جب کسی ملک میں خود آپس کی نا اتفاقیاں ، ناچاقیاں ہوں اور ملک سے بڑھ کر حکومت اہمیت اختیار کر جائے تو بیرونی دشمن بھی اپنی سازشوں میں اضافہ کر دیتے ہیں بلکہ وہ جو خود دوسروں کے دست نگر ہوتے ہیں جو خود اپنے ملک کو سنبھال نہیں سکتے وہ بھی آپ کو اپنا مجرم قرار دینے لگتے ہیں اور یہی حال ہمارا ہے کہ افغانستان جیسا ملک بھی ہمارے بارے میں بات کرتا ہے ہمیں دھمکیاں دیتا ہے اور ہمارے خلاف سازشیں بھی کرتا ہے۔ حکومت تو حکومت اس کے بہت سے عام لوگ جنہیں پاکستان نے کئی دہائیوں سے پناہ دی ہوئی ہے وہ بھی اور جن کی نسلیں پاکستان میں پیدا ہوئیں و ہ بھی پاکستان کے بارے میں منفی ذہنیت رکھتے ہیں ۔ ایسی ہی ایک افغان خاتون نگاہ جان نے انٹر نیٹ پر پاکستان کے خلاف اور بلوچ علحد گی پسندوں کے حق میں ایک پٹیشن دائر کی ہوئی ہے اور اب تک اپنے مطلب کے ایک ہزار لوگوں سے دستخط حاصل کر چکی ہے اور اس تعداد کو پندرہ سو تک پہنچا کر اس پٹیشن کو بان کی مون کو بھجوانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس افغان عورت کو بلوچوں سے کیا ہمدردی ہو سکتی ہے سوائے پاکستان دشمنی کے جبکہ وہ خود نہ اپنے ملک میں رہتی ہے نہ وہاں سے پڑھی ہوئی ہے۔ کینڈا میں رہنے والی نگاہ جان مک گِل یونیورسٹی کینیڈاسے تعلیم یافتہ ہے اسے بلوچوں کا درد کیسے محسوس ہوا ظاہر ہے کہ اُسے اس کام کے لیے معاوضہ دیا جا رہا ہوگا ورنہ وہ پہلے اپنے ملک کی فکر کرتی جو 1979 کے بعد سے امن کے لیے ترس گیا ہے ۔ نگاہ جان کوئی واحدشخصیت نہیں جو مغرب میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف مصروف عمل ہے بلکہ وہ تو ایک بہت ہی چھوٹا سا مہرہ ہے وہاں تو کئی شہ اور وزیر بیٹھے ہوئے ہیں اور بڑی تسلی سے اپنے کام میں مصروف ہیں اور خاص کر بلوچوں کی اس طرح کی تنظیموں اور شخصیات کو تو سر آنکھوں پر بیٹھا یا جاتا ہے اور کینیڈا جیسا ملک، جہاں امیگریشن اور اظہار رائے دونوں کی آزادی کے نام پر جو چاہے جائے اور جو جوچاہے کرے تو خاص کر ان عناصر کا گڑھ بنتا جا رہا ہے ۔ بلوچستان کے معاملے میں تو کئی ممالک سرگرم ہیں امریکہ میں احمر مستی خان بھی ایسی ہی ایک تنظیم کا سربراہ بن کر بیٹھا ہوا ہے جبکہ خود اسکا کردار تک مشکوک ہے ۔نریندر مودی کی انتخابات میں کامیابی پر احمر مستی خان نے اسے ایک خط لکھ کر نہ صرف مباکباد دی، خوشی کا اظہار کیا بلکہ اس سے بلوچستان میں کھلی مداخلت کی درخواست بھی کی اگر احمر مستی خان جیسے کرداروں کو بلوچوں سے بہت محبت اور ان کی بہت فکر ہے تو وہ کیوں نہ پاکستان آجاتے ہیں اور جن بلوچوں کو لڑا لڑا کر وہ مار رہے ہیں ان کے ساتھ خود کیوں شامل نہیں ہوتے اور نگاہ جان کا تو بلوچوں سے کسی قسم کا کوئی تعلق ہی نہیں لیکن وہ بھی اُس عالمی سازش کا ایک مہرہ ہے جو پاکستان اور بلوچستان کے خلاف برپا کی گئی ہے اور ایسے مہروں اور کارندوں کو مغرب میں اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے اور عالمی طاقتیں یوں بڑی آسانی سے اپنا کھیل کھیل رہی ہیں ۔نگاہ جان نے حکومت پاکستان اور آئی ایس آئی پر جو الزامات لگا کر لوگوں سے اپنی پٹیشن پر دستخط حاصل کیے ہیں وہ انتہائی بے بنیاد اور مضکحہ خیز ہیں جن کا لب لباب یہ ہے کہ پاکستان اور آئی ایس آئی دہشت گردوں کو بناتے ہیں اور پناہ دیتے ہیں اور انہیں افغانستان اور نگاہ جان کے مربی بھارت کے خلاف استعمال کرتے ہیں جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی افغان جنگوں کے ساتھ داخل ہوئی ہے آج بھی جو دہشت گرد قبائلی علاقوں میں بیٹھے ہوئے ہیں اُن کا افغانستان سے کوئی نہ کوئی رشتہ ہے بلکہ اکثر کے والدین میں سے کوئی ایک افغانستان سے تعلق رکھتا ہے جو افغان مہاجروں کے روپ میں پاکستان آئے اور پناہ حاصل کرنے کے بعد اپنی اسی پناہ گاہ یعنی پاکستان کو نشانہ بنایا۔ نگاہ جان ، حامد کرزئی اور ان جیسے دوسرے افغانوں کوتو شاید یاد نہیں یا وہ یاد کرنا نہیں چا ہتے لیکن تاریخ بہر حال گواہ ہے کہ افغانوں پرجب بھی برا وقت آیا ہے اور خانہ جنگی کا شکار ہوئے یا بیرونی قوتوں کے حملوں کی زد میں آئے انہیں اسی پاکستان کی سرزمین اور اس کے باسیوں نے پناہ دی اوراِن کی ہی وجہ سے ہم دنیا کی نظروں میں کھٹکے بھی اور اس کی دشمنیوں کا نشانہ بھی بنے لیکن افغانوں کی مدد کو اپنا دینی فریضہ سمجھا اور آج بھی لاکھوں افغان مہاجروں کے روپ میں پاکستان میں موجود ہیں لیکن ہر پناہ کے بعد افغان حکومتوں نے پاکستان کے احسان کا بدلہ دینے کی بجائے اس کے مصائب میں اضافہ ہی کیا۔ آج بھی شہر شہر پھیلے ہوئے افغان مہاجرین میں سے اکثریت کی پیدائش پاکستان میں ہوئی یہ ادھر ہی پل کر جوان ہوئے بلکہ اُن کی دوسری نسل بھی اِدھر ہی پیدا ہوئی اور اب بھی وہ اپنے ملک جانے سے انکاری ہیں لیکن اس پناہ کے بدلے مہاجروں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے ہاتھوں پاکستان مصائب میں گھرا ہوا ہے اکثر کسی دہشت گرد کا ملنے والا سر بتا تا ہے کہ وہ غیر ملکی ہے کبھی وہ افغان ، کبھی قازق اور کبھی ازبک ہوتا ہے ۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو بھی یہی افغانستان پناہ فراہم کرتا ہے حکیم اللہ محسود ہو یا مولوی فضل اللہ اور یا کوئی اور جس تک بھی پاکستانی فوج کے پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو جائے وہ افغانستان ہی جا چھپتا ہے اور براہمداغ جیسے دہشت گرد تو افغان حکومت کے خاص اور معزز مہمان بن کر رہتے ہیں اور جو افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں رہنا پسند نہیں کرتے اور سویٹزرلینڈ یا کسی اور یورپی ملک میں جا رہتے ہیں تو افغانستان اور بھارت وہاں ان کی دیکھ بھال میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان تمام باتوں کا نگاہ جان اور اِس جیسے دوسرے مغربی آلۂ کار افغانوں کو علم بھی ہے لیکن وہ پھر بھی مجرم پاکستان کو ٹھہراتے ہیں کیونکہ انہیں اسی خدمت کے بدلے نوازا جاتا ہے۔ نگاہ جان کوئی اہم اور قابل توجہ شخصیت نہیں لیکن افغان بدنیتی اور بھارتی اور مغربی ارادوں کی علامت ضرور ہے لہٰذا اُس کے ارادوں کے آگے بند باندھنا ضروری ہے بلکہ ہمارے نوجوانوں کو اِن کے خلاف سوشل میڈیا پر ہی موثر مہم چلانی چاہیے تاکہ ان کے پنپنے سے پہلے ہی ان کا توڑ کیا جا سکے اور ایسا کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی ضرور ہونی چاہیے جیسے کہ ڈاکٹر واحد بلوچ نے بلوچ کونسل نارتھ امریکا کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہوئی ہے جو بلوچ نوجوانوں کو متنبہ کر رہے ہیں کہ بلوچ سرداروں سے بچ کر رہیں کیونکہ وہ آزادی کی نہیں اپنی حکومت کی جنگ لڑ رہے ہیں مزید ایسے لوگوں کو سامنے لانا چاہیے تاکہ دشمن کا مقابلہ انہی کے انداز میں کیا جائے۔ دشمن اپنا کا م کر رہا ہے لیکن ہمیں بھی اپنا کام کرنا ہے تبھی ہم اپنے ملک کی حفاظت کر سکیں گے اور عالمی سطح پر اپنی عزت اور ساکھ بحال کر سکیں گے۔ 

991
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...