اہل وطن بخوبی مشاہدہ کر رہے ہیں کہ دو سیاسی گروہوں یعنی پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے گذشتہ کئی دنوں سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے انتہائی حساس علاقے یعنی ریڈ زون میں دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں پر سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر، ایوان وزیراعظم ، پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر ، وزیراعظم سیکرٹریٹ، کیبنٹ ڈویژن اور دنیا کے بیشتر ممالک کے سفارتخانہ جات کی عمارات واقع ہیں۔ میڈیا پر یہ مناظر ساری دنیا دیکھتی ہے کہ سپریم کورٹ اور ایوان صدر کے سامنے عملی طور پر ایک خیمہ بستی آباد ہو چکی ہے جس کے مکین کھانے پینے ، رہائش اور نہانے دھونے سمیت روزمرہ کی ضروریات سے موقع پر ہی فارغ ہوتے ہیں۔ یہ امر واقع ہے کہ اب وہاں پر باقاعدہ ’’لنڈا بازار‘‘ کا اہتمام بھی چکا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی مطمئن اور مسرور ہے تو وہ کوڑا کرکٹ اور کچرے میں سے اپنے مقصد اور مطلب کی اشیاء تلاش کرنے والے ایسے لوگ ہیں جن کو قبل ازیں گلیوں اور کوچوں کے طویل چکر کاٹنا پڑتے تھے مگر اب وہ مختصر علاقہ میں گھوم پھر کر اپنے رزق کے اسباب تلاش کر لیتے ہیں۔ 
بیرون وطن مقیم پاکستانی ان احوال پر سخت پریشان ہیں ۔ ان کی اکثریت کا کہنا ہے کہ دونوں ’’دھرنے ‘‘ پاکستان کے لئے رسوائی اور بدنامی کی علامت بن چکے ہیں۔غیر ممالک میں یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں پر چند ہزار افراد اکٹھے ہو کر حکومت کے لئے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر امن وامان اور سلامتی امور کا یہ عالم ہے توپھر دہشت گردوں کو ’’ایٹمی اثاثوں ‘‘تک رسائی سے بھلا کیونکر روکا جا سکتا ہے۔ خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس صورت حال پر وطن عزیز کا ہر ذمہ دار اور با شعور شہری بجا طور پر فکر مند ہے۔ امید کی جا رہی تھی کہ مذکورہ بالا دونوں سیاسی گروہوں کے ساتھ حکومت کے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے ۔تحریک انصاف کے عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے ڈاکٹر علامہ طاہر القادری اپنے اس مطالبہ سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار ہی نہیں کہ منتخب وزیراعظم نواز شریف مستعفی ہو جائیں۔ عمران خان کے مطالبہ کی بنیاد یہ خدشات ہیں کہ الیکشن 2013ء میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کی گئی جس کے نتیجہ میں قائم ہونے والی پارلیمنٹ اور اس سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے والے وزیراعظم کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ہے۔ دوسری طرف ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے ابتداء میں تو انقلاب برپا کرنے کا عندیہ دیا لیکن 17جون 2014ء کو جب ماڈل ٹاؤن لاہور میں مبینہ طور پر ان کے 14کارکنوں کی افسوسناک ہلاکت ہوئی تو انہوں نے اس کا الزام پنجاب پولیس پر عائد کرتے ہوئے انتقام اور خون بہا کا مطالبہ شروع کر دیا۔ 
اسلام آباد میں دئیے گئے احتجاجی دھرنے کے حوالے سے ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب مذکورہ بالا دونوں رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں ایسے (واضح) اشارے دئیے جس کا میڈیا اور رائے عامہ نے یہ مفہوم لیا کہ پاک فوج صورت حال پر قابو پانے کے لئے میدان عمل میں اترنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ اس سلسلہ میں وہ وقت بھی نہایت نازک تصور کیا گیا جب عمران خان اور ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے اپنے حامیوں کو وزیراعظم ہاؤس کی طرف پیش رفت کا حکم جاری کیا اور اس حکم پر واقعی بڑی حد تک عملدر آمد بھی کیا گیا۔ وہ تو خوش قسمتی سے پاک فوج کے جوان موقع پر موجود تھے جنہوں نے مظاہرین کو باور کرایا کہ عملی اور اصولی طور پر وہ اپنے مطلوبہ علاقہ میں داخل ہو چکے ہیں لیکن اب ان کو مزید آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس کے علاوہ وہ وقت بھی نہایت تشویشناک رہا جب احتجاجی مظاہرین کے ایک گروہ نے اشتعال انگیز انداز میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجہ میں قومی ٹی وی نیٹ ورک کی نشریات تقریباً 45منٹ تک معطل رہیں۔ یہاں پر بھی پاک فوج کے جوانوں نے ہی موقع پر پہنچ کر قومی نشریاتی ادارہ کو مزید بحران کا شکار ہونے سے بچا لیا۔ 
