حال ہی میں پاکستان کے میزائل ٹیکنالوجی کے ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں نے حتف 3غزنوی میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے اس میدان میں شاندار پیشرفت کا ایک اور سنگ میل عبور کیا۔ یہ میزائل ایٹمی وار ہیڈلے کر290کلو میٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور یہ تجربہ تذویراتی مشقوں کے دوران کیا گیا۔ صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم میاں نواز شریف ، پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اس کارنامے پر وطن عزیز کے انجینئرز اور سائنسدانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میزائل کے کامیاب تجربہ سے ملک کی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر ہو رہی ہیں ۔ رائے عامہ کی طرف سے بھی اس اہم عسکری اور دفاعی کامیابی پر بجا طور پر پسندیدگی اور تحسین کا اظہار کیا گیا تا ہم عین اس وقت جب اہل وطن اس کامیابی کے تناظر میں مسرور اور مشکور مشاہدہ کئے جا رہے تھے ، اسلام آباد میں انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹرٹیجک سٹڈیز برطانیہ کے ڈائریکٹر مارک فٹس پیٹرک نے اپنی کتابOvercoming Pakisan’s Nuclear Dangersکی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنے جوہری پروگرام کو جواز دینے کے لئے از خود ایک فارمولا پیش کرنا چاہیے۔ پاکستانی حکام خطہ میں جوہری دہشت گردی کے خطرات کو سمجھتے ہوئے اس کی روک تھام کے لئے اقدامات کریں۔
انہوں نے یہ حیرت انگیز بلکہ افسوسناک خیال بھی ظاہر کیا کہ پاکستانی جوہری ہتھیار تیزی کے ساتھ دنیا میں پھیل رہا ہے جس کے باعث خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ نیو کلیئر کلب کے باہر رہ کر جوہری تحفظ کو یقینی بنانا مشکل ہو گا۔انہوں نے کسی ثبوت کے بغیر یہ الزام عائد کر دیا کہ پاکستان سعودی عرب کو ایٹمی ٹیکنالوجی اور ایٹمی میزائل فراہم کر سکتا ہے کیونکہ سعودی عرب ایرانی ایٹمی طاقت کے مقابلے میں توازن کا خواہشمند ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موصوف نے اپنی کتاب میں خطہ میں جوہری خطرات کو کم کرنے کے لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کے حل کے لئے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے پاکستان سے اصرار کیا ہے کہ وہ جوہری توانائی کے حوالے سے عالمی معاہدوں پر دستخط کرے۔ خود ساختہ سفارشات میں نشاندہی کی گئی کہ جوہری توانائی کے حوالہ سے عالمی سطح پر پاکستان کا تاثر اچھا نہیں اور اس حوالے سے ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ (پاکستان) عالمی برادری میں اپنے سافٹ امیج کو اجاگر کرے ۔
حسن اتفاق سے اسی روز اسلام آباد میں سینٹر فار پاکستان اینڈ گلف سٹڈیز کے زیر اہتمام ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں متعدد ماہرین اور مبصرین نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عنصر پرویز نے کہا کہ عالمی امتیازی سلوک میں ہمیں خود انحصاری کے راستے پر گامزن کیا ۔ آج ہمارا جوہری پروگرام کسی کی سوچ سے بھی زیادہ محفوظ ہے ۔ جوہری توانائی سستی اور دیر پا ہے چنانچہ قومی ویژن 2050ء تک 42ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار کو یقینی بنایا جائے گا۔ سینیٹر مشاہد حسین نے سیمینار میں نہایت فکر انگیز خطاب کیا اور ان کا یہ جملہ بجا طور پر حاصل محفل قرار پایا کہ پاکستان کا ایٹم بم وہ واحد بم ہے جس کا مذہب ہے، باقی دنیا کے کسی بھی ایٹمی پروگرام یا بم کا کوئی مذہب نہیں ہے ۔ حقائق سے آگاہ قارئین خوب اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس تاثرکا پس منظر اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کاوہ گمراہ کن اور بے بنیاد پروپیگنڈہ ہے جس میں پاکستان کے ایٹم بم کو ’’اسلامی ایٹم بم ‘‘ قرار دیا جاتا ہے ۔ 
