رُوس اور امریکہ کی سرد جنگ ختم ہوئی تو دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیادُنیا بھی تو متاثر ہوئی ہو گی لیکن جو نقصان پاکستان نے اٹھایا اور کسی نے نہیں اٹھایا اور باوجود اس کے کہ پاکستان کا 9/11سے کوئی براہ راست تعلق نہ تھااس کو دنیا کے ہر ہر فورم پر نشانہ بنایا گیا اور ہر صورت اس کو دہشت گردی کا گڑھ قرار دیا گیا ۔ ہر عالمی طاقت نے یہاں کھل کر کھیلا اور دکھ اور افسوس اس بات کا ہے کہ اس کھیل میں کچھ اسلامی ممالک نے بھی صرف اپنے فائدے کی خاطر ایک افسوسناک کردار ادا کیا۔ پاکستان اور افغانستان جہاں یہ بساط بچھائی گئی اور ساری بازی کھیلی گئی بلکہ کھیلی جا رہی ہے میں اختلافات پیدا کیے گئے اور افغانستان میں امریکہ کی مدد سے چلنے والی بھارت نواز کرزئی حکومت مسلسل پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بُنتی رہی اور عملی طور پر دہشت گرد تیا رکر کے پاکستان میں حملے کرتی رہی بلکہ اپنی سر زمین امریکہ کو مہیاکرتی رہی اور اب بھی ایسا کر رہی ہے کہ وہ وہاں سے ڈرون حملے بھی کرے اور سلالہ چیک پوسٹ اور اسامہ کمپاؤنڈ ایبٹ آباد جیسے حملے بھی کرے ۔ افغانستان کو نہ صرف امریکہ استعمال کر رہا ہے بلکہ اسے بھارت کی بھی ہر طرح کی مدد حاصل ہے۔ پاکستان کے خلاف بھارت کی خدمات ویسے بھی ہر وقت برائے فروخت رہتی ہیں چاہے وہ کسی پڑوسی کو درکار ہوں یا دوسرے براعظموں کو اوریہی وجہ ہے کہ بھارت نے گوادر کی بندر گاہ کو بنتے دیکھا اور اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا تو فوراایران کو ایک نئی بندر گاہ چاہ بہار میں بنانے میں مدد دینے کی پیشکش کر دی جسے ظاہر ہے ایران نے قبول کر لیا تا کہ وہ تیل کی رسد پر بھی اپنا قبضہ رکھ سکے اور لینڈ لاکڈ وسطی ایشیا کی تجارت کو بھی قابو میں رکھ سکے جس کو گوادر کی بندر گاہ کے راستے بحری تجارت نزدیک ترین راستے سے سستی ترین پڑ تی ہے اور یوں گوادر ایک بڑی بندر گاہ کے طور پر ابھرے گا کیوں کہ اس کا محل وقوع اور اس کا کٹا پٹھا ساحل اسے ایک قدرتی بندر گاہ بناتا ہے اور اسی خوف کے تحت ایران نے بھارت جیسے شاطر کی چال قبول کر لی جس نے نہ صرف چاہ بہار بندرگاہ میں معاونت کی پیشکش کی اور مدد بھی کی بلکہ دل آرام سورینج روڈ کی تعمیر میں بھی مدد کی جو ایران کی اس بندرگاہ کو افغانستان کے سرحدی شہر دل آرام سے ملاتی ہے اور یہاں سے مزید آگے صوبہ نیمروز کے شہر سرینج تک جاتی ہے اور یہ حصہ مکمل طور پر بھارت نے بنوایا ہے۔ اس شاہراہ کے بنانے کا مقصد افغانستان کی بحری تجارت کو پاکستانی بندرگاہوں سے دوسری طرف منتقل کرنا ہے۔ ایران کا یہ سمجھنا کہ بھارت اس کا دوست ہے اور وہ دوستی میں یہ سب کر رہا ہے اُس کی غلط فہمی ہے ، بھارت جیسے مسلمان پاکستا ن کا دشمن ہے ویسے ہی مسلمان ایران کا بھی دوست نہیں ہے وہ یہ سب کچھ صرف اور صرف پاکستان دشمنی میں کر رہا ہے اور انتہائی افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت پاکستان اپنے ہی جھگڑوں میں پڑی ہوئی اور امریکہ، بھارت اور اسرائیل اپنا حلقۂ اثر وسیع تر کرتے جار ہے ہیں اور مسلمان ممالک کو بھی اس میں شامل کر رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں اطلاعات آئی ہیں کہ نئی دلی میں بھارت ، اسرائیل ، ایران اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں مل بیٹھیں کہ پاکستان کو کسی نہ کسی طرح دہشت گردی کا مرکز قرار دے کر عالمی سطح پر بدنام کیا جائے ۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے بھی اس سازش میں مکمل طور شریک ہے ، ان ایجنسیوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا اور یہ فیصلہ بھی ہواکہ علاقے میں ہونے والی تمام دہشت گرد کاروائیوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی جائے گی اور یوں پاکستان کو مزیدبدنام کیا جائے گا جبکہ اصل صورت حال یہ ہے کہ خود پاکستان کے اندر یہ تمام ممالک اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سر گرم ہیں بھارت اور اسرائیل کے ساتھ تو نظریاتی اور مذہبی اختلاف ہے لیکن ایران اورسعودی عرب بھی ہمارے ہاں ہونے والے فرقہ ورانہ فسادات کے اہم کردار ہیں جبکہ ایران اور افغانستان بلوچستان کے حالات میں بھی کافی دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ گوادر کی اہمیت کو کم کر کے تیل کی تجارت پر اپنا قبضہ قائم رکھ سکیں۔ امریکہ ، بھارت ،اسرائیل اور افغانستان جو اس منصوبے کے اہم ترین کردار ہیں ان کی ہمارے ہاں ہونے والی دہشت گردی میں کردار میں تو اب کسی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے لیکن ہمیں دوسرے ممالک کی سر گرمیوں پر بھی نظر رکھنا ہو گی۔ہماری خفیہ ایجنسیوں کو ان کے سدباب کا منصوبہ بھی بنانا ہو گا اور ہماری حکومتوں کو اپنی خارجہ پالیسی بناتے وقت جذباتیت نہیں بلکہ حقیقت پسندی کا ثبوت دینا ہو گا ، نہ صرف اپنی زمینی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہو گی بلکہ نظریاتی طورپر ملک اتنا مظبوط کر نا ہو گا اور مذہبی اور صوبائی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہو گا اور اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرنا ہو گی کہ بلوچستان جیسے حالات کو بھی قابو کیا جاسکے اور مزید ایسے حالات پیدا ہونے سے روکے جا سکیں اور ساتھ ہی سفارتی سطح پر کوشش کر نا ہو گی کہ دُنیا کے دیگر ممالک کے سامنے پاکستان کا مثبت چہرہ اس طرح سے اُجاگر ہو کہ پاکستان کے خلاف کوئی شیطانی منصوبہ کامیاب نہ ہو سکے چاہے وہ’’برادراسلامی ممالک‘‘کا ہو،بھارت اور اسرائیل جیسے کھلے دشمنوں کا یا امریکہ جیسے اتحادی کا۔ بین الاقوامی تعلقات میں ممالک اپنے مفادات کا تحفظ سب سے پہلے کرتے ہیں، اس کے بعد دوسرے کا فائدہ دیکھا جاتا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر جنگ کھلم کھلا لڑی جائے تو اس میں ہار اور جیت ہو یہ کسی بھی طریقے سے ہو اپنے ملک کے مفادات سب سے پہلے دیکھے جاتے ہیں اور اپنا دفاع ہر چیز پر فوقیت رکھتا ہے ۔ لہٰذا پاکستان کا یہ حق بنتا ہے کہ اس کی فوج ،حکومت اور خفیہ ایجنسیاں دشمن کی چالوں کا توڑ کر یں اس سے مراد ہر گز یہ نہیں کہ دوسروں کے معاملات میں مداخلت کی جائے لیکن یہ ضرور ہے کہ دوسروں کو اپنے معاملات میں مداخلت کرنے سے روکا جائے۔

1,311
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...