اس امر کو افسوسناک ہی تصور کیا جانا چاہیے کہ وطن عزیز میں مالی کرپشن کے واقعات اب روزمرہ کا معمول مشاہدہ کئے جا تے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب کرپشن کے بارے میں کوئی واقعہ سماجی اور صحافتی حلقوں میں خبر کی حیثیت رکھتا تھا اور اس عنوان سے گفتگو کرتے ہوئے ہمہ جہت بحث کی جاتی تھی۔ گاہے اس رجحان کو مذہبی تناظر میں گناہ کا شمار کیا جاتا تھا اور اسی سبب کرپشن میں ملوث عناصر کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ انداز اور رویہ حیرت انگیز طور پر تیزی سے تبدیل ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے کرپشن کا زہر ہمارے سماج کی رگ و پے میں یوں پھیل گیا کہ اب اس بارے میں احساس زیاں بھی عنقاء ہو چکا ہے۔ قومی زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو گا جو اس لعنت سے محفوظ اور پاک رہا ہو گا۔ ایک عامی بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ سیاست سے لے کر صحافت تک او رسماجیات سے لے کر حکومت تک، عام طور پر کرپشن کے حوالے سے ہوشربا انکشافات اب معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ ماضی میں اگر چند سو روپے کی کرپشن پر لوگ کانوں کو انگلیاں لگاتے تھے تو اب کروڑوں روپے کی کرپشن پر کوئی سنجیدگی سے توجہ ہی نہیں دیتا بلکہ بات کو قہقہہ اور غیر سنجیدہ ردعمل کی نذر کردیا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں اہل وطن کو اخبارات میں یہ خبر بھی مطالعہ کے لئے میسر رہی کہ عدالت عظمیٰ نے اپملائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوٹ (ای او بی آئی ) میں 42ارب روپے کی مبینہ بدعنوانی میں ملوث کیس کے مرکزی ملزم اور اس ادارے کے سابق چیئرمین ظفر اقبال گوندل کی جانب سے ہراساں کرنے کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی جس کے بعد ملزم کو عدالت کے احاطہ سے ہی گرفتار کر لیا گیا۔ اس موقع پر جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ ملزم ضمانت کرائے بغیر گھومتا پھرے اور شامل تفتیش بھی نہ ہو۔ بظاہر یہ ایک عام سی خبر دکھائی دیتی ہے لیکن اگر اس کے مندرجات اور مضمون پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت کوئی رازنہیں رہتی کہ سماجی اور معاشی سطح پر ایک قوم کی حیثیت سے ہم کرپشن کا کس درجہ شکار ہو چکے ہیں۔ بھلا اس سے زیادہ ستم اور کیا ہو گا کہ ریٹائرڈ اور عمر رسیدہ افراد کی بچت اور پس انداز کی ہوئی رقم میں بھی ہیرا پھیری کی جائے اور ان کو عمر کے آخری دنوں میں مالی بدحالی اور ابتری سے دوچار کر دیا جائے۔ 
وہ جو کرپشن کے تناظر میں احوال وطن پر نگاہ رکھتے ہیں اس امر کی خوشدلی سے تصدیق کرتے ہیں کہ کرپشن نے ہماری قومی زندگی اور مزاج پر اس قدر منفی اور نقصان دہ اثرات مرتب کئے ہیں کہ ان کا جائزہ بھی شرمناک محسوس ہوتا ہے۔ جب یہ راز فاش ہوتا ہے کہ قوم کو ایثار اور قربانی کا درس دینے والے خود قومی خزانہ کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں یا جب یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سیاست کو عبادت کا درجہ دینے کا نعرہ بلند کرنے والے سیاست ہی کی آڑ میں غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی کو بیرون ملک منتقل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں تو گاہے یہ احساس دل و دماغ پر غالب آ جاتا ہے کہ بقول شاعر ’’میرے وطن ، تیرے دامان تار تار کی خیر ‘‘ ۔ 
اس مسئلہ کا یہ پہلو بھی اپنی جگہ قابل غور ہے کہ کرپشن اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی خاطر ملکی قوانین اپنی جگہ موجود ہیں لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ ان قوانین پر عملدرآمد کرانے کے پابند ادارے یا اہلکار خود بھی کرپشن کی دلدل میں پھنسے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے نتیجہ میں مذکورہ قوانین بے اثر اور بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ایسے بلند بانگ دعوے سننے میں ضرور آتے ہیں کہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا، کرپٹ عناصر کو عبرتناک سزا دی جائے گی، محکمہ مال، واپڈا، محکمہ آبپاشی، پولیس، کسٹمز، امیگریشن اور بلدیاتی اداروں سمیت ان تمام محکموں میں کمپیوٹر کا نظام متعارف کرایا جائے گا جہاں پر عوام کو براہ راست سرکاری اہلکاروں سے رابطہ رہتا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود کرپشن کا سلسلہ روزبروزدراز ہوتا ہی دکھائی دیتا ہے۔ اب تو یہاں تک نوبت آن پہنچی ہے کہ محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت ایسے شعبوں میں بھی کرپشن نے اپنی جڑیں پھیلا دی ہیں۔ 
