اس حقیقت سے تو کسی طور بھی انکار یا اختلاف نہیں کیا جا سکتا کہ میڈیا موجودہ دور کی سب سے بڑی اور اہم سماجی طاقت کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ رائے عامہ کی تشکیل اور تدوین کے باب میں اس کا کردار کسی سے اوجھل نہیں۔ اس کی افادیت اور اہمیت کے تناظر میں نصابی او ر نظریاتی سطح پر بحث کی بے پناہ گنجائش موجود ہے او رگاہے بعض تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا ہے لیکن اٹل حقیقت یہی ہے کہ میڈیا اور موجودہ انسانی زندگی کا ایک گہرا تعلق قائم ہو چکا ہے ۔ اطلاقی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ پہلو نہایت غور طلب ہے کہ میڈیا کا کردار بہرحال بعض سماجی، قانونی اور اخلاقی پابندیوں سے مربوط اور مشروط ہے۔ فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ میڈیا کو محض آزادی اظہار یا جمہوری حق کے نام پر لا محدود آزادی نہیں دی جا سکتی۔ دنیا کے وہ ممالک جو جمہوریت کا راگ الاپنے میں پیش پیش رہتے ہیں اور جن کو یہ زعم ہے کہ وہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے علمبردار اور نگہبان ہیں ، ان ممالک میں بھی میڈیا کی حدود متعین ہیں جن کو عبور کرنے کا کوئی تصور موجود نہیں۔ اس ضمن میں ایک نہایت یادگار مثال برطانیہ کی آنجہانی شہزادی ڈیانا کے ماتمی جلوس کے موقع کی ہے ۔ دنیا بھر کے میڈیا نے اس ماتمی جلوس کو براہ راست نشرکیا، گرجا گھر میں آخری رسومات سے لے کر اس خوبصورت جھیل تک جس کے نواح میں ڈیانا کو سپرد خاک کیا جانا تھا، میڈیا نے ایک ایک لمحہ کا منظر اپنے ناظرین کے سامنے پیش کیا اور اس پر تبصرہ آرائی اور تجزیہ کاری کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ نشریات کا یہ سلسلہ اس وقت یکسر موقوف کر دیا گیا جب میڈیا اس مقام پر پہنچا جس سے آگے جانے کی اس کو اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس موقع پر کوئی ہنگامہ آرائی، دھکم پیل یا مہم جوئی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ 
ایسی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ میڈیا اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہی اپنے فرائض انجام دیتا ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ یہی رویہ اور انداز اس کا تشخص تصور کیا جاتا ہے۔ احتیاط اور میانہ روی کے اسی انداز کے سبب اس کو عوامی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوتی ہے اور اپنی معروضی خبر نگاری کی بنیاد پر ہی اس کو عام طور پر ریاست کا چوتھا ستون بھی سمجھا جاتا ہے۔ میڈیا کا یہ کردار اور خدمات اس وقت تشویشناک بلکہ فکر مند رنگ اختیار کر جاتی ہے جب میڈیا خبر پہنچانے کی بجائے خبر تیار کرنے کا کام شروع کر دیتا ہے۔ ابلاغیات کے ماہرین اس انداز کو یوں بیان کرتے ہیں کہ اپنی خواہش کو خبر بنانا دراصل میڈیا کا منصب نہیں بلکہ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں پر میڈیا اپنی اصل طاقت سے اخلاقی طور پر محروم ہو جاتا ہے۔ 
وطن عزیز میں میڈیا کی آزادی کی تاریخ اس اعتبار سے دنیا بھر میں منفرد اور نمایاں حیثیت کی حامل ہے کہ اس آزادی کے حصول کی خاطر اہل صحافت نے آزمائش اور امتحان کے کڑے مرحلے نہایت وقار اور اعتماد کے ساتھ طے کئے۔ انہوں نے آمریت کے دور میں اپنی کمر پر کوڑے بھی کھائے، قلعہ کے عقوبت خانوں میں قید تنہائی کے عذاب بھی برداشت کئے، معاشی قتل کو بھی قبول کیا، اپنے بال بچوں کو بھوک پیاس سے دوچار ہوتے بھی دیکھا ، لذت دربدری سے آشنا بھی ہوئے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کر کے حقیقی معنوں میں جہاد کا حق بھی ادا کیا۔ یہاں پر راقم کئی نام درج کر نے کا متمنی ہے لیکن اس لئے اجتناب کر رہا ہے کہ اگر کوئی نام سہواً درج نہ کیا جا سکا تو اس کا ملال ہمیشہ رہے گا ۔ یہ وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ آج میڈیا جس آزادی کی فضاء میں سانس لے رہا ہے اور فروغ پا رہا ہے ، اس آزادی کے لئے ہمارے بزرگوں نے بلاشبہ بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور آج جو چند لوگ اس آزادی کے حصول کے دعوے دار ہونے کے زعم اور خوش فہمی میں مبتلا ہیں ، ان کو حقائق اور تاریخ کے آئینہ میں اپنا چہرہ خوددیکھنا چاہیے۔ 
