ساری مہذب دنیا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو محض عسکری طاقت کے بل بوتے پر نہ صرف اپنا غلام بنا رکھا ہے بلکہ اس نے کشمیری عوام پر ظلم و ستم اور جبر و تشدد کے ایسے پہاڑ توڑے ہیں جن کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس سلسلے میں یہ حقیقت نہایت فکر انگیز اور تشویشناک ہے کہ گذشتہ 25برسوں کے دوران انسانیت سوز مظالم کے سلسلہ میں کوئی کم نہیں آئی بلکہ اس میں اضافہ ہی مشاہدہ کیا گیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر کی طرف سے حال ہی میں جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں ان کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں1989ء سے اب تک 94ہزار سے زائد بے قصور اور بے گناہ افراد کو شہید کیا جا چکا ہے۔ اس کے نتیجہ میں ایک لاکھ 7ہزار سے زائد بچے یتیم ہو گئے اور 22ہزار 7سو سے زائد عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ اس کے علاوہ 10ہزار ایک سو سے زائد خواتین کی زبردستی آبرو ریزی کی گئی۔ اس عرصہ میں ایک لاکھ 6ہزار سے زائد مکانات اور دکانوں کو مسمار کر دیا گیا۔ اس بربریت اور ظلم و ستم کے باوجود مقبوضہ وادی کے عوام اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے پرامن جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 
حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کے علاقوں کولگام اور پلوامہ میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ کشمیری نوجوانوں ، حریت رہنماؤں کی گرفتاریوں اور نظر بندیوں کے خلاف تیسرے روز بھی ہڑتال کی گئی۔ اس دوران ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کئے اور بھارتی پولیس نے کئی افراد کوگرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ مشتعل نوجوانوں کے پتھراؤ سے کئی بھارتی اہلکار زخمی ہو گئے جس پر بھارتی سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے مظاہرین پر زبردست لاٹھی چارج کیا جس سے کئی کشمیری زخمی ہو گئے اور اس دوران بھارتی اہلکاروں کی پیلٹ فائرنگ کی زد میں آ کر ایک کشمیری نوجوان غلام محمد کی آنکھ ضائع ہو گئی۔ ادھر حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی بدستور اپنے گھر میں نظر بند ہیں اور انہیں بھارتی فورسز نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد جانے سے بھی روک دیاتاہم اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے سب سے بڑی نا انصافی کشمیری قوم کے ساتھ ہو رہی ہے ۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگرکشمیری قوم کو انصاف دیا گیا تو یہ خود بھارت بلکہ پورے برصغیر کے کروڑوں عوام کی بھلائی کا کام ہو گا اور اس سے جنوب اشیاء کا پورا خطہ امن و استحکام اور ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گا۔
قبل ازیں سری نگرمیں حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس چیئرمین سید علی گیلانی کی صدارت میں منعقد ہوا۔چیئرمین حریت کانفرنس نے جامع اتحاد کے لئے 5نکاتی فارمولہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزادی پسندوں کے درمیان فکری اور اصولی اتحاد ناگزیر ہے ۔موجودہ صورت حال میں لازم ہو گیا ہے کہ جموں و کشمیر کے تمام آزادی پسند لوگ یکجا ہو جائیں اور متحد ہو کر اس صورت حال کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ذی فہم اور ذی ہوش اصولی اتحاد کا مخالف نہیں بن سکتا، البتہ کسی بھی طرح کے اتحاد کے لئے اہداف اور طریقہ کار کی یکسانیت کا پایا جانا ایک لازمی شرط ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص، تنظیم یا فورم پہ یقین دہانی کرائے گا کہ وہ جموں و کشمیر کی بھارتی قبضے سے مکمل آزادی کے بجائے کسی چار نکاتی فارمولے سافٹ بارڈر جوں کی توں یا کسی دوسرے قسم کے آؤٹ آف باکس حل کو تسلیم نہیں کرے گا، دو فریقی یا تکونی طرز کے کسی بے نتیجہ اور لا یعنی مذاکراتی عمل میں شریک نہیں ہو گا اور بھارتی آئین کے تحت منعقد کئے جانے والے کسی الیکشن عمل میں بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر حصہ نہیں لے گا، اس کے لئے حریت کانفرنس کے دروازے کھلے ہیں۔
ادھر مقبوضہ کشمیر میں ہفتہ شہادت کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے چیئرمین حریت کانفرنس میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ نسل میں تحریک آزادی کا جذبہ عسکری تحریک سے بھی زیادہ ہے جسے طاقت کے بل بوتے پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان ، بھارت اور کشمیری عوام کو مل بیٹھنا ہو گا تنازعہ آج نہیں تو کل ضرور حل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اپنے تمام وسائل، عسکری قوت اور خزانہ بھی مقبوضہ کشمیر میں بروئے کار لائے تو پھر بھی وادی کی ہیئت تبدیل نہیں ہو گی۔ بھارتی قیادت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ دھونس اور دباؤ کی پالیسی سے جذبہ آزادی ختم نہیں ہو گا ۔
