دنیا کے کسی خطے کسی ملک میں کوئی حکومت اپنے خلاف چلنے والی تحریکوں کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتی اور نہ کرتی ہے اور اگر یہ تحریکیں عوام کے خلاف چلائی جائیں تو ان کے خلاف اقدام نہ کرنا تو جرم ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات فوج ، حکومت اور عوام سب کے خلاف ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان واقعات کی وجہ سے حکومت اپنے اصل کاموں سے توجہ ہٹا کر صرف امن وامان کے مسائل کے حل میں مصروف ہو جاتی ہے ۔اسی طرح فوج سرحدوں سے ہٹ کر اندرونی دشمن کی سرکوبی میں لگ جاتی ہے۔ تجارت ، صنعت ، حرفت، رسل و رسائل سب کچھ اس کی نذر ہو جاتا ہے۔ عوام کی جانیں خطرے میں پڑی رہتی ہیں ایسے میں امن کی بحالی پہلی ترجیح بن جاتی ہے۔
طالبان نے اپنی ملک دشمن سرگرمیوں اور دہشت گردی سے پاکستان کو جو نقصان دس سال میں پہچایا ہے اس کا مداواکرنے کے لیے شاید دو تین دہائیاں درکار ہوں ۔ دہشت گردی کے عفریت کو قابو کرنے کے لیے حکومت پاکستان اور پاک فوج اپنا ہر حربہ آزما چکی ہے۔ جنوبی وزیرستان اور سوات میں آپریشنز، راہ نجات ، المیز ان اور راہ راست کے ذریعے حالات کو کافی حد تک قابو کیا اور باقی کے معاملات کے لیے مذاکرات کا سہارا بھی لیا گیا اور بار بار لیا گیا۔ اس بار بھی مذاکرات شروع کیے گئے اوران کی مخالفت بھی بہت کم ہی کسی نے کی۔ میں خود مذاکرات کی حامی بھی تھی اس کی کامیابی کے لیے دعا گو بھی اور خواہشمند بھی کیوں کہ میں اس زمین پر اس کے رہنے والوں کے لیے امن اور سکون چاہتی ہوں لیکن اس خواہش کے جواب میں دوران مذاکرات ہی دھماکے جس تسلسل سے ہوتے رہے اس نے میری طرح کئی لوگوں کی خواہشات کو دفنا دیا۔ امن کی خواہش اب بھی موجود ہے لیکن کراچی ایئر پورٹ پر دہشت گرد حملے نے پوری قوم کو ہلا دیا اور حکومت نے فیصلہ کر لیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کردیا جائے اور اس آپریشن کو ضرب عضب کا نام دیا گیا۔
عضب رسول پاک ﷺ کی اس تلوار کا نام ہے جو آپ ﷺ کو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے دی تھی اور آپ ﷺ نے اسے جنگ بدر میں استعمال کیا تھا ۔ ضرب عضب کے شروع ہونے کو عوام کی تائید یوں حاصل ہوئی کہ وہ مذاکرات کے انجام کو دیکھ چکے تھے لیکن دوسری طرف طالبان اور ان کے کچھ حمایتیوں نے اس کی مخالفت بھی کی۔ طالبان جو بظاہردنیا میں ہونے والی ترقی سے ناخوش اور نالاں بھی ہیں اور اس سے کٹ کر وہ پہاڑوں میں رہتے بستے ہیں کیسے اور کہاں سے جدید ہتھیار اور عالیشان گاڑیاں حاصل کر لیتے ہیں اور سب سے بڑھ کر کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا جدید ترین استعمال کیسے سیکھ لیتے ہیں یقیناًان کے غیر ملکی آقا انہیں یہ سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ 
ضرب عضب شروع ہونے پر ہمارے میڈیا کو جب کچھ عقل آئی یا’’ دلائی گئی‘‘ اور انہوں نے طالبان کے بیانات نشر کرنے سے گریز شروع کیا تو طالبان نے فیس بک پر اپنے پیجز بنا لیے وہی فیس بک اور سوشل میڈیا جسے وہ غیر اسلامی بلکہ کفری کہتے ہیں لیکن پاک فوج کے خلاف اور اپنے حق میں اس کا استعمال شروع کردیا ۔ ایف ایم اور طالبان یا فضل اللہ کا رشتہ بہت پرانا ہے اور اسے پھر انہوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ اسے خاص کر پاک فوج اور حکومت کو ظالم اور غاصب قرار دینے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے یعنی ایک حکومت اور ملک کے اندر وہ اس ملک کے آئین ، قانون اور حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ انہیں یہ سب کچھ کرنے دیا جائے۔ وہ آپریشن ضرب عضب کو امریکی مفادات کے لیے قرار دے رہے ہیں جب کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ تمام کی تمام دہشت گردی پاکستان میں کر رہے ہیں امریکہ میں نہیں لہٰذا اس فیصلے کے لیے امریکی رضامندی اور ڈکٹیشن کی ضرورت نہیں۔ اب تک وہ تقریبا ساٹھ ہزار پاکستانیوں کو شہید کر چکے ہیں جن میں فوجی اور غیر فوجی سب شامل ہیں بلکہ زیادہ تعداد تو ایسے معصوم لوگوں کی ہے جنہیں نا تو کسی نظام حکومت سے کوئی تعلق ہے نہ کارِ سرکار سے، وہ تو روزی روٹی کی تلاش میں گھروں سے نکلتے ہیں اور شام کو ان کی لاشیں گھر پہچتی ہیں اور یہ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان کے خون کا حساب لے ۔ طالبان فوجی بمباری میں مرنے والے چند بچوں اور عورتوں کے مرنے کو غیر اسلامی قرار دیتے ہیں اور یقیناًایسا ہونا افسوس ناک بھی ہے لیکن جب بچوں سے بھرے سکولوں پر حملہ کرتے ہیں تو یہ عین اسلام بن جاتا ہے ،جب وہ پولیو کے قطرے پلانے والی عورتوں کو نشانہ باندھ کر سروں میں گولیاں مار دیتے ہیں تو وہ اسے ثواب قرار دیتے ہیں جب کہ ان کے بچوں اور عورتوں کو نشانے پر نہیں لیا جاتا بلکہ وہ زد میں آنے سے مارے جاتے ہیں۔انہوں نے جس طرح اسلامی ملک میں خود کو مسلمان کہتے ہوئے مسجدوں ، جنازوں ، عید کی نمازوں ، مزاروں اور دینی محافل کو نشانہ بنایا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مسجد اللہ کا گھر ہے اور انسان کے اعتراف عبدیت کا مرکز جہاں وہ اللہ کی بڑائی اور اپنی عاجزی کا اقرار کرتا ہے اور ہر مسلمان اس کو اپنے لیے جائے پناہ سمجھتا ہے لیکن طالبان نے انہیں یوں دہشت گردی کا نشا نہ بنایا جیسے و ہ جنگجو دشمن کے ٹھکانے ہوں اور یہاں تک کارنامہ سر انجام دے دیا کہ مسلمان جمعے اور عید کی نماز تک کے لیے جانے سے پہلے کئی بار سوچتا ہے۔ یہی حال جنازوں کا ہے کہ جس میں شرکت کرنا ہر مسلمان اپنا فرض سمجھتا ہے لیکن اب سوچتا ہے کہ کہیں وہ طالبان کے دہشت گرد حملے کا شکار نہ ہوجائیں ۔ اور یوں انہوں نے وہ کر دکھا یا جو کافر اور غیر مسلم بھی کبھی نہ کر سکے تھے یعنی مساجد سے مسلمان کو دور کر دینا اور اپنے ان تمام اعمال اور افعال کو وہ عین جہاد کہتے ہیں جب کہ قرآن شریف میں جس جہاد کا حکم ہے وہ تو صرف ظالم اور ظلم اور آمادہ شر غیر مسلم کے خلاف ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے تو کافروں سے بھی صلح کے معاہدے کیے اور نبھائے بھی تویہ طالبان آخر کس کافر کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ یہ تو افواج پاکستان سے جنگ کو جہاد قرار دیتے ہیں جنہوں نے کبھی مسلمانوں کو شعائر اسلام پر عمل کرنے سے باز نہیں رکھا مسجد یں بنائیں، توڑیں نہیں بچوں بوڑھوں عورتوں بلکہ جوانوں کو بھی ہر مصیبت سے نکالنے کی کوشش کی چاہے سیلاب، زلزلے اور طوفان سے نکال کر یا آئی ڈی پیز کی شکل میں طالبان کی دست برد سے بچا کر ۔