اسی سیمینار میں سابق امریکی نائب وزیر دفاع اور دانشور چیٹر لیوائے نے بھارت کے ساتھ امریکہ کے سویلین ایٹمی ٹیکنالوجی کے شعبہ میں تعاون کے سمجھوتہ کو تذویراتی سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ امریکہ کا بھارت کے ساتھ یہ سمجھوتہ ایسا ہی ہے جیسا 70ء کے عشرہ کے شروع میں امریکہ نے پاکستان کے تعاون سے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے تھے۔ موصوف نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان اگر بھارت کی طرز پر امریکہ کے ساتھ سویلین نیو کلیئر معاہدہ چاہتا ہے تو اسے دوسرے ملکوں کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کو روکنا ہو گا، اپنے میزائلوں کی رینج کو کم کرنا ہو گا اور اسے عسکریت پسندوں کو خارجہ پالیسی کے مقاصد پورے کرنے کے لئے استعمال کرنے کی روش ترک کرنا ہو گی۔ 
امریکی اور برطانوی شخصیات نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ اہل وطن کے لئے کوئی نیا اور انوکھا تجربہ نہیں ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام روز اول سے ہی مغربی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے لئے بلا جواز پریشانی اور ذہنی انتشار کا سبب بنا ہوا ہے۔ واشنگٹن نے کبھی اسرائیل ، جنوبی افریقہ، بھارت اور کسی دوسرے ملک کے ایٹمی پروگرام کی سرے سے مخالفت ہی نہیں کی جبکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے باب میں اس کا رویہ انتہا پسندی کی حد تک مخالفانہ رہااور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ پاکستان کے علاوہ صرف عراق ہی ایسا اسلامی ملک تھا جس نے صدام حسین کی قیادت میں ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کے تحت اس نے دو ایٹمی پلانٹ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی لیکن ان میں سے ایک پلانٹ تو اسرائیل کی فضائیہ نے جارحانہ حملہ کر کے تباہ کر دیا اور دوسرے پلانٹ کو اس وقت فرانس کی ایک بندر گاہ پر تباہ کر دیا گیا جب وہ ایک بحری جہاز کے ذریعے بغداد کی طرف روانگی کے لئے تیار تھا ۔ امریکی تعصب اور اسلام دشمنی کی دوسری مثال حالیہ دنوں میں ا یران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کی صورت میں سامنے آئی ۔ تہران نے بے شمار مرتبہ اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے اور وہ اپنے قدرتی وسائل کے حقیقت پسندانہ استعمال کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے جوہری توانائی کے بین الاقوامی حق سے استفادہ کر رہا ہے ۔ 
عالمی مبصرین اور خاص طور پر ایٹمی امور پر نگاہ رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہر اعتبار سے محفوظ پروگرام ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آج تک پاکستان کی ایٹمی تنصیبات سے تابکاری کا اخراج تو دور کی بات ہے، کوئی معمولی حادثہ یا ناخوشگوار واقعہ بھی پیش نہیں آیا ۔ اس کے مقابلہ میں دنیا کے ہر ملک کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ایسی شکایات گاہے منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔ بھارت کا ایٹمی پروگرام تو تحفظ اور احتیاط کے اعتبار سے دنیا کا سب سے زیادہ خطرناک اور ناقابل اعتبار پروگرام تصور کیا جاتا ہے ۔ بھارت واحد ملک ہے جس کی ایٹمی تنصیبات سے ایٹمی مواد اور فضلہ چوری کرنے کے ایک سے زائد واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ 
