وہ بزرگ نسل جس نے قیام پاکستان سے قبل ہندوؤں کے ساتھ روزمرہ زندگی میں براہ راست لین دین کے تجربات حاصل کئے، اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ ہندو ذہنیت یکسر اسلام دشمن اور خود غرض ہے۔ عام طور پر ہندو ’’بغل میں چھری، منہ میں رام رام‘‘ کے محاورہ کی جیتی جاگتی تصویر بنے ہوتے ہیں۔ اس حقیقت سے البتہ وہ لوگ مکمل طور پر آگاہ نہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد جنم لیا اور جن کو ہندوؤں کے ساتھ معاملات کرنے کا زیادہ وقت میسر نہیں آیا۔ دونوں ممالک کے درمیان روابط بھی مسلسل نہیں رہے جو ہندو ذہنیت سے آگاہی کی راہ میں رکاوٹ رہے۔ گاہے ،بعض مواقع پر یہ پست ذہنیت کھل کر سامنے آ جاتی ہے اور اس باب میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والا کوئی بھی کرکٹ میچ اب ایک معتبر حوالہ تصور کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح پاکستان میں بھارت کے فنکاروں (یعنی ارباب نشاط) کو نہایت فراخدلی اور گرم جوشی کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے اور ان کی خوب خاطر مدارت کی جاتی ہے چنانچہ بھارتی فنکار بار بار پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور برملا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ پاکستانیوں نے اپنی روایتی مہمان نوازی سے ان کے دل جیت لئے۔ اس کے مقابلہ میں جب پاکستان کے فن کار بھارت جاتے ہیں تو ان کے ساتھ تعصب ، امتیاز اور نفرت پر مبنی رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ صورت حال نہایت قابل توجہ ہے کہ دلیپ کمار سے لے کر کترینہ کیف تک ہر بھارتی فنکار کے لئے اہل پاکستان خیر سگالی اور ستائش کے جذبات رکھتے ہیں جبکہ پاکستان کے فنکاروں اداکار محمد علی (مرحوم) سے لے کر راحت فتح علی خان تک ، بیشتر کو بھارت میں غیر متوقع اور غیر دوستانہ رویہ کا سامنا رہا۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور سیاسی سطح پر تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری رہتی ہیں لیکن ہر کوئی بخوبی جانتا ہے کہ یہ کوششیں عام طور پر بھارتی حکومت ہی نہیں بلکہ عوام کی طرف سے اختیار کئے گئے غیر دوستانہ رویہ کے باعث ثمر بار اور نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتیں اور اس کا واحد سبب یہ ہے کہ انتہا پسند ہندو اکثریت نے ابھی تک پاکستان کے قیام اور وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا ۔ مشرقی پاکستان کے عوام نے جب اپنی سرزمین کو بنگلہ دیش کا نام دینے کا سیاسی فیصلہ کیا تو بھارتی وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے دو قومی نظریہ کو اٹھا کر خلیج بنگال میں پھینک دیا ہے۔ تاریخ اور وقت نے ثابت کر دکھایا کہ اندرا گاندھی کی سوچ اور سازش، دونوں ہی ناکام رہے کیونکہ یہ اٹل حقیقت اب عام مشاہدہ کی جاتی ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ بھارت کے مقابلہ میں پاکستان کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ اسلام کا وہ رشتہ جو ان دونوں (پاکستان اور بنگلہ دیش) کے درمیان ماضی میں قائم رہا وہ حال میں بھی برقرار ہے اور انشاء اللہ مستقبل میں یہ مزید مستحکم ہو گا۔
بھارتی انتہا پسندانہ ذہنیت کا ایک انتہائی پست اور سفاک مظاہرہ ساری دنیا نے 6دسمبر 1992ء کو اس وقت مشاہدہ کیا جب ہندو انتہا پسندوں نے ایودھیہ میں 1527ء میں تعمیر ہونے والی تاریخی بابری مسجد کو شہید کر دیا۔ ہندو ذہنیت سے آگاہ اور با خبر حلقوں کی طرف سے اس وقت ہی یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ غیر مہذب اور اشتعال انگیز کارروائی ایک منظم سازش کا نتیجہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو مشتعل کر کے ان کو ایک مرتبہ پھر آگ اور خون کے دریا میں کود جانے پر مجبور کرنا ہے۔ تعصب ، جہالت اور اسلام دشمنی پر مبنی اس اقدام کو عالمی برادری نے غیر پسندیدہ نگاہوں سے دیکھا۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اس افسوسناک واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائے لیکن بھارتی ارباب اقتدار اور پالیسی سازوں نے اس سلسلہ میں مجرمانہ خاموشی اور غفلت کا رویہ اختیار کئے رکھالیکن اب صورت حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔
