حالیہ دنوں میں افغانستان اور بھارت کی طرف سے پاکستان کے بارے میں سفارتی اور میڈیا کی سطح پر جو رویہ اور پالیسی اختیار کی گئی ہے وہ بجا طور پر اہل وطن کی توجہ اور تجزیہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ امریکہ کا بھارت کی طرف جھکاؤ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ بھارت کو جنوبی ایشیاء اور خاص طور پر پاکستان، افغانستان اور ایران کے علاقہ میں ’’تھانیدار‘‘ کا کردار سونپنا چاہتا ہے اور یہ فیصلہ کرتے ہوئے یہ حقیقت فراموش کر دی گئی ہے کہ ایسی کوئی بھی حکمت عملی کامیاب ثابت نہیں ہوگی بلکہ اگرایسا کیا گیا تو اس کے نتائج بلاشبہ امریکی مفادات کے حق میں برآمد نہیں ہوں گے۔ یہ بات کسی تشریح کی محتاج نہیں ہے کہ بھارت کی بالادستی قائم کرنے کی صورت میں افغانستان میں امن اور مفاہمت کا عمل بری طرح متاثر ہو گا اور دوسری طرف اس کوشش اور اقدام سے علاقہ کے تذویراتی احوال پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کا بجا طور پر خیال ہے کہ بھارت کو اگر افغانستان میں قدم جمانے کا موقع میسر آ گیا تو وہ اپنی ان پاکستان دشمن سرگرمیوں کو مزید تیز کرے گا جن کا سلسلہ اس نے ایک عرصہ قبل شروع کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کو جب امریکی آشیر باد حاصل ہو گی تو وہ یقینی طور پر چین اور ایران پر بھی اپنی بالادستی قائم کرنے یا کم از کم اس کا مظاہرہ کرنے کی کوشش ضرور کرے گا جس کو عالمی برادری یقینی طور پر ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھے گی۔ 
امریکی پالیسی ساز شخصیات اور اداروں کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ نئی دہلی کی طرف سے صرف اس وقت تک واشنگٹن کی ہاں میں ہاں ملائی جائے گی جب تک بھارتی مفادات کا حصول یقینی اور آسان رہے گا۔ عالمی سفارتی حلقوں میں اس امر کا تذکرہ عام رہتا ہے کہ خارجہ پالیسی اور امور کے باب میں بھارت کا کردار خود غرضی اور اپنے مفادات کو ترجیح دینے پر مبنی رہا ہے ۔ ضرورت کے وقت وہ امریکہ کی بجائے کسی دوسری طاقت یا گروپ کی طرف راغب ہو سکتا ہے جیسا کہ حال ہی میں وہ ایک نئے عالمی بینک کے قیام کے لئے چین، برازیل ، روس اور جنوبی افریقہ کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہو گیا ہے ۔ اس نئے عالمی بینک کے قیام کے لئے ایک کھرب ڈالر کا ایمرجنسی فنڈ قائم کیا گیا ہے اور اس کا مرکزی دفتر چین کے تجارتی شہر شنگھائی میں ہو گا تا ہم اس بینک کا پہلا صدر بھارت سے ہو گا ۔ شنید ہے کہ اگلے مرحلہ میں میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن اور بعض دیگر ترقی پذیر ممالک کو بھی اس بینک کا رکن بنایا جائے گا۔ اس تناظر میں خوب اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارت اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر کس طرح گرگٹ کے انداز میں اپنے رنگ بدلنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ 
یہ امر بھی نہایت فکر انگیز قرار دیا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے حالیہ دنوں میں خاطر خواہ کوششیں کی ہیں۔ گذشتہ سال 24نومبر کو ایران اور دنیا کے چھ ترقی یافتہ ممالک کے درمیان ایرانی ایٹمی پروگرام کے باب میں جو معاہدہ طے پایا تھا اس پر بڑی حد تک کامیابی سے پیش رفت جاری ہے۔ ابتدائی طور پر یہ معاہدہ عارضی طور پر چھ ماہ کے لئے تھا لیکن اب فریقین کے درمیان اعتماد کی فضاء قائم ہو چکی ہے اور وہ خوشگوار ماحول میں طے شدہ ایجنڈا کے مطابق مذاکرات کر رہے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے بعد عالمی طاقتوں کی شرائط پر رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ کی طرف سے ایران کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کا سبب یہ ہے کہ افغانستان سے انخلاء کے وقت اگر پاکستان سے نیٹو افواج کے لئے میسر راستہ مسدود ہواتو وہ ایران کی چاہ بہار بندر گاہ کو متبادل راستہ کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ اس بارے میں کئی حقائق منظر عام پر آ چکے ہیں جن کی تفصیل کا یہ محل اور موضوع نہیں۔ 
