ملک جب مشکل حالات سے گزر رہے ہوں تو اُس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت در پیش رہتی ہے وہ ہے قومی اتفاق رائے۔ جب ایک مسئلے کی نشاندہی کر لی جائے اور اسے مسئلہ تسلیم بھی کر لیا جائے تو پھر اس کے حل کے لیے کوشش بھی نہ صرف مربوط ہونی چاہیے بلکہ اس کے بارے میں قومی نکتہء نظر کا ایک ہونا بھی بہت ضروری ہے ورنہ بصورت دیگر مسائل کا حل نکلنا ممکن نہیں رہتا۔ لیکن اسے ہماری بد قسمتی کہیے کہ ہم اہم ترین قومی معاملات پر بھی انتشار کا شکار رہتے ہیں اور بڑے دھڑلے سے اسے سیاست، اظہارِ رائے کی آزادی اور اختلاف رائے کا حق جیسے خوبصورت الفاظ و تشبیہات کا نام دیتے ہیں۔ ان تمام باتوں سے کسی کو اختلاف نہیں لیکن قومی معاملات میں ان کا ہونا خطرناک ہی ہوتا ہے اور ان رویوں کی ہی وجہ سے یہ مسائل طول پکڑلیتے ہیں۔
دہشت گردی کے بارے میں بھی ہم اسی بدقسمتی کا شکار ہوئے ہیں ۔اس مسلط کردہ مصیبت اور جنگ کے بارے میں بھی ہر طرح کی باتیں سننے کو ملتی ہیں ۔اختلاف کا شوق ضرورپورا کیجیے لیکن اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش تو مربوط ہونی چاہیے۔ پاکستان میں محتاط اندازے اور اعداد و شمار بھی لیے جائیں تو بھی اس عفریت نے پچاس ہزار جانیں نگل لی لیں ہیں لیکن دکھ اور حیرت ہے کہ اب بھی ان کے لیے ہمدردی کے جذبات کئی دلوں اور جگہوں پر امڈآتے ہیں، کچھ لوگ کھل کر ان کی حمایت کر لیتے ہیں اور کچھ پوشیدہ اور مصلحتوں میں لپٹی ہوئی اور کچھ منہ زبانی نہ سہی لیکن اخلاقی طور پر یہ حمایت فراہم کر رہے ہیں ۔ سیاست دان اگر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں تو میڈیا اپنی ریٹنگ بڑھا رہا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر انصاف کی فراہمی کا دعویٰ کرنے والی عدالتیں جو ملزموں بلکہ مجرموں تک کو نا کافی ثبوتوں کی اصطلاح کی آڑ لے کر بری کردیتی ہیں اور کہیں کہیں تو رنگے ہاتھوں پکڑے گئے دہشت گرد بھی اسی اصطلاح کے مطابق معصوم گردانے گئے۔ جن کو نا گزیر وجوہات کی بنا پر سزا دی گئی ان پر عمل درآمد نہیں کرایا گیا اور طالبان کی طرف سے کئی بار یہ دھمکی موصول ہوتی رہی کہ اگر ان دہشت گردوں کو سزائیں دی گئیں تو مزید دھماکے کیے جائیں گے یعنی ان کو کیش کیا جاتا رہا بلکہ کیا جا رہا ہے۔ مذاکرات کی بات ہوئی تو بھی قیدیوں کی رہائی کا مطا لبہ سامنے آتا رہا۔ ہمارے بقول خود اور بقول چند مخصوص میڈیا گروپوں کے انتہائی نڈر ،بے باک، حرف انکار کے مجاہد اور معلوم نہیں کن کن خطابات کے حقدار سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری جو از خود نوٹس کے کافی شوقین بھی تھے نے کبھی ان معاملات پر ازخود نوٹس نہیں لیا ہاں اگر فوج نے کوئی کاروائی کی تاکہ ان دہشت گردوں کا صفایا ہو تو اِس کے خلاف نوٹس ضرور لیے گئے لیکن دہشت گرد اور میڈیا اس سے مبرا ء ہی رہے ۔ ہمارا عدالتی نظام کیاکبھی پچاس ہزار پاکستانیوں کے خون کا حساب مانگے گا۔ دارالحکومت اسلام آباد کی کچہری کے اندر دھماکے پر تو یہ لوگ سراپا احتجاج بن گئے لیکن سڑک ، بازار،مسجد اور اسکول میں مرنے والوں کا دکھ عدالت میں کوئی جنبش تک پیدا نہ کر سکا اور اگر کسی نے یہ احساس جگانے کی کوشش کی بھی تو توہین عدالت کی سزا کے خوف سے چپ رہا۔ دوسری طرف میڈیا نے بھی ان لوگوں کو کچھ اس طرح سے کوریج دی کہ انہیں خود زیادہ محنت نہ کرنا پڑی اور ان کی دہشت بیٹھتی گئی۔ ان کے خلاف بولنے والی زبانیں کم ہوتی گئیں اور ان کا نقطہ نظر بھی واضح اور نشر ہوتا رہا۔ یہ رویہ صرف طالبان کے بارے میں نہیں رکھا گیا بلکہ ہر پاکستان مخالف کو اظہار رائے کی آزادی کے نام پر یہ سہولت مہیا کی جاتی رہی اور کی جار رہی ہے۔ 24 مارچ کو ایک نجی چینل پر حریبار مری کا انٹرویو دکھا یاگیا اگرچہ اینکر نے کچھ اچھے سوالات بھی کیے جن کا حریبار کے پاس کوئی جواب نہیں تھا لیکن وہ احساس ناراضگی میں مبتلا بلوچوں کے ذہنوں میں بھی اپنے خیالات ڈالتا رہا اور یوں چینل کی ریٹنگ تو بڑھ گئی ہو گی لیکن اس کے خیالات بھی کچھ ہی سہی دیگر ذہنوں میں منتقل ہوتے رہے اور ایک اچھے انٹرویو کے بعد اینکر کے اختتامی الفاظ کسی بھی طرح مناسب نہیں تھے کہ انہیں یعنی حربیار کو اپنی رائے اور خیالات کے اظہار کی آزادی حاصل ہے اور یہ بھی کہ آپ سے مل کر خوشی ہوئی یعنی ایک پاکستان دشمن سے ملکر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ میڈیا آج کے دور کا ایک مو ثر ہتھیار ہے اور کسی بھی موثر اور قاتل ہتھیار کی طرح اس کے استعمال میں احتیاط انتہائی لازم ہے ورنہ نتائج انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔ اسے اگر سیا ستدان، تاجر اور صنعتکار پیسے دے کر اور اس کا وقت خرید کر استعمال کرتے ہیں تو یہ ملک دشمنوں کو مفت کیوں فراہم کیا جاتا ہے اور جب اسے کسی وجہ سے خود ان دہشتگردوں کی طرف سے دھمکی موصول ہو جائے تو پھر بھی صرف اپنا ہی احساس کیا جاتا ہے ملک کا نہیں۔
بہر حال اب تک تو جو ہو چکا وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے اگر اب بھی معاشرے کا ہر طبقہ اور ریاست کاہر ستون ملکی بقاء کے بارے میں ایک رائے رکھے اور صرف خلوص پر مبنی رکھے تو ہم مزید خرابی سے بچ سکتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا ورنہ صرف فوج، پولیس، خفیہ ادارے یا قانون نافذ کرنے والا کوئی بھی ادارہ اس عفریت کو قابو نہیں کر سکتا کیونکہ جب دوسرے ادارے ان کی مدد کرنے کے بجائے ان پر تنقید کریں گے، عوام میں ان کے خلاف جذبات ابھاریں گے، ان کو ملکی مسائل کا ذمہ دار بنا کر پیش کریں گے، ان کے افراد کی غلطیوں کے لیے ان کے اداروں کو ذمہ دار سمجھا جائے گا بلکہ ان اداروں کو مجرم بنا کر پیش کیا جائے گا تو ہم اس مصیبت سے نجات حاصل نہیں کر سکیں گے۔ جبکہ ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہے کہ اب ہم مزید نقصانات کے متحمل نہیں ہو سکتے اور ملکی مفاد کی خاطر ہمیں صرف جرات مندانہ اور مخلصانہ فیصلے اور کوشش کرنا ہو گی ،ذاتی مفاد، شہرت اور ریٹنگ سے ملک اور عوام کو اہم سمجھنا ہو گا اور اس کی سا لمیت اور بقا ء کے لیے اپنی ذات کی نفی کرنا ہو گی تو تاریخ اور وقت خودبخود ہمارے وجود کا اقرار کر لے گی ورنہ اپنی ذات کے لیے انکار کو بھی رد کر دے گی۔

1,207
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...