حال ہی میں بھارتی نیوز ویب سائٹ اور ٹی وی پروڈکشن ہاؤس کو برا پوسٹ نے تازہ ترین ’’سٹنگ آپریشن‘‘ کے دوران تیار کی گئی رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ انتہا پسند ہندو تنظیموں کے اتحاد سنگھ پریوار نے بابری مسجد کو شہید کرنے کے لئے کئی ماہ تک انتہائی منظم انداز میں منصوبہ بندی کی تھی اوراس کے کارکنوں نے بعض ریٹائرڈ فوجی افسروں سے تربیت حاصل کی تھی۔ بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی، سابق وزیراعظم وی پی نرسیما راؤ،اس وقت کے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ اور رام جنم بھومی تحریک کے دیگر اہم رہنما اس منصوبہ سے آگاہ تھے۔ اس رپورٹ کی تیاری کے لئے کوبرا پوسٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر کے اشیش نے ایودھیا تحریک پر تحقیقی کتاب کے مصنف کے روپ میں ایودھیا، فیض آباد،ٹانڈا ، لکھنو، گورکھپور، متھرا، مراد آباد، جے پور، اورنگ آباد، ممبئی اور گوالیار کا سفر کیا اور رام جنم بھولی تحریک کے 23اہم راہنماؤں کے انٹرویو ریکارڈ کئے۔ ان رہنماؤں میں شکتی مہاراج، اچاریہ دھرمیندر، اوما بھارتی، مہانت دیدانش اور وٹے کٹیار شامل ہیں۔ کے اشیش کے مطابق ان رہنماؤں سے جو معلومات حاصل ہوئیں ان کے مطابق یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے کہ بابری مسجد کی شہادت مشتعل کارسیوکوں کی کارروائی تھی ۔ دراصل بابری مسجد کی شہادت کے منصوبہ کی کئی ماہ تک تیاری کی گئی تھی۔ اس منصوبہ کا خفیہ نام ’’آپریشن جنم بھومی‘‘ رکھا گیا اور اس پر عسکری مہارت اور انداز کے ساتھ عملدرآمد کیا گیاتھا۔ کارسیوکوں کو پولیس کے ہاتھوں قتل کرانے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی تھی کیونکہ مذکورہ سازش تیار کرنے والوں کو یقین تھا کہ ہندو کار سیوکوں کے قتل کے بغیر اس منصوبہ پر عملدرآمد ممکن نہیں تھا۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ اس سازش کے تحت پلان بی اور سی بھی تشکیل دیا تھا جس کے مطابق پلان اے ناکام ہونے کی صورت میں مسجد کو ڈائنا مائٹ سے اڑا دیا جانا تھا اور یہ منصوبہ ناکام ہونے کی صورت میں مسجد کو پٹرول بموں سے نذر آتش کر دیاجاتا۔
کے اشیش کے مطابق رام جنم بھومی تحریک کے جن رہنماؤں سے انٹرویو کئے گئے ان میں سے اکثر نے نہ صرف اس مذموم منصوبہ میں شمولیت کا اعتراف کیا بلکہ اپنے کردار کو فخر سے بیان کیا۔ انٹرویوز کی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کا منصوبہ انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا جن لوگوں کو تربیت کے لئے منتخب کیا گیا ان کو بھی اس سانحہ سے ایک ماہ قبل تک اصل منصوبہ سے لا علم رکھا گیا۔ انتہا پسند ہندو تنظیم بجرنگ دل نے گجرات کے علاقے سرکھیج میں جون 1992ء میں اپنے 38کاکنوں کو ایک ماہ تک تربیت فراہم کی اور وشوا ہندو پریشد کے سینئر ترین قائدین نے ان افراد کو بابری مسجد کی شہادت کے لئے مذہبی طور پر اکساتے ہوئے ذہنی تربیت اور لکشمن سینا نامی تنظیم تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ ان کارکنوں کو تربیت دینے والے بھارتی فوج کے ریٹائرڈ سینئر افسران تھے اور ان لوگوں کی اچاریہ گری راج کشور، اچاریہ دھرمیندر، پراوین تو گاڑیا جے بھن پاویا اور اشوک سنگھل جیسے انتہا پسند رہنماؤں سے ملاقاتیں کرائی گئیں۔ جے بھگوان گوئل نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس ڈائنا مائٹ کا بھی انتظام تھاجس کو وہ حسب ضرورت استعمال کر سکتے تھے۔ اسی طرح بجرنگ دل کے ایک سکواڈ نے تیشے، ہتھوڑے، بیلچے، رسے اور دیگر مطلوبہ اشیاء مقررہ جگہ تک پہنچائیں تھیں۔
شکشی مہاراج نے اعتراف کیا کہ اشوک سنگھل نے ان کے سامنے کہا تھا کہ جب تک کارکن مارے نہیں جائیں گے مہم زورنہیں پکڑے گی۔ سانحہ کے روز کچھ کار سیوکوں نے بابری مسجد کو شہید کرنے کا حلف اٹھایا تھا ۔یہ حلف رام ولاس ویدانتی نے لیا تھا۔ ونے کٹیار، بی ایل شرما، سنتوش ڈوبی اور بعض دوسرے رہنماؤں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس منصوبہ میں انہیں اس وقت کے وزیراعظم نرسیما راؤ کی آشیر باد بھی حاصل تھی جبکہ اترپردیش کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ کو اس منصوبہ کی اطلاع ایک روز قبل دی گئی اور انہیں ضروری اقدامات کرنے کو کہا گیا ۔ 6دسمبر کی صبح بابری مسجد پر حملے کی اطلاع پر موصوف نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا لیکن مرلی منوہر جوشی اورایچ وی ششادھری جیسے سینئر رہنماؤں کے کہنے پر انہوں نے یہ اعلان واپس لے لیا۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بی جے پی کے رہنماؤں نے کلیان سنگھ کو بابری مسجد کی شہادت کی کارروائی مکمل ہونے تک لکھنو میں یرغمال بنا کررکھا تھا۔
ظاہر ہے کہ خود بھارتی میڈیا کی تیار کردہ اس رپورٹ کے انکشافات اور حقائق کے بارے میں کسی قسم کے شکوک و شبہات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر اجاگر اور ثابت ہو گئی ہے کہ بھارت کی انتہا پسندہندو ذہنیت اسلام اور پاکستان کے بارے میں ذہنی طور پر تعصب اور انتقام میں مبتلا ہے۔اب جبکہ انتہا پسند ہندو ذہنیت بے نقاب ہو چکی ہے تو یہ صورت حال ان عناصر کے لئے نہایت چشم کشا ہے جومحض اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ’’امن کی آشا‘‘ کی ڈفلی بجانے میں مصروف ہیں۔

775
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...