ہر کوئی جانتا ہے کہ موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ اور پروپیگنڈہ کی غیر معمولی اہمیت ہے ۔ رائے عامہ کی تشکیل اور اس کو متاثر کرنے کے باب میں یہ دونوں ذرائع اور طریقے بجا طور پر نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ماہرین کی روز و شب کی محنت اور تحقیق نے اس سماجی روئیے اور رجحان کو ایک سائنس کی شکل دے دی ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کو اتنا اجاگر کر دیا ہے کہ شاید ایک عامی اس کی گہرائی اور تزویراتی اہمیت کا ادراک نہ کر سکے۔ دنیا بھر میں مسلح افواج کو اس شعبہ سے متعارف اور باخبر رکھنے کے لئے باقاعدہ ایسے شعبے قائم ہیں جو مقررہ مقاصد کے حصول کی خاطر ہمہ وقت متحرک اور سرگرم عمل رہتے ہیں ۔اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ سرد جنگ کے دوران دنیا کی دو سپر پاورز یعنی امریکہ اور سوویت یونین نہ صرف عسکری اور سفارتی محاذ پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آن کھڑی تھیں بلکہ وہ پروپیگنڈہ کے محاذ پر بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لا رہی تھیں۔ جدید دور میں جہاں ڈپلومیسی کو دو ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالہ سے کلیدی اور اساسی اہمیت حاصل ہے وہاں اب پبلک ڈپلومیسی کے باب میں بھی نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے۔ اس شعبہ میں جب ایک ملک کی حکومت کسی دوسرے ملک کے عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ کاری اور تعلقات کے فروغ کے سلسلہ میں متحرک ہوتی ہے تو اس کے لئے پبلک ڈپلومیسی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ یہی امور اگر کوئی حکومت اپنے عوام کے لئے انجام دے تو اس کے لئے تعلقات عامہ ، اشتہاریات ، عوامی معلومات اور اطلاعات کی اصطلاحات پہلے ہی رائج ہیں۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یعنی جب 1979ء میں سوویت یونین نے افغانستان میں عسکری مداخلت کی اور ساری مہذب دنیا نے متحد ہو کر افغان عوام، ان کے مدد گار حریت پسندوں اور مجاہدین کی ہمہ جہت مدد کی تو اس کے نتائج نہایت حوصلہ افزاء بر آمد ہوئے ۔ حوصلہ افزاء ان معنوں میں کے آخر کار سوویت یونین کی افواج نے پسپائی کا راستہ اختیار کیا اور سوویت یونین کے لیڈر میخائل گورباچوف کے جدید انقلابی نظریات اور تصورات کے اطلاقی پہلو یوں اجاگر ہوئے کہ سوویت یونین کا اتحاد برقرار نہ رہ سکا، وسطی ایشیائی ریاستوں نے خود مختاری اور آزادی کا راستہ اختیار کیا جس پر وہ نہایت کامیابی اور اطمینان کے ساتھ گامزن ہیں۔ 
افغانستان میں سوویت یونین کی عسکری مداخلت کے دوران تو مغربی اقوام اور خاص طور پر امریکہ نے پاکستان کی فراخدلی کے ساتھ سفارتی ، عسکری ، مالی اور مادی امداد کی کیونکہ اس کے بغیر افغانستان کے حالات پر قابو پانا اور وہاں سے سوویت افواج کے انخلاء کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا کسی طور ممکن نہیں تھا ۔ اس زمانہ میں شاید ہی کوئی ایسا مغربی اور یورپی ملک ہو گا جس کے سربراہ ، ممتاز شخصیت یا رائے عامہ تشکیل دینے والے فرد نے افغان مہاجرین کی خیمہ بستیوں کا دورہ نہ کیا ہو۔ اس موقع پر یہ حقیقت یکسر فراموش کر دی گئی کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے قواعد و ضوابط کے مطابق مہاجرین کو شہری آبادیوں سے دور خیمہ بستیوں میں پناہ دی جاتی ہے ، ان کی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے اور ان کو مقامی آبادی کے ساتھ میل ملاپ کے سلسلہ میں سہولت فراہم نہیں کی جاتی۔ اس کا عملی اور مثالی مظاہرہ نہ صرف ایران میں افغان مہاجرین کے باب میں مشاہدہ کیا گیا بلکہ خود وطن عزیز میں ایک مرحلہ پر جب بوسنیا کے مسلمان مہاجرین کے طور پر پاکستان پہنچے تو ان کو صرف اس وقت تک پناہ دی گئی جب تک ان کے اپنے ملک میں حالات سازگار نہ ہو گئے ۔ ایک مختصر عرصہ کے بعد بوسنیا کے جملہ مہاجرین بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے اپنے ملک واپس چلے گئے ۔
اس کو اب تاریخ کے جبر اور حالات کے ناروا سلوک کے علاوہ کیا نام دیا جائے کہ پاکستان میں جن افغان مہاجرین کو انسانیت، مذہب اور بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں پناہ دی گئی ، ان میں سے بیشتر نے اپنی حیثیت اور مقامی مہمان نوازی کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے خیمہ بستیوں کی بجائے مستقل شہری آبادیوں کا رخ کیا ، مقامی کاروبار میں بھرپور حصہ لینا شروع کر دیا ، مذہب کے نام پر سیاسی مراعات کے حصول کو معمول بنا لیا، قانون شکن راستہ اختیار کرتے ہوئے جعلی اور بوگس سفری دستاویزات /کاغذات کی تیاری کو معمول بنا لیا اور سب سے اہم بات یہ کہ ان مہاجرین نے وطن عزیز کی روایات ، عقائد اور تہذیب و ثقافت کو پامال کرنا شروع کر دیا۔ اس سلسلہ میں یہاں پر تفصیلی بیان کی گنجائش موجود نہیں ہے ، صرف اتنا اشارہ کافی ہے کہ ہمارے بزرگوں اور اکابرین کے مزارات اور در گاہوں کو تخریب کاری اور خودکش حملوں کا ہدف بنایا گیا۔ خواتین کے باب میں ایسا ناروا سلوک اختیار کیا گیا جو نہ صرف انسانی سطح پر ناقابل قبول تھا بلکہ جس کا اسلام کے ساتھ سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ خواتین کو مجبور کیا گیا کہ وہ حصول تعلیم کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے موقوف کر دیں اور عوام کو ذہنی طور پر یہ احساس دلایا گیا کہ ان کے لئے جدید دور کی سائنس و ٹیکنالوجی نہیں بلکہ پتھر کے زمانہ کے معاشرتی اصول سود مند ہیں۔ 
