اہل وطن کے لئے یہ امر بڑی حد تک تسلی اوراطمینان کا باعث ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کا رابطہ مثبت انداز میں نہ صرف برقرار ہے بلکہ اب تک ہونے والی پیش رفت کو حوصلہ افزاء ہی تصور کیا جا رہا ہے۔ مذاکرات کے آغاز پر دونوں جانب سے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا وہ اب رفتہ رفتہ معدوم ہوتے جا رہے ہیں اور یہ صور ت حال واضح ہو رہی ہے کہ امن کی خواہش ہی وہ اساسی اور کلیدی نکتہ ہے جس کے گرد بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ خوش قسمتی سے فریقین کو اس حقیقت کا بخوبی احساس( بلکہ یقین )ہے کہ امن کے بغیر کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا خواہ اس مسئلہ کا تعلق سیاست سے ہو یا مذہب سے ہو۔ اگر تحریک طالبان پاکستان کی یہ خواہش اور نصب العین ہے کہ وطن عزیز میں نفاذ شریعت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو تو اس کے لئے پرامن ماحول بنیادی شرط ہی نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ اسی طرح اگر حکومت یہ چاہتی ہے کہ معاشی عدم مساوات اور استحصال کا خاتمہ کرتے ہوئے خوشحالی کی منزل کی طرف جانے والے راستہ کو ہموار کیا جائے تو اس کے لئے بھی امن کا قیام لازمی ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہوں، آگ اور خون کی بارش ہو رہی ہو، عوام کے جان و مال کا تحفظ عنقاء ہو اور ایسے میں نفاذ شریعت یا ترقیاتی نصب العین کا حصول ممکن تصور کیا جائے۔
تحریک طالبان پاکستان اور حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ اگرچہ (فی الحال) کوئی ٹھوس نتیجہ حاصل نہیں کر سکا لیکن اس کے باوجود کئی امور یقینی طور پر اس انداز میں ضرور طے پا رہے ہیں جن کے باعث یہ مذاکرات تعطل کا شکار نہیں ہوئے۔ اس بات کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات منظر عام پر نہ بھی آئیں تو اس کے باوجود اس بات چیت کا جاری رہنا ہی یہ ثابت کرتا ہے کہ مذکورہ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگرچہ اسی عرصہ میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے چند ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں جانی و مالی نقصان سے اہل وطن کو بجا طور پر دلی صدمہ ہوا ہے اور بعض مبصرین نے تو بجا طور پر ان واقعات پر طالبان سے مذاکرات کی کامیابی کے تناظر میں اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن اس کے باوجود اہل وطن کی اکثریت مایوسی کو گناہ تصور کرتے ہوئے مذاکرات کی کامیابی کی خواہاں ہے اور ان سے نیک توقعات وابستہ کئے ہوئے ہے۔
تاریخ کا مطالعہ بھی اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جب دو مختلف نظریات، تصورات اور افکار کے حامل فریقین مذاکرات کی میز پر آن بیٹھتے ہیں تو گویا وہ اپنا آدھا سفر طے کر لیتے ہیں، نظریاتی اور فکری کشیدگی کے عالم میں بات چیت کے لئے آمادگی ہی نصف کامیابی تصور کی جاتی ہے ۔ تحریک طالبان پاکستان کے باب میں تو یہ معاملہ اور بھی زیادہ فکر انگیز اور انفرادیت کا حامل ہے کیونکہ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام نے طالبان کے ساتھ ہمیشہ مثبت اور انسانی بنیادوں پر مبنی حسن سلوک روا رکھا۔ موجودہ طالبان کی صفوں میں شامل نوجوان بلکہ ان کے بزرگ خوب جانتے ہیں کہ 1979ء میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر عسکری یلغار کی تھی تو دنیا بھر میں پاکستان ہی وہ پہلا ملک تھا جس نے اس کی مذمت اور مزاحمت میں آواز بلند کی تھی۔ پاکستان نے اپنے افغان بھائیوں کے لئے نہ صرف اپنے ملک کی سرحدیں بلکہ اپنے بازو ؤں کوکھول کران کو خوش آمدید کہا۔ 