ملک مشکلات میں گھرا ہوا ہے لیکن اِن مشکل حالات میں بھی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو ملک سے زیادہ اپنی ذات اور اس سے وابستہ مفادات یا تشہیر کی فکر رہتی ہے اور ہماری بد قسمتی کہ ہمارے پاس ایسے چہرے کئی ہیں جو وقتاََ فوقتاََ اپنی نام نہاد انصاف پسندی کی آڑ لے کر ملک کے لیے مسائل میں اضافے کا باعث بن جاتے ہیں ۔ ایسی ہی ایک شخصیت عاصمہ جہانگیر بھی ہیں جو اکثر اوقات ایسی سرگرمیوں میں شامل رہتی ہیں جس کا ملک کو فائدے سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ بظاہر وہ انسانی حقوق کی علمبردار ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ وہ صرف اُن لوگوں اور معاملات کے لیے آواز اٹھاتی ہیں جس میں شہرت پانے کے امکانات زیادہ ہوں اور بین الا قوامی تعریف و توصیف پانے کے بھی، چاہے ملک کا نقصان ہو۔ یہی کچھ ان محترمہ نے بنگلہ دیش میں کیا جب وہاں ٹیلی وژن چینل پر بیٹھ کر انہوں نے پاک فوج کے احتساب کا مطالبہ کیا کہ اس نے بنگالیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مگر یہ کہتے ہوئے وہ مکنی باہنی اور بھارت کے مغربی پاکستانیوں پر مظالم کا ذکر کرنا بھول گئیں ۔ ان کی اسی طرح کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے انہیں نئی ذمہ داری سونپی ہے جسے انہوں نے ملک کے مفاد کو بالائے طاق رکھ کر قبول کر لیا اور وہ ہے سری لنکا میں تامل تحریک کے خلاف حکومت کی طرف سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف تحقیقات ۔ اس وقت جب پاکستان کو مختلف حیلوں بہانوں سے بین الاقوامی طور پر ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے ایسے میں چند دوست ممالک کے حساس معاملات میں مداخلت کرکے انہیں ناراض کرنا کسی بھی طرح درست نہیں لیکن عاصمہ جہانگیر نے اس ذمہ داری کو قبول کر لیا ۔ان کے ساتھ اس کمیٹی میں فن لینڈ سے سابق صدر مارتھی اور نیوزی لینڈ سے سیلویا کارٹی رائٹ بھی شامل ہیں یہ تین رکنی کمیٹی سری لنکا میں چلنے والی علٰحدگی پسند تحریک لبریشن ٹائیگر آف تامل ایلام اور حکومت کے درمیان آخری معرکوں کے دوران ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعلق تحقیقات کرے گی۔ سری لنکا کی حکومت اِن تحقیقات کی مخالفت کر رہی ہے ظاہر ہے کہ یہ مخالفت ہو گی کہ اگر عراق اور افغانستان میں امریکی جنگی جرائم پر بازپرس بھی نہ ہوکہ کتنے سویلین مارے گئے کتنے بچے قتل کئے گئے کتنی عورتوں کی بے حرمتی کی گئی لیکن اقوام متحدہ کی نظر اس طرف نہیں گئی اورنہ امریکہ پر کوئی پابندی لگی نہ جرمانہ کیا گیا۔ کشمیر میں بھارت کے جرائم پر تو عاصمہ جہانگیر نے کبھی کسی تکلیف کا اظہار کیا نہیں بلکہ بال ٹھاکرے کے ساتھ بڑے فخر سے گفتگو اور فوٹو سیشن کرتی رہی ہیں بھارتی مسلمانوں کے خلاف کبھی اُس کے جرائم پر تحقیقات کا مطالبہ تک نہیں کیا۔ اول تو یہ بات حیران کن ہے کہ اقوام متحدہ نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان اور سری لنکا دوست ممالک ہیں پاکستان سے ایک شخصیت کو ان تحقیقات کے لیے چنا اور اگر کسی پاکستانی شخصیت کو ایسی کوئی پیشکش کی بھی گئی تو کیا انہیں نہیں چاہیے تھا کہ وہ سوچتی کہ پاکستان اگر چند دوست رکھتا ہے تو ان میں سے بھی ایک کو ناراض کیسے کر دیا جائے ۔ سری لنکا تیس سال تک دہشت گردی اور خانہ جنگی کے جس عذاب سے گزرا ہے اس تکلیف سے سری لنکا کے عوام اور حکومت ہی آگاہ ہوگی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف حکومت چاہے کسی بھی ملک کی ہوسختی سے نپٹتی ہے۔ آج اگر پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے تو اس کی وجہ وہ تشدد ہے جو اِن لوگوں نے ملک میں پھیلا رکھا ہے کہ عوام کا جینا حرام ہے ان کو نہ تو گھروں میں تحفظ حاصل ہے نہ باہر تو کیا انہیں آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ جتنے لوگوں کو چاہے مار دیں یہی صورت حال سری لنکا میں رہی ہے۔ اگر اقوام متحدہ ان تمام معاملات کی تحقیقات کرہی رہا ہے کیونکہ سری لنکا ایک چھوٹا ملک ہے تو اس میں پاکستان کو ملوث کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر جیسی شخصیات تو ہمیشہ ملک سے زیادہ اپنی شہرت کی متمنی رہتی ہیں ورنہ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اس ذمہ داری کو لینے سے انکار کر سکتی تھیں اور یوں پاکستان کی طرف سے سری لنکا کے معاملات میں انفرادی سطح پر ہی سہی مداخلت نہ ہوتی جبکہ اِن تحقیقات پر وہاں کی حکومت راضی بھی نہیں ہے اور اگر عاصمہ جہانگیر نے اس ذمہ داری کو قبول بھی کیا ، توکیا ضروری ہے کہ اس قدر جارحانہ انداز اپنا یا جائے جیسا کہ انہوں نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر سری لنکن حکومت نے تعاون نہ کیا تو انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ عاصمہ جہانگیر نے تو اس ذمہ داری کو نہ صرف قبول کیا بلکہ زوروشور سے مصروف عمل بھی ہو گئیں حسب معمول ملک و قوم کی پرواہ کیے بغیر لیکن حکومت پاکستان کو تو جاگ جانا چاہیے اور اب جبکہ اس تحقیقاتی ٹیم نے ستمبر میں اپنی پہلی رپورٹ اقوام متحدہ کو پیش کرنی ہے تو ان محترمہ کو مجبور کرنا چاہیے کہ اپنا نام اس ٹیم سے نکال لیں یا پھر حکومت کو ہی کسی بین الا قوامی فورم پر اس تمام کاروائی سے لا تعلقی کا اعلان کر دینا چاہیے اور سری لنکا کو یہ یقین دلانا چاہیے کہ حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام عاصمہ جہانگیر کے کسی فعل کے ذمہ دار نہیں اور نہ ہی وہ سری لنکا کے خلاف کسی بین الاقوامی یا علاقائی سازش کا حصہ ہیں بلکہ وہ ہمیشہ اسے اپنا ایک اچھا دوست سمجھتے ہیں جو مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔ 

1,017
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...