فکری اور نظریاتی سطح پر تنگ نظری اور خود ساختہ اصولوں کے تناظر میں جن گروہوں نے وطن عزیز کے وقار اور سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ، ان میں بلاشبہ تحریک طالبان پاکستان سر فہرست ہے ۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ جب بھی تخریب کاری یا خودکش حملہ کا کوئی افسوسناک واقعہ رونما ہوتا ہے تو عام طور پر ٹی ٹی پی اس کی ذمہ داری قبول کرنے میں کوئی مضائقہ اور تامل محسوس نہیں کرتی ۔ اگر ٹی ٹی پی کے مالی اور سیاسی پس منظر پر نگاہ کی جائے تو اس دلیل کو قبول کرنے میں کوئی امر مانع نہیں رہتا کہ اس تنظیم کو پاکستان کے دشمن ممالک کی طرف سے ہر سطح پر اعانت اور حوصلہ افزائی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ ٹی ٹی پی کی طرف سے نفاذ اسلام اور اسلامی روایات کے ضمن میں جو دعوے کئے جاتے ہیں، ان کا پاکستان کی معاشرت اور حالات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے آئین 1973ء میں واضح طور پر یہ درج ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں اسلامی تعلیمات اور اصولوں کے خلاف کوئی قانون رائج نہیں ہو گا۔ 
وطن عزیز میں دینی مدارس کی دین مبین کے باب میں جو خدمات ہیں ان سے مؤرخ اور وقت کبھی صرف نظر نہیں کر سکتے لیکن ٹی ٹی پی نے اس حوالہ سے جو انداز اختیار کر رکھا ہے ، وہ ان دینی مدارس کے روشن چہرے پر ایک داغ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دینی مدارس بنیادی طور پر اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے، اصلاح معاشرہ اور سماجی میل ملاپ کو معتبر بنانے کا نہایت حوصلہ افزاء سلسلہ ہیں لیکن ٹی ٹی پی نے ان دینی مدارس کا تشخص اس حد تک مجروع کر دیا کہ اب ان کو ’’دہشت گردوں کی نرسری ‘‘ تصور کیا جاتا ہے ۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امام کعبہ کے بیانات اور خطبہ حج میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ خودکش حملے اور پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف کی جانے والی دہشت گردوں کی عسکری کارروائیاں اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ یہ امر بھی ایک افسوسناک حقیقت کے طور پر مذکورہ رہتا ہے کہ وطن عزیز کے 60ہزار سے زائد بے گناہ اور بے قصور عوام ٹی ٹی پی کی عسکری کارروائیوں میں جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور ان میں مولانا حسن جان ایسے علماء کرام بھی شامل ہیں جنہوں نے ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو غیر اسلامی قرار دیا تھا ۔
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ ٹی ٹی پی میں شامل عناصر اور ان کی قیادت کو اسلامی تعلیمات کے نصابی اور اطلاقی پہلوؤں سے دور کا بھی کوئی تعلق اور یارا نہیں ہے ، ان میں سے بیشتر نے کبھی کسی دینی مدرسہ کا رخ نہیں کیا ہو گا اور جن کو یہ موقع میسر رہا، ان کا طرز فکر و عمل بجا طور پر مختلف یعنی امن پسندی کی طرف مائل دکھائی دیتا ہے ۔ ٹی ٹی پی کو اس بات کا بھی بڑی حد تک ملال ہے کہ انہوں نے اپنے زیر اثر علاقوں میں بے گناہ ، بے قصور اور سادہ لوح عوام کو اپنے پروپیگنڈہ کے ذریعے جس طرح گمراہ کیا تھا ، مسلح افواج نے ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل کر کے، عوام کے مشکلات اور مسائل کو حل کر کے اور باہمی اخوت اور بھائی چارہ کی فضاء کو فروغ دے کر ٹی ٹی پی کے پروپیگنڈہ کو ناکام بنا دیا ہے۔ پروپیگنڈہ محض اسی صورت میں کارگر اور نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے جب یہ یکطرفہ ہو اور سراسر جھوٹ پر مبنی ہو ۔ اس کے جواب میں جب سچ اور حقائق سامنے آتے ہیں تو جھوٹ اور فریب خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔
وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے فوجی جوان جہاں ایک طرف شہادت کے جذبہ سے سرشار ہو کر دہشت گردی کے خلاف برسر پیکار ہیں وہاں انہوں نے اپنے ہم وطنوں کی خدمت کے جذبہ کے تحت جو ترقیاتی منصوبے مکمل کئے ہیں وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے اور جب بھی مستقبل کا مؤرخ حب الوطنی ، فرض شناسی ، اسلام دوستی اور خیر و برکت کی بات کرے گا تو وہ ٹی ٹی پی نہیں بلکہ پاک فوج کے جوانوں کا ذکر ہی کرنے کو ترجیح دے گا ۔

796
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...