پاکستان کو آزاد ہوئے ستاسٹھ سال ہو چکے ہیں اور ایک دفعہ پھر سیاستدان آپس میں گتھم گتھا ہیں وہ مسائل جو آسانی سے حل ہو سکتے تھے اُن کو گھمبیر بنا دیا گیا ہے اور اس نہج پر لے آئے گئے ہیں کہ اِن کے پُر امن حل کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے کیونکہ ہمارے سیاستدان اور حکمران اپنی فہم و فراست کے استعمال کی ضرورت محسوس ہی نہیں کر رہے بلکہ سب سے برا تو یہ ہے کہ کوئی فوج کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا رہا ہے اور کوئی اپنی توپوں کا رخ فوج کی طرف لگائے رکھتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اپنی غلطیوں کے لیے بھی فوج کو ذمہ دار ٹھہرا کر مظلومیت کا لبادہ اوڑھنے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ سیاسی شہادت کی۔ 
پاکستان میں بھی سیاست کا عجب قصہ ہے کہ کرتے یہ سیاست دان جمہوریت کی باتیں ہیں لیکن نہ تو اختلاف رائے کا حق دیتے ہیں نہ اختیارات کی تقسیم کرتے ہیں اور یہ تقسیم اگر کی جاتی ہے تو اپنے اپنے خاندان کے اندر اور اگر اس پر اعتراض کیا جائے تو ایک بودی دلیل یہ پیش کر دی جاتی ہے کہ ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر اور کسان کا بیٹا کسان ہو سکتا ہے تو سیاستدان کا بیٹا سیاستدان کیوں نہیں ، سیاستدانی پر تو کسی کو اعتراض نہیں اعتراض تو اس بات پر ہے کہ کسی پارٹی میں ذہانت و فطانت صرف ایک ہی خاندان کو کیوں و دیعت کر دی جاتی ہے ۔کیا یہ کوئی خدائی قانون ہے اور یا یہ ملک کوئی ذاتی جاگیر ہے جس کی ملکیت کسی ایک ہی خاندان میں رہتی ہے اور دوسروں کو صرف رعیت یا غلامی کا ہی حق ہو، یا زیادہ سے زیادہ ان بادشاہوں کے وزیر، مشیر بدل جایا کریں اور اِن خدمات کے لیے بھی خاندان مخصوص رہیں اور وزرا تیں بھی زیادہ تر شاہی خاندان میں تقسیم کی جائیں۔ اب ان حالات کے خلاف اگر کوئی اُٹھ کھڑا ہو تو اسے عوام کی برداشت کی آخری حد گر داننے کی بجائے سازش قرار دے دیا جاتا ہے اور اس وقت عام رواج یہ ہے کہ اسے فوج کی سازش قرار دے دیا جاتا ہے ۔تجزیہ کار، خبر کار ، نیوز چینلز حتیٰ کہ سیاستدان تک اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیتا ہے اوربجائے اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالنے اپنی غلطی تسلیم کرنے اور اپنی خرابیوں کو درست کرنے کے فوج کو بڑی آسانی سے ان معاملات میں گھسیٹ لیتا ہے اور باقاعدہ داد بھی وصول کر لیتا ہے ۔ جاوید ہاشمی ایک باوقار اور با اصول سیاستدان گردانے جاتے ہیں۔ کم از کم میں دل سے ان کی عزت کرتی ہوں اور انہیں ملک اور عوام کے ساتھ مخلص سمجھتی ہوں لیکن اس بار ہاشمی صاحب نے جو کردار ادا کیا ہے لگتا یہ ہے کہ فوج سے کوئی پرانا حساب چکا یا ہے۔ ہاشمی صاحب نے خود بطور احتجاج نواز لیگ سے علحٰدگی اختیار کی تھی انہیں ان کی خدمات اور قربانیوں کا جو صِلہ دیا گیا تھا وہ انہیں بُرا لگا تھا لیکن جب حکمرانوں نے ملک کے لیے وہی رویہ اپنا یا اور عوام نے احتجاج کیا تو انہیں اس کے پیچھے کوئی قوت نظر آئی اور اس قوت کو انہوں نے بطور دشمن قوت کے لیا۔ جس شخصیت سے آپ کسی ایسی حرکت کی توقع نہ رکھیں اُس کے ایسے رویے کو عوام سنجیدگی اور افسوس سے لیتے ہیں ۔ بہر حال یہ ایک شخصیت کا رویہ نہیں ہے بلکہ بہت سارے لوگ اس رویے کی بنا پر داد وصول کرنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ہمارے سیاستدان حالات کو کھینچ کھینچ کر خرابی کی طرف لے جاتے ہیں اور بعد میں ہر الزام سے بری الزمہ ہونے کے لیے الزام دوسروں کے سر پر تھوپ دیتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں لگنے والے تمام مارشلاؤں سے پہلے سیاستدان اس کی خواہش اور کوشش ضرور کرتے ہیں لیکن اب جبکہ فوج نے سیاسی معاملات کو سیاستدانوں کے حوالے کرنے کا اعلان کر ہی لیا ہے تو برائے خدا معاملات کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کریں انہیں بگاڑیں نہیں اور ملک کو اپنی ذات سے آگے رکھیں ،اپنی ذات کے لیے مہم جوئی نہ کریں تو کسی اور مہم جُو کو بھی موقع نہیں ملے گا۔ ہر معاملے میں خرابی کی ذمہ داری فوج پر ڈالنے سے پہلے سوچ لیا کریں کہ فوج ایک قومی ادارہ ہے اور اس کو بھی قومی معاملات میں فکر مندی کا حق حاصل ہے ہاں اس کا کام حکومت نہیں حفاظت ہے اور اسی لیے محترم ہے کہ حفاظت ہوگی تو حکومت چلے گی۔ باقی رہا موجودہ حالات تک پہنچنے کا قصہ تو ہمارے حکمران سیاستدان اگر یہ سوچ لیتے کہ پاکستان میں ان کے خاندانوں کے علاوہ بھی بہت ٹیلنٹ ہے کوئی اور مریم ، مریم نواز سے زیادہ بہتر سوجھ بوجھ کی مالک ہو سکتی ہے اور کوئی اور حمزہ، حمزہ شہباز سے زیادہ سیاسی فہم و فراست رکھ سکتا ہے تو وہ بہت سارے الزامات سے بچ سکتے تھے ۔پاکستان میں الیکشن میں دھاندلی ہونا یا اس کا الزام لگنا کوئی نئی بات نہیں تھی، اگر حکومت اِن الزامات کو تسلیم نہ بھی کرتی لیکن اِن کی تحقیقات کے مطالبات کو ہی تسلیم کر لیتی اور ایک نئی روایت کی بنیاد ڈال دیتی، آزادانہ تحقیقات کے نتائج کو تسلیم کر لیتی تو زیادہ نیک نام ہو سکتی تھی ۔ ہٹ دھرمی سے حالات کو کبھی بہتر نہیں بنا یا جا سکتا صرف جمہور، جمہوریت اور جمہوری رویے جیسے الفاظ سے جمہوریت نہیں بنتی جمہوری حکومتیں احتجاج کے حق کو بھی تسلیم کرتی ہیں۔ سیاستدان چاہے کسی بھی طرف کے ہوں باہمی افہام و تفہیم سے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرتے تو ملک اس ڈیڈ لاک سے نہ گزرتا اِن مطالبات سے نہ تو حکمران پارٹی متاثر ہو رہی تھی نہ حکومت۔ لیکن اب اگر مسائل کو الجھا ہی دیا گیا ہے تو اس غلطی کو تسلیم کر کے آئندہ کے لیے احتیاط کا راستہ اپنایا جائے۔ پاکستان میں سیاست کا جو مطلب لیا جاتا ہے یعنی حکومت اس کو اگر خدمت سے بدل دیا جائے تو عوام خود ، بخود اپنا اختیار ان سیاستدانوں کے ہاتھ میں دے کر مطمئن ہو جائیں گے پھر انہیں کسی ڈی چوک پر آنے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور ملک کی معیشت بھی یوں نہ ڈبوئی جائے گی، نہ سکول بند ہو کر تعلیمی حرج ہوگا اور نہ سڑکیں بند ہو کر رسل و رسائل کے مسائل پیدا ہونگے ۔جمہورت میں جہاں اور خوبیاں ہوں گی وہاں اپنی غلطی اور دوسرے کا حق تسلیم کرنا بھی اس کا حسن ہے جس کا یا تو شاید ہمارے سیاستدانوں کو علم نہیں اور یا وہ اس کے قائل نہیں۔ لیکن انہیں آخر کار اس کو ماننا پڑے گا کیونکہ ایک دن انہیں جمہوریت سیکھنی تو ہے اگر چہ وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کا رویہ اس کے برعکس ہے۔ اگر وہ اس احتجاج اور اِن حالات کو اپنے لیے چیلنج سمجھ لیں اور اس موقع کا فائدہ اٹھا کر اور اسے حل کرکے اپنے آپ کو ثابت کر لیں کہ وہ مسائل کو حل کر نے کی صلاحیت رکھتے تو وہ عوام میں نہ صرف اپنا اعتماد بحال کرلیں گے بلکہ مستقبل کے لیے اپنا ایک مثبت تاثر بھی قائم کر لیں گے۔ جاوید ہاشمی اور ان جیسے سیاستدان اگر افواج پاکستان کو مجرم سمجھ کر موردِ الزام ٹھہرانا چھوڑ دیں اور اپنی توانائیاں فوج کے خلاف نہیں بلکہ سیاسی معاملات سیاسی طور پر طے کرنے پر خرچ کریں تو ملک بہت سارے مزید مسائل میں الجھنے سے بچ جائے گا، اسی میں ملک کی بقاء ہے اور ملک کی بقا سے سیاستدانوں کی اپنی بقاء بھی وابستہ ہے۔ سیاستدانوں کے لیے ایک مشورہ دردمندی کے ساتھ کہ حکومت کو خاندانوں کا حق مت سمجھیں بلکہ خاندانوں کو اور خود کو ملک کا خدمت گار گردانتے ہوئے اپنا فرض ادا کیجئے توعزت خود بخود آپ کا مقدر ہو جائے گی۔ 

1,035
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...