وطن عزیز اور ہمسایہ اسلامی ملک افغانستان کے درمیان جو صدیوں کے عرصہ پر پھیلے ہوئے ثقافتی ، لسانی، سماجی اور مذہبی تعلقات ہیں ان سے ساری دنیا واقف ہے اور وہ کسی تشریح یا تفصیل کے محتاج نہیں ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے ان دونوں ممالک کی سرحدوں کی صورت حال ایسی ہے کہ موسمی اثرات کے تحت مقامی باشندے ایک دوسرے کے علاقہ میں نقل مکانی کرتے رہتے ہیں۔ یہ رجحان ہر اعتبار سے ان کی ثقافت اور سماجی اقدار کا حصہ بن چکا ہے۔ اس بارے وہ کسی سیاسی مصلحت یا مفادات کو جواز کے طور پر پیش کرنا تو دور کی بات ہے ، اس کو بیان کرنا بھی اپنی روایتی وضعداری اور مہمان نوازی کے خلاف تصور کرتے ہیں۔ افغانستان کو عالمی برادری میں ایک امتیازی حیثیت یوں بھی حاصل ہے کہ اس سرزمین پر کبھی کوئی غیر ملکی طاقت اپنی حکمرانی قائم ہیں کر سکی۔ اگر کسی نے ایسا کرنے کی ہمت ، جسارت یا کوشش کی بھی تو اس کا انجام رسوائی اور شکست کے سوا کچھ نہ ہو سکا۔ اس کی حالیہ مثال سوویت یونین کی ہے جب 1979ء میں اس نے ایک عسکری مداخلت کے ذریعے افغانستان پر نظریاتی اور جغرافیائی اعتبار سے قابض ہونے کی کوشش کی تھی۔ 
بلاشبہ یہ مرحلہ افغان قوم اور ملک کی تاریخ میں نہایت نازک او ر پُر آزمائش تصور کیا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا کی دو سپر پاورز یعنی امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔ سیاسی اور سفارتی سطح پر عالمی برادری بلاشبہ دوحصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ دنیا کے بعض ممالک میں تو یہ تقسیم اس حد تک حیرت انگیز اور افسوسناک مشاہدہ کی جاتی تھی کہ اگر ایک طرف کسی ملک میں سوویت یونین کے سفارتخانے میں ایک مقامی شخص کسی کام کے سلسلہ میں داخل ہوا تو واپسی پر اس کو سفید اور سادہ کپڑوں میں ملبوس خفیہ ادارے کے اہلکار روک کر اس وقت تک پوچھ گچھ کرتے تھے جب تک ان کو یہ تسلی نہ ہو جاتی کہ مذکورہ شخص بے قصور ہے اور اس کا سوویت یونین کی سیاست یا نظریات کے اعتبار سے کوئی ذاتی مفاد یا دلچسپی وابستہ نہیں ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے کسی ائیر پورٹ پر اگر کسی مسافر کے سامان میں کوئی ایسی کتاب یا مطبوعہ مواد موجود ہوتا جو کیمونزم اور سوشلزم سے متعلق ہو تو اس کو ائیر پورٹ سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ امریکہ میں ان دنوں چے گویرا کی تصویر کو سرعام آویزاں نہیں کیا جا سکتا تھا اور اسی طرح ماؤ کیپ پہن کر سماجی تقریبات میں شمولیت کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ 
اس منقسم دنیا اور ماحول میں جب افغان عوام پر سوویت یونین کی یلغار ہوئی تو اس کے خلاف سب سے پہلی اور توانا آواز پاکستان کے عوام نے بلند کی۔ جلد ہی اس کا ساتھ امریکہ اور مغربی دنیا نے دیا اور یوں اس میں مشرقی یورپ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک شامل ہو گئے۔ طے پایا کہ سوویت یونین کو افغانستان میں قدم نہ جمانے دئیے جائیں کیونکہ بصورت دیگر وہ پیش قدمی کر کے پاکستان یا ایران کو روندتے ہوئے بحر ہند کے گرم پانیوں تک پہنچنے کا اپنا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ نظریاتی بلکہ مذہبی سطح پر اس پہلو کو یوں اجاگر کیا گیا کہ یہ صورت حال کیمونزم بمقابلہ اسلام ہے۔ 
