پاکستان میں نجی الیکڑانک میڈیا کا آغاز ہوا تو چینلز کی ایک فصل اُگ آئی بلکہ اب بھی روز نئے نئے چینلز کھل رہے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جیو، ان میں ٹرینڈ سیٹر تھا اس نے انڈین اشتہار چلائے تو دوسروں نے بھی ایسا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ،بھارتی فلموں کے قابل اعتراض آئٹمز سانگ اور مناظر دکھائے تو دوسرے بھی پیچھے نہ رہے ،وقتا فوقتا قومی اداروں کے بارے میں بولا جاتا رہا تو کچھ دوسرے بھی ایسا کرنے لگے اور مقابلے کی ایک مصنوعی فضا قائم ہوتی گئی جس میں ہر چیز جائز سمجھی جانے لگی ۔ تاہم کچھ سنجیدہ مزاج اینکرز کچھ ایسے پروگرام بھی کرتے رہے جس میں میڈیا کو ان کی ذمہ داریوں اور حدود کا احساس دلانے کی کوشش کی جاتی رہی ، کامیابی کتنی ہوئی یہ ایک الگ بحث اور موضوع ہے لیکن جیو کے اینکر حامد میر پر قاتلانہ حملے نے میڈیا کے اندر الگ الگ ذہنیتوں کو واضح کر دیا۔ جس طرح حملہ ہوتے ہی جیو نے مجرم نامزد کر دیے اُ س نے پوری قوم کو پریشانی بلکہ غصے میں مبتلاء کر دیا اور ساتھ ہی نجی چینلز کو بھی جھنجھوڑدیا ۔ اگر چہ جیو کی پالیسیوں اور دوسرے چینلز کی طرف اس کے رویے پر دوسرے میڈیا گروپس کسی نہ کسی طرح اپنی ناراضگی کا اظہار تو شروع کر ہی چکے تھے لیکن اس واقعے نے ان پر مزید واضح کر دیا کہ جیو اور ان کے راستے جدا ہونا ضروری ہیں اور تب انہوں نے اپنی قومی ذمہ داریوں کو بطریق احسن نبھایا اور فوج اور آئی ایس آئی کو کسی دوسری وجہ سے نہیں بلکہ قومی سلامتی کے ادارے اور قومی سلامتی کے ذمہ دار سمجھ کر ان کی بھر پور حمایت کی اوراس طرح اس میڈیا گروپ کی مخصوص ذہنیت اور مخصوص مفادات بھی کھل کر سامنے آگئے ۔ یہاں جیو کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے کہ اُس کی ایک غیر ذمہ دارانہ حرکت نے پورے ملک کے محب وطن لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر کھڑا کر دیا جنہوں نے شہر شہر مظاہرے کر کے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور جیو میڈیا گروپ کے پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کر دیا۔ اس غصے کی وجہ یہ نہ تھی کہ الزام جنرل ظہیرالاسلام پر لگایا گیا تھا بلکہ اس کی وجہ اس الزام کا ڈی جی آیس ایس آئی پر لگنا تھا۔ آئی ایس آئی کے بارے میں ہمارے میڈیا کے چند ایک لوگ اور چینلز کچھ بھی کہیں پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ ہماری یہ خفیہ ایجنسی پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے لیے کئی دشمنوں سے بیک وقت بر سر پیکار ہے ۔ یہ دشمن اندرونی بھی ہیں اور بیرونی بھی را، سی آئی اے، موساد اور افغانستان یہ تو نظر آنے والے دشمن ہیں لہٰذا اُ س سے تو نبٹ لیا جاتا ہے لیکن ملک کے اندر بیٹھے ہوئے دشمنوں پر اگر نظر رکھی جاتی ہے تو اُس کی اتنی منفی تشہیر کر دی جاتی ہے جیسے ملک کے اندر سانس لینا بھی اس ادارے کی اجازت سے ہو جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں۔ ایک عام آدمی ان تمام وسوسوں سے بے نیاز اپنے رزق کی تلاش میں مصروف ہے ہا ں اُسے یہ خوف ضرور دامن گیر رہتا ہے کہ کہیں کوئی دھماکہ نہ ہو جائے ،کہیں وہ طالبان کے ہتھے نہ چڑھ جائے یا کہیں بی ایل اے کی زد میں نہ آجائے لیکن دوسری طرف آئی ایس آئی سے صرف وہی لوگ خوف زدہ ہیں جن سے عوام خوف زدہ ہیں یعنی ملک دشمن عناصر۔ پھر ہمارے میڈیا کے کچھ لوگ یہ کیوں کہتے پھرتے ہیں کہ انہیں آئی ایس آئی سے خطرہ ہے اور کچھ ہوا ،یا ہو جائے تو الزام فوراالزام آئی ایس آئی پر لگا دیتے ہیں، پہلے ہم یہ گلہ دشمنوں سے کرتے تھے اب تو خود ملک کے اندر یہ ہو رہا ہے بلکہ حامد میر کے کیس میں تو بھار ت کی پاکستان دشمن بی جے پی کے یشونت سنہانے بھی اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور نواز شریف کو یاد دلایا ہے کہ ان کے دور میں یہ حملہ افسوس ناک ہے اگر چہ جیو اور حکومت کے خصوصی تعلقات سب کے علم میں ہیں اور اب تو سیاستدانوں نے برملا اس کا اظہار بھی شروع کر دیا ہے لیکن بھارت کی طرف سے اس یاد دہانی کی تشریح و توضیح حکومت یا جیو ہی کر سکتے ہیں ۔ان تحقیقات کو بھی جیو اپنی جدید ٹیکنالوجی کا سہار ا لے کر کہیں کا کہیں لے جا سکتا ہے اُس کے انوسٹیگٹو رپورٹرز اگر اجمل قصاب کی کہانی گھڑ سکتے ہیں تو کچھ بھی کرسکتے ہیں اب بھی جبکہ میڈیا کی اکثریت اور عوام کے احتجاج کے سامنے اس کی پوزیشن خاصی مشکل ہو چکی ہے معاملے کے ٹھنڈا ہوتے ہی وہ اپنی تحقیقاتی رپورٹس نشر کرے گا اور اپنی طرف سے لگائے گئے الزامات ثابت کرنے کے لیے ہر قسم کا زور لگائے گااور اگر قومی نہیں تو بین الاقوامی حمایت ضرور حاصل کرلے گا جو کہ پاکستان کے خلاف آج کل کے حالات میں ہر گز کوئی مشکل کام نہیں۔ قومی سطح پر بھی مخصوص عناصر اور ذہینیت اس طرح کی کوششوں سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔ اور جیو آج کل یہی کر رہا ہے کہ وہ اپنے اینکر پر حملے کو صحافت اور صحافیوں پر حملے کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اسے آزادی صحافت کے خلاف سازش قرار دے رہا ہے تاکہ میڈیا اور صحافیوں کی حمایت حاصل کر سکے۔ اس سے کسی کو انکار نہیں کہ یہ ایک افسوس ناک واقعہ تھا ،حامد میر ہو رضا رومی ہو یا کسی اور نیوز چینل یا اخبار کا کوئی گمنام کیمرہ مین سب کی جان قیمتی ہے اور ہر ایک کو اپنی بات کہنے کا حق بھی ہے لیکن ملک اور قومی اداروں کے بارے میں یہ حق کسی کو حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ پیمرا کا ادارہ اگر بنا یا گیا ہے اور اس کے قوانین بھی موجود ہیں تو اسے اپنے فرائض بھی ادا کرنا چاہیے۔ میڈیا پر یہ نظر بھی رکھنا ضروری ہے کہ کون سی حد پر پہنچ کر وہ ملکی مفاد کے نقصان کا باعث بن رہاہے ۔ ریٹنگ کی دوڑ میں ملک کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے اسے بھی یاد رکھنا ضروری ہے اور جو لوگ آئی ایس آئی اور ملکی سلامتی کے کسی بھی ادارے سے خوف محسوس کرنے کا اعلان کرتے پھرتے ہیں ان پر نظر رکھنا اوربھی ضروری ہے کہ آخر وہ اپنے کون سے افعال کی وجہ سے اس خوف میں مبتلاء ہیں۔ یہاں یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ پیمر ااور سیکیورٹی کلےئرنس دینے والے ادارے جن میں خود آئی ایس آئی بھی شامل ہے کوئی بھی کلےئرنس دینے سے پہلے ان افراد کی چھان بین کرتے ہوئے بھی احتیاط کرے۔ اب بھی پیمرا کو ان گروپس کو اپنی حدود کا احساس دلانا ہو گا اور انہیں پابند بھی کرنا ہو گا کہ مستقبل میں اپنی ایسی کسی بھی حرکت کے لیے وہ خود ذمہ دار ہوں گے اور یہ بھی بتانا ہو گا کہ قومی سلامتی پر بار بار سمجھوتہ کسی بھی صورت نہیں کیا جا سکتا ۔

2,043
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...