سری نگرمیں گمشدہ افراد کے عالمی دن کے موقع پرحریت کانفرنس نے عالمی برادری کے ساتھ ساتھ حقوق انسانی کے عالمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ گزشتہ 25برسوں کے دوران لاپتہ کئے گئے 9ہزار سے زائد افراد کی بازیابی اور ان لوگوں کی گمشدگی سے متعلق حقائق کو منظر عام پر لانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالیں۔ پریس کالونی میں مزاحمتی کارکنوں ظفر اکبر بٹ، جاوید احمد میر، سید سلیم گیلانی، حکیم عبدالرشید، یاسمین راجہ، ، صوفی مشتاق احمد، سید بشیر اندرابی، امتیاز احمد ریشی اور دیگر درجنوں کارکنوں نے زیر حراست لاپتہ افراد کی بازیابی کے حق میں ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ 8ہزار سے زائد گمنام قبروں میں دفن لوگوں کے اصل حقائق سے کشمیری قوم اور ان افراد کے لواحقین کو معلومات فراہم کرنا عالمی برادری کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ہم عالمی برادری کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیری عوام پر جاری مظالم کے خاتمے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔
سری نگر میں مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں مغربی پاکستان کے مہاجرین کو ریاست میں شہری حقوق دینے کے معاملہ پر بی جے پی ممبران اور انجینئر رشید کے درمیان زبردست تکرار اور بحث ہوئی جس کے دوران احتجاج کرتے ہوئے بی جے پی نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ جموں سٹیٹ مورچہ کے اشونی کمار نے مغربی پاکستان سے آئے مہاجرین کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سے آنے والے افراد کو تو آباد کیا جاتا ہے تا ہم جو مہاجرین 65سال قبل آئے تھے انہیں ابھی تک حقوق نہیں دئیے گئے۔ ا س موقع پر بی جے پی کے ممبران نے بھی ان کا ساتھ دیا اور مہاجرین کو حقوق دینے کا مطالبہ بھی کیا ۔ اس دوران انجینئر رشید نے کہا کہ جو نوجوان سرحد پار گئے تھے وہ ریاست کے باشندے ہیں اور پاکستان سیر کرنے نہیں گئے تھے۔ بی جے پی ممبران نے کہا کہ پاکستانی ایجنٹوں کو باہرنکال دو جس پر سپیکر قومی اسمبلی مبارک گل نے کہا کہ جن لوگوں نے آئین ہند کا حلف لیا ہے انہیں پاکستانی ایجنٹ کہنے کا کسی کو حق نہیں ہے۔ انہوں نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اصل میں وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے یہ ڈرامہ رچا رہے ہیں۔
جمعرات کے روز سری نگرمیں مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کی قانون ساز کونسل میں ایک قرار داد منظور کر لی گئی جس میں بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ختم کرنے اور دونوں ملکوں کے مابین مذاکراتی عمل بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ اگرچہ قرار داد کے متن کے بارے میں حکمران جماعت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان خاصی تکرار ہوئی لیکن دونوں نے ایوانوں کے چیئرمین کے ذریعہ جاری کی گئی قرار داد کی حمایت کی جس کے نتیجے میں اسے اکثریت رائے سے منظور کر لیا گیا ۔ قرار داد میں سرحد اور لائن آف کنٹرول کے قریب رہنے والے ہزاروں لوگوں کے تحفظ اور بحالی کے بارے میں مطالبہ کرتے ہوئے بھارت اور پاکستان کے درمیان معطل ہونے والے مذاکرات کی بحالی پر زیادہ زور دیا گیا ۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جمعرات کے روز بھارت کے شہر چندی گڑھ کے ایک نجی انجینئرنگ کالج کے ہاسٹل میں کشمیری طلباء کے سری لنکا کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حمایت میں تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کرنے پر ہندو طلباء نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 12طلباء زخمی ہو گئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ چندی گڑھ سے 35کلو میٹر دور واقع جہلن کلاں گاؤں میں سوامی پر مناد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے طلباء کا ایک گروپ جو ہاسٹل میں رہائش پذیر ہے پاکستان اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان کھیلا جانے والا دوسرا ون ڈے میچ ٹی وی پر دیکھ رہا تھا کہ کشمیری طلباء نے پاکستانی ٹیم کی حمایت میں تالیاں بجانا شروع کردیں جس پر ہندو طلباء نے ان پر حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں 12کشمیری طلباء زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں ہاسٹل انتظامیہ نے پولیس کو طلب کر لیا جس نے صورت حال کو کنٹرول کیا۔ دوسرے روز کالج کے ماحول میں اس وقت ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہو گئی جب 30کے قریب طلباء نے جن میں مبینہ طور پر بی جے پی کے مقامی رہنما بھی شامل تھے دوپہر کے وقت چندی گڑھ امبالا نیشنل ہائی وے بلاک کر دی۔ واضح رہے کہ مارچ میں بھی بھارت کے خلاف میچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حمایت میں تالیاں بجانے پر بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک کالج سے 60کشمیری طلباء کو بغاوت کے الزام میں یونیورسٹی کیمپس سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ان واقعات اور حقائق کے تناظر میں وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ جب تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے ، وہاں پر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ 

1,433
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...