ساری دنیا نے مشاہدہ کیا کہ پاکستان نے اپنے افغان بھائیوں کے لئے اپنے گھر اور دل کے دروازے کھول دئیے یعنی افغانستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے مہاجرین کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کر دئیے۔ ان مہاجرین میں حامد کرزئی نامی ایک شخص بھی شامل تھا جو ان دنوں افغانستان میں ایوان صدر میں براجمان ہے ۔ موصوف نے 13سال کا طویل عرصہ پاکستان میں بطور مہاجر مہمان کے بسر کیا۔ یہیں پر ان کے بعض بچوں کی پیدائش ہوئی اور کئی ایک نے اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ اس عرصہ میں انہوں نے پشاور اور کوئٹہ میں افغان مہاجرین کے لئے قائم خیمہ بستیوں کی بجائے نہایت آرام دہ اور شاندار عمارتوں میں اپنا وقت گزارا کیونکہ وہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ مغربی دنیا کے عسکری، مالیاتی اور مادی وسائل افغان مہاجرین کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں بلکہ وہ بڑی حد تک اس کو ’’غیبی امداد‘‘ قرار دیا کرتے تھے۔ 
سوویت یونین کی فوجوں کو افغانستان میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑااور اس مزاحمت کی بنیاد وہ مجاہدین تھے جن کو عالم اسلام کی حمایت اور اعانت کے ساتھ ساتھ مہذب دنیا کی امداد اور تعاون بھی حاصل تھا۔ اس کے نتیجہ میں سوویت یونین زیادہ عرصہ تک افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار نہ رکھ سکا اور آخر کار میخائل گوربا چوف کے جدید اور حقیقی معنوں میں ترقی پسندانہ نظریات پر عملدر آمد کے نتیجہ میں سوویت یونین نے تاریخ ساز فیصلے کئے۔ اس کو اب تاریخ کا جبر قرار دیا جائے یا حالات کی ستم ظریفی سے تعبیر کیا جائے کہ سوویت یونین کے عسکری انخلاء کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے یوں غائب ہو گئے جیسے وہ اس ملک اور صورت حال سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ پاکستان نے مجاہدین اور حریت پسندوں کی بھرپور امداد کرتے ہوئے بجا طور پر عندیہ دیا تھا کہ سوویت یونین کی افواج کی واپسی کے بعد ایک مستحکم اور مضبوط حکومت کے قائم ہونے تک اتحادی ممالک افغانستان کو بے آسرا اور بے یارو مددگار نہ چھوڑیں لیکن اس جانب کوئی توجہ نہ دی گئی جس کا خمیازہ آج ساری دنیا یوں بھگت رہی ہے کہ حامد کرزئی ایسی شخصیت افغانستان کے صدر ہیں اور وہ حال ہی میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں تیسری مرتبہ محض اس لئے حصہ نہیں لے سکے کہ ملکی آئین اور دستور اس کی اجازت نہیں دیتا۔ 
افغانستان کی سیاست اور خاص طور پر سیاسی مزاج شناسا قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ صدر حامد کرزئی بنیادی طور پر اقتدار اور حکومت کی ہوس میں بری طرح گرفتار ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے ذاتی مفادات کو اپنے قومی مفادات پر ترجیح دینے سے بھی کبھی گریز نہیں کیا۔ وہ اسی اہلیت کی بناء پر امریکہ سمیت دیگر مغربی طاقتوں( خاص طور پر ان کی خفیہ ایجنسیوں ) کے لئے نہایت قابل قبول تصور کئے جاتے رہے۔ ان کے نہ صرف سی آئی اے بلکہ ’’را‘‘ اور ’’ایم 16‘‘ سے قریبی تعلقات بیان کئے جاتے ہیں۔ ان کو بخوبی معلوم ہے کہ امریکی خفیہ ادارے، خاص طور پر ’’بلیک واٹر ‘‘نے افغانستان اور پاکستان میں امن و امان کو تباہ و برباد کرنے اور دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے کیا گھناؤنا کردار ادا کیا ہے۔ بعض واقفان حال کا تو یہ بھی خیال ہے کہ صدر موصوف ذاتی طور پر ان خفیہ اداروں کے لئے خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ 
