کو اپنے اندر تلاش کیا جائے۔ آخر کیاوجہ ہے کہ ہمارے بارے میں اس قسم کے بیانات دیئے جائیں ہمارے ایٹمی پروگرام کو ہدف تنقید بیایا جائے جبکہ ہمارے دشمنوں کی مکمل طور پر حمایت کی جائے اور ہمارا آقا بننے کی کوشش کی جائے۔ دراصل کمزوری ہمارے اندر ہے۔ اپنے ساتھ اس رویئے کو بدلنے کے لئے سب سے پہلے تو ہماری حکومت کو امریکہ کو یہ تاثر دینا ہے کہ ہم کمزور نہیں ہیں اور نہ ہی ہم اپنے فیصلے دوسروں سے کروانے کے محتاج ہیں بلکہ اللہ کے فضل سے ہمارے پاس بہترین دماغ موجود ہیں جو مکمل طور پر پاکستان کے وفادار ہیں اور نئی حکومت کا تو یہ اس لئے بھی زیادہ فرض بنتا ہے کہ اسے عوام نے ووٹ ہی اسلئیے دیا ہے کہ وہ پاکستان کی مکمل خود مختاری کی حفاظت کرے اور پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہی ہوں۔ حکومت کی صلاحیت قوت فیصلہ اور طاقت کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ تاثر بھی دینا ہو گا کہ ہماری فوج اپنے ملک کو عراق یا افغانستان نہ بننے دینے کی بھر پور صلاحیت ، جذبہ اور قوت رکھتی ہے۔ یہ اپنے ملک کی سرحدوں اور اس کے عوام کی محافظ ہے اور اس کی پشت پر عوام کی ناقابل تسخیر طاقت موجود ہے۔ یہ فوج اپنی حکومت کے فیصلوں کی پابند ہونے کے ساتھ ساتھ اعلٰی ترین تربیت کی حامل ہے اور دنیا کی بہترین افواج میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ہماری ڈیٹرنس اتنی ضرور ہو کہ کوئی بھی دشمن مہم جوئی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے دفاعی قوت کے حصول کی راہ میں روڑے اٹکاکر اپنی دکان سجانے والوں کو یہ ضرور سوچناچاہئے کہ امن قائم رکھنے کا بہترین فارمولا طاقت کا توازن ہے۔جس دن امریکہ سمیت ہمارے کسی بھی دشمن کو ہمارے دفاع میں رتی برابر بھی جھول نظر آیا تو وہ کسی بھی لمحہ کی تاخیر کے بغیر ہم پر حملہ آور ہوگا۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ بجائے دوسروں کو دوش دینے کے اور ان سے اپنی آزادی کی ضمانت مانگنے کے ہم نے اپنی غلطیوں اور خامیوں پر نظر ڈالنی ہے اور انکی اصلاح کرنی ہے۔ گھر کے اندر خلفشار اور ٹکرائو کو ہر سطح پر ختم کر نا ہے چاہے وہ سیاسی ہو یا علاقائی۔ ہمیں ہر میدان میں اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور دشمن کی کسی بھی مہم جوئی اور حملے کی صورت میں اسے ایک ایسا سبق سکھانا ہوگا جو نہ صرف ہمارا حال محفوظ بنا دے بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کو بھی ایک محفوظ زندگی میسر ہوکہ وہ اپنی زندگی خود جی سکیں اور یہ سب کچھ ممکن بنانے کے لئے صرف ایک نسخہ ہے اور وہ ہے ناقابل تسخیر قوت کا حصول کیونکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ بے معرکہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں۔

2,357
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 5
Loading...