کوئی بھی ملک، ملک تب بنتا ہے جب اس کا ہر کارکن ہر ادارہ اپنی اپنی جگہ پر اپنے فرائض ادا کرے اور اُسے ادا کرنے دیے جائیں اور ہر ایک اپنے دائرہ کار میں رہے تو معاملات درست بھی رہتے ہیں اور متوازن بھی۔ لیکن پاکستان میں ہر شخص اپنے آپ کو ہر معاملے میں ماہر سمجھ کر بہت سے معاملات بگاڑ دیتا ہے۔ اداروں کے بارے میں آزادانہ رائے دیتا ہے، آزادنہ رائے میں بھی کوئی حرج نہیں بلکہ قابل تعریف ہے لیکن اسے منفی اور دشمنانہ نہیں ہونا چاہیے۔ ورنہ وہی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے جو آج کل ایک میڈیا گروپ اور آئی ایس آئی اور فوج کے درمیان ہے۔ اگر صحافی اپنے آپ کو صرف صحافی اور اینکر سمجھتے خفیہ اداروں کے جاسوس نہیں تو شاید یہ تناؤ پیدا نہ ہوتا ۔ آزادی صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کے نام پرحدود پار نہیں ہونی چاہیے، جیسا کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا اور اس کی دیکھا دیکھی اب تو پرنٹ میڈیا بھی آزاد ہوتا جارہا ہے ۔ میڈیا پر جس طرح خبروں کو مصالحہ لگا کر اور چٹخارہ لے کر دکھا یا جا رہا ہے، اچھے بھلے قومی لیڈروں پر تنقید کے نام پر گانے چلائے جارہے ہیں اوراداروں کی تضحیک کی جا رہی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
پی ٹی وی کے لگے بندھے سرکارے خبرنامے کے عادی عوام نے ابتدا میں تو اس آزادی کا خوب لطف اٹھایا لیکن کوئی بھی چیز جب حد سے آگے بڑھ جائے تو اپنا تاثر کھو دیتی ہے اور مؤ ثر نہیں رہتی، یہی حال ہمارے میڈیا کا ہوا جہاں کبھی سیاسی پارٹیوں کو لڑایا گیا ، کبھی اداروں کو اور کبھی شخصیات کو ۔اس بے جا قسم کی تنقید کی زد میں فوج اور آئی ایس آئی تو عرصہ دراز سے تھے لیکن جب اقدام قتل کے الزام میں براہ راست ڈی جی آئی ایس آئی کو نامزد کیا گیا تو آخر کار باقی میڈیا اور عوام چیخ اٹھے اور اس رویے کو یکسر مسترد کردیا۔ 
یہاں مسئلہ تنقید کا نہیں، تنقید اگر صحتمندانہ ہو تو معاشرے کی بہتری اور بھلائی کا باعث بنتی ہے لیکن اگر صرف برائے تنقید ہو تو الجھاؤ ہی کی وجہ بنتی ہے اور قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں تو خاص کر محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کا سب سے بڑا علمبردار اس وقت امریکہ خود کو سمجھتا ہے ، بلکہ وہ باقی کی دنیا کو ہدف تنقید بنائے رکھتا ہے اور اگر کوئی حکومت اپنے مخالفین کے خلاف بھی کوئی اقدام کرے تو اُس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگا دیتا ہے اور پوری دنیا میں اس اقدام کو اس کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے لیکن خود اپنی سلامتی سے متعلق معلومات کو عام نہیں کرتا اور قوانین بناتے ہوئے ایسی شقوں کونکال بھی دیتا ہے اور اس پر کسی کو اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے ، کیونکہ ہر ملک کو اپنے دفاع اور سلامتی کا حق حاصل ہے یہ اور بات ہے کہ امریکہ کسی اور کو یہ حق نہیں دیتا اور ایسا کرنے والوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگا دیتا ہے لیکن امریکہ ایسا کرے تو اس انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی خاموش رہتی ہیں ۔ تُرکی کے وزیر اعظم عبداللہ گل نے اپنی خفیہ ایجنسی ایم آئی ٹی کو قانونا یہ اجازت دی کہ وہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے عوام کے ٹیلی فون ٹیپ کر سکتی ہے اگر چہ دہشت گردی کی روک تھام کے دیگر طریقے بھی ہو سکتے ہیں لیکن ہنگامی صورت حال میں کوئی بھی اقدام اٹھا یا جا سکتا ہے اور اس پر کسی کو اعتراض بھی نہیں ہو نا چاہیے۔
ہمارے ملک میں آج کل جو صورت حال ہے اس میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور اداروں کو اگر کچھ اضافی اختیارات نہ بھی دیئے جائیں تو انہیں کم از کم اپنا کام کر لینے دینا چاہیے تاکہ انہیں ہدف تنقید بنا کر تذلیل کی حد تک نہ پہنچاجائے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ادارے تنقید سے مبراء رہیں یا خود کو اس سے بالا تر سمجھیں لیکن یہ تنقید حملے کی صورت میں ہو تو ظاہر ہے قابل برداشت نہیں رہتی اور قومی معاملات میں تناؤ کا سبب بن جاتی ہے۔ ہمارا میڈیا آزادی اظہار کا حق ضرور رکھے لیکن قومی حدود کو پار کرنے سے پہلے سوچ لیا کرے جبکہ ہو یہ رہا ہے کہ بقول مجید نظامی صاحب ’’ہمارے کچھ میڈیا چینلز پاکستانی سے زیادہ بھارتی نظر آتے ہیں‘‘ ان کا کہنا اس لیے بجا ہے کہ نہ تو لباس و اطوار میں یہ چینلز پاکستانی ہیں نہ خیالات و نظریات میں۔
اب تک تو میڈیا ایک بے لگام آزادی کے مزے لو ٹتا رہا ہے کبھی فوج اس کے نرغے میں آتی رہی کبھی ایجنسیاں ، کبھی پارلیمینٹ میں کسی بھی مخالف گروپ کے ارکان، کبھی شخصیات کی کردار کشی کی جاتی رہی لیکن قوم نے ایک میڈیا گروپ کے رویے پر جس رد عمل کا اظہار کیا ہے امید ہے کہ اب وہ اپنی حدود پہچان لے گی اور قومی سلامتی کو ذاتی ریٹنگ اور مالکوں کے خزانوں میں اضافے سے زیادہ اہم سمجھے گی کیونکہ چاہے کچھ بھی ہو جائے جیسے بھی حالات اور ماحول بنا دیا جائے امن کی جتنی بھی یک طرفہ خواہش کی جائے ملکی سلامتی سب سے مقدم ہے۔ 

992
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...