طالبان اگر خود کو پاکستان کے پر امن شہری کی حیثیت سے مان لیں، ان کے علاقوں میں ساری دنیا سے آئے ہوئے شر پسندوں کو خود ہی نکال باہر کریں چاہے وہ ازبک ہوں ، تاجک ہوں ، عرب ہوں یا افریقی اور خود آگے بڑھ کر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تعمیر و ترقی اور حفاظت میں حصہ لیں تو پاکستان کی سرزمین کبھی ان کے لیے تنگ نہیں ہوگی ور نہ تو قرون اولیٰ کی اسلامی ریاستوں نے بھی کبھی باغیوں کو نہیں چھوڑا ۔ لہٰذا کیسے ریاست پاکستان سے یہ توقع کی جائے کہ وہ اپنے شہریوں کے قاتلو ں کو دوست کا درجہ دے کر انہیں چھوڑ دے گی اور وہ بھی اس صورت میں جب اس کے دشمن بھارت سے تیکنیکی ، مالی اور اخلاقی مدد لی جارہی ہو، منصو بے امریکہ ، اسرائیل، بھارت اور بھارت نواز افغانستان میں بن رہے ہوں اور جنگجو پوری دنیا سے مہیا ہو رہے ہوں اگر یہ سب پاکستان میں اللہ کی مرضی کو چھوڑ کر اپنی مرضی کا اسلام لانا چاہتے ہیں تو آخر یہ اپنے ملکوں میں ایسا کیوں نہیں کرتے۔ یہاں تو حق کا ساتھ دینے والے مولانا حسن جان جیسے لوگ بھی ان کی دہشت گردی سے نہیں بچ پائے۔ رحمان بابا کے مزار کو اڑا دیا گیا ، مسجدوں کو جائے خوف بنا دیا گیا جب کہ اللہ نے انہیں جائے امن قرار دیا ہے، خود کشی کو ثواب اور جنت تک پہنچے کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے جب کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اسے کفر اور ناقابل معافی گناہ قرار دیا ہے۔ اسلام جنازے کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے کو پسندیدہ قرار دیتا ہے لیکن یہ لوگ چند لوگوں کے اجتماع کو بھی خود کش بمباروں اور بموں کی زد پر رکھ لیتے ہیں ۔ اللہ اور اس کے پیار ے نبی ﷺ حصول علم کو ضروری قرار دیتے ہیں وہ چاند ستاروں کو مسخر کرنے کا حکم دیتے ہیں اور یہ اسے روک کر اپنا اسلام پیش کرتے ہیں۔ بنی کریم ﷺ اپنی رضاعی بہن حضرت شیما کے لیے اپنی چادر بچھاتے ہیں، اپنی بیٹیوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں لیکن یہ لوگ اسے ڈھورڈ نگر سے آگے کا درجہ دینے پر آمادہ نہیں۔ اب ان تمام حقائق کو مد نظر رکھ کر ہمارے علماء اگر آگے بڑھیں اور عوام کو اپنے خطبوں ،درسوں اور مدرسوں میں ان حقائق سے آگاہ کریں تو وہ نہ صرف طالبان کے منفی پرو پیگنڈے سے آگاہ ہوں اور ان کے آقاؤں کے بارے میں جانیں بلکہ ان کا توڑ بھی کر سکیں ۔اسی طرح ہمارا میڈیا بھی اپنا دائرہ اثر قبائلی علاقوں تک پھیلا دے اور وہاں کے لوگوں کو ان طالبان کے غیر اسلامی کردار سے آگاہ کرے تو یقیناًان کے لیے اپنے کارندے تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ہماری عدالتیں اگر بے خوف ہوکر جائے وقوعہ سے گرفتار دہشت گردوں کو ہی سزائیں سنا دیں اور حکومت ان پر خلوص دل سے اور نڈر ہوکر عمل درآمد کرائے تو کو ئی وجہ نہیں کہ ہم اس فتنے پر قابو نہ پا سکیں۔حکومت کو غیر ملکی باشندوں کے انخلاء کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور ہماری خفیہ ایجنسیوں کو بھی آنکھ اور کان کھول کر کام کرنا ہوگا اور ان لوگوں کے پاکستان میں داخلے کو ہر ممکن طریقے سے روکنا ہوگا۔
آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کو صرف فوج کی ذمہ داری نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ معاشرے کے ہر فرد ، ہر ادارے ہر عنصر کو اس کی کامیابی کے لیے پوری کوشش کرنا ہوگی تبھی ہم اس کی مستقل کامیابی کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ 

917
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...