اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰو ۃَ وَا ٰ تُوا الزَّ کَوٰ ۃَیعنی نماز قائم کرو اور زکوٰۃدو۔ اور اس زکوٰۃکو خیر اور فلاح کے لیے استعمال کرکے معاشرے کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنایا غریب کو امیر کے مال میں حصہ دار قرار دیا اور یہ حصہ اتنا رکھا کہ امیر اسے بوجھ محسوس نہ کرے اور غریب اس سے اپنی کوئی نہ کوئی ضرورت پوری کرتا رہے۔ زکوٰۃہر صاحب نصاب مسلمان پر فرض ہے۔ سونا، چاندی، غلہ ، مال مویشی، نقد رقم سب کے لیے اس کا نصاب اسلام نے مقرر کر دیا ہے اور یوں کسی بھی شعبے میں خوشحال فرد معاشرے کی فلاح میں اپنا حصہ ڈالنے کا ذمہ دار بن جاتا ہے اور غریب کی طرف سے بجائے حسد اور دشمنی کے ، برادرانہ جذبات اُبھرتے ہیں لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ رقم اصل مستحقین تک پہنچے ۔لیکن ہم یہ سوچے بغیر جب اپنی زکوٰۃکسی کے بھی حوالے کر دیتے ہیں تو گویا ہم نے دین کے اس اہم رکن کو سمجھا ہی نہیں اور اس کو اس کی اصل روح کے ساتھ عبادت سمجھ کر ادا ہی نہیں کیا ۔ میں نے اپنے پچھلے کالم میں رمضان شروع ہوتے ہی گدا گروں کی یلغار کے بارے لکھا تھا جو مذہبی جذبات کو ابھار کر رمضان کا واسطہ دے کر خیرات صدقات اور زکوٰۃمانگتے نہیں بلکہ چھیننے پر اتر آتے ہیں اور کوئی نہیں جانتا وہ کون ہیں صرف یہی نہیں رمضان میں تو مختلف تنظیموں اور اداروں کے کارکن بھی زکوٰۃاکٹھی کرنا شروع کر دیتے ہیں جن میں کچھ تو جانے پہچانے ہیں لیکن ہر روز نئی نئی تنظیمیں اپنی رسید بکس کے ساتھ آپ کے دروازے پر موجود ہوتی ہیں جو اس سے پہلے آپ نے نہیں سنی ہوتی تو آخر وہ کون ہیں۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ اِن میں کچھ وہ لوگ بھی ہیں جو دہشت گرد تنظیموں کی مدد کے لیے یہ چندے اور زکوٰۃاکٹھی کرتے ہیں اور فلاحی تنظیموں کے نام سے خود کو رجسٹرڈ کرتے ہیں کراچی میں ایک ایسی ہی تنظیم کا انکشاف ہوا اور اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ صرف ایک تنظیم تک محدود ہیں یا رہیں گے تو حماقت ہو گی زکوٰۃ کی یہ رقم کچھ تنظیمیں جہاد کے نام پر بھی اکٹھی کر تی ہیں اور کچھ مدارس بھی یہ کام کر رہے ہیں۔ مدارس کو زکوٰۃدینے میں کچھ حرج نہیں لیکن یہ زکوٰۃصرف اُن مدارس کو دی جائے جن کے بارے میں یہ یقین ہو کہ وہ کسی منفی سرگرمی میں ملوث نہیں بلکہ صرف اور صرف بچوں کو دینی تعلیم دے رہے ہیں لیکن ہوتا یہ ہے کہ کسی بھی مدرسے کے نام پر زکوٰۃمانگ لی جاتی ہے جو نہ صرف فرقہ واریت پھیلاتے ہیں بلکہ صرف اپنے نکتۂ نظر کو ہی عین اسلام سمجھ کر دوسرے کو کافر قرار دے دیتے ہیں۔ مدرسہ ہمارے مذہب اور معاشرے کا اہم حصہ رہاہے جو نہ صرف مذہبی تعلیم دیتے رہے ہیں بلکہ غریب بچوں کو خوراک اوررہائش کی سہولت بھی فراہم کرتے رہے ہیں اور اسی لیے انہیں دل کھول کر زکوٰۃاور صدقات ملتے رہے اور اب بھی ایسا ہو رہا ہے، لیکن ملکی حالات ،دہشت گردی اور شدت پسندی نے ان اداروں کو بھی نہیں چھوڑا اور اِن چند ایسے مدرسوں کی وجہ سے ہر مدرسہ مشکوک معلوم ہوتا ہے اس لیے پہلے پورا یقین کر لینا چاہیے کہ جس مدرسے کو زکوٰۃدی جا رہی ہے وہ کسی ایسی سرگرمی میں تو ملوث نہیں کہیں وہ رقم جو اللہ رب العالمین نے خیر اور فلاح کے لیے دولتمند مسلمان کے اوپر فرض کی وہ خود کش جیکٹ بنانے میں تو استعمال نہیں ہو رہی جو انسانوں کی بھلائی کی بجائے ان کی ہلاکت کا باعث بن جائیں۔ زکوٰۃدینے کے لیے مستحسن یہی ہے کہ اسے اپنے آس پاس رہنے والے بلکہ پہلے تو اپنے غریب رشتہ داروں کو دیا جائے جو اپنی سفید پوشی کا بھرم بھی بمشکل رکھتے ہیں جو مانگ نہیں سکتے لیکن آپ اُن کی ضرورت محسوس کر سکتے ہیں اگر سچ پوچھا جائے تو یہ اس سے بھی بہتر ہے کہ آپ یہ زکواۃ کسی ایسے ادارے کو دیں جن کے بارے میں آپ یقین سے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ رقم کہاں جائے گی۔ ہماری کچھ سیاسی جماعتیں بھی زکوٰۃ اور چندے اکٹھے کرتی ہیں لیکن زیادہ تر یہ رقم اپنے چند کارکنوں میں ہی تقسیم کردی جاتی ہے جب کہ مستحقین اس سیاسی جماعت سے باہر بھی ہوتے ہیں اور زیادہ مستحق ہوتے ہیں زیادہ تکلیف میں ہوتے ہیں زیادہ ضرورتمند ہوتے ہیں لیکن چونکہ اُن کا اُس سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہوتا لہٰذا وہ کسی مدد کے حقدار نہیں ٹھہرتے جبکہ اللہ نے یہ رقم کسی بھی مستحق کا حق قرار دیا ہے کسی سیاسی فائدے کے لیے نہیں اور نہ ہی دنیاوی نمود و نمائش کے لیے بلکہ اس کا اصل مقصد معاشرے میں بھلائی اور توازن ہے لیکن آج کے دور میں اسے لیڈری چمکانے کے لیے بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ زکوٰۃ،چندے، خیرات لوگوں سے لے لیے جاتے ہیں اور انہیں سیاسی فائدے کے لیے اور اپنے ذاتی نام و نمود کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے جبکہ اِن کے بارے میں عوام کو کسی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا جاتا کہ کتنی رقم جمع ہوئی اور کتنی کہاں خرچ کی گئی یہاں تک کہ بینکوں میں کٹنے والی زکوٰۃ کہاں گئی زکوٰۃ دینے والا نہیں جانتا اور نہ پُریقین ہے کہ یہ زکوٰۃکسی ایسے ہی کام میں صرف ہوئی جس میں ہونی چاہیے تھی۔ ایک سکول ٹیچر کی ایک ماہ کی تنخواہ جو تقریباََ سولہ ہزار تھی میں سے زکوٰۃ کاٹ لی گئی اب اس مسئلے پر علماء کو سوچنا چاہیے کہ ماہانہ سولہ ہزار تنخواہ لینے والا کیا خود مستحق زکوٰۃنہیں اور اس سے کٹنے والی زکوٰۃکہاں گئی حکومت اسے کن کاموں میں استعمال کر رہی ہے۔ حکومت کے بارے میں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ رقم ملک دشمن سرگرمیوں میں استعمال نہیں ہو رہی تا ہم بیت المال کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے اور عوام کو سال میں ایک بار ہی سہی اِن کاموں کی تفصیل جاننے کا حق ہے جو اِ س رقم سے کیے گئے ۔ 
