دہشت گردوں نے ایک بارپھر ایک حساس اور اہم ترین جگہ بلکہ پاکستان کی معاشی شہ رگ پر ہاتھ رکھا اور کراچی ائیر پورٹ پر حملہ کر دیا ۔ساری دنیا سے رابطے کے اس سب سے بڑے مرکز تک ان کی پہنچ کیسے ہوئی، کن راستوں سے وہ اندر پہنچے اور کیسے اس کے چپے چپے کی خبر رکھتے تھے کیا وہ یا ان کے گائیڈ عرصے سے یہاں کام کر رہے تھے کیونکہ ایسا حملہ بغیر تیاری کے تو ممکن نہیں۔ یہ سوال ضرور ہے کہ ایسا کیسے ہو گیا جبکہ وزارتِ داخلہ اور خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اس بارے میں وارننگ دی جا چکی تھی بلکہ ایک سے زائد مرتبہ دی گئی تھی۔ بحر حال حملہ تو ہو گیا اور اس وقت موقع پر موجود اے ایس ایف کے جوانوں ،پھر رینجر پولیس اور فوج نے آگے بڑھ کر خود کو موت کے سامنے کھڑا کر کے اور اسے گلے لگا کر جس طرح ائیر پورٹ کو بچانے کی کوشش کی یہ سب قابل ذکر بھی ہے اور قابل فخر بھی۔ لیکن یہ قربانیاں کب تک دی جاتی رہیں گی کیا کبھی اس سلسلے کا اختتام بھی ہو گا کہ قوم سکون کا سانس لے اور ہر وقت کسی دہشتگردی کے خوف میں مبتلا نہ رہے جو گھر سے جائے واپس بھی آئے۔سوال یہ بھی ہے کہ ان دہشتگردوں کے ہاتھ آخر ان حساس ترین مقامات کے بارے میں مکمل معلومات کیونکر آجا تی ہیں۔ جی ایچ کیو جہاں داخلے کے لئے آپ کو کئی پھاٹک اور چیک پوسٹیں عبور کرنی پڑتی ہیں یہ وہاں اندر پہنچ گئے، کامرہ ، مہران بیس ، مناواں پولیس ٹریننگ سکول، پشاور ائیر پورٹ اور اب کراچی ائیر پورٹ اورکیا خدا نخواستہ اب کوئی اور ایسا نشانہ باندھا جائے گا ۔ ائیر پورٹوں کی سکیورٹی تو بڑھا دی گئی لیکن کیا ہماری بندر گاہیں محفوظ رہیں گی اس طرف بھی دھیان رکھنا پڑے گا اور خفیہ ایجنسیوں کی وارننگوں اور خبروں کو بھی سنجیدگی سے لینا پڑے گا۔ ہر ادارے اور اہم اور حساس مقام میں ملازمتیں دیتے وقت بھی انتہائی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے اور بعد میں نظر رکھنے کی بھی ،کیونکہ یہ بات بھی بعید از امکان نہیں کہ کچھ ساتھی پہلے سے اندر موجود ہوں ، گوگل ارتھ آپ کو وہ نہیں بتا سکتا جو ایک مخبر بتاتا ہے اور ہمارے حالات ہمیں ذرا سی بھی بے احتیاتی کی اجازت نہیں دیتے۔جبکہ ہم مسلسل اپنی بے احتیاطیوں کی نظر ہو رہے ہیں ، افغانستان اور ازبکستان ہم سے نہ تو زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور نہ ہی ان کی ایجنسیاں اور ٹریننگ ہم سے بہتر ہے پھر ان کے دہشتگرد ہمیں مات کیسے کر رہے ہیں ۔ حکومت اور تمام ذمہ داران کو سوچنا چاہیے۔ اس حملے کے شواہد سے یہ بات مزید ثابت ہو چکی ہے کہ انہیں امداد وہی بھارت دے رہا ہے جس کے وزیرِاعظم کو ہمارے وزیرِاعظم خیر سگالی کے جذبات سے بھر پور خط بھیجتے ہیں اور پیشکشیں کرتے ہیں اور یہ جذبات اس وقت دکھائے جا رہے تھے جب کراچی کے ہوائی اڈے سے بھارتی ساختہ اسلحہ اور انجیکشن مل رہے تھے۔ اس سے دشمن کو کیا پیغام دینا مقصود تھا کہ کیا تم کرتے جاؤ اور ہم برداشت کرتے رہیں گے۔ ہمارے حکمران ، سیاستدان اور کرتا دھرتاہر ایسے واقعے پرتبصرہ کرتے ہوئے یہ ضرور فرماتے ہیں کہ ہمیں قربانیوں پر فخر ہے قوم کو بھی کراچی واقعے میں جانیں دے کر بڑے نقصان کو روکنے والوں پر فخر ہے لیکن ان کے لواحقین سے پوچھیے جن کے پیارے اس دہشتگردی کی نظر ہو جاتے ہیں اور سارے عمر یہ خاندان ان اندھیرے راستوں میں مرنے والے اپنے پیاروں کا سوگ مناتے ہیں حکومت کی بھارتی ہاتھ ملوث ہونے پر خاموشی بھی کافی معنی خیز ہے۔ازبک باشندوں کی شناخت ہونے کے باوجود شاہد اللہ شاہد کا ذمہ داری قبول کرنے کا بیان بھی یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ تحریکِ طالبان نے کس کو بچانے کے لئے یہ بیان دیا اور یا وہ کس کس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں یا کس کے اشارے پر پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں۔ حکومت اور سیاستدان بھارت اور طالبان کے بارے میں اپنی رائے قائم کرتے وقت ان شہیدوں اور ان غم زدہ خاندانوں کو ضرور اپنے ذہن میں رکھیں تاکہ وہ آئندہ ان کی بد دعا اور نفرت سے بچے رہیں ۔ 
