معلوم نہیں مستقبل کا مؤرخ اس سیاسی طرز فکر و عمل کو کیا نام دے گا کہ ان دنوں قومی اسمبلی ایسے اعلیٰ ایوان میں مچھلی منڈی کا منظر مشاہدہ کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف بعض عاقبت نا اندیش سیاسی شخصیات کی طرف سے جوش خطابت میں پاک فوج کے وقار اور ایثار کو ہی نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ اس باب میں نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف کو دو ٹوک اور واضح الفاظ میں یہ فرمان جاری کرنا ضروری محسوس ہوا کہ پاک فوج تمام اداروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور وہ اپنے ادارے کے وقار کا بھی ہر حال میں تحفظ کرے گی۔ مبصرین کا یہ تجزیہ نہایت بروقت اور حقیقت پر مبنی ہے کہ جنرل راحیل شریف کا یہ بیان دراصل ان تحفظات کا آئینہ دار ہے جو بعض سیاسی عناصر کی فوج کے افسروں اور جوانوں پر تنقید کے تناظر میں نہایت قابل توجہ اور فکر انگیز خیال کئے جاتے ہیں۔ ہر محب وطن اور ذمہ دار شہری کو بخوبی احساس ہے کہ قومی امور کی جہت اور سطح کس قدر نازک اور قابل غور ہے ۔ اگرچہ ارباب بست و کشاد کا یہی گمان اور دعویٰ ہے کہ راوی نے ان کے مقدر میں چین ہی چین رقم کر رکھا ہے لیکن معروضی حقائق کا حقیقت پسندانہ تجزیہ گاہے مختلف منظر پیش کرتا ہے ۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان کے چیئرمین ، ورلڈ واٹر اسمبلی کے چیف کو آرڈینیٹر حافظ ظہور الحسن ڈاہر نے کہا کہ ہماری قیادت کو مسائل کا صحیح ادراک نہیں، طالبان سے مذاکرات سے کہیں بڑا ایشو پانی کا ہے جو ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے ۔بھارت پاکستان کے حصہ کا تمام پانی ہڑپ کرنے کے قریب ہے، پاکستان آنے والے دریاؤں چناب، جہلم، سندھ اور ان کے معاون ندی نالوں پر 62ڈیم مکمل، 38زیر تعمیر، 48چھوٹے بڑے ڈیموں کی فزیبلٹی رپورٹ تیار ہے، بھارت ہمیں بھوکا پیاسا مارنے کے تمام سامان کر چکا ہے لیکن ہماری قیادت ہر وقت اس کی چاپلوسی میں لگی ہوئی ہے۔ بھارت کی طرف سے عالمی سطح پر پاکستان کے اپنے دریاؤں کا پانی سمندر میں پھینک کر ضائع کرنے بارے پروپیگنڈہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں۔ اگر ہمیں پاکستان بچانا ہے تو ہنگامی بنیادوں پر اپنے دریاؤں پر سٹوریج ڈیموں کی تعمیر شروع کرنا ہو گی۔ قدرت نے ہمیں بہتر پوزیشن سے نوازا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل لاء کے تحت پہلا حق ہمارا ہے اگر ہم اپنا حق حاصل نہیں کریں گے تو بھارت اسی آڑ میں ہمارے دریاؤں کا پانی اپنی حدود میں بند کرنے پر تلا ہوا ہے۔ آئندہ چند برسوں کے بعد ہمیں پینے کا پانی بھی بھارت سے خریدنا ہوگا۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ اگر ہم مغربی دریاؤں پر ڈیم نہیں بنائیں گے تو بھارت ان دریاؤں پر بڑے ڈیم بنا کر پاکستان کے دریاؤں پر قبضہ کر رہا ہے اور جواز یہ پیش کرے گا کہ پاکستان ان دریاؤں کا پانی ضائع کر رہا ہے۔
بھارت 2003ء میں اسلام آباد میں منعقدہ ایک عالمی سطح کے سیمینار میں تجویز بھی پیش کر چکا ہے کہ پاکستان صوبوں کے اختلافات کے باعث کوئی بڑا ڈیم نہیں بنا سکا۔ اس لئے بھارت کو اپنی حدود میں دریائے چناب اور جہلم پر 8ڈیم بنانے کی اجازت دی جائے ۔ ضرورت کے مطابق بھارت پاکستان کو بجلی اور پانی فراہم کرتا رہے گا ۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہماری حکومت بھارت سے 500میگا واٹ بجلی خریدنے کا معاہدہ طے کرنے والی ہے۔ گذشتہ دنوں ایک وفاقی وزیر نے تو یہاں تک کہا کہ چولستان میں پانی کی قلت دور کرنے کے لئے بھارت سے پانی خریدا جائے گا۔ حافظ ظہور الحسن ڈاہر نے کہا کہ یہ واضح اور اٹل حقیقت ہے کہ بھارت ایک عالمی سازش کے تحت پاکستان کا وجود ختم کرنے کے لئے پاکستان کے دریا اپنی حدود میں بند کرنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے ۔ پاکستان کے چند مراعات یافتہ سیاسی رہنماؤں اورایک مفاد پرست ٹولہ سے ہی ملک دشمنی کا کام لیا جا رہا ہے اوراب یہ سازش بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ قائداعظم نے سچ کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے چونکہ کشمیر سے میٹھا پانی آتا ہے۔ جس طرح افریقی ممالک ایتھوپیا، صومالیہ اور روانڈا میں قحط سے لاکھوں انسان مر گئے ، اسی طرح آج پاکستان بھی ایک بہت بڑے خطرناک قحط کی طرف گامزن ہے۔ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک ایسے اداروں نے بھی اس بڑے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ماضی میں سکندر اعظم سے لے کرمغل، انگریز اور سکھوں کے ادوار تک یہ دریا خشک نہیں ہوئے تو اب یہ کیوں سوکھ رہے ہیں؟۔ دریائے سندھ میں ٹھٹھہ اور بدین کے درمیان کے علاقہ کا پانی کہاں چلا گیاکیونکہ اب وہاں پر دریائے سندھ تا حد نگاہ ایک ریگستان دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح دریائے چناب اور دریائے جہلم بھی محض ندی نالوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ پانی کی قلت کے باعث توانائی کا بحران ہماری معیشت کو تباہ کر رہا ہے،ہماری تقریباً 80فیصد صنعتیں بند ہونے سے لاکھوں مزدور اور ہنر مند بے روزگاری کا شکار ہوچکے ہیں۔غریبوں کے گھروں کے چولہے بجھ گئے ہیں اور ان کے بچے بھوک اور پیاس کے عذاب سے دوچار ہیں۔
