حالات حاضرہ پر نگاہ رکھنے والے اہل وطن اس حقیقت سے بخوبی آگا ہ ہیں کہ بھارت کے نو منتخب وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی پاکستان اور خاص طور پر اسلام دشمنی کا عملی مظاہرہ کرنے کا سلسلہ نہایت زور و شور سے جاری رکھا ہوا ہے ۔برسر اقتدار بی جے پی اور اس کی مادر تنظیم راشٹریا سوائم سوئیک سنگ نے بھارتی دستور کی شق نمبر 370کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں ریاست جموں و کشمیر کو ’’پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر ‘‘ کا نام دیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد مذکورہ ریاست کی حیثیت کو تبدیل کر کے اس کو بہار اور پنجاب ایسی ریاست بنانا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس فیصلہ پر عملدرآمد کے نتیجہ میں وادی کشمیر کی وہ خصوصی حیثیت ختم ہو جائے گی جو اس کو شق نمبر 370کے تحت حاصل ہے اور یہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قرار دادوں کے تناظر میں متنازعہ سرحدی علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ بھارتی حکومت اس معاملہ میں کس قدر سنجیدہ ہے اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں بھارتی لوک سبھا اجلاس کے دوران جب کانگریس کے رکن سوگوترائے ایک تحریری سوال کے ذریعے یہ دریافت کیا کہ کیا مقبوضہ کشمیر کو خصوصی درجہ دینے سے متعلق شق 370کی واپسی کا کوئی منصوبہ حکومت کے زیر غور ہے تو اس کے جواب میں امور داخلہ کے مرکزی وزیر مملکت کرن ریجو نے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں کہا کہ ایسا کوئی منصوبہ حکومت کے زیر غور نہیں اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر سے متعلق شق 370کے واپس لینے کا کوئی امکان ہے ۔
ادھر اسرائیل نے نہتے ، پر امن اور مجبور فلسطینی عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ ہنوز جاری ہے۔ عالمی میڈیا نے جو احوال بیان کئے ہیں وہ اسرائیل کی جارحیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہی وہ انداز ہے جس کو نئی دہلی نے بڑی حد تک مقبوضہ کشمیر میں اختیار کر رکھا ہے۔ ایک طرف بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کی مشق جاری رکھی ہوئی ہے تو دوسری طرف اس سازش پر بھی عمل کیا جا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس سلسلہ میں بھارتی وزیراعظم نے اسرائیل کی شاطرانہ اور ظالمانہ پالیسی کو اختیار کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت مقبوضہ وادی میں تین بڑی ایسی بستیاں آباد اور قائم کرنے کے لئے تیار ہے جن میں پاکستان سے تقسیم ہند اور بعد میں بھارت جانے والے آباد کئے جائیں گے۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ تحریک آزادی کے دوران وادی کشمیر کو چھوڑ کر جانے والے پنڈت خاندانوں کو بھی مذکورہ بستیوں میں ترجیحی بنیادوں پر آباد کیا جائے گاجس کے نتیجہ میں لاکھوں افراد مقبوضہ کشمیر میں آ کر مستقل طور پر آباد ہو جائیں گے اور وہ یقینی طور پر وادی کی سیاست پر اثر انداز ہوں گے۔اس سلسلہ میں یہ بات بھی نہایت فکر انگیز اور قابل غور ہے کہ کشمیری پنڈتوں کے تمام بینک قرضے معاف کئے جا رہے ہیں اور وادی کے تین اضلاع میں اراضی حاصل کرنے کے لئے نئی دہلی نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی کٹھ پتلی انتظامیہ کو حکم نامہ تک جاری کر دیا ہے۔ 
ممتاز کشمیری رہنما اور بزرگ سیاستدان سید علی گیلانی نے ان احوال کے تناظر میں حال ہی میں انکشاف کیا کہ مذکورہ پنڈتوں کو کشمیر کے تین حصوں یعنی مرکز ، شمال اور جنوب میں یوں آباد کیا جائے گا کہ ہر شہر میں 75ہزار سے ایک لاکھ تک کی تعداد میں افراد کو آباد کیا جائے گا۔ ان بستیوں کی خاطر 5ہزار 6سو کنال زمین حاصل کی جا رہی ہے اور یہاں پر ایک میڈیکل کالج ، دو انجینئرنگ کالج ، چار پولیس اسٹیشن اور 12سکول قائم ہوں گے۔ انہوں نے بجا طور پر خدشہ ظاہر کیا کہ جب نئے آباد کار اس علاقہ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھائیں گے تو اس سے فرقہ واریت کا راستہ ہموار ہو گا۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ بھارتی حکومت1947ء، 1965ء اور 1971ء میں اپنے علاقہ اور گھر بار چھوڑ کر جانے والے ہندوؤں کو مقبوضہ وادی میں دوبارہ آباد کرنے کے لئے یوں بھی گہری دلچسپی لے رہی ہے کہ یہ افراد جب اپنا ووٹ دینے کا حق استعمال کریں گے تو اس کے نتیجہ میں مسلمان قیادت کو مشکلات کا سامنا ہو گا۔ گویا یقینی طور پر تب مسلمان ہی مجموعی طور پر خسارہ میں رہیں گے۔ یہ نشاندہی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ دراصل مودی حکومت ہر قیمت پر مقبوضہ وادی پر اپنا قبضہ جاری اور مضبوط رکھنا چاہتی ہے ۔ اس کی خواہش ہے کہ مسلم اکثریت پر اپنی گرفت مضبوط کی جائے اور جس قدر جلد ممکن ہو اس اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے۔ 