اس طرح کے واقعات پر قوم کی تشویش ایک قدرتی عمل ہے اور جہاں حکمران، سیاستدان، عدالتیں، ایجنسیاں، قانون نافذکرنے والے ادارے کسی نہ کسی طرح ذمہ دارہیں ، ہمارا میڈیا بھی اس ذمہ داری سے مبر ا نہیں ہے۔ براہِ راست نشریات اور سب سے پہلے خبر پہنچانے کے شوق میں مبتلا ہمارا میڈیا حفاظت اور کامیابی کے عنصر کو ذہن سے ہی نکال دیتاہے یہاں تک کہ سکیورٹی فورسز کہاں سے داخل ہو رہی ہیں اور کہاں تک پہنچ چکی ہیں تک بتا دیا جاتا ہے۔ایک آپریشن جسے انتہائی رازداری اور خفیہ طریقے سے ہو نا چاہیے یوں طشت از بام کر دیا جاتا ہے کہ دہشتگردوں کے ماسٹر مائینڈ انہیں کسی بھی صورتحال سے مطلع رکھ سکیں اور وہ پہلے سے متعین کردہ دوسرے راستوں سے آگے بڑھ کر ہدف تک پہنچ سکیں اور اپنا مقصد حاصل کر سکیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ دہشتگرد اپنے ماسٹر مائینڈ سے مسلسل رابطے میں رہ کر ہدایات حاصل کرتے ہیں جبکہ ایسی براہِ راست کوریج کو صرف اپنی پولیس ، فوج رینجرز یا کسی بھی قانون نافذ کرنے والی قوت کے فائدے اور رہنمائی کے لئے ہو نا چاہیے اور اس میں صرف دہشتگردوں کی پوزیشن اور موقع پر موجودگی کو ہی ظاہر کر نا چاہیے ۔ ہاں عوام کی تسلی کے لیے اتنا بتانا ضروری ہے کہ فوج یا رینجرز نے آپریشن شروع کر دیا ہے اور کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ تفصیلات کو آپریشن کی کامیابی تک موخر کر دینا چاہیے اور ابتدائی یا حتمی تفصیلات اگر حکومت کا کوئی نمائندہ دے اور پوری ایمانداری سے دے تو عوام کا اعتماد قائم رہے گا لیکن ہو یہ رہا ہے کہ ہمارا میڈیا ان واقعات کو کسی جاسوسی ناول کے اتار چڑھاو کی طرح تجسس کے لیے پیش کرتا ہے اور حساس تنصیبات میں داخلے کے تمام ممکنہ راستوں کی پشین گوئیاں بھی کرتا رہتا ہے جو غیر ذمہ داری کی انتہا ہے۔کیونکہ یوں حملہ آوروں کی مطلوبہ کمک کی مسلسل رہنمائی جاری رہتی ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ دہشتگردوں کا پورا گروہ بیک وقت کسی جگہ میں داخل ہو جائے، کچھ لوگ ضرورت کے لئے با ہر بھی موجود رہ سکتے ہیں۔ ان کے طریقہ واردات کی وضاحت بھی انتہائی خطرناک ہے جو دوسرے بد نیت لوگوں کو سہولت پہنچا سکتی ہے ۔ 
ملک اس وقت انتہائی خطر ناک حالات سے دوچار ہے۔ دہشتگردی، سیاسی ہلچل ، حرص، لالچ، طمع، بے روزگاری یہ تمام عناصر ہیں جو ملک کے خلاف کام کرنے والے اندرونی اور بیرونی عناصر کے لئے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ معاشرے کے ہر فرد اور گروہ کو چاہے سرکاری ہو یا ذاتی، انفرادی ہو یا اجتماعی، ہر سطح پر چوکنا اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کہیں حکومتی سطح پر بے احتیاطی، کہیں بریکنگ نیوز کا شوق، کہیں خود ستائی کی خواہش اورکہیں مال و زر کی ہوس عوام کی زندگی اور ملک کی سا لمیت اور سلامتی کے لیے انتہائی خطر ناک ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ وقت ایک دوسرے پر طعنہ زنی اور تنقید کا بھی نہیں بلکہ اپنی غلطیاں تلاش کرکے درست کرنے کا ہے۔ ابھی کالم لکھتے لکھتے یہ خبر آئی ہے کہ اڈیالہ جیل پر تیس کمانڈو تعینات کر دیے گئے ہیں ، فوج کی تعیناتی کی خبر دینے تک تو درست ہے لیکن تیس کی تعداد بتا کر کیا چالیس یا ساٹھ دہشتگردوں کو تیاری کا موقع دیا جا رہا ہے۔ حکومت سے لیکر میڈیا اور میڈیا سے لے کر ایک عام آدمی تک ہر ایک دیکھے اور سوچے کہ وہ ملک کو کیا نقصان پہنچا رہا ہے اور اس ملک کے زخمی وجود میں برداشت کی اور کتنی ہمت باقی ہے۔ حکومت ، عدالت ، میڈیا ، قانون ساز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ، سیاستدان اور غرض ہر طبقہ اپنے جرائم خود تلاش کرے اور ان کو روک کر ان کا مداوا کرنے کی کوشش کرے اور اندرونی و بیرونی دوست دشمن کی پہچان کر لے تو یقیناًہم اپنے مسائل پر قابو پانے میں کامیاب
ہوجائیں گے انشاء اللہ۔
اے اللہ تو پاکستان کی حفاظت کر ، اس کے مسائل حل فرما اور اسے ہمارے لئے جائے امن بنا دے ،آمین۔ 

878
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...