عوام کو ان تنظیموں اور اداروں کو زکوٰۃ دینے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے جن کا کسی دہشت گرد تنظیم سے تعلق یا صرف ہمدردی بھی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بھلائی اور نیکی کے کاموں میں تو تعاون کا حکم دیتا ہے لیکن حکم ہے کہ وَلَا تَعَا وَ نُو’ا عَلَی الاِ ثْمِ وَ الْعُدْ وَانِ یعنی گناہ اور برائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد مت کرو اور جو لوگ جہاد کے نام پر یہ زکوٰۃاکٹھی کر رہے ہیں انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ نے جہاد کا حکم کن حالات میں اور کب دیا ہے اور اس کا اعلان کو ن کرتا ہے ہاں جب یہ غیر مسلموں کے خلاف ہو تو اس کا کرنا عین فرض ہے اور پھر مسلمان صرف زکوٰۃنہیں بلکہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید میں اپنا پورا گھر اور کل اثاثہ حاضر کر دیتے ہیں اور اسے نماز کی طرح اپنا فرض سمجھتے ہیں اس کی مثال 1965 کی جنگ ہے جب پاکستانیوں نے اپنے فوجیوں کی مدد کے لیے اپنے جان و مال حاضر کر دئیے تھے کیونکہ وہ کفرو اسلام کی کھلی جنگ تھی ۔لیکن یہ تنظیمیں جس جہاد کا نام لے کر پیسے بٹورتی ہیں وہ سڑک پر چلتے ہوئے بے گناہ راہگیر، مزدور ،بچے، عورت اور بوڑھے کے خلاف ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے جنگ میں بھی ہاتھ اٹھانے سے منع فرمایا ہے اور جن جانوں کو اللہ تعالیٰ نے قتل کرنے سے منع فرمایا ہے انہیں قتل کرنا کیسے جہاد ہو سکتا ہے۔ وہ یہ پیسہ ریاست کے خلاف بغاوت پر استعمال کرتے ہیں جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ریاست کے خلاف بغاوت سے تب تک منع فرمایا ہے جب تک وہ صریح کفر نہ کرے۔ ’’حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے ہمیں بلایا اور ہم نے آپﷺ سے بیعت (عہد) کی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ جن باتوں کا حضورﷺ نے ہم سے عہد لیا اُن میں یہ بھی تھا کہ ہم خوشی و ناگواری تنگی اور کشادگی اور اپنے اوپر ترجیح دیے جانے میں اطاعت و فرمانبرداری کریں اور یہ کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اُس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک صاف کفر نہ دیکھ لیں جس کے لیے ہمارے پاس دلیل و برہان ہو‘‘ تو پھر اِن تنظیموں کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون خود بھی گناہ میں شامل ہو جاتا ہے۔ زکوٰۃنیکی فلاح اور خیر ہے اور اسے حکومتی تنظیمی یاذاتی سطح پر صرف بھلائی اور خیر کے لیے استعمال ہو نا چاہیے کسی بغاوت ، کسی شر یا کسی برائی کے لیے نہیں حتیٰ کہ حکومتی اخراجات کے لیے بھی نہیں اور اسے دیتے ہوئے یہ یقین کر لینا چاہیے کہ اسے اس کی روح یعنی اللہ تعالیٰ اور رسولﷺ کے حکم کے مطابق ہی استعمال کیا جائے گا اس کی اصل مستحقین تک پہنچ کا یقین ہونا چاہیے کسی دوسرے مقصد یعنی بغاوت سیاست یا ذاتی نمود و نمائش کے لیے اسے کسی طور بھی استعمال نہیں ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ کا حکم اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ادا ہو تو فرض تب ہی پورا ہوتا ہے۔ 

1,021
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...