امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ انتہائی غیر معمولی اور غیر یقینی رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد بین الاقوامی جنگ نے ان تعلقات کو مزید متنازعہ بنادیا ہے۔ عوام کی مرضی کے خلاف حکومتی سطح پر یہ تعلقات قائم رکھے گئے اور عوام کے باربار اصرار پر بھی اُن پر نظر ثانی تک نہیں کی گئی فضائی اور زمینی حدود کی خلاف ورزی کو بڑی خاموشی اور غیرضروری تحمل کے ساتھ برداشت کیا جاتا رہا۔ ملکی سڑکیں بڑے بڑے کنٹینرز کے پہیوں تلے روندی جاتی رہیں سڑکیں تباہ ہوتی رہیں او ر نیٹو اور امریکہ اپنی جنگ بغیر کسی رکاوٹ کے بڑے تسلسل سے لڑتی رہے۔ ان کی کامیابی اور ناکامی ایک الگ مسئلہ ہے تاہم ہماری حکومتوں نے اپنے تعاون میں کسی طرح کی کمی نہیں چھوڑی ۔ دومئی کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا ڈرامہ یا چلئے حقیقت لیکن یہ کاروائی پاکستان کے اندر آکر کی گئی ،حکومت کو اس کی خبر تھی یا نہیں لیکن اس کے بعد بھی حالات سنبھالنے کی کوشش کی گئی یہ اتار چڑھائو آتے اور جاتے رہے اور پھر پچیس چھبیس نومبر کی درمیانی رات کو مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملے نے پوری قوم اور پوری فوج کو ہلاکر رکھ دیا۔ ایسے میں حکومت کو دبائو کے تحت یا کسی بھی وجوہ کی بنا پر امریکہ کے ساتھ اتحاد کے معاملے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا پڑی ۔ وہ ملک جو افغانستان میں اپنی جنگ کے لیے پاکستان کو استعمال کرنے کے باوجود اس کا اعتراف کرنے کا تکلف بھی نہیں کرتا تھا بلکہ ہر بار ڈومور کا مطالبہ آجاتاتھا اور ساتھ ہی پاکستان کے خلاف ایک لمبی چارج شیٹ بھی رکھ دی جاتی تھی یعنی ہر بار الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والی مثال ہو جاتی تھی۔ بہر حال اب جبکہ امریکہ کو پہلی بار پاکستانی تعاون سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں اور اُس کو ایک گیلن پٹرول ایک ہزار ڈالر میں پڑ رہا ہے اور اس کو ایک لمبے راستے سے افغانستان میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے آنا پڑ رہا ہے تو اُسکی پاکستان کے لوگوں سے محبت اور انکی فلاح کے تمام جذبات ختم ہو چکے ہیں اور اُس نے اِس ملک کی امداد بند کرنے کے بے شمار بہانے ڈھونڈنے شروع کر دیئے ہیں ۔نہ اب اُسے اس ملک کی زراعت سے دلچسپی ہے نہ صنعت سے، اور امریکہ نے پاکستان کی سات سوملین ڈالرزکی وہ امداد بند کردی جو مصنوعی کھاد کیلشیم امونیم نائٹریٹ کی تیاری پر خرچ ہو رہی تھی۔ یہ کھاد صحرائی، ریتلی اور خشک زرعی زمینوں پر لگائی جانے والی فصلوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ پاکستان میں یہ کھاد پچھلے چالیس سال سے بن رہی ہے۔ دنیا میں اس کھاد کی سالانہ پیداوار 3.7 ملین ٹن ہے جس میں سے 2.89 ملین ٹن یورپ میں بنتی ہے جبکہ پاکستان میں یہ پیداوار 0.6 ملین ٹن یعنی بہت کم ہے۔ دہشت گردی کی جنگ نے پاکستان کو بہت سارے کردہ و ناکردہ جرائم کا مجرم بنا دیا ہے ،امونیم نائیٹر یٹ دراصل وہ کھاد ہے جسے دہشت گردوں نے دیسی ساختہ بموں میں سب سے زیادہ استعمال کیااس کھاد میں 68% نائٹرک ایسڈ استعمال ہوتی ہے اور IED یعنی Improvised Explosive Devise تیار کرنے کے لیے 60% نائٹرک ایسڈ استعمال ہوتی ہے۔ یہی کھاد 1995 امریکہ میں اوکلو ہامہ بم دھماکے میں استعمال کی گئی جس میں 168 جانیں ضائع ہوئی تھیں ۔ اس کھا د پر امریکہ کی طرف سے نومبر 2009 میں پابندی لگائی گئی اور واقعے کے پندرہ سال بعداس کھاد کے خلاف قانون سازی کی گئی اور اس کے ساتھ ہی پاکستان میں اس کی پیداوار کی مد میں دی جانے والی امداد بند کردی گئی۔ پاکستان میں یہ کھاد پاک عرب تعاون سے چلنے والی فاطمہ فرٹیلائزر میں تیار کی جاتی ہے جس کی فیکٹری ملتان کے قریب ہے ۔ امریکہ کی الزام تراشی یہ تھی کہ افغانستان میں ہونے والی دہشت گرد کاروائیوں میں استعمال ہونے والی یہ کھاد پاکستان سے افغانستان پہنچتی ہے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک میں سے بھارت اور وسط ایشیائی ممالک بھی یہ کھاد تیار کرتے ہیں اور یہ کھاد ان ممالک میں سے کسی بھی ملک سے افغانستان پہنچ سکتی ہے کیونکہ امریکہ مخالف افغان کسی بھی طرح اسے حاصل کرسکتے ہیں لہٰذا پاکستان پر یہ پابندی صرف اور صرف پاکستان دشمنی کی مثال ہے اور دبائو بڑھانے کا ایک حیلہ۔ کیونکہ یہ ملک دنیا کے اُن ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جس میں پانی کی شدید کمی ہے اور یہ کمی 2035 میں ایک ہزار مکعب میٹر تک پہنچ سکتی ہے جبکہ یہی مقدار 1950 میں پانچ ہزار مکعب میٹر تھی۔ ایک ایسے ملک کے خلاف امریکی پابندیا ں اس کی دھونس پر مبنی ہے کیونکہ وہ ہر صورت پاکستان کو مجبور کرنا چاہتا ہے کہ وہ امریکہ کی خدمات سرانجام دیتا رہے اور اپنے لوگوں اور اپنی فوجوں اور پولیس کی قربانی دیتا رہے۔ یہ کھاد جس کے لیے پاکستان کو موردالزام ٹھہرایا جا رہا ہے وہ پاکستان میں ہونے والے دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں سب سے زیادہ استعمال ہوئی ہے۔2002-2011 تک ہونے والے 67% دھماکوں میں یہی مرکب استعمال ہوا ان دھماکوں میںخیبر پختونخواہ میں 2053 اور بلوچستان میں 2073 سیکیورٹی اہلکار اور سویلین شہید کیے گئے یوں سب سے زیادہ نقصان اس نے پاکستان میں ہی کیا لیکن دوسری طرف یہی کھاد ہمارے چھوٹے کسانوں کے لیے پیام زندگی لاتی ہے اور ان کی خشک اور بنجر زمینوں کو قابل کاشت بناکر اُن کی گزر اوقات کا بھی بندوبست کرتی ہے اور اس پر پابندی کا مطلب اِن سارے لہلہاتے کھیتوں کو بنجر بنانا ہے اور ایک ملک جو پہلے ہی پانی کی عدم دستیابی کی بنا پر خوراک کی کمی کے خطرے سے دوچار ہے اُسے مزید مسائل سے دوچار کرنا ہے وہ بھی اس صورت میں جب پاکستان نے دوسرے معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی مکمل تعاون کیا اور کھاد اور تھیلوں کے رنگ میں بھی تبدیلی کی تاکہ اُس کی پہچان نہ ہو سکے لیکن یہ سمجھنا کہ ہر دھماکے میں استعمال شدہ دھماکہ خیز مواد پاکستانی کھاد سے حاصل شدہ مرکبات سے ہی بنایا گیا ہے خود دوسرے اطراف سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے کیونکہ یہی کھاد ظاہر ہے انہی کیمیائی عناصر اور تناسب سے ایران اور ازبکستان یا بھارت میں بھی بنتی ہے اور وہاں سے بھی بڑی آسانی سے افغانستان میں پہنچائی جاسکتی ہے اور اگر یہ پاکستان سے افغانستان سمگل ہوتی ہی ہے تو کیوں نہ جدید امریکی امداد سے لیس افغان حکام اسے پکڑ لیتے ہیں۔ پاک افغان سرحد آسان نوعیت کی نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی ساخت اور بناوٹ اس قدر پیچیدہ ہے کہ کسی بھی جگہ سے سیکیورٹی فورسز کی نظروں میں آئے بغیر بھی اسے عبور کیا جا سکتا ہے اس لیے دونوںطرف کی چوکیوں کو مستعد رہنے کی ضرورت ہے صرف پاکستان کو اس کی ذمہ داری اور الزام دینا کسی بھی طرح درست نہیں۔ لہٰذا جناب کرزئی اپنے حصے کی کوتا ہیاں بھی ہمارے پلڑے میں نہ ڈالیں اور پاکستان جہا ں ان ہی کے کئی کرتوں اور جرائم کی سزا بھگت رہا ہے اُسے مزید مصیبت میں نہ ڈالیں اور امریکہ بھی اپنی سپلائی لائن کٹنے کی دیگر وجوہا ت پر غور کرے اور اُسے بجائے امداد سے منسلک کرنے کے پاکستان میں اپنی مداخلت سے منسلک کرے کیونکہ جب تک وہ پاکستان کے ساتھ اپنے غلام اور آقا والے رویے میں تبدیلی نہیں لائے گا تب تک وہ پاکستانیوں کے دل نہیں جیت سکے گا یہ تو صرف ایک امداد ہے ہماری معیشت ، مواصلات اور امن کی تباہی کا ایک بہت بڑقرض تو امریکہ کے ذمے ابھی بھی واجب الادا ہے۔

883
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...