آج کی دنیا میں اپنی جغرافیائی اور نظریاتی حدود کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومتوں اور قوموں کو ہر وقت اپنی آنکھیں اور دماغ کھلے رکھنے پڑتے ہیں اور ایسا خاص کر اسلامی ملکوں اور عام طور پر غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں اور بھی ضروری ہو جاتا ہے جہاں ان کی غربت دور کرنے کے لیے کوشش نہیں کی جاتی بلکہ ان کو غلام بنانے کے لیے امداد کے نام پر قرضوں میں یوں جکڑا جاتاہے کہ وہ عملا ان کے غلام بن جاتے ہیں اور انہیں ان کے رحم وکرم پر رہنا پڑتا ہے اور یوں یہ بالا دست اقوام اپنے اپنے مقاصد کے لیے ان ملکوں میں بڑی آسانی سے کام کرتے ہیں ۔ اسلامی ممالک میں کبھی علیحدگی کی تحریکوں کی سر پرستی کی جاتی ہے اور کبھی جمہوریت کے نام پر خون خرابہ کیا جاتا ہے ۔ اس کام کے لیے ترقی یافتہ حکومتیں اور ان کی امداد یافتہ تنظیمیں دونوں ہر وقت بر سر پیکار رہتی ہیں اور کبھی انصاف ،کبھی انسانی حقوق اورکبھی جمہوریت کے نام پر یہاں حکومتوں اور عوام میں ٹکراؤ کروایا جاتا ہے۔ تیسری دنیا کی دیگر اقوام بھی ان کے شرسے محفوظ نہیں رہتی اور کبھی یہ بڑے ممالک براہ راست فوج کشی کر دیتے ہیں اور کبھی این جی اوز کی صورت میں ان پر حملہ آور ہوتے رہتے ہیں ۔ بظاہر تو یہ این جی اوز عوام کی فلاح میں مصروف نظر آ تی ہیں لیکن دراصل یہ اپنے لیے فنڈز بناتی ہیں اور اپنے مالکوں اور اپنے ملکوں کے لیے بے تحاشہ پیسہ اور غیر محسوس طریقے سے ان ملکوں کے عوام میں اپنی ہی حکومتوں کے خلاف نفرت کا جذبہ ایسے ابھارتیں ہیں جس کا احساس تب ہوتا ہے جب یہ چنگاریاں ہر طرف پھیل چکی ہوتی ہیں اور یہ سب کچھ عالمی اداروں کے تعاون سے اسے قانونی شکل دے کر سر عام اور دھونس کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ان اداروں کے منشور کچھ ایسے خوشنما اور دلفریب بنائے جاتے ہیں کہ پڑھنے اور سننے وا لا ان لوگوں کو ہی دنیا کا سب سے بڑا غم خوار تصور کرتا ہے یہاں تک اس کے اپنے اہلکار بھی ان کے اصل مشن کو محسوس نہیں کر پاتے۔ Unrepresented Nations and Peoples Organization بھی ایک ایسی ہی تنظیم ہے جسے 1980کی دہائی میں کچھ لوگوں نے مل کر بنا یا کہ یہ دُنیا بھر میں بے نشان لوگوں کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دے گی اور ان کو انصاف فراہم کرنے میں مدد کرے گی۔ یو این پی او کو بنانے والوں میں یوں تو تبت ،ایسوٹنیا اورمشرقی ترکستان کے کچھ لوگوں کے نام بھی شامل ہیں لیکن دراصل مائیکل وین والٹ وین پر اگ کے تعاون سے یہ تنظیم بنائی گئی یعنی باقی لوگوں کو استعمال ہی کیا گیا ورنہ تعاون تو اسے مغرب سے ہی حاصل ہے اس کا ہیڈ کوارٹر ہالینڈ میں ہے لیکن کاروائیاں دنیا میں ہر اُ س جگہ