کشمیر وادی جنت نظیر لیکن اس کی بد قسمتی کہ اس کی سرحدیں بھارت جیسے مکار ذہنیت ملک سے ملتی ہیں جس کی آٹھ لاکھ فوج اس خطے اور اس کے باسیوں کی قسمت کی مالک بنی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں ہر سال یہاں مسلمانوں کا قتل عام دیکھتی ہیں اور خاموش رہتی ہیں جبکہ یہی لوگ ایسٹ تیمور اور ساوتھ سوڈان کی چند لاکھ آبادی کو مذہب کے نام پر آزادی دینے کے لیے حامی و مدد گار بن جاتے ہیں اور انہیں آزادی دے کر دم لیتے ہیں ۔ لیکن اقوام متحدہ چھ دہائیوں سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کر سکا ہے کیونکہ وہ ایسا کرنا نہیں چاہتا ورنہ نہ تو یہ مسئلہ مذہبی طور پر پیچیدہ ہے کہ یہاں کی 77% آبادی مسلمان ہے اور نہ علاقائی طور پر یہ خطہ پاکستان سے الگ ہے ۔ تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق ہر ریاست کی طرح اسے بھی حق حاصل تھا کہ پاکستان یا بھارت جس میں شامل ہونا چاہے، ہو جائے اور کشمیر کی مسلمان سیاسی قیادت نے تو یہ فیصلہ 19 جولائی 1947کو ہی کر لیا تھا کہ پاکستان سے ہی الحاق کیا جائے گا لیکن ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی جانبداری اور خواہش پر لاکھوں کشمیریوں کی خواہش کو قربان کر دیا گیا اور اُس نے بھارت سے الحاق کا اعلان کر لیا، اگر پوچھا جائے کس بنیاد پر تو جواب صرف ایک ہوگا کہ ریاست کی اکثریت نہیں بلکہ راجہ کی خواہش اور ایک راجہ کے مذہب کو لاکھوں لوگوں پر ترجیح دی گئی اور اس طرح پاکستان کے وجود میں آتے ہی اس کے لیے مشکلات کھڑی کر دی گئیں ۔ بھارت نے کشمیر کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا جس میں سے آزاد کشمیر کا علاقہ پاکستان نے ایک کھلی جنگ کے بعد آزاد کرالیا ۔ صورت حال دیکھ کر بھارت نے اقوام متحدہ سے مدد کی درخواست کی اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے اپنی قرار داد نمبر 39 کے ذریعے ایک کمشن بنایا تاکہ معاملے کی چھان بین کرے جبکہ بعد میں 1948 میں بھارت ہی اقوام متحدہ میں گیا اور نتیجتاََ ایک اور قرار داد منظور کی گئی کہ دونوں ممالک کشمیر سے اپنی فوجیں نکال لیں اور آزادانہ استصواب رائے کرایا جائے اور یوں کشمیری اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرلیں ۔ لیکن وہ دن اور آج کا دن کئی کمشن بھی بنے کئی قرار دادیں بھی پیش اور منظور ہوئیں تین جنگیں بھی لڑی گئی لیکن کشمیری کی قسمت آج بھی وہی ہے کہ وہ دوحصوں میں بٹا ہوا ہے۔ بھارت وقتاََ فوقتاََ لائن آف کنٹرول کے اِس پار فائرنگ کر کے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا رہتا ہے اور نہ صرف پاک فوج کے جوان اس فائرنگ کی زد میں آکر شہید ہو جاتے ہیں بلکہ سول آبادی بھی ان کا نشانہ بن جاتی ہے۔ لائن آف کنٹرول کی کل لمبائی 470 کلومیٹر ہے بھارت نے اس پر اپنی سرحد کے پچاس میٹر اندر خار دار تار کی باڑ لگا دی ہے جو بین الاقوامی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ اِن تمام خلاف ورزیوں کو پاکستان اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ کے نوٹس میں لاتا رہتا ہے ۔ یونائیٹڈیشنز ملٹری آبزرور گروپ برائے انڈیا و پاکستان اقوام متحدہ نے 1951 میں قائم کیا اور تب سے یہ مبصر گروپ اپنا کام کر رہا ہے اگر چہ 1972 میں شملہ معاہدے کے بعد سے ہی بھارت اس گروپ کے وجود کے درپے ہے اورحیلے بہانے سے اسے غیر ضروری قرار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ بھارت نے اس گروپ کی موجودگی میں بھی بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں اور کشمیر کے ہر سیکٹر میں جب چاہا ہے اور جیسے چاہا ہے خلاف ورزی کی ہے اور پاکستان کی فوجی چوکیوں اور سول آباد ی پر بے دریغ فائرنگ کی ہے تاہم اس گروپ کے ذریعے یہ خلاف ورزیاں کم از کم بین الاقوامی برادری کے نوٹس میں آجاتی ہیں۔ اور اب ہما رے موجودہ وزیراعظم کے خیر سگالی کے غیر ضروری جذبات اور شال کا تحفہ حاصل کرنے کے باوجود بھارت کے انسانی حقوق کے مجرم وزیراعظم مودی کی حکومت نے دہلی میں اس گروپ کو اپنا دفتر بند کرنے کا حکم دیا ہے یعنی اقوام متحدہ کو کشمیر کے معاملے میں مزید بے بس ثابت کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اگر کشمیر کے معاملے پر قراردادیں پاس کرنے کے بعد بھا رت کی مرضی کے مطابق خاموش تماشائی بن کر نہ بیٹھا ہوتا تو آج بھارت یوں اپنے حکم سے دفتر کو بند نہ کر سکتا ۔ ہاں پاکستانی حکومتیں بھی بھارت کے اس دیدہ دلیر رویے کی ذمہ دار ہیں جو بھارت سے خوشگوار تعلقات کی کوشش میں قومی نکتۂ نظر سے بھی صرف نظر کر لیتی ہیں۔ کسی حکومت یا ملک کو خیر سگالی کا پیغام بھیجنا بہت اچھا ہے لیکن یہ جذبات دو طرفہ ہوں تو قومی وقار مجروح نہیں ہوتا۔ اس مشن کے ہونے سے کشمیر آزاد ہو گا نہ اب تک اُس کے مصائب میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے لیکن کم از کم دنیا کے سامنے ایک غیر جانبدار ریکارڈ تو مرتب ہو رہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے اور یہ ملک بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے سال میں کتنی بار ہمسایہ ملک کی سرحد پر بلا اشتعال حملہ آور ہوتا ہے اور پھر دخل اندازی کا الزام بھی اسی ہمسایہ پر دھر دیتا ہے اور اپنے تمام مسائل کا ذمہ دار بھی اسی کو قرار دیتا ہے۔ اقوام متحدہ بھی اگر بھارت کے اقدامات کا نوٹس لیتا رہتا تو وہ آج اُس کے عملے سے عمارت خالی نہ کرواتا۔ اب بھی اقوام متحدہ کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ یہ مبصر پاکستان اور بھارت دونوں کی رضامندی سے مقرر ہوئے تھے اور اب بھی ان کے کام کرنے اورنہ کرنے میں دونوں ممالک کی رضامندی شامل ہونی چاہیے ۔ ہماری حکومت بھی اگر خواب و خیال کی دنیا سے نکل آئے اور بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے، امن کی آشا کی پتنگ اُڑانے کے ساتھ ساتھ اسے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی طرف لے کر آئے تو اس کے بعد باقی کے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ ہماری حکومت کو اس وقت بھی جاگ جانا چاہیے اور بھارت کے اس رویے پر احتجاج کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ کو احساس دلانا چاہیے کہ فوجی مبصر گروپ ہی وہ ذریعہ ہے جس کے واسطے سے پاکستان کے خلاف ہونے والی بھارتی اشتعال انگیزی اور سرحدی خلاف ورزیوں سے اقوام متحدہ کو براہ راست با خبر رکھا جاتا ہے لہٰذا اس کی بندش سے یہ سلسلہ رک جائے گا اور بھارت اپنی دہشت گردانہ کا روائیوں میں مزید اضافہ کر دے گا اور بلا روک ٹوک سرحدی بدمعاشی کرے گا ۔ استصواب رائے کرانے پر تو وہ اب تک راضی نہیں ہوا اور مستقبل میں بھی اس کا کوئی امکان نہیں جب تک عالمی برداری انفرادی اور اقوام متحدہ اجتماعی طور پر بھار ت کو مسئلے کے حل پر مجبور نہ کرے ۔ حکومت پاکستان کو بھی بھارت کی اس ہٹ دھرمی پرا قوام متحدہ میں احتجاج ریکارڈ کرانا چاہیے اور سفارتی سطح پر بھی نہ صرف مبصر کے مسئلے کو اٹھانا چاہیے بلکہ کشمیر کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کر دینی چاہیے اور دنیا کو یہ احساس دلانا چاہیے کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا تب تک جنوبی ایشیا میں امن بحال نہیں ہو سکتا اور دو ایٹمی قوتیں سرحدوں پر ایک دوسرے کے مد مقابل رہیں گی ۔

911
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 7
Loading...