27 رمضان المبارک سحری کے بعد ٹی وی آن کیا تو پتہ چلا جناب مجید نظامی وفات پا گئے۔ انّٰا لِلّٰہ وَ اِ نَّ اِ لِیْہِ رَا جِعُوْن۔ دل میں شدید دکھ محسوس کیا بلا شبہ کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے لیکن ایک عہد کی موت ہوئی تھی وہ ہمیشہ حوصلے ، ہمت اور ثابت قدمی سے اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور ان کا موقف ہمیشہ صرف پاکستان رہا۔ میں کبھی مجید نظامی سے نہیں ملی لیکن نوائے وقت کی صورت میں اُن سے ہر روز ملاقات ہو تی تھی اور اُن کی شخصیت اُن کے خیالات پاکستان کے بے شمار گھروں کی طرح ہمارے گھر میں بھی پہنچتے تھے ۔ نوائے وقت نے اپنی اشاعت کے ساتھ ہی جس مشن کا آغاز کیا تھا اُسے مجید نظامی نے آخر ی سانس تک نبھایا اور وہ مشن تھا پاکستان اول تا آخر پاکستان۔ مجید نظامی نے نوائے وقت کی 52 سال تک ادارت کی اور اس میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہ تھا جس دن اس اخبار نے کشمیر کو بھلایا ہو یا اس پر اپنا موقف بدلا ہو چاہے حکومتوں نے بھی بھارت سے دوستی کے شوق میں کشمیر کو بھلا دیا ،چاہے کاروباری میڈیا نے اپنے بزنس کی خاطر اس مسئلہ کو دبانے کی کوشش کی لیکن مجید نظامی نے اس مسئلے کا ایک ہی حل بتایا اور وہ تھا استصواب رائے اور پاکستان سے الحاق ۔ صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ پاکستان ہمیشہ اُن کے لیے مقدم رہا۔ ان کی ذات ان کے طرز عمل کے بارے میں تو ان کے ساتھ کام کرنے والے بتا سکتے ہیں اور ظاہر ہے وہ بتائیں گے بھی اورلکھیں گے بھی لیکن میرے جیسے لوگ ان کے جذبہ حب الوطنی سے، ان کے قومی طرز عمل اور نوائے وقت کے صفحات میں موجود ان کے خیالات سے ہی مستفید ہوتے رہے۔ کچھ عرصہ پہلے نظریہ پاکستان اور دوقومی نظریے کے خلاف بولنے کا جب فیشن رواج پا گیا تھا اور ہر ایرا غیر ا دو قومی نظریے کو غلط ثابت کرنے پر تلا ہو ا تھا اور بھارت کی محبت میں اپنے مذہب، اپنی روایات اور قومی خیالات سب کی انفرادیت بھلا کر اسے ہندؤں کی روایات اور ثقافت کے مماثل بلکہ ایک دوسرے میں مدغم ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا بلکہ ہمارے لیڈر ان کرام بھی اس محبت میں پھسل گئے تھے تو ایسے میں مجید نظامی اپنی تمام تر ثابت قدمی ،پاکستانیت اور نظریہ پاکستان کی حفاظت کے لیے محاذ پر موجود تھے۔ ان کے قائم کردہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی خبریں پڑھ کر دل کو ایک ڈھارس ملتی ہے کہ نظریہ پاکستان پر یقین رکھنے والے اب بھی مضبوطی سے اپنی جگہ پر قائم ہیں اور ایک مضبوط اور ثابت قدم شخصیت کی مضبوطی ان کے ساتھ ہے۔ خود مجھے اپنے دو قومی نظریے کے حق میں لکھے ہوئے مضامین پر جب منفی تبصرے بھی ملتے تھے تو اس دکھ میں نوائے وقت اور نوائے وقت کے پیچھے نظامی صاحب کی پُراثر ذات میرے لیے سہارا بن جاتی تھی ۔ نوائے وقت اور مجید نظامی صاحب میرے بچپن سے ہمارے گھر میں اہم ترین رہے اور مجھے یاد نہیں کہ میرے والد نے نوائے وقت کے علاوہ کوئی اخبار گھر میں لگوایا ہو۔ میں اس اخبار کے بچوں کے صفحے پھو ل اور کلیاں اور طلبہ و طالبات کے صفحے اقراء کو پڑھتے ہوئے اور ان کے لیے لکھتے ہوئے بڑی ہوئی اور تب سے ہی مجید نظامی صاحب کو صرف اور صرف ایک پاکستانی کے روپ میں دیکھا ۔ وہ خود اپنی ذات میں ایک نظریہ اور ایک عہد تھے اس کاروباری دنیا میں بھی انہوں نے اپنے اخبارات کی انفرادیت برقرار رکھی اور انہیں سنجیدہ طبقے کی اکثریت کی ضرورت بنائے رکھا۔ اب ان کے جانے سے یہ سوال ضرور ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا یہ ادارہ اپنی انفرادیت اور نظریے کے ساتھ مضبوطی سے جڑے رہنے کی روایت برقرار رکھ لے گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو اور پاکستان کے لیے بغیر کسی غرض کے بولنے والے اسی طرح اس کا سہارا لیتے رہیں اور جیسے اب تک اس نے نظریہ پاکستان کی حفاظت کی ہے آگے بھی یہ اس کا محافظ رہے مجید نظامی اپنے مشن کی صورت میں زندہ رہیں اور ہمارے حکمرانوں کو نہ تو کشمیر کو بھولنے دیں نہ بھارت سے اپنا پانی لینے کے حق کو اور نہ پاکستان کے قومی نظریے اور تشخص کو۔ مجید نظامی کی وفات پر بے اختیار غالب کا یہ شعر یاد آگیا کہ 
                                        مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم 
                                                                                       تونے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے 
کہ زمین نے ایک اور گنج گراں مایہ کو اپنے اندر سمو لیا۔اللہ انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے زیر تربیت رہنے والوں کو ہمت دے کہ اُن ہی کی سی ہمت سے پاکستان کے لیے بولیں۔ 

945
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...