فلسطین ایک دفعہ پھر لہو لہو ہے لیکن دنیا اپنے اپنے مشاغل و مسائل میں مگن ہے ۔فلسطین کے بچے روتے رہے اور رمضان اور پھرعید بھی گزر گئی لیکن نہ تو اِن کے آنسو پو نچھے گئے نہ ہی انہیں امن دیا گیا ۔مغرب اپنی غلطی کی تلافی کرنے کے لیے بھی تیار نہیں جس نے دنیا کے کونوں کھدروں میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو لاکر فلسطین میں آباد کیا اور وہاں کے اپنے باشندوں کو ملک بدر کر کے کیمپوں میں بھجوایا اور پھر انہیں یہاں بھی جینے نہیں دیا گیا۔ اس بات کا جواب کسی کے پاس نہیں کہ صدیوں سے اِن بھٹکے ہوئے راندہ یہودیوں کی ہمدردی میں برطانیہ کا کوئی حصہ یا امریکہ کی کوئی ریاست کیوں خالی نہ کی گئی کہ انہیں وہاں آباد کیا جاتا۔ ہٹلر واقعی عظیم تھا جس نے ان یہودیوں کو قتل کرنے پر فخر کیا لیکن اُس کے قتل عام کی سزا بے چارے فلسطینیوں کو کیوں دی گئی۔ اسرائیل پچھلے تقریباََ ایک ماہ سے بلا روک ٹوک فلسطینیوں پر بمباری کر رہا ہے اور اس کے بچوں بوڑھوں عورتوں مردوں ہر ایک کو نشانہ بنا رہا ہے، نہ سکول چھوڑے گئے نہ ہسپتال لیکن اب تک نہ تو اقوام متحدہ کچھ کر سکا ہے نہ امریکہ ۔ امریکہ تو خیر اپنے اس ناجائز بچے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے نہ تو اُسے بنیادی انسانی حقوق یاد ہیں نہ کچھ اور ،بلی کے بچے کے لیے تڑپ جانے والے امریکی انسانی بچوں کو تڑپتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور تڑپ کر روتے ہوئے بھی لیکن پھر بھی وہ ان بچوں اور ان کے والدین کو مجرم قرار دیتے ہیں انہیں دہشت گرد کہتے ہیں جبکہ اُسے اور دنیا کو یہ مان لینا کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہے اس پر وہ پابندیاں لگنی چاہیے اور وہ سزا دی جانی چاہیے جو کسی دہشت گرد کے لیے دنیا کے قانون میں رائج ہے۔ امریکہ اور یورپ تو اپنی اقتصادیات کی وجہ سے اسرائیل کے آگے مجبور ہیں لیکن مسلمان دنیا آخر کہاں ہے صرف یوم القدس کے جلوس نکال کر کیوں اپنے فرض سے سبکدوشی محسوس کر رہی ہے۔ حکومتیں تو جیسے خوابیدہ ہیں اور اپنی اپنی سیاسی جنگوں اور مفادات کی دوڑ میں مگن ہیں کبھی کبھی کوئی مری ہوئی سی آواز اٹھتی ہے اور وہ بھی بادل نخواستہ ۔عجم تو پھر بھی بول رہا ہے لیکن عرب تو اپنی تیل سے بھر پور زمینوں پر اپنی شاہانہ زندگیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔پندرہ سو سے زیادہ فلسطینی اب تک شہید ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں بچوں کی معصوم لاشیں دیکھ کر انسان تو انسان جانور کو بھی رحم آجائے اسکے ہاتھ سے بھی نوالہ گر پڑے لیکن مسلمان حکمران یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور خاموش ہیں ۔ اسرائیل کو مجبور کرنے کے لیے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے لیکن ا بھی بھی دنیا کی ساری توجہ مسلمان ممالک کو ہی دہشت گرد قرار دینے پر مرکوز ہے اور مسلمان بھی ان کے آلہء کار بنے ہوئے آپس میں بر سر پیکار اور گتھم گتھا ہیں۔ شیعہ سنی کو، سنی شیعہ کو، حماس الفتح کو، الفتح حماس کو، مصر ایک کو شام دوسرے کو یعنی ہر ایک دوسرے کو گناہ گار اور خطا کار قرار دے رہا ہے ایسے میں جب کہیں سے یہ آواز اٹھتی ہے کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے تو بھی مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے کہ اس تنظیم کے ریکارڈ پر کوئی بھی ایسا کارنامہ نہیں ہے جس سے مسلم امہ کے مصائب میں کوئی کمی واقع ہوئی ہو۔ نہ تو یہ مسلمانوں کو آپس میں لڑنے سے روک سکی ہے نہ آپس میں جوڑ سکی ہے اور نہ اُس کی طرف سے اس کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔ ورنہ اگر ایسی کوئی کوشش کی جاتی تو یقیناًکوئی بہتری آسکتی تھی جب دنیا کے ستاون ممالک اکٹھے ہو جائیں تو چند چند ملکوں کی تنظیموں سے زیادہ موثر کر دار ادا کر سکتے ہیں لیکن حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ پندرہ سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور ہر روز سو سے زیادہ مزید شہید ہو رہے ہیں لیکن سب کے زبانوں کو تالے لگے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں امریکہ اور مغرب کو خوش کرنا اور رکھنا ہے کہیں کسی مفاد کے لیے کہیں کسی ا ورمفاد کے لیے اور حد تو یہ ہے کہ امریکہ ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ مصر، اردن اور کچھ اور اسلامی ممالک بھی اس تنظیم کو کلی اور جزوی طور پردہشت گرد قرار دے چکے ہیں جب کہ اب تو سعودی عرب بھی اپنی سوچ بدل رہا ہے۔ انتہائی دکھ تو اُس وقت ہوتا ہے کہ کسی اسلامی ملک نے کوئی عملی قدم تو کیا زبانی جمع خرچ بھی نہیں کیا۔ پاکستان جسے ہم ہمیشہ بڑے فخر سے اسلام کا قلعہ کہتے اور سمجھتے رہے ہم نے بھی صرف اپنا پرچم سرنگوں کرکے سمجھا کہ ہم نے اپنا فرض پورا کر لیا ہے بلاشبہ کہ ہم اس وقت خود بھی ایک آزمائشی دور سے گزر رہے ہیں لیکن کیا ہم سفارتی سطح پر بھی بے بس ہیں کیا مسلمان ممالک کو ہم اس بات پر بھی اکٹھا نہیں کر سکتے کہ اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر کچھ کر سکیں جنرل اسمبلی کا اجلاس ہی بلاسکیں اسرائیل پر پابندیوں کی ہی کوشش کر لیں دنیا کو یہی یاد کر ا سکیں کہ اسرائیل کی بنیاد ہی ظلم پر رکھی گئی تھی ۔ 1896 میں یہودیوں کے لیے ایک ملک کا مطالبہ کیا گیا لیکن جلد ہی اسے ایک یہودی ریاست کے مطالبے میں بدل دیا گیا یہودیوں کو اس ملک سے فلسطینیوں نے نہیں نکالا تھا بلکہ وہ اپنے اعمال اور نافرمانیوں کے باعث ملک بدر کیے گئے تھے اور اللہ کی طرف سے کیے گئے تھے اور بعد میں بھی یہ مسلمانوں کے ہاتھوں نہیں عیسائیوں اور دوسرے مذاہب و اقوام کی طرف سے اپنی زمین سے نکالے گئے جبکہ تیرہ سو سال سے یہاں رہنے والے فلسطینی مسلمان صرف چند لاکھ یہودیوں کی خواہش پر اپنے ملک سے یا تو نکالے گئے یا مہاجر کیمپوں میں رہنے پر مجبور کیے گئے یا چند چھوٹے چھوٹے ایک دوسرے سے جدا جدا علاقوں میں کسی قید خانے کی طرح بند کر دئیے گئے اور اب دہشت گرد بھی انہیں ہی کہا جا رہا ہے یعنی گھر کے مالک کو گھر سے نکال کر اسے ہی ظالم کہا جائے ۔ موجودہ اسرائیلی حملوں اور بربریت پر جس طرح سے پوری دنیا سوائے چند ممالک کے خاموش ہے وہ بجائے خود جرم ہے اور مسلمان ممالک کے لیے تو جرم عظیم ۔قرآن نے تو بتا دیا تھا کہ یہودی اور نصرانی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے یوں تو تاریخی طور پر یہ ایک دوسرے کے بھی دشمن ہیں لیکن مسلمانوں کے خلاف ان کے گٹھ جوڑ کی بھی اللہ نے خبر دے دی تھی اور مسلمانوں کو نبی پاک ﷺ نے ایک جسم قرار دیا تھا لیکن ہم اس کے الٹ چل رہے ہیں۔ سعودی شہزادہ بندر جب موساد کے چیف پار ڈو سے ملاقات کر رہے تھے اوربقول اُن کے انہوں نے مشرق وسطیٰ کے امن کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تو کیا امن کے لیے فلسطینیوں کے قتل عام کا منصوبہ زیر غور آیا تھا اگر نہیں تو اسرائیل کو وحشت و بر بریت روکنے پر مجبور کیوں نہیں کیا جا رہا۔ تیل سے مالا مال عرب ممالک اپنے تیل کو ہی مغرب کے لیے بند کر دیں تو کیا ان پر دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا، اگر اسلامی ممالک اسرائیل کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں تو کیا اِن کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا بہت کچھ کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے پہلے اتحاد بین المسلمین ضروری ہے ۔جس طرح مغرب ہٹلر کی یہودی نسل کشی کے خلاف متحد ہوا اور اُسے مجرم قرار دیا اسی طرح کیا مسلمان اسرائیل کی فلسطینی نسل کشی کے خلاف اکٹھے نہیں ہو سکتے جن کے بچوں کو چن چن کر شہید کیا جا رہا ہے نہ سکول محفوظ ہیں نہ ہسپتال نہ گھر، نہ مہاجر کیمپ حتیٰ کہ مساجد بھی نہیں یعنی مذہبی اور انسانی دونوں طرح کی دہشت گردی ہے جو ایک ماہ سے جاری ہے لیکن کیا کوئی ہے جو اقوام متحدہ میں اور دوسرے عالمی فورموں پر اسرائیل کے خلاف جم کر کھڑا ہو جائے اُسے مجرم ثابت کر سکے کوئی مسلمان لیڈر ، کوئی مسلمان ملک، کوئی نواز شریف کوئی شاہ عبداللہ کوئی مذہبی رہنما۔ نہیں اور یہی عالم اسلام کا المیہ ہے اور یہی المیہ نہ صرف فلسطین بلکہ دوسرے المیوں کو بھی جنم دے رہا ہے کیونکہ عام مسلمان بے بس ہے اور خاص مسلمان سو رہا ہے کاش کہ انہیں کوئی جگا دے۔
900
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...