جہاں ہمارے معاشرے میں کئی دوسرے ناسور پھیلے ہوئے ہیں وہیں ایک گدا گروں کی یلغار ہے جو بازاروں، مارکیٹوں ، چوراہوں ہر جگہ پر آپ کو نظر آتے ہیں اور رمضان شروع ہوتے ہی تو یہ تعداد ایک دم سے دگنی ہو جاتی ہے۔ آپ پھل والے سے بھاؤ تاؤ کر رہے ہوں ، سبزی والے کے پاس کھڑے ہوں، کپڑے کی دکان پر ہوں یا کسی ٹریفک سگنل کے کھلنے کا انتظار کر رہے ہوں آپ کو کہیں بھی کوئی بھی کام سکون سے کرنے کا موقع میسر نہیں ہوتا بلکہ یہاں تک کہ جلدی جلدی افطاری بناتے ہوئے گھنٹی بجی اور میں نے سب کچھ چھوڑ چھاڑکر گیٹ پر دیکھا تو ایک عورت کھڑی اپنی بیٹی کی شادی کی خبر دیتے ہوئے کچھ مدد مانگ رہی تھی۔ اور یہ حال ہے ایک اسلامی ملک کا جس کے نبیﷺکے پاس جب ایک مانگنے والا آیا تو آ پ ﷺنے اُسے بھیک دینے کی بجائے اُس کا کمبل اور پیالہ بیج کر اُس کو دو درہم دئیے کہ ایک سے کھانے پینے کا بندوبست کرے اور دوسرے کی کلہاڑی خرید کر لکڑیاں کاٹ کر بیچے اور یوں اس کو ایک کاروبار میں لگا دیا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج ہمارے ملک میں نہ تو حکومتی سطح پر اور نہ عوامی سطح پر کوئی ایسی کوشش نظر آتی ہے کہ جس میں اِن گداگروں کو کسی کام پر لگایا جا سکے۔ دراصل گداگری کا اب ضرورت سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ایک با قاعدہ پیشے کی صورت میں اختیار کر چکی ہے اور پورے کے پورے خاندان اس پیشے سے وابستہ ہیں اور اس میدان میں آپ کو کافی ورائیٹی بھی نظر آتی ہے۔ راولپنڈی صدر میں ایک مانگنے والے نے انگریزی میں سیکھے ہوئے جملے بول کر بھیک مانگی تاکہ خود کو پڑھا لکھا بے روزگار مظلوم نوجوان ثابت کر سکے لیکن جب اُس سے مزید انگریزی بولی گئی تو اُس کے پاس جواب نہ تھا کیونکہ وہ پیشہ ور گدا گر تھا پڑھا لکھا بے روزگار نہیں۔ پشاور کے ایک ہسپتال میں ایک گداگر سے ملاقات ہوئی جس کے بازو انتہائی بُری طرح مڑے ہوئے تھے لیکن ڈاکٹر صاحب کے حکم اور پھر پولیس کی دھمکی پر جب اُس نے بازو اور گردن سیدھی کی تو وہ ایک لمبا تڑنگا صحتمند نوجوان تھا۔ چوکوں چوراہوں اور ٹریفک اشاروں پر نوجوان عورتیں ننھے بچے گود میں لیے ہوئے یا لٹائے ہوئے تو انتہائی عام ہیں اور معلوم نہیں ان بچوں کو کیا دے کر سلایا جاتا ہے کہ یہ پورا پورا دن نہیں جاگتے اور نہ جنش کرتے ہیں۔ یہ تو گداگروں کی چند اقسام ہیں ورنہ تو آپ کو ہر قسم، ہیت، طور طریقے کے گداگر نظر آئیں گے روتے دھوتے بھی، دہائیاں دیتے بھی اور دعائیں بد دعائیں دیتے بھی ۔ اور شعبان شروع ہوتے ہی یہ ایک یلغار کی صورت میں آپ پر پل پڑتے ہیں اور اسے زکوٰۃ کا مہینہ قرار دے کر آپ کی جیب کی آخری پائی تک نکالنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ رمضان اور عید میں جیسے منافع خوروں کی چاندی ہو جاتی ہے اِن بھکاریوں کی بھی ٹولیوں کی ٹو لیاں بھی نکل آتی ہیں اور جہاں دکاندار گاہکوں کو مہنگے داموں لوٹتے ہیں وہیں یہ گدا گر ہر راہگیر کو جذباتی طور پر لوٹ کر ان کی جیبیں خالی کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں یوں یہ پیشہ ور بھکاری اِن مقدس مہینوں کے تقدس کو مجروح کرتے رہتے ہیں ۔اللہ کے رسولﷺ نے دینے والے ہاتھ کو لینے والے ہاتھ سے بہت بہتر قرار دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوالی کو اپنے دروازے سے خالی ہاتھ لوٹانا اللہ کو کسی طرح پسند نہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہر ہاتھ لینے کے لیے ہی آگے بڑھے اور یہ بھکاری اصل ضرور تمندوں اور حاجتمندوں کا حق مارلیتے ہیں۔ اسلام سفید پوش ضرورتمند کی ضرورت کو اس کی عزت نفس مجروح کیے بغیر پوری کرنے کی نہ صرف ہدایت دیتا ہے بلکہ اس کی تاکید کرتا ہے ۔ وہ صدقات خیرات اور زکوٰۃ کو پسند کرتا ہے بلکہ زکوٰۃ کو تو ہر صاحب نصاب مسلمان پر فرض کیا گیا تاکہ معاشرے کے غریب لوگوں کو بھی باعزت طور پر زندگی گزار نے کے قابل بنایا جائے۔ صدقات اور خیرات کے ذریعے بھی دولتمند کے دل میں ضرور تمندکی ضرورت کا احساس ڈالا گیا ہے لیکن اِن تمام کا مقصد خدانخواستہ ہر گز لوگوں کو سوالی بنانا نہیں بلکہ اِن سے معاشرے میں ایک توازن پیدا کرنا ہے، دولت کو گردش میں رکھنا ہے اور غربت کا خاتمہ کرنا ہے نہ کہ وقتی ضرورت کو پورا کرنا۔ لیکن حیرت تو اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ اس مسئلے کو کبھی کسی حکومت نے اہمیت نہیں دی نہ انہوں نے کبھی اِن گداگروں کو کسی تعمیری سرگرمی میں یا کسی کام میں لگانے کی کوشش کی۔ کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی کہ اِن میں کہیں کوئی غیر ملکی، کوئی جاسوس، کوئی دہشت گردیاکوئی ملک دشمن تو نہیں جو یہ چولے پہنے ملنگ کا روپ دھارے بظاہر راہگیروں کے سامنے ہاتھ پھیلا تے ہیں کیا اِن کے لیے یہ بہت آسان نہیں کہ وہ اپنے حلیے کا فائدہ اٹھالیں۔ اِن میں بہت سے اٹھائی گیر اور چور اچکے بھی ہوتے ہیں جوبھیک مانگنے کے بہانے گھنٹی بجاتے ہیں اور گھر والوں کو لوٹ لیتے ہیں۔ گداگری ایک لعنت ہے جو محنت کی ضد ہے اور جب معاشرے میں سے محنت ختم ہو جائے تو معاشرے مردہ ہو جاتے ہیں وہ اپنا وقار اور عزت کھو دیتے ہیں اور آہستہ آہستہ یہی رویہ قومی سطح پر منتقل ہوتا جاتا ہے اور عالمی سطح پر بھی بے وقعتی ملک و قوم کا مقدر بن جاتی ہے۔ حکومت کو اس مسئلے کی طرف تو جہ دینا چاہیے اور اسے سیکیورٹی کے نکتۂ نظر سے بھی دیکھنا چاہیے اور معاشرتی برائی کے پس منظر و پیش منظر میں بھی۔ اس لعنت سے چھٹکارے کے لیے کوئی قانون سازی بھی ہونی چاہیے ان کے گروہ اور بھکاری خاندان قانون کی زد میں ضرور آنے چاہیں۔ یہ لعنت غربت سے متعلق نہیں بلکہ یہ ایک پیشہ ہے جسے پورے کا پورا خاندان اپناتا ہے خاندان کے کچھ افراد اگر ٹریفک سگنل کے ایک طرف کھڑے ہوتے ہیں تو کچھ دوسری طرف۔ ایک ایسی ہی بچی سے جب پوچھا کہ دوسری طرف کھڑی ہوئی عورت تمہاری کیا لگتی ہے تو اس کا بچپن بول گیا اور اس نے صاف صاف بتا دیا کہ وہ اُس کی ماں ہے یعنی ایک ہی چوک پر ایک ہی خاندان کے ثابت شدہ دو افراد’’ بر سر روزگار ‘‘تھے اور وہ بھی بغیر کوئی محنت کیے پانچ سو ہزار ایک ہی دن میں کما رہے تھے ظاہر ہے کہ مزید مزدور بھی ادھر ہی’’ مزدوری‘‘ کر رہے ہوں گے اور وہ اصل مزدور جو سارا دن چوناگار اٹھاتا ہے وہ تو ترس ترس کر کھائے اور یہ لوگ رات کو بھرے کشکول لے کر جائیں۔ یہ پیشہ ور بھکاری حکومت کے لیے ایک چیلنج ہیں جو اللہ کے نام پر مانگ مانگ کر جذباتی طور پر لوگوں کو مشتعل کرکے لوگوں کو لوٹ لیتے ہیں یہ سب باتیں ہم میں سے ہر ایک جانتا ہے حکومت بھی، حکومتی اہلکار بھی، پولیس بھی، عدالت بھی، قانون بنانے والے بھی اور نافذ کرنے والے بھی پھر بھی یہ یوں سر عام دندناتے ہوئے کیسے پھرتے ہیں کیسے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہیں ، انسانی ترحم کے جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہیں، مقدس مہینوں کا تقدس خاص طور پر پامال کرتے ہیں محنت کے بغیر کھاتے ہیں اور خوب کھاتے ہیں۔ یہ سب تقریباََ جرم کے زمرے میں بھی آتا ہے سوال تو بہت ہیں لیکن سوال یہ بھی ہے بابا کہ آخر اِن کو کوئی پوچھنے والا کیوں نہیں کیا حکومتیں صرف حکومت آنے اور جانے کی فکر میں مبتلاء رہتی ہیں اور انہیں معاشرے سے کوئی سروکار نہیں کہ یہاں تو بہت ساری برائیاں ہیں آخر کس کس کو ختم کیا جائے اس لیے رہنے ہی دو لوگ جانیں معاشرہ جانے اور اس میں پھیلی ہوئی برائیاں جانیں۔ 

966
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...