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ افغانستان کی طرف سے پاکستان کے بارے میں جو رویہ (اور پالیسی) اختیار کی گئی ہے وہ نرم سے نرم الفاظ میں ’’غیر دوستانہ‘‘ ہے جو ایک افسوسناک بات ہے لیکن اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس رویہ کے اسباب نامعلوم ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی ہر مشکل وقت میں غیر مشروط اور بھرپور مدد کی۔ 70ء کے عشرہ کے آخر میں جب سوویت یونین نے بحر ہند کے گرم پانیوں تک رسائی کے اپنے دیرینہ خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے افغانستان کا راستہ اختیار کرتے ہوئے عسکری مداخلت کی تو پاکستان نے اس کی مزاحمت اور مخالفت کے سلسلہ میں سرخیل دستہ کا کردار ادا کیا۔ ایسے میں 30لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو اپنے یہاں اسلامی اخوت کے جذبہ کے تحت نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کو مہاجرین کی بجائے اپنے شہریوں کے مساوی حقوق اور آزادی فراہم کی۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ہنوز پاکستان میں ہی مقیم ہے۔ خود افغان صدر حامد کرزئی اس عرصہ میں پاکستان کی مہمان نوازی سے بھرپور استفادہ کرتے رہے اور گاہے اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ پاکستان کو ہدف تنقید بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔
پاکستان کی ہمیشہ یہی کوشش اور پالیسی رہی ہے کہ افغانستان میں امن قائم رہے اور افغان عوام کو اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادی اور خود مختاری کو یقینی بنایا جائے۔ اسلام آباد اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان دراصل پاکستان کے حق میں نیک فال ثابت ہو گا ۔ اس سلسلہ میں اس بات کو بھی نہایت مرکزی حیثیت حاصل ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے کے عوام کے درمیان صدیوں پرانے ثقافتی ، لسانی ، سماجی، مذہبی او ر سیاسی تعلقات ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ عوام کی سطح پر دونوں ممالک کے باہمی تعلقات بجا طور پر خوشگوار تصور کئے جاتے ہیں لیکن کابل میں موجود بعض شخصیات اپنے ذاتی مفادات کے تحت پاکستان پر محض اس لئے کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتی ہیں تا کہ وہ امریکہ اور بھارت، دونوں کی طرف سے ’’داد و تحسین ‘‘ وصول کر سکیں۔ اس کوشش میں وہ نئی دہلی کی زبان اور لب و لہجہ اختیار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ 
بیان کردہ حقائق کی روشنی میں بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر امریکہ نے اس حوالے سے بھارت کی حوصلہ افزائی جاری رکھی کہ وہ اس علاقہ میں ’’تھانیدار‘‘ کا کردار ادا کرے تو اس امر کو نوشتہ دیوار تصور کیا جانا چاہیے کہ یہ امریکی حکومت اور پالیسی سازوں کی ایسی غلطی ہو گی جس کی تلافی مستقبل قریب میں نہیں ہو سکے گی۔پاکستان کا کبھی بھی یہ نصب العین اور مدعا نہیں رہاکہ وہ علاقہ میں اپنی بالادستی قائم کرے، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے یا پڑوسی ممالک کے ساتھ غیر دوستانہ رویہ اختیار کرے۔ اسلام آباد نے ہمیشہ امن اور باہمی احترام پر مبنی دوستی کے فروغ کے لئے اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کیا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ اس کے مقابلہ میں نئی دہلی نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف اپنا روایتی انداز اختیار کئے رکھا ہے۔ بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف مسلسل بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتا رہتا ہے ۔ اس کا ہدف عام طور پر پاکستان کے حساس اور عسکری ادارے ہوتے ہیں ۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ کسی ناخوشگوار واقعہ یا حادثہ کی صورت میں پاکستان کے حساس عسکری اداروں (خاص طور پر آئی ایس آئی ) پر ذمہ داری کا الزام عائد کیا گیا جو بعد ازاں بے بنیاد اور یکسر غلط ثابت ہوا۔ 
عالمی امور اور حالات حاضرہ کے ماہرین کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے لئے ضروری ہے کہ علاقہ کے ممالک برابری کی سطح پر اور ایک دوسرے کی خود مختاری و آزادی کا احترام کرتے ہوئے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ دنیا کی واحد سپر پاور کی حیثیت سے امریکہ پر یہ اخلاقی اور سفارتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کو علاقہ کا ’’تھانیدار ‘‘مقرر کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے تمام ممالک کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کرے ۔ یہ ضرورت ایک ایسے وقت میں مزید بڑھ جاتی ہے جب امریکہ سمیت نیٹو افواج کو بہرحال افغانستان سے انخلاء کا راستہ اختیار کرنا ہے ۔ کیا امریکی پالیسی ساز شخصیات او ر اداروں کو یہ باور کرانے کا فرض بھی پاکستان کو ادا کرنا ہو گا کہ بھارت کے ساتھ تعاون اور اس کی حوصلہ افزائی کے دائرہ کی وسعت کا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے سفارتی ماضی کا معروضی تجزیہ کرنا اشد ضروری ہے۔ 

860
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...