ادھر وفاقی دارالحکومت ، اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے جو دھرنے دئیے گئے ہیں ، ان میں سب سے زیادہ شور کرپشن کے خلاف ہی بلند کیا جا رہا ہے۔ انتخابی دھاندلی کو بھی ’’سیاسی کرپشن‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے اہل وطن کو انتباہ کیا جا رہا ہے کہ کرپشن کی بنیاد پر قائم ہونے والی حکومت اپنے وجود کا کوئی اخلاقی، آئینی اور قانونی جواز نہیں رکھتی۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کو عقلی اور منطقی سطح پر غور کئے بغیر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اب یہ اور بات ہے کہ بحث برائے بحث کے زمرہ میں یہ موضوع اور دعویٰ قابل قبول نہ ہو۔ ایسے حالات میں جب وطن عزیز کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے یعنی ہم ایک قوم کی حیثیت سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، اگر کرپشن کے واقعات کا سدباب اور تدارک کرنے کی طرف توجہ نہ دی جائے تو یہ نرم سے نرم الفاظ میں بھی ایک قومی المیہ ہی قرار دیا جائے گا۔ 
سوشل میڈیا پر ایسی اطلاعات اور خبریں اب روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں جن کے مطابق وہ جو ایوان اقتدار تک رسائی رکھتے ہیں، اپنا سیاسی اور خاندانی اثر و رسوخ استعمال کر کے کوئی بھی مالی اور سماجی مفاد حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسی خبروں کی بھی کمی نہیں جن کے مطابق ذاتی تعلقات کو قومی مفادات پر ترجیح دی جاتی ہے اور یوں میرٹ اور گڈ گورننس کے دعوے محض خواب و خیال محسوس ہوتے ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ قومی خزانہ اگرچہ قوم کی امانت تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس قومی خزانہ اور امانت پر شب خون مارنے اور اس کو چند شخصیات پر قربان کرنے کے رجحان کو پسندیدہ تصور کیا جاتا ہے۔ ایک زمانے میں پٹواری ، تھانیدار ، لائن مین، اوور سیئر اور انکم ٹیکس انسپکٹرز ایسے کم درجے کے اہلکار ہی کرپٹ خیال کئے جاتے تھے اور اس باب میں بھی یہ جواز پیش کیا جاتا تھا کہ ان کی تنخواہیں بہت کم ہیں لیکن اب تو اس قطار میں وہ اعلیٰ حکام اور شخصیات بھی شامل دکھائی دیتی ہیں جن کی تنخواہیں اور ذاتی اثاثے ان کی روزمرہ ضروریات سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ حالیہ دنوں میں کرپشن کے حوالے سے جس مافیا نے سب سے زیادہ لوٹ مار کا بازار گرم کیا وہ ’’لینڈ مافیا‘‘ ہے۔ اس مافیا کے قبضہ گروپ ہر شہر اور ہر قصبہ میں موجود ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو مبینہ طور پر سیاسی پشت پناہی ہی حاصل نہیں بلکہ ان کے حامی اور خیر خواہ میڈیا میں بھی اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ 
ان حقائق کے تناظر میں خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو مستقبل کا پاکستان اس پاکستان سے یکسر مختلف ہو سکتا ہے جس کا خواب ہمارے آباؤ واجداد نے دیکھا تھا اور جس مملکت خداداد کے حصول کے لئے بے پناہ قربانیاں دی گئی تھیں۔ محب وطن اور درد مند تجزیہ کاروں کی اس رائے سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ کرپشن کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ ہم میں سے بیشتر افراد راتوں رات امیر بننا چاہتے ہیں، ایک ایسا طرز زندگی اختیار کرنا چاہتے ہیں جو ان کے وسائل اور ذرائع آمدن کی رسائی سے باہر ہے اور ہم نے مذہب کو محض ایک ذاتی معاملہ سمجھ کر اپنی اجتماعی زندگی سے دور کرنے کا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ کرپشن محض ایک عمل نہیں بلکہ یہ ایک طرز احساس ہے ۔ جب دل سے خوف خدا اٹھ جائے، موت کا ڈر باقی نہ رہے اور آخرت کی جوابدہی کی فکر نہ ہو تو پھر کرپشن انسانی زندگی میں یوں داخل ہو جاتی ہے جیسے سورج غروب ہونے کے بعد اندھیرا پھیل جاتا ہے۔ کرپشن کو ختم کرنے کے لئے جہاں نظریاتی اور فکری جہاد کی ضرورت ہے وہاں معاشی اور اقتصادی سطح پر غربت اور افلاس کے خاتمے کے لئے بھی جدوجہد ناگزیر ہے۔ 

1,313
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...