30لاکھ سے زائد افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ حاصل کی۔ پاکستان کی حکومت اور عوام نے اپنے ان بھائیوں کے ساتھ اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق ’’مہاجرین ‘‘ کا رویہ اختیار نہیں کیا بلکہ انہیں اپنے بھائیوں کا رتبہ دیا۔ گزرتے ہوئے وقت نے 14سو سال کے بعد ایک مرتبہ پھر اخوت اور تعاون کے جذبہ کا عملی اور اسلامی مظاہرہ مشاہدہ کیا جس کو نبی اکرم حضر ت محمد ﷺ کے مقدس دور میں مواخاۃ قرار دیا گیا تھایعنی جب اہل مکہ ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں (مہاجر اور انصار) کے درمیان اسلامی بھائی چارے کو متعارف کرایا تھا۔
ابھی وہ نسل موجود ہے جس نے افغانستان سے ہجرت کے بعد پاکستان کی سرزمین پر نہ صرف پناہ حاصل کی بلکہ اس نے اس مملکت خداداد میں ہر اعتبار سے ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کیں۔ خود موجودہ افغان صدر حامد کرزئی کے بارے میں عام شنید ہے کہ وہ پشاور میں اہل پاکستان کی مہمان نوازی سے خوب لطف اندوز ہوتے رہے۔ ان کے ساتھی اور دیگراہل و عیال کو بھی یقینی طور پر ماضی قریب کے اس زمانہ کی خوشگوار یادیں یہ احساس دلاتی ہوں گی کہ پاکستان اور پاکستان کے عوام نے مشکل اور آزمائش کی ہر گھڑی میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ افغانستان سے سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کے بعد اگرچہ اصولی طور پر اور اقوام متحدہ کے قواعد و ضوابط کے تحت، افغان مہاجرین کو اپنے وطن واپس چلے جانا چاہیے تھا لیکن ان کی ایک بڑی اکثریت نے پاکستان میں اپنے عارضی قیام کو مستقل رہائش اور سکونت کا درجہ دیا۔ انہوں نے یہاں پر اپنے ذاتی کاروبار شروع کئے، مقامی آبادی کے ساتھ اپنے رشتے ناطے قائم کئے اور یہاں کے سماج کا ایک حصہ بننے کو ترجیح دی۔ یہاں پر راقم اس موضوع بارے اظہار خیال سے قصداً گریزاں ہے کہ مذکورہ افغان مہاجرین نے مقامی ثقافت، تجارت ، معیشت اور طرز زندگی پر کیا(مثبت یا منفی ) اثرات مرتب کئے۔ اس کے باوجود قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ افغان مہاجرین کی مہمان نوازی میں پاکستان نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور یوں اس کو بعض عالمی طاقتوں ، خاص طور پر امریکہ کی ناراضگی اور انتقامی حکمت عملی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ طالبان اپنی تنظیم اور طریقہ کار کے اعتبار سے دو واضح گروپوں میں تقسیم دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا تعلق افغانستان سے اور دوسرے کا پاکستان سے بیان کیا جاتا ہے۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے طالبان کا پاکستان کے عوام اور حکومت سے کوئی تعلق اور کوئی علاقہ نہیں ہے۔ ان کے اغراض و مقاصد اور منزل کے ضمن میں پاکستان اور اہل پاکستان کسی مداخلت اور تبصرہ کا حق نہیں رکھتے لہذا ان کے بارے میں کوئی رائے زنی کرنا مناسب نہیں۔ اس کے مقابلہ میں وہ طالبان جو خود کو پاکستان کے حوالہ اور نسبت سے متعارف کراتے ہیں اور اس بنیاد پر انہوں نے اپنی تنظیم کا نام بھی تحریک طالبان پاکستان رکھا ہوا ہے ، وہ پاکستان اور پاکستان کے عوام کے تبصرہ اور تجزیہ کا موضوع ضرور بنتے ہیں۔ ایسا ہونا ایک قدرتی اور فطری امر ہے کیونکہ اس تنظیم نے متعدد بار ایسے واقعات (جن کو جرائم کہنا زیادہ درست ہو گا ) کی ذمہ داری قبول کر رکھی ہے جن میں بے گناہ افراد ہلاک ہوئے، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا اور ہمارا قومی تشخص داغدار ہوا۔