خوبصورت ، خوشگوار اور رومان پرور موسم میں کینیڈا میں واقع ’’نیاگرا فال‘‘ (آبشار)یقینی طور پر ہر سیاح اور جمال پرست کی منزل قرار پاتا ہے ۔ ایسے میں ٹریفک اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی کہ اچانک یہ سلسلہ تعطل کا شکار ہو گیا ۔ ہر ایک نے اپنی اپنی گاڑی کو بریک لگائی اور انتظار کو معمول کا حصہ گردانتے ہوئے کوئی مصروفیت تلاش کر لی جو عام طور پر کتاب یا اخبار کا مطالعہ، ریڈیو نشریات کی سماعت اور ارد گرد کے قدرتی نظاروں کے مشاہدہ سے تعبیر کی جاتی ہے ۔ انتظار توقع کے برخلاف طویل ہوا تو ہنگامہ آرائی، شور شرابا یا حکومت پر کڑی تنقید کی بجائے مسافروں نے گاڑیوں سے اتر کر ’’موقع‘‘ پر جا کر حقیقت معلوم کرنے کو ترجیح دی جس کے نتیجہ میں خواتین و حضرات اور بچے یکساں تجسس اور دلچسپی کے ساتھ گپ شپ کرتے آگے بڑھے۔ اسی اثناء میں پہلے سے آگے پہنچے ہوئے افراد کی واپسی شروع ہو گئی تھی اور یوں آنے اور جانے والے ایک دوسرے سے گھل مل گئے۔ کسی نے ابھی یہ سبب جاننے کے لئے استفسار ہی نہیں کیا تھا کہ آگے کیا ہوا اور کس باعث ٹریفک کی روانی میں خلل پیدا ہوا، اچانک پاس سے گزرتی ایک پختہ عمر کی خاتون نے اپنی نظر کا چشمہ اتار کر اس کے شیشے کو صاف کرتے ہوئے اپنے آنسو بمشکل روکے اور گلوگیر لہجہ میں خود کلامی کی: ’’لوگ اب جانوروں کی پرواہ نہیں کرتے، یہ کتنے افسوس کی بات ہے ۔ معلوم نہیں ہم انسانوں کو کیا ہوتا جا رہا ہے؟‘‘۔جب خاتون سے اس کے پُرملال اور دلگیر ردعمل کا سبب دریافت کیا گیا تو اس نے بتایا کہ آگے کی جانب کسی تیز رفتار گاڑی نے ایک کتے کو ٹکر مار دی ہے جس سے وہ کتا زخمی ہو گیا ہے۔ اب ایمرجنسی اور پولیس والوں کو اطلاع دی گئی ہے جنہوں نے جانوروں کے تحفظ اور حفاظت کے فورس یونٹ کو طلب کیا ہے۔ اسی سبب ٹریفک روک دیا گیا تھا۔
راہگیر خاتون تو یہ تفصیل بیان کر کے اور انسانی رویہ کا ماتم کر کے ہجوم میں گم ہو گئی اور مجھے بھی اس کا دوبارہ دھیان کبھی نہ آیا لیکن جب اپنے انسپکٹر جنرل موٹروے ذوالفقار چیمہ کا یہ بیان نظر سے گزرا کہ وطن عزیز میں ٹریفک کے حادثات میں ہر سال 12ہزار افراد ہلاک ہو جاتے ہیں تو اس خاتون اور مذکورہ واقعہ کی یاد اچانک تازہ ہو گئی اور دل و دماغ پر تفکرات کا غلبہ مزید گہرا ہوتا چلا گیا ۔اچانک خیال آیا کہ یہ بات کس قدر تشویشناک ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران گذشتہ 11 برسوں میں ہمارے 50ہزار شہری اور 10ہزار فوجی جوان شہید ہوئے جبکہ اسی عرصہ میں ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 20ہزار یعنی دوگنا شمار کی گئی ہے ۔ عام تاثر ہے کہ وطن عزیز کے دارالحکومت اسلام آباد میں ٹریفک کا نہایت عمدہ اور تسلی بخش نظام موجود ہے لیکن قارئین کویہ جان کر حیرت ہو گی کہ گذشتہ برس اسلام آباد میں 644افراد ہلاک اور 7641افراد زخمی ہو گئے تھے۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ ٹریفک کے حادثات میں ہلاک اور خاص طور پر زخمی ہونے والوں کی تعداد کا صحیح اندازہ یوں ممکن نہیں کہ پولیس کے ’’مخصوص رویہ اور مزاج‘‘ کے باعث عوام ،عام طور پر حادثہ کی رپورٹ درج کرانے کے لئے پولیس اسٹیشن کا رخ کرنے سے اجتناب کرتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ معاملہ باہمی طور پر افہام و تفہیم اور صلح و صفائی کے ساتھ ہی طے کر لیا جائے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ کم از کم  40فیصد حادثات اور ان میں ہونے والے نقصانات کی باقاعدہ اور قانونی طور پر رپورٹ کسی تھانہ یا پولیس عملہ کو درج ہی نہیں کرائی جاتی ۔