پاکستان کے عوام اور حکومت کی ہمیشہ یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ افغانستان میں پائیدار اور مستقل امن قائم ہو کیونکہ یہ صورت حال ہر اعتبار سے پاکستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے 50لاکھ عوام کو اپنے یہاں مہاجرین نہیں بلکہ اپنے خاندان کے افراد سمجھ کر پناہ دی، اپنی ضروریات کو کم کر کے ان کی ضروریات کو پورا کیااور سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان کی آزادی کی خاطر اپنا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ اب اگر ایسے پس منظر میں حامد کرزئی ایسے شخص کی طرف سے جو اتفاق سے افغانستان کے صدر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی کی جائے تو اس پر اہل پاکستان افسوس اور ملال کے اظہار کے سوا کیا کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے جو واقعات رونما ہوتے ہیں، ان کا ایک قابل مذمت پہلو یہ بھی تصور کیا جاتا ہے کہ بیشتر واقعات کے ذمہ دار عناصر کا تعلق افغانستان سے ہی معلوم اور بیان کیا جاتا ہے۔ پاکستان نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور اسی بناء پر وہ توقع کرتا ہے کہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہو گی لیکن یہ ایک سادہ اور عام فہم بات افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے دل و دماغ میں جگہ نہیں بنا سکی۔ 
پاکستان کی حکومت اور رائے عامہ نے متعدد بار اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں سیاسی عمل پرامن ماحول میں جاری رہے یعنی صدارتی انتخاب کے سلسلہ میں جو آئینی اور دستوری مراحل طے کئے جا رہے ہیں، وہ امن اور باہمی احترام کے ماحول میں مکمل ہوں لیکن ایسے میں خود افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے گاہے ایسے اشارے اور بیانات دئیے جاتے ہیں جن سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ وہ مذکورہ سیاسی اور جمہوری عمل کو محض اس بنیاد پر کامیابی سے ہمکنار ہوتا نہیں دیکھ سکتے کہ ان کا اپنا مستقبل تاریک اور گمنام ہو جائے گا۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ کسی مرحلہ پر ہنگامی حالات کا اعلان کر سکتے ہیں یا ایسی صورت حال تشکیل دے سکتے ہیں جو افغانستان میں جمہوری اور سیاسی عمل کے تسلسل کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو۔ ایک ایسے وقت میں جب افغانستان سے نیٹو اور اتحادی افواج کی واپسی کا عرصہ کم سے کم ہو رہا ہے اور یہ امید قوی ہو رہی ہے کہ افغانستان میں جمہوریت کو فروغ حاصل ہو گا اور امن قائم کرنے کی کوششیں کامیاب ہوں گی ، افغان صدر حامد کرزئی کے تیور  کچھ اچھے دکھائی نہیں دیتے کیونکہ وہ ابھی بھی اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے اپنی روایتی چالاکی ، مفاد پرستی اور موقع شناسی سے کام لے رہے ہیں۔راقم نے یہاں پر ’’سازش ‘‘کا لفظ اس سبب استعمال نہیں کیا کہ ہم اہل پاکستان اپنے ہمسایہ برادر ملک افغانستان کے صدر کا بہرحال اتنا احترام تو ضرور کرتے ہیں۔

842
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...