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت ایک طرف تو مذکورہ سازش کے تحت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے پر تلا ہوا ہے اور دوسری طرف اس کا میڈیا پاکستان کے خلاف گمراہ کن اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہے ۔ مثال کے طور پر یہ الزام تراشی کی جا رہی ہے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد وہاں سے جہادی قافلے مقبوضہ کشمیر کا رخ کریں گے جن کو اسلام آباد کی حمایت اور تائید حاصل ہو گی۔ اس پرانے الزام کو بھی دہرایا جا رہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیوں اور دراندازی کے سلسلہ میں اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی میڈیا اس بات کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے کہ پاکستان میں جہادی تنظیمیں نہایت خاموشی اور غیر محسوس انداز میں بھارت کے خلاف تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ مبصرین کی اس رائے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات کو اپنے حق میں تبدیل کرنے کے لئے نئی دہلی کے پالیسی ساز وہی انداز اور اسلوب اختیار کئے ہوئے ہیں جن کا سفاکانہ مظاہرہ اسرائیل کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اسرائیل سے محبت کرنے والے نریندر مودی کو تل ابیب کی طرف سے سفارتی اورعسکری تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ 
ان حالات میں یہ امر انتہائی فکر انگیز ہے کہ وطن عزیز میں بعض عناصر بیان کردہ حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلسل ’’امن کی آشا‘‘ کا راگ الاپنے میں مصروف ہیں۔ کئی شخصیات کے بیانات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ تجارت کے لئے بے قرار اور بے چین ہیں۔ یہ لوگ نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس حقیقت کا اعتراف کرنے کو تیار نہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو اگر ملکی مفادات کے تابع نہ رکھا گیا تو اس کا نتیجہ نہ صرف ملکی معیشت کو نقصان کی صورت میں ظاہر ہو گا بلکہ نظریاتی اور فکری سطح پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت نے ایک مرحلہ پر بھارت کو تجارتی اعتبار سے پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کا عندیہ دیا تھا لیکن رائے عامہ کی طرف سے اس کی شدید مخالفت کی گئی اور یوں یہ معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اسلام آباد کی طرف سے ہمیشہ نئی دہلی کے لئے خیر سگالی اور دوستی کا پیغام دیا گیا اور حسب موقع اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جب اپنا منصب سنبھالنے کی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف کو مدعو کیا تو پاکستانی وزیراعظم نے نئی دہلی میں اپنی خوشگوار موجودگی کا ثبوت فراہم کیا ۔ اس کے مقابلہ میں پاکستانی وزیراعظم (یوسف رضا گیلانی) نے اپنے دور اقتدار میں متعدد بار اپنے بھارتی ہم منصب (ڈاکٹر منموہن سنگھ) کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی ۔ منموہن سنگھ نے ہر مرتبہ اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ پاکستان ضرور جائیں گے کیونکہ یہاں پر ان کی جنم بھومی (چکوال) واقع ہے لیکن موصوف اپنا یہ وعدہ نبھانے میں ناکام رہے۔ اس حوالے سے معروضی تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انتہا پسند اور پاکستان دشمن بھارتی عناصر اپنے ہی وزیراعظم کے راستہ کی دیوار بنے رہے اور یوں ڈاکٹر منموہن سنگھ کو میڈیا کی طرف سے پاکستان کا دورہ نہ کرنے کے بارے سوال اور استفسار کے موقع پر ہمیشہ خاموشی اختیار کرنا پڑی یا کف افسوس ہی ملنا پڑا۔ 
بجا طور پر توقع کی جاتی ہے کہ وفاقی حکومت مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اس اہم مسئلہ کی طرف فوری اور بھرپور توجہ دیتے ہوئے ایسی پالیسی اختیار کرے گی جو رائے عامہ کے جذبات اور احساسات کی حقیقی معنوں میں ترجمان ہو۔ یہ نشاندہی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اہل وطن اپنے کشمیری بھائیوں کے حق خود ارادیت کی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔ وہ عالمی برادری اور خاص طور پر اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ خوشگوار اور پرامن تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن اس باب میں وہ فکری اور نظریاتی سطح پر کسی سودے بازی کے لئے ہر گز تیار نہیں۔ بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات بلاشبہ نہایت اہم بلکہ ناگزیر ہیں لیکن اس کا ہر گز یہ مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ہم بھارت کی بالادستی کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں پنڈت بستیاں قائم کرنے کے سلسلہ میں نئی دہلی نے جس سازش پر عملدرآمد شروع کیا ہے وطن عزیز کے عوام اس کی نہ صرف پر زور مذمت کرتے ہیں بلکہ وہ اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔

870
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...