اس عنوان سے اگر پڑوسی ملک بھارت کا جائزہ لیا جائے تو وہاں پر بھی احوال خوشگوار ہر گز نہیں۔ بھارت میں دنیا بھر میں موجودگاڑیوں کی ایک فیصد تعداد موجود ہے لیکن ٹریفک حادثات کے تناسب سے یہ شرح دس فیصد ہے ۔
وطن عزیز میں ٹریفک کے حادثات کے احوال کس قدر تشویشناک صورت حال اختیار کر چکے ہیں، اس کے اسباب جاننے کے لئے کسی ’’افلاطون‘‘ کی ضرورت نہیں۔ ہر کوئی خوب واقف ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء سے لے کر چالان ہونے تک کے مختلف مراحل پر پولیس اور عوام ایک دوسرے کے ساتھ کس قدر ’’تعاون ‘ ‘ کرتے ہیں اور ’’ پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی ‘‘کے سلوگن کو کس انداز میں عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے ہر اسٹینڈ اور اڈے پر جو ماحول روز و شب مشاہدہ کیا جاتا ہے ، اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ قانون نام کی کوئی شے کم از کم اس علاقہ میں نہیں پائی جاتی۔ مسافروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، ڈرائیور اور کنڈیکٹر کی مرضی ہے کہ وہ کب روانہ ہوں، کہاں رک جائیں اور کس وقت کیا کریں؟۔ گاڑیوں کے ڈرائیور اپنے ’’استاد‘‘ ہونے کا ثبوت دینے کے لئے سینکڑوں مسافروں کی جان کو خطرات سے دو چار کرتے ہوئے ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی مہم جوئی میں خطرناک ڈرائیونگ کا وہ مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان کے ’’پاگل‘‘ ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہتا مگر وہ خود کو ’’چیمپئین ‘‘ تصور کرتے ہیں۔ اگر کوئی مسافر انہیں تیز رفتاری کے جنون سے باز رہنے کی تلقین یا درخواست کرے تو اس بے چارہ کا نہ صرف تمسخر اڑایا جاتا ہے بلکہ اس کی ’’مردانگی‘‘ پر شک کا اعلان کیا جاتا ہے ایسے میں خواتین ، بچوں، بوڑھوں اور معذور افراد کی بھلا کس کو پرواہ ہو سکتی ہے ۔
ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کا قانونی راستہ بلاشبہ نہایت پر آزمائش معیارات پر مبنی اور کڑا ہے لیکن اگر اس مرحلہ کو طے کرنے کے لئے کسی ’’ایجنٹ ‘‘کی خدمات حاصل کر لی جائے تو سائل کو یہ مذکورہ ڈرائیونگ لائسنس ’’ہوم ڈلیوری‘‘ کی سہولت کے ساتھ میسر آ سکتا ہے۔ میں ایک ایسی خاتون صحافی کو جانتا ہوں جن کے پاس انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس ہے مگر وہ ڈرائیونگ کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ میری حیرت کے اظہار پر انہوں نے انکشاف کیا کہ دراصل ایک مرتبہ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کی پریس کانفرنس میں کسی  نے یہ شکایت کر دی کہ ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء میں متعلقہ عملہ جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کرتا ہے۔ اس پر پولیس آفیسر موصوف نے نہایت شگفتہ لہجہ میں جواب دیا : ’’آپ کی شکایت ابھی دور کر دی جاتی ہے ‘‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے ماتحت عملہ کو نہایت شاہانہ انداز میں حکم دیا : ’’پریس کانفرنس کے بعد یہاں موجود تمام صحافیوں کے انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس ’’موقع‘‘ پر ہی جاری کر دئیے جائیں ‘‘۔ صاحب بہادر کے حکم پر عملدر آمد یوں ہوا کہ تمام حاضر صحافی خواتین و حضرات کو کسی درخواست، ڈرائیونگ ٹیسٹ یا انٹرویو کے بغیر انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس جاری کر دئیے گئے۔ اس طرح صحافیوں کی شکایت کا ازالہ بھی کر دیا گیا ، تعلقات عامہ کو مضبوط اور معتبر بھی بنایا گیا اور ثابت کر دیا گیا کہ پاکستان میں محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً قانون جب پولیس کے ہاتھ میں آ جائے تو وہ موم کی ناک بن جاتا ہے۔ 
ٹریفک کے حوالے سے عوامی سطح پر شہری شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت اب ماضی کے مقابلہ میں کئی گنا بڑھ گئی ہے کیونکہ موٹروے، سپر ہائی وے ، انڈر پاس اور رنگ روڈ جیسے ولولہ انگیز منصوبوں نے اپنے روپ اور بہروپ، دونوں ہی ظاہر کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ اگرچہ ارباب بست و کشاد کی توجہ ،دلچسپی اور اشتیاق کے مراکز لاہور، مری اور اسلام آباد ہی مشاہدہ کئے جاتے ہیں مگر راقم کا اصل موضوع تو ٹریفک کے حادثات سے متعلق ہے جس کے حوالے سے یہ بات کسی تشریح کی محتاج نہیں کہ موت برحق ہے مگر اس کے اسباب میں اضافہ کی بجائے کمی لانے کی کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ میڈیا، سول سوسائٹی ، سیاسی کارکنوں اور شہریوں کو ہر سطح پر اور باہمی تعاون کے ساتھ اس مسئلہ کے حل کی طرف توجہ دینا چاہیے ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ کسی ملک میں جاری ٹریفک کو دیکھ کر وہاں کی قوم کے اجتماعی مزاج کے بارے میں مستند رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ صرف مغربی ممالک ہی اپنی ٹریفک کے حوالہ سے مہذب اور شائستہ تسلیم کئے جائیں۔ راقم نے کئی ترقی پذیر ممالک میں ٹریفک کے انتظامات کو اتنا بہتر اور منظم پایا ہے کہ ان پر ہم بجا طور پر رشک کر سکتے ہیں۔ شاید ہمارا اجتماعی مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے احساس کمتری کو احساس برتری میں تبدیل کرنے کے لئے قانون شکنی کو اولین ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ نہ صرف ایک آسان راستہ ہے بلکہ اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں ہوتی۔ ٹریفک کا نظام درست کئے بغیر نہ تو اجتماعی رجحان اور روئیے میں کوئی مثبت تبدیلی کی توقع کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس کے بغیر ترقی کا خواب حقیقی معنوں میں شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے ۔ یاد رہے کہ ٹریفک محض سڑک پر گاڑیوں کی آمد و رفت کا نام ہی نہیں یہ کسی قوم کے دل و دماغ میں جاری سوچ اور زندگی کا استعارہ بھی تصور کیا جاتا ہے ۔

901
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...