کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے جس نے جہاں دوسرے کئی مسائل کو جنم دیا ہے وہاں ایک مسئلہ پانی کا ہے۔ پاکستان بنا تو جہاں پاکستان کے اثاثے روکے گئے،لاکھوں مہاجرین کو ایک نئے اور بے سرو سامان ملک کے سپرد کیا گیا، جنگی سامان میں گھپلے کیے گئے ،کشمیر پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کیا گیا وہیں ایک سال سے بھی کم عرصے میں پاکستان کا پانی بھی رو کا گیا۔ 1960 تک پا نی کا مسئلہ عارضی بنیادوں پر حل کیا جاتا رہا۔ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے منبے کشمیر میں تھے اور کشمیر پر بھارت جیسے دشمن پڑوسی کا قبضہ تھا بہر حال ورلڈ بینک کی مداخلت اور تعاون سے پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا اور 19 ستمبر 1960 کو پاکستان کے صدر ایوب اور بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کراچی میں سندھ طاس معاہدے پر دستخط کردیے جس کی رو سے تین مشرقی دریاوءں راوی، ستلج اور بیاس پر بھارت اور تین مغربی دریاوءں سندھ، چناب اور جہلم پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا۔ دریاوءں کے منبے چونکہ بھارت میں تھے اس لیے اسے اجازت دی گئی کہ وہ دریا کے بہاؤ پر بجلی وغیرہ کے منصوبے بنا سکتا ہے لیکن وہ کسی بھی ایسے منصوبے کے بارے میں چھ ماہ پہلے ہی پاکستان کو آگاہ کرے گا اور منصوبے کا ڈیزائن اور تفصیلات پاکستان کو دے گا اور یہ بھی دیکھے گا کہ اس منصوبے کی تعمیر سے دریا کے بہاؤ میں کوئی خلل نہ پڑے۔ پاکستان ان تفصیلات کو دیکھنے کے بعد تین مہینے کے اندر اندر ان کا جواب دے گا۔ لیکن ہو یہ رہا ہے کہ بھارت دھڑا دھڑ ان دریاوءں پر منصوبے بنا رہا ہے جن میں کچھ تو دریا کے بہاؤ پر ہیں بھی نہیں بلکہ دریاؤں کا رخ موڑا گیا ہے لیکن پاکستان کو ان کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا اور ہمارا انڈس واٹر کمیشن بھی تب جاگتا ہے جب منصوبے کی تعمیر شروع ہو جاتی ہے بلکہ کافی کام ہو چکتا ہے اس وقت بھی مضبوط موقف اپنانے کے بجائے درخواستیں دائر کی جاتی ہیں یا خط لکھے جاتے ہیں اور بھارت ان کا جواب دینے کا بھی تردد نہیں کرتا۔ سوال کوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ کی تفصیلات کی طلبی کے لیے پاکستان 29 خطوط لکھ چکا ہے لیکن جواب کسی ایک کا بھی نہیں آیا یہی حال دوسرے منصوبوں کے بارے میں بھی ہے۔ بھارت پانی کی بندش کو بھی پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے لیکن کمزوری ہماری حکومتوں کی بھی ہے جو تب ہوش میں آتی ہیں جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اور نہ ہی وہ عالمی عدالت انصاف میں اپنے حق کا اس طرح دفاع کر تی ہیں جیسا کرنا چاہیے۔ موجودہ حکومت نے تو ان مسائل کو پس پشت ڈال کر بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی مہم پر زور دیا ہوا ہے اور وہ پانی اور کشمیر جیسے مسائل پر بات کر کے اسے ناراض نہیں کرنا چاہتا کیوں کہ حکمرانوں کو تجارت کرنی ہے۔ تجارت پر کسی کو بھی اعتراض نہیں لیکن اعتراض اس رویے پر ہے جو دوسری طرف سے اپنایا جا رہا ہے۔ پاکستان جغرافیائی طور پر زیادہ تر صحرائی اور نیم صحرائی زمین پر مشتمل ہے اور اگر ان دریاؤں اور نہروں کا پانی نہ ہو تو پنجاب اور سندھ کے لہلہاتے کھیت اور زرخیز زمین بنجر ہوجائے اور ایک زرعی ملک اگر اپنی زراعت سے محروم ہو جائے تو پیش آمدہ صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ لہٰذا ان دریاؤں کا پانی پاکستان کے میدانوں میں بھاگتی دوڑتی زندگی کے لیے انتہائی اہم ہے اور اس اہمیت کا اندازہ حکومت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کو ہونا چاہیے۔ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ جوعالمی ثالثی عدالتوں میں کیا گیا ہے اسے بھی ختم ہونا چاہیے۔ اس وقت انڈس واٹر کمیشن بغیر کسی مستقل سربراہ کے بغیر کام کر رہا ہے اور یہی غیر سنجیدگی ہے جس کا دوسری طرف فائدہ اٹھایا جا رہا ہے ۔ بگلیہار ، کشن گنگا، وولر اور اڑتیس دوسرے منصوبے جو بھارت بنا چکا ہے یا بنا رہا ہے اس کا ہمارے ملک، ہماری زراعت اور معیشت پر کیا اثر پڑے گا اس پر سوچنا ضروری ہے۔ اگر ہمارے یہ دریا خدانخواستہ سوکھ گئے تو دوبارہ ان کا بہاؤ ممکن نہیں ہو گا اور نہ ان میدانوں اور کھیتوں کادوبارہ لہلہاناممکن رہے گا۔ لہٰذا حکومت بھارت کو پسندیدہ قرار دینے سے پہلے اس کے ساتھ بنیادی مسائل حل کرے تاکہ تعلقات بہتر ہوں اور جب تعلقات بہتر ہوں تو دو طرفہ تجارت خود بخود شروع ہو ہی ہو جائے گی اور پاکستان بھی بھارت کی بہت بڑی منڈی سے فائدہ اٹھا سکے گا لیکن اس کے لیے پاکستان کے وجود اور یہاں موجود زندگی کی بقاء ضروری ہے۔

1,111
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...