یہ جو خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ پاکستان اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی کسی دوسرے ملک کو منتقل کر دے گا تو یہ بھی کوئی نیا خدشہ یا الزام نہیں ہے۔ پاکستان کے مایہ ناز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جب ایک گہری اور منظم سازش کے تحت قومی ہیرو سے ’’قومی مجرم‘‘ بنایا گیا تو ان پر یہی الزام عائد کیا گیا تھا اور اس سلسلہ میں لیبیا، ایران اور شمالی کوریا کے نام بیان کئے گئے تھے لیکن آج تک ان الزامات کو ثابت نہیں کیا جا سکا۔ ساری دنیا نے دیکھا کہ شمالی کوریا نے اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ایٹمی صلاحیت حاصل کی اور اس نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کامیاب ایٹمی تجربہ کیا۔ دوسری طرف لیبیا میں سرے سے کوئی ایسا ایٹمی پروگرام موجود نہیں جس کو پاکستان کے تجربہ اور راہنمائی کی ضرورت ہو ۔ ایران نے بھی ایٹمی میدان میں اپنے زور بازو پر ہی اپنے مقاصد کے لئے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ایران کی موجودہ قیادت نے دور اندیشی اور حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اعتدال پسندی کے ساتھ دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ 
قارئین کو بخوبی علم ہے کہ حالیہ دنوں میں، خاص طور پر شام کے داخلی حالات کی ابتری اور ایران کے ایٹمی پروگرام کی پیش رفت کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد خلیجی ریاستوں کے پالیسی ساز اداروں اور شخصیات نے بجا طور پر محسوس کیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اور عسکری نظام کو درپیش صورت حال کے تقاضوں کے مطابق مزید بہتر بنائیں ۔اس سلسلہ میں سعودی عرب بھی علاقہ میں اپنی جغرافیائی اور سفارتی اہمیت کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہا ہے۔ پاکستان اور خلیج کی ریاستوں، خاص طور پر سعودی عرب کے درمیان جو دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں ان سے ساری دنیا بخوبی واقف ہے ۔ پاکستان کو عالم اسلام میں ’’اسلام کا قلعہ‘‘ تسلیم کیا جاتا ہے اور جب پاکستان نے 28مئی 1998ء کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا تو سعودی عوام نے اس پر اظہار مسرت کرتے ہوئے اس کامیابی کو اپنی کامیابی سے تعبیر کیا تھا۔ 
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے نہ صرف پاکستانی قوم نے بے مثال قربانیاں دیں ۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس پروگرام کی خشت اول رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو کو اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ڈاکٹر ہنری کسنجر نے دو ٹوک الفاظ میں دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام ترک نہ کیا تو بھٹو صاحب کو عبرت کی مثال بنا دیا جائے گا۔ تاریخ کا آخری اور اٹل فیصلہ یہ رہا کہ بھٹو صاحب اور ہنری کسنجر دونوں ہی اپنے اپنے عزائم حاصل کرنے میں کامیاب رہے یعنی بھٹو صاحب کا یہ مشن پورا ہوا کہ پاکستان ایٹمی طاقت بن جائے اور ہنری کسنجر کی یہ دھمکی سچ ثابت ہوئی کہ بھٹو صاحب کو عبرت کی مثال بنا دیا جائے گا۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ امر بہرحال فکر انگیز ہے کہ ہم ایسی غیر ملکی شخصیات کے لئے کب تک دیدہ و دل فرش راہ کئے رکھیں گے جو ہماری سر زمین پر کھڑے ہو کر ہمارے قومی تشخص ، خود مختاری ، وقار اور طرز احساس کی توہین کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتیں۔ اسلام آباد کو ایٹمی پروگرام کے ضمن میں نصیحت اور مشاورت کے پردہ میں دھمکیاں دینے والے (شاید )نہیں جانتے کہ پاکستان کے عوام اپنے دشمنوں کی نیندیں حرام کرنے والے اپنے ایٹمی پروگرام کو کبھی کسی سازش اور مداخلت کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ 

888
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...