کوئی کچھ بھی کہے اور سمجھے لیکن اس حقیقت کو بہرحال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اہل وطن کے سیاسی شعور اور طرز احساس میں ماضی کے مقابلہ میں اب زیادہ پختگی ، حقیقت پسندی اور دور اندیشی مشاہدہ کی جاتی ہے۔ وطن عزیز کی سیاسی سرگرمیوں میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اب سیاسی جماعتیں اور گروہ اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنے ، حکومت کی توجہ حاصل کرنے اور اپنی حیثیت اور موجودگی کو نمایاں کرنے کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا رخ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ حال ہی میں تحریک انصاف نے آزادی مارچ اور پاکستان عوامی تحریک نے انقلاب مارچ کے نام پر اسلام آباد کے ریڈ زون میں جو دھرنے دئیے گئے وہ اس کی تازہ ترین اور نہایت قابل ذکر مثال ہیں۔ واضح رہے کہ ریڈ زون اس علاقہ کو قرار دیا گیا ہے جس میں قومی اسمبلی ، ایوان صدر ، وزیراعظم ہاؤس، وزیراعظم سیکرٹریٹ ، سپریم کورٹ اور پاکستان میں قائم غیر ممالک کے سفارت خانہ جات اور حساس نوعیت کی دیگر عمارات واقع ہیں۔ اس ریڈ زون کا قیام گذشتہ دور حکومت میں اس وقت عمل میں آیا جب دہشت گردوں نے اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل کو شدید دھماکہ سے تباہ کیا اور اس سانحہ میں 50کے لگ بھگ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ 
جہاں تک اسلام آباد یا ریڈ زون میں جا کر احتجاج کرنے کا معاملہ ہے تو اس کی ابتداء صدر ضیاء الحق کے دور میں اس وقت ہوئی جب زکوٰۃ و عشر آرڈیننس نافذ کیا گیا اور اس پر فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کئے ۔اپنے اس احتجاج کے سبب ہی وہ اپنے مطالبات منظور کرانے میں کامیاب بھی ہوئے۔ 1989ء میں صدر ضیاء الحق کی پہلی برسی کے موقع پر حکومت نے اسلام آباد میں امن وامان برقرار رکھنے کے لئے اجتماعات پر پابندیاں عائد کر رکھی تھیں لیکن اس وقت موجودہ وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے یہاں پہنچ کر احتجا ج کیا جس کے بعد ان کو برسی منانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ 1992ء میں جب نواز شریف وزیراعظم تھے تو اپوزیشن لیڈر محترمہ بے نظیر بھٹو نے انتخابات میں دھاندلی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے احتجاج کیا اور اس سلسلہ میں انہوں نے اسلام آبادکے ریڈ زون ہی کو منتخب کیا۔ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے احتجاج کے پیش نظر اسمبلی ہی تحلیل کردی۔ بعد ازاں جب محترمہ بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہی تھیں تو جماعت اسلامی نے ان کی حکومت کے خلاف پرزور احتجاج کیا۔ مظاہرین پر قابو پانے کے لئے حکومت کو طاقت استعمال کرنا پڑی جس کے نتیجہ میں جماعت اسلامی کے دو کارکن جاں بحق ہو گئے ۔ جب 2007ء میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو معزول کیا تو ان کے اس اقدام کے خلاف ملک بھر میں وکلاء نے احتجاج کیا جس میں بعد ازاں سول سوسائٹی اور عوام بھی شامل ہوگئے۔ مقامی وکلاء ریڈ زون میں داخل ہوکر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے رہے اور اس دوران پولیس اور وکلاء کے درمیان تصادم کے احوال بھی مشاہدہ کئے گئے۔ 
تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے جب لاہور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تو حکومت نے اس کوشاید زیادہ اہمیت کی نگاہ سے نہ دیکھا لیکن بہت جلد ارباب اختیار کو احساس ہوا کہ انہوں نے اس معاملہ کو اہمیت نہ دے کر غلطی کی ہے چنانچہ دھرنا سے صرف دو روز قبل وزیراعظم نواز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے گذشتہ انتخابات کی تحقیقات کے لئے ایک جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیالیکن دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت نے وزیراعظم کے اس اعلان کو قبول کرنے اور اس کے حوالے سے اپنا احتجاج ختم کرنے سے دو ٹوک الفاظ میں انکار کردیا۔ 
