اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے چنانچہ اسلامی تعلیمات میں اس امر کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ ہر انسان کی عزت نفس کا احترام کیا جائے اور نظریاتی اختلافات کے باوجود معاشرتی اور سماجی سطح پر امن اور باہمی بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔ اسلامی تاریخ میں ایسے واقعات جا بجا رقم ہیں جو اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں اسلام کی بالادستی اور فتوحات میں انسانی سطح پر روا رکھے گئے حسن سلوک نے نتیجہ خیز کردار ادا کیا۔ غیر مسلم محقق اور تجزیہ کار بھی اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ اسلام کا راستہ حقیقی معنوں میں امن اور صلح کا راستہ ہے ۔ اسلامی حکمران اور سپہ سالار جس علاقہ اور خطہ میں بھی پہنچے، وہاں انہوں نے تلوارکی طاقت سے نہیں بلکہ مقامی باشندوں کے دل جیت کر اپنی فتوحات کے دائرہ کو وسعت دی ۔ اگر طاقت کے بل بوتے پر فتح اور کامرانی کا راستہ ہموار کیا جا سکتا تو پھر شاید غیر مسلم ہی ہمیشہ غالب رہتے کیونکہ طاقت کا توازن ہمیشہ ہی غیر مسلم عناصر کے حق میں رہا۔
اسلامی تعلیمات کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ ان میں اس امر پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے کہ ہر انسان ذاتی اور ا جتماعی سطح پر اپنی زندگی ، اپنی مرضی اور اپنے عقائد کے مطابق گزار سکے۔ یہ جو آج مغربی دنیا میں انسانی حقوق اور انسان کی عظمت کے ترانے گائے جا رہے ہیں تو اس کا اصلی اور حقیقی منبع دراصل اسلام کی تعلیمات ہی ہیں۔ آج اقوام متحدہ کے منشور کا خوب چرچا ہے لیکن اس حقیقت کو بھی بہرحال مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کا آخری خطبۂ حج اس منشور کا اصل سرچشمہ ہے ۔ آپ ؐنے اپنے اس خطبہ میں واضح اور دو ٹوک الفاظ میں جو ارشاد ات فرمائے ان کا سادہ الفاظ میں مفہوم یہی ہے کہ کسی عجمی کو کسی عربی پر اور کسی عربی کو کسی عجمی پر ،کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فوقیت نہیں ہے البتہ تقویٰ اور پرہیز گاری کی بنیاد پر ۔ اسی طرح آپ ؐنے امن اور بھائی چارے کے بارے میں بھی واضح تاکید فرمائی۔
رسالت مآب ﷺ کے ارشادات اور قرآن پاک کے احکامات کا نور گذشتہ 14صدیوں سے دنیا بھر میں کسی امتیاز کے بغیر انسانوں کی رہنمائی کر رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں مختلف مذاہب اور عقائد پر عمل پیرا انسانوں کے درمیان مفاہمت کا جذبہ گہرا ہوا ہے ۔ اس تناظر میں یہ امر نہایت افسوسناک تصور کیا جاتا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصہ سے بعض عناصر نے اسلامی تعلیمات کو اپنے مخصوص عقائد اور نظریات کے سانچے میں ڈھالنا شروع کر دیا ہے یعنی بقول علامہ اقبال : ’’خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں ‘‘۔ ان عناصر میں طالبان کا شمار کیا جاتا ہے بلکہ وہ اب کافی نمایاں ہو چکے ہیں۔ افغانستان میں اپنی نظریاتی وابستگی کو اجاگر کرتے ہوئے منظر عام پر ابھرنے والی اس تنظیم سے وابستہ افراد کااصرار ہے کہ وہ دنیا بھر میں اسلامی نظام کے نفاذ کے داعی اور حامی ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ سب سے پہلے اپنے خطہ (یعنی افغانستان اور پاکستان) میں اسلامی تعلیمات کے نفاذ کا راستہ ہموار کر رہے ہیں ۔ ان کا یہ جذبہ اور عزم اپنی جگہ قابل تحسین ہے لیکن اصل قباحت اور مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ کے ضمن میں بھی اپنی مرضی اور ذاتی پسند و ناپسند کو بنیاد تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات کی روح کے برعکس طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کر رکھا ہے ۔وہ قتل و غارت اور خونریزی سے سرمو انحراف اور اجتناب نہیں کرتے چنانچہ ان کے ہاتھ نہ صرف بے گناہ اور بے قصور انسانوں بلکہ خود اپنے ہم مذہب اور ہم عقیدہ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے مشاہدہ کئے جاتے ہیں۔اسی طرح وہ خواتین کی آزادی اور تعلیم کے باب میں بھی غیر لچکدار اور غیر حقیقت پسندانہ طرز احساس کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
دہشت گردعناصر نے پاک سرزمین کو تخریب کاری اور خودکش حملوں سے لہو لہان کر دیا ہے۔ اب تک ہزاروں افراد ان عناصر کی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور قومی خزانہ کو اربوں روپے مالیت کا نقصان پہنچ چکا ہے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ بین الاقوامی سطح پر وطن عزیز کی شہرت بھی متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں غیر ملکی سرمایہ کار ہمارے یہاں آنے سے گریزاں ہیں۔ دہشت گردوں نے سماجی، اقتصادی، سیاسی اور صنعتی شعبوں میں جو تباہی اور بربادی پھیلائی ہے اس کا ازالہ بلاشبہ مختصر عرصہ میں ممکن نہیں ۔ کراچی ایسا بارونق اور غریب پرور شہر ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور خودکش حملوں کے نتیجہ میں بیروت اور بغداد کی تصویر بنا ہوا ہے۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو گا جب وطن عزیز کے کسی علاقہ میں تخریب کاری کا واقعہ رونما نہ ہوتا ہو ۔ یہ کہنا عبث نہ ہو گا کہ دہشت گردی نے عوام کو ذہنی اور فکری طور پر تشویش اور انتشار سے دوچار کر رکھا ہے تا ہم یہ امر نہایت قابل ذکر اور حوصلہ افزاء ہے کہ اپنی تمام تر انتہا پسندی کے عملی مظاہرہ یعنی تخریب کاری اور دہشت گردی کے باوجود یہ دہشت گرد عناصر ہمارے عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکے ۔ عوام کا پختہ عزم اور اعلان ہے کہ وہ دہشت گردوں کے سامنے سرنگوں نہیں ہوں گے بلکہ ان کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی دم لیں گے۔ حکومت، عسکری قیادت ، ریاستی اداروں ، سول سوسائٹی اور میڈیا کا پختہ عزم ہے کہ وہ کبھی دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو قوم کی نظریاتی اساس پر حاوی ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے حال ہی میں یہ فتویٰ جاری کیا ہے کہ خودکش حملے غیر قانونی ہی نہیں بلکہ حرام ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں مزید فرمایا کہ خودکش حملے جیسے اقدامات جرم کے زمرہ میں آتے ہیں اور خودکش حملہ آور بہرحال جہنم واصل ہوں گے۔ یہ عناصر اسلام کی تعلیمات کے برعکس سرگرم عمل ہیں بلکہ وہ اسلام کے دشمن ہیں ۔ یہ وہ عناصر ہیں جو انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور دیگر مسلمانوں، خاص طور پر نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ان عناصر کی سرگرمیاں اس سازش کا حصہ ہیں جو مسلمانوں کو تباہی سے دو چار کرنے ا ور اسلام کو بدنام کرنے کے لئے تیار کی گئی۔ بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مفتی اعظم کا یہ فتویٰ نہ صرف اسلام کی حقیقی تعلیمات کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ وہ دہشت گردوں کے حقیقی چہرے بھی بے نقاب کرتا ہے۔ یہ فتویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان اور حکومت کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے ۔
عوام کو اس وقت بجا طور پر مسرت اور اطمینان محسوس ہوا تھا جب مذکورہ مذاکرات کے آغاز پر یہ اعلان کیا گیا کہ طالبان ایک ماہ تک اپنی ان سرگرمیوں کو موقوف کر دیں گے جن کے نتیجہ میں بیگناہ اور معصوم افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی تھی کہ فائر بندی کا یہ عمل قدرتی طور پر عوام میں پائے جانے والے خوف و ہراس کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو گا اور دوسری طرف اس سے دنیا بھر کو یہ پیغام بھی پہنچے گا کہ قیام امن کے لئے کی جانے والی کوششیں آخر کار سود مند اور نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں۔ فائر بندی سے دراصل اس حقیقت کی گواہی بھی میسر آئی کہ تنازعات اور اختلافات کو دور کرنے کے لئے بات چیت کا راستہ ہی درست اور قابل عمل ثابت ہوتا ہے۔ ابھی مذاکرات کا عمل جاری تھا اور طالبان کی طرف سے کئے گئے فائر بندی کے اعلان کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ طالبان شوریٰ نے یہ الزام تراشی شروع کر دی کہ حکومت نے عملی طور پر کچھ نہیں کیا لہذا جنگ بندی جاری رکھنا مشکل ہو گیاہے ۔ایک ماہ میں ایک گولی بھی نہ چلانے کے باوجود 50گرفتاریاں ہوئیں اور 15لاشیں دی گئیں۔ سندھ میں طالبان کے جن دھڑوں کو فائربندی کے لئے بمشکل راضی کیا گیا ان کو جان بوجھ کر فائربندی توڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔
دریں اثناء وزیراعظم میاں نواز شریف نے لاہور میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان سے مذاکرات مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں اور ہم قوم کو جلد خوشخبری دیں گے۔ انہوں نے یہ نشاندہی بھی کی کہ امن کا قیام یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے اور مذاکرات میں جو بھی فیصلہ ہو گا وہ آئین اور قانون کے دائرہ میں ہو گا۔ اس بیان کی روشنی میں بجا طور پر توقع کی جاتی ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات بڑی حد تک کامیاب ہوں گے لیکن اس تناظر میں یہ سوال اپنی جگہ بہرحال فکر انگیز اور توجہ طلب ہے کہ طالبان کی طرف سے دہشت گردی اور تخریب کاری کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے کیا طریقہ کار وضع کیا جائے گااور اس سلسلہ میں مطلوبہ ضمانت کون فراہم کرے گا ۔یہ سوال اس تلخ حقیقت کے پس منظر میں نہایت اہم ہے کہ طالبان گروہ بندی اور دھڑے بندی کا شکار ہیں اور ان کے درمیان شدید اختلافات کی خلیج دن بدن گہری اور وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز کی طرف سے جاری کردہ فتویٰ یقینی طور پر طالبان کے لئے فکر انگیز ثابت ہو گا اور وہ راہ راست اختیار کرکے دین اور دنیا میں سرخرو ہونے کو ترجیح دیں گے ۔

764
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...