حالیہ دنوں میں ایک نجی ٹی وی چینل اور اس کے اخبار نے اس وقت آزادی صحافت کی حدود اور اخلاقیات کو پامال کر دیا جب اس نے کراچی میں اپنے ا یک کارکن پر ہونے والی فائرنگ کے فوراً بعد اور کسی تصدیق یا تفتیش کے بغیر وطن عزیز کے ایک اہم حساس ادارے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام پر مذکورہ واقعہ کی ذمہ داری عائد کر دی۔ ایسا کرتے ہوئے ادارے کے سربراہ کی تصویر کو ٹی وی سکرین پر بار بار اس انداز میں دکھایا گیا کہ ناظرین کو بجا طور پر یہ محسوس ہوا جیسے آئی ایس آئی کسی دشمن ملک کا ادارہ ہے اور اس کا سربراہ ایک اینکر پرسن کو نشانہ بنانے کے منصوبہ تیار کرتا رہتا ہے ۔ مذکورہ چینل نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑے رکھنے کا سلسلہ تقریباً 6گھنٹے تک جاری رکھا۔ اس دوران نہ تو آئی ایس آئی کا مؤقف لینے کی زحمت گوارا کی گئی اور نہ ہی وزارت اطلاعات ونشریات یا وزارت دفاع کی کسی ذمہ دار شخصیت سے رابطہ کیا گیا۔ طرفہ تماشا یہ رہا کہ اس موقع پر پیمرا نے بھی ایسی چشم پوشی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس کو نرم سے نرم الفاظ میں مجرمانہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ 6گھنٹے کے بعد آخر کار مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر  نے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے صورت حال کی وضاحت کا فریضہ ادا کیا اور یوں بے بنیاد، گمراہ کن اور خود ساختہ پروپیگنڈہ کے آگ کے شعلوں کو سرد کرنے کی اپنے طور پر قابل تحسین کوشش کی ۔ 
قارئین اس بات سے اتفاق کریں گے کہ میڈیا کا کردار اس وقت قابل مذمت ، مشکوک اور نفرت انگیز شکل اختیار کر جاتا ہے جب یہ حقیقت صاف دکھائی دے کہ مذکورہ میڈیا قومی مفادات پر کسی غیر ملکی اور خاص طور پر دشمن ملک کے ایجنڈہ پر کام کر رہا ہے ۔ جب ناظرین کو یہ محسوس ہو کہ ایک ٹی وی چینل پر سپورٹس سے لے کر دفاعی امور تک ان کے دشمن ملک کے ماہرین اور تجزیہ کار ہی جلوہ افروز ہوتے ہیں تو ان کو یہ بات باور کرنے میں کوئی گریز نہیں رہتا کہ مذکورہ ٹی وی چینل دراصل دشمن ملک کے پالیسی ساز اداروں اور شخصیات کے ہاتھوں میں کھلونا بن چکا ہے ۔ میڈیا کی دنیا کی ایک نہایت قابل تحسین روایت یہ ہے کہ جب اس کا کردار مشکوک ہو جائے تو وہ منظر عام سے (خواہ عارضی طور پر ہی سہی )دور ہو جاتا ہے اور یا پھر اس کی طرف سے اخلاقی تقاضوں کے تحت معذرت اور معافی پیش کی جاتی ہے ۔اس حوالے سے یہ مثال نہایت قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں عالمی ذرائع ابلاغ کے بے تاج بادشاہ روپرٹ مردوق نے برطانیہ سے شائع ہونے والے اپنے ایک اخبار ’’نیوز آف دی ورلڈ ‘‘کو محض اس بناء پر بند کر دیا کہ یہ اخبار عام شہریوں کی گفتگو کو ٹیپ کرنے کے معاملہ میں ملوث پایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ مذکورہ اخبارگذشتہ 150برسوں سے شائع ہو رہا تھااور اس کو برطانوی صحافت کی تاریخ اور معاشرہ میں نہایت نمایاں مقام حاصل رہا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ روپرٹ مردوق کے اس فیصلہ سے اس کی بے عزتی یا سبکی نہیں ہوئی بلکہ اس کے قارئین اور عوام میں اس کے قد و قامت میں اضافہ ہی محسوس کیا گیا۔ 
وطن عزیز میں جس نجی چینل اور اخبار نے آئی ایس آئی کے خلاف نفرت انگیز مہم کا آغاز کیا تھا، وہ عام طور پر اصرار کرتا ہے کہ ہمارے بعض سیاستدانوں، سرکاری حکام اور کاروباری شخصیات نے بیرون ملک اثاثے محفوظ کر رکھے ہیں اور سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے جس کو بے نقاب کیا جانا چاہیے لیکن حیرت انگیز طور پر یہ ٹی وی چینل اور اخبار اس جانب توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ان کے اپنے مالک کا اس تناظر میں کیا انداز اور مقام ہے۔ کون نہیں جانتا کہ اس ادارے کے مالک یعنی جناب میر شکیل الرحمن ایک طویل عرصہ سے بیرون ملک سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان کے غیر ممالک میں اثاثوں اور سرمایہ کاری کی تفصیلات کا بیان ایک الگ مضمون کا تقاضا کرتا ہے تا ہم یہاں پر یہی نشاندہی کافی ہے کہ ان کے اپنے ادارے کے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ان کے خلاف سرعام ایسے انکشافات کر چکے ہیں جو قانونی زبان میں جرم اور اخلاقی زبان میں بددیانتی قرار دئیے جا سکتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا کہ آزادی صحافت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی تو مذکورہ ٹی وی چینل اور اخبار اپنے مالک جناب میر شکیل الرحمن سمیت اپنے قارئین و ناظرین سمیت اہل وطن سے معذرت کرتے ہوئے معافی کے خواستگار ہوتے لیکن انہوں نے یہ رویہ اختیار کرنے سے اجتناب کیا۔ اس رویہ کو آسان زبان میں یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ جس طرح انہوں نے صحافتی سطح پر ذہنی طور پر مفلس ہونے کا ثبوت دیا ۔اسی طرح انہوں نے اخلاقی سطح پر بھی اپنے قد و قامت کے کم ہونے کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ 

793
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...