ادھر مقبوضہ کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں ایک روزہ سیرت کانفرنس سے نئی دہلی سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے بزرگ کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی نے کشمیریوں سے نام نہاد انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جبری فوجی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں اپنی پارلیمنٹ کے لئے انتخابات کرانے کا کوئی حق نہیں کیونکہ ریاست جموں و کشمیر کسی اعتبار سے بھارت کا حصہ نہیں ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آزاد کشمیر کے علاقہ پلندری میں ایکس سروس مین سوسائٹی پاکستان کے چیئرمین جنرل (ر) حمید گل نے آزاد کشمیر اور استحکا م پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی شکست کے بعد پاکستان کے آگے بڑھنے کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے اور ایشیاء کے اس خطہ کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ افغانستان میں ہونے والی کسی بھی بڑی تبدیلی کے بعد یہ پورا خطہ جس میں بھارت بھی شامل ہے، تبدیلیوں کی زد میں آتا ہے۔ جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ ہندوستان برہمن کے ظلم اور جابرانہ نظام کے باعث اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اب پاکستان کے آگے بڑھنے کا صحیح وقت شروع ہو رہا ہے ۔ مذہبی فرقہ بندی اور سیاسی جماعتوں نے عوام کو تقسیم کیا ہے حالانکہ قرآن اور اسلام نے ہمیں متحد ہونے کا درس دیا ہے۔ اگر ہماری قوم متحد ہوکر زمین پر زور سے ایڑھی بھی مارے تو ہمالیہ بھی ہل کر رہ جائے گا۔
دانشور جرنیل نے بجا طور پر نشاندہی کی کہ پلندری کا علاقہ وہ تاریخی اور عظیم علاقہ ہے جس نے تحریک آزادی کشمیر میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے اور اس خطہ کے جوانوں نے پاکستان کی سرحدوں کے لئے اپنا خون دیا ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔ کشمیریوں کے خون سے سودے بازی کر کے ، بھارت سے تجارت کرنا ایک شرمناک پالیسی ہے اور ہم اس کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں آج بھی کشمیر کے لئے اپنا خون دینے کو تیار ہوں اور یہ میرے لئے اعزاز ہو گا۔ کشمیر کے بغیر پاکستان کا قائم رہنا ممکن نہیں ہے۔ اسلام دشمن قوتوں نے جہاد کو دہشت گردی قرار دے دیا ہے جبکہ جہاد ایک مقدس مذہبی فرض ہے ۔ کشمیر کی آزادی کے لئے اتحاد کے ساتھ ساتھ پاکستان میں سے موجودہ ظالمانہ نظام کو بھی ختم کرنا ہوگا۔ یہ پاکستان کے استحکام کے لئے اشد ضروری ہے۔ غیر اسلامی نظام کو ختم کیا جانا ضروری ہے اور شریعت کا نفاذ ہی عوام کو عدل و انصاف مہیا کر سکتا ہے ۔
قومی امور کے بارے میں ذمہ داری اور دور اندیشی کے ساتھ غور و فکر کرنے والے اہل وطن بجا طور پر محسوس کرتے ہیں کہ حکومت کی ترجیحات اور معاصر قومی تقاضوں کے درمیان ایسا فاصلہ بہرحال موجود ہے جس کو اول تو ختم کیا جانا چاہیے اور اگر ایسا ممکن نہیں تو اس فاصلے کو کم ضرور کیا جانا چاہیے۔ اس بارے میں وقت ایک ایسا عنصر ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وقت کم بخت یوں بھی کبھی کسی کا نہیں ہوا اور یہ اپنی ہی رفتار سے آگے کی سمت بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ یہ ایک ایسا ضدی، مضبوط اور اڑیل گھوڑا ہے جس پر سواری کرنا ہر ایرے غیرے کے بس کی بات نہیں۔ یہ امر بھی مدنظر رہے کہ وقت کے گھوڑے کی لگام کو ہاتھ میں پکڑنا ،اس پر سواری کرنے سے بالکل مختلف عمل ہے۔ اگر سیاسی شخصیات کی سرگرمیوں، ترجیحات اور طرز احساس پر گہری نظر دوڑائی جائے تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان میں سے بیشتر لگام تھامنا تو دور کی بات ہے، وہ اس کی زین تک کو چھونے کے روادار نہیں۔ ممکن ہو تو ذرا سوچئیے کہ اہل وطن کے احوال اور ارباب بست و کشاد کے فرمودات کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے ۔

694
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...