تحریک انصاف نے گذشتہ سال کے عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا اور کافی عرصہ پہلے یہ عندیہ دیا تھا کہ اس کے کارکن اور عوام لاہور سے لانگ مارچ کر کے اسلام آباد پہنچیں گے۔ اسی طرح پاکستان عوامی تحریک کی قیادت نے بھی اعلان کر رکھا تھا کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پنجاب پولیس کے ہاتھوں اپنے 14کارکنوں کی ہلاکت پر احتجاج کرے گی اور اس معاملہ میں کسی قسم کی سودا بازی سے کام نہیں لے گی۔ ان دونوں سیاسی جماعتوں نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم حکومت نے تحریک انصاف کو سرینا چوک کے قریب اور پاکستان عوامی تحریک کو آبپارہ مارکیٹ کے قریب شہید سہر وردی روڈ پراپنا اپنا سٹیج لگانے کی اجازت دے دی۔ اسی احتجاج کے دوران عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے حکومت کو مستعفی ہونے کی ڈیڈ لائن دے دی اور اعلان کیا کہ وہ حکومت کی طرف سے لگائی گئی تمام پابندیوں اور رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوجائیں گے اور واقعی ایسا ہی ہوا۔
حالیہ دنوں میں جو احتجاجی مارچ اور مظاہرے کئے گئے ان کو قومی میڈیا ہی نہیں بلکہ غیر ملکی میڈیا نے بھی اپنی نشریات اور مطبوعات میں نمایاں جگہ دی۔ وطن عزیز کے بیشتر ٹی وی چینل اس واقعہ کی تفصیلات کو براہ راست پیش کررہے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ اس عنوان سے تجزئیے اور تبصرے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ رائے عامہ کے نزدیک صرف دو باتیں قابل ذکر تھیں۔ ایک تو یہ کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور دوسرا یہ کہ یہ احتجاج بہرحال پرامن اور ملکی قوانین کی حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔ اس تناظر میں حالیہ احتجاجی مارچ اور مظاہرے مجموعی طورپر پرامن اور منظم رہے جس سے یہ حقیقت اجاگر ہوئی کہ عوام میں سیاسی امور کے بارے میں ذہنی پختگی آ چکی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بہرحال اپنی جگہ غور طلب رہا کہ بعض ٹی وی چینلز پر گنتی کے چند خودساختہ دانشوروں اور بے جہت تجزیہ کاروں نے مذکورہ احتجاجی مارچ کے حوالہ سے یہ گمراہ کن اور بے بنیاد خدشہ ظاہر کیا کہ تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے سیاسی فیصلوں یعنی احتجاج کی تحریک کے پس پردہ پاک فوج متحرک ہے ۔ کسی ثبوت کے بغیر یہ عندیہ دینے سے بھی گریز نہیں کیا گیا کہ آئی ایس آئی کی طرف سے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی حوصلہ افزائی اور پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ 
یہ امر اپنی جگہ قابل اطمینان اور قابل ذکر ہے کہ عوام نے مذکورہ تجزیاتی خیالات اور تاثرات کو یکسر مسترد کر دیا کیونکہ اہل وطن بخوبی جانتے ہیں کہ پاک فوج ایک منظم اور معتبر ادارہ ہے جو اپنے فرائض انجام دینے کے لئے مثالی کردار ادا کر رہا ہے۔ عسکری قیادت نے واضح کر رکھا ہے کہ فوج کسی طور سیاست میں ملوث نہیں ہوگی۔ یوں بھی عسکری قیادت کی تمام تر توجہ آپریشن ’’ضرب عضب ‘‘ پر مرکوز ہے۔ پیر کی شب پاک فضائیہ کے جیٹ طیاروں نے شمالی وزیرستان میں ایک مکان کو نشانہ بنایا۔ قوی امکان ہے کہ اس مکان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر ملا فضل اللہ اور طالبان کمانڈر گل بہادر موجود تھے جو اس حملہ میں ہلاک ہو گئےتاہم اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ پاک فوج نے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے لئے 15جون 2014ء کو جو آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ شروع کیا تھا، اس میں اب تک اہم کمانڈروں سمیت 800سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جبکہ شمالی وزیرستان میں ان کے 100سے زائد ٹھکانے اور اسلحہ تیار کرنے والی درجنوں فیکٹریاں تباہ کی جا چکی ہیں۔ اس تناظر میں یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ یہ جو ریڈ زون میں پرامن ماحول اور فضاء میں دھرنے دئیے جا رہے ہیں تو یہ اس سبب ممکن ہوا ہے کہ پاک فوج نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جس کو میڈیا کے بعض بزرجمہروں کی طرف سے غالباً دیدہ دانستہ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ایسے عقل کے اندھوں کو یہ بات کون سمجھا سکتا ہے کہ جو فوج ملکی سلامتی ، خود مختاری اور آزادی کا تحفظ کرنے کے لئے دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہے ، وہ کسی سیاسی احتجاجی تحریک میں خود کو کیونکر ملوث کرے گی ؟۔ جن لوگوں نے پاک فوج اور خاص طور پر آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کے لئے خود ساختہ مفروضات کو بنیاد بنا کر گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا ان کو شاید یہ احساس نہیں ہے کہ عوام حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی اور الزام تراشی کرنے والے چند کٹھ پتلی مبصرین دراصل کس کے مرغ دست آموز بنے ہوئے ہیں۔ 

784
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...