گاہے ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ تحریک طالبان پاکستان نے اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری ، خودکش حملوں اور قتل وغارت کے جرائم کے ارتکاب کا اعتراف کرتے ہوئے ان اقدامات کو اسلام اور اسلامی تعلیمات کے زمرہ میں شامل کرنے پر اصرار کیا۔ اس امر کو بھی افسوسناک ہی قرار دیا جاتا ہے کہ یہ طالبان کئی گروپوں اور گروہوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ غیر سرکاری اطلاعات کی روشنی میں یہ تعداد 30سے زائد بیان کی جاتی ہے ۔ ان کی مرکزی قیادت کے بارے میں اتنی تفصیلات میسر نہیں ہیں جو ان کے حقیقی اغراض و مقاصد اور نصب العین کے تعین کی بنیاد فراہم کر سکیں۔ اس سلسلہ میں محض یہ روایتی اور ناقابل فہم دعویٰ ہی سامنے آتا ہے کہ وہ (طالبان) شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں اور اسلامی ریاست کے قیام کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ اپنی اس جدوجہد کو جس کا دائرہ عسکری سطح پر قتل و غارت ، تخریب کاری، خودکش حملوں اور بم دھماکوں تک پھیلا ہوا ہے ، انہوں نے جہاد کا نام دے رکھا ہے ۔ یہ وضاحت کرنے کی ہنوز کوئی نوبت نہیں آئی کہ جہاد کی یہ تعریف کس اسلامی مکتب فکر یا دینی فکری اساس پر متعین کی گئی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کا محاکمہ اور جائزہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد ایسے افراد پر مشتمل ہے جو اکوڑہ خٹک میں واقع ایک مشہور دینی مدرسہ سے فارغ التحصیل بیان کئے جاتے ہیں۔ اس امر کا ثبوت حالیہ دنوں میں اس وقت سامنے آیا جب اس مدرسے کی روح رواں اور قومی مذہبی و سیاسی حلقوں کی جانی پہچانی شخصیت مولانا سمیع الحق نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے باب میں کلیدی کردارادا کیا۔ اس تناظر میں یہ بات بھی نہایت قابل ذکر اور قابل فکر ہے کہ طالبان کی طرف سے مولانا سمیع الحق کو بے پناہ عزت و احترام سے نوازا جاتا ہے جس کے باعث مغربی ذرائع ابلاغ میں ان کو ’’پدر طالبان‘‘ کے خطاب سے پکارا جاتا ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مولانا سمیع الحق نے حالیہ مذاکرات کا راستہ ہموار کرنے اور خاص طور پر طالبان کے رویہ کو لچکدار بنانے کے لئے حقیقی معنوں میں اہم کردار ادا کیا۔
حکومت نے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز اور فیصلہ کیا تو اس کا ایک بنیادی سبب یہ رہا کہ پوری قوم ، سیاسی و عسکری قیادت ، میڈیا اور جملہ ریاستی ادارے اس اقدام کے حق میں تھے۔ یہ بات واضح کی گئی تھی کہ امن قائم کرنے کے لئے پرامن راستہ یعنی مذاکرات ہی بہترین آپشن ہے لیکن اگر ریاست کی رٹ کو چیلنج درپیش ہو تو پھر کسی انتہائی اقدام سے بھی گریز نہیں کیا جانا چاہیے۔ خوش قسمتی سے تحریک طالبان پاکستان نے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں بلاشبہ ایک ایسی صورت حال کے امکانات ختم ہو گئے جس کا نتیجہ سوائے تباہی اور بدامنی کے کچھ اور نہیں ہو سکتا تھا۔ اہل وطن اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ طالبان کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں ۔ اس کے علاوہ عوام کی طرف سے بھی صبر و تحمل، اعتدال پسندی اور نظم و ضبط کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا ۔ بجا طورپر توقع کی جاتی ہے کہ ان مذاکرات میں حصہ لینے والے دونوں فریق، وقت اور تاریخ کے سامنے سرخرو ہوں گے ۔فی الجملہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان مذاکرات میں طالبان لچکدار رویہ اختیار کریں گے۔ یہ نہ صرف ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے بلکہ یہ درپیش حالات کا تقاضا بھی ہے۔

792
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...