سیاست اگر دیکھا جائے تو ملک کی تقدیربدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور سیاست دان وہ لوگ کہ اگر چاہیں اور واقعی ملک کے مفاد کو ترجیح دیں تو قوم کو قوم بنا دیں اور ملک کو طاقت ۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے سیاست کو ذاتی طاقت اور دولت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے اور طاقت بھی ایسی جو علاقے میں آپ کی دھاک بٹھا دے ملک، قوم، سلطنت، ترقی، کمال قومی عزت اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر سیاست کرنے اور ایک دفعہ نام کما لینے کے بعد اسے بے دریغ دولت اور شہرت کمانے کے لیے استعمال کرنا ہر سیاستدان اپنا حق سمجھتا ہے، اور بے چارے عوام یہی سوچتے رہ جاتے ہیں کہ چہرہ بدل بدل کر ہمیں مل رہے ہیں لوگ۔ پاکستان تحریک انصاف بنی تو بغیر کسی بڑے سیاسی نام کے لیکن جب سیاسی قوت کے طور پر ابھری تو کئی بڑے نام اس کی طرف لپکے کچھ تو پہلے ہی سے اپنی پارٹیوں سے ناراض تھے لہٰذا عوام نے بھی اس تبدیلی کو قبول کیا لیکن کچھ ایسے بھی لوگ تھے جو ہر صورت اسمبلی اور طاقت میں رہنا اپنا حق سمجھتے ہیں لہٰذا انہوں نے بھی موقع غنیمت سمجھا۔ اعتراض تحریک انصاف پر بھی ہے کہ آخر یہ کس تبدیلی کی بات کرتے ہیں جبکہ خودان کی پارٹی کے اندر نیا پن کم اور پرانے خیالات زیادہ ہیں بہر حال یہ معاملہ صرف پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہوا بلکہ ہر پارٹی میں ایسے لوگ موجود ہیں۔ہمارے سیاستدان چہرے نہیں نظام بدلنے کی بات کرتے ہیں اور یہ بات کرتے ہوئے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کوئی بہت بڑا معرکہ مار رہے ہیں یا کوئی بہت بڑا فلسفہ پیش کر رہے ہیں وہ خود صرف پارٹی بدل کر سمجھتے ہیں وہ کوئی بہت بڑی تبدیلی لائے ہیں اور اسے اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں کہ ہم نے اختلاف کے باعث پارٹی کو چھوڑا اگر چہ یہ اختلافات اکثر ذاتی ہوتے ہیں اس میں قومی مفاد کا کوئی ذکر نہیں ہوتا اور یا صرف خواہشات کی خاطر ایسا کر لیا جاتا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے جب جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ (ن) کو چھوڑا تھا اور ان کے منانے پر بھی واپس نہیں گئے تھے اور تحریک انصاف کا حصہ بنے تھے تو لگتا یہی تھا کہ یہ اس بار اپنے فیصلے پر قائم رہ لیں گے اور اسلامی جمیعت طلبہ کی چھتری بدلنے کے بعد جنرل ضیاء کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کرکے مسلم لیگ (ن) کی بھٹی میں تپ کر یہ اتنے مضبوط ہو چکے ہونگے کہ اب میدان نہ چھوڑیں گے لیکن ایک بار پھر انہوں نے فرار کو بغاوت کا نام دے کر اپنی تاریخ دہرالی اور اس بار انہوں نے فوج کو بھی معاملے میں گھسیٹ لیا جو کہ ہماری سیاست میں ایک عام رواج بن چکا ہے۔ فوجی آمروں کی سیاسی نرسری میں لگنے اور پنپنے والے یہ پودے جب کچھ قد کاٹھ نکال کر لیتے ہیں تو سب سے پہلے فوج کو ہدف تنقید بنا کر خود کو سیاسی مدبر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہاشمی صاحب اس دوڑ میں اکیلے نہیں ہماری سیاست میں یہ رواج اتنا عام ہو چکا ہے کہ اب تو کوئی اس پر شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتا، کل کے دوست بلکہ مربی آج کے مخالف بن جاتے ہیں اور مخالفین جن کی مخالفت میں آخری حد تک جایا جا چکا ہوتا ہے دوست بن جاتے ہیں اور خوبصورت تو جیہہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں۔ ماروی میمن اس نظریے کی ایک اور زندہ مثال ہیں جنہوں نے آئی ایس پی آر میں بیٹھ کر سیاست اور میڈیا میں چلنا سیکھا، جنرل مشرف کی اہم ترین ساتھی رہیں اور اسی ناطے نواز شریف کی اہم ترین مخالف لیکن آج وہ ق لیگ کی بجائے ن لیگ کی مدح سرائی اور طاقت و اختیارات کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ ایک زمانے میں تو کچھ ایسی ہی اطلاعات خواجہ سعد رفیق جیسے اہم ن لیگی کے بارے میں بھی پھیلیں لیکن بہر حال ابھی تک وہ اپنی پارٹی میں قائم ہیں اور بڑی ثابت قدمی اور مستقل مزاجی سے اپنے لیڈروں اور جماعت کے ساتھ وفاداری دکھا رہے ہیں۔ نبیل گبول کی پی پی پی سے ایم کیو ایم کی طرف ہجرت ، ارباب خضر حیات کی تبدیلی جماعت کی عادت اور امیر مقام کی ق لیگ چھوڑ کر ن لیگ میں شمولیت یہ اس فہرست سے صرف چند مثالیں ہیں ورنہ قیام پاکستان سے اگر یہ گنتی کی جائے تو فہرست انتہائی طویل ہو جائے گی۔ اگر پاکستان میں سیاست میں مستقل مزاجی رواج پا یا جائے اور کرپشن اور بد عنوانی کی بنا پر پارٹی خود ہی اپنے ارکان کو فارغ کر دیا کرے اور یہ پابندی لگا دی جائے کہ ثابت شدہ الزامات کے بعد کوئی دوسری پارٹی ایسے سیاستدانوں کو ٹکٹ ہی نہ دے تو شاید یہ لوگ ملک کی خاطر نہ سہی اپنی عزت اور ممبری بچانے کے لیے ہی محتاط رہیں ،سیاسی اکھاڑ پچھاڑ بھی کم ہو اور توجہ ملکی ترقی پر رہے ورنہ ایک جماعت کی حکومت جانے پر دوسری جماعت میں ہجرت کا تناسب بڑھتا ہی جائے گا اور سیاست دان عوامی مسائل اور قومی ترقی کی بجائے اپنے مسائل کے حل اور ا پنا اثر ورسوخ بڑھانے میں ہی لگے رہیں گے جبکہ اب ملک اس قسم کی حر کات کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔دنیا ترقی کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکی ہے اور سرپٹ دوڑ رہی ہے، میں یہ نہیں کہتی کہ دوسرے ممالک میں سیاسی مسائل نہیں ہوتے ہیں لیکن سیاسی اور ذاتی مفادات میں فرق کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ ہمارے سیاستدان اگر بیرون ملک جائیدادیں بنانے سے فرصت پالیں اور وہاں کی سیاست کے اچھے پہلوؤں کا مطالعہ کریں اور انہیں اپنے ملک کے تقاضوں کے مطابق قابل عمل بنا کر ان پر عمل در آمد کریں تو یقیناًہم بھی ان ملکوں کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میں شامل ہو سکیں گے۔ اللہ ہمیں ہدایت دے اور ہمارا حامی و ناصر ہو۔ 

1,323
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 5
Loading...