مبصرین کا یہ خیال بڑی حد تک درست ہے کہ اس تمام تر سیاسی معاملہ میں پاک فوج کو ملوث کرنے کی ہر کوشش اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اس تناظر میں زیرک اور کہنہ مشق سیاستدان جاوید ہاشمی کا کردار بھی ہنوز سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ موصوف نے تقریر کرتے ہوئے بھرپور تاثر دیا کہ عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کی طرف پیش قدمی کا فیصلہ کسی تیسری طاقت کے اشارے پر کیااور جب میں  نے عمران خان کو یاد دلایا کہ لاہور سے روانگی کے وقت طے کیا گیا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کی طرف پیش قدمی نہیں ہو گی تو اس کے جواب میں عمران خان نے بتایا کہ وہ مجبور ہیں کیونکہ ’’بیج والے‘‘ تقاضا کر رہے ہیں ۔ جاوید ہاشمی نے یہ باتیں کر کے کس کو فائدہ پہنچایا ۔ اس سوال کا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا فی ا لحال موصوف قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہو کر اپنے آبائی گاؤں میں آرام کر رہے ہیں اور یقینی طور پر اس بات سے بے خبر اور بے نیاز ہیں کہ انہوں نے سادہ لوح اور بے قصور عوام کو کس ذہنی کوفت سے دو چار کر دیا ہے ۔ 
اس بارے میں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے گفتار کے غازی سیاستدان شیخ رشید احمد کا کردار بھی سیاسی حلقوں میں مشکوک رنگ اختیار کر چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موصوف نے ہی عمران خان کے کان تک ایک خفیہ پیغام پہنچایا جس کے بعد عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کی طرف پیش قدمی کرنے کا اعلان کیا ۔ ایک مرحلہ پر جب احتجاجی پارٹیوں اور حکومت کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لئے پاک فوج کی ’’ثالثی‘‘ بارے اطلاعات منظر عام پر آئیں تو عوام نے کسی حد تک اطمینان کا اظہار کیا۔ یہ تاثر اس پس منظر میں نہایت خوشگوار تھا کہ دوست ملک چین کے صدر 14ستمبر کو وطن عزیز کے اہم دورے پر آ رہے تھے۔ حکومت کا بیان ہے کہ چینی صدر کی آمد کے موقع پر 32ارب ڈالرمالیت کی سرمایہ کاری کے معاہدے طے پانا تھے لیکن عمران خان نے اس کا جواب یوں دیا کہ چینی صدر سرمایہ کاری کرنے کے لئے نہیں بلکہ قرض فراہم کرنے کے لئے آ رہے تھے جس کا کمیشن حاصل کرنے کے لئے حکمران بے تاب اور بے چین ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے نیپال اور سری لنکا کے صدور کے سرکاری دورے بھی اسلام آباد میں جاری دھرنا کے سبب منسوخ کئے جا چکے تھے۔ 
وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں احتجاجی دھرنوں کے حوالے سے داخل کی گئی تفصیلات میں دعویٰ کیا ہے کہ14اگست سے شروع ہونے والے احتجاج کے اس سلسلہ ، خاص طور پر دھرنا کے باعث قومی معیشت کو اب تک 547ارب روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے جبکہ زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی آئی ہے اور سٹاک مارکیٹ میں 319ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ پاک فوج شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایک اہم آپریشن’’ضرب عضب‘‘ کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہے اور حالیہ بارشوں اور بھارت کی طرف سے پیشگی اطلاع کے بغیر چھوڑے گئے آبی ریلوں کے نتیجہ میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ احتجاج کرنے والے اپنے روئیے میں تبدیلی لائیں یا کم از کم اپنے سخت روئیے میں لچک پیدا کریں۔ 
عوام کو اس بات کا بخوبی احساس اور علم ہے کہ پاک فوج نے خود کو سیاسی امور سے مکمل طور پر الگ رکھا ہوا ہے۔ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے متعدد بار اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ سیاسی معاملات کو طے کرنا سیاستدانوں کا کام ہے اور فوج اپنی تمام تر توجہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ملتان میں انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اندرونی خطرات اور قدرتی آفات کی صورت میں فوری کارروائی ہمارا طرۂ امتیاز ہے۔ وطن عزیز کی جمہوری قوتیں اور میڈیا کا مجموعی تاثر ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ پاک فوج کی قومی سیاست میں کوئی پسند یا ناپسند نہیں ہے چنانچہ جاوید ہاشمی، شیخ رشید، عمران خان اور ڈاکٹر علامہ طاہر القادری اور ان کے ہمنوا کی طرف سے دیا جانے والا یہ تاثر نقش بر آب ثابت ہو رہا ہے کہ پاک فوج کسی مرحلہ پر جمہوری سیاسی عمل کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرے گی۔ 
ان حالات اور واقعات کے تناظر میں وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران میں سول ، ملٹری تعلقات ہر اعتبار سے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہیں اور اس بات کا یکسر خدشہ نہیں ہے کہ کوئی مہم جو ان تعلقات پر ناخوشگوار اثرات مرتب کرنے میں کامیاب ہو گا۔ سیاسی میدان میں جمہوریت کے تحفظ اور فروغ کے لئے بلاشبہ اہل وطن نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں لیکن اب یہ خیال ایک جیتی جاگتی حقیقت میں تبدیل ہو چکا ہے کہ جمہوریت کو پروان چڑھانے کے لئے پاک فوج بھی اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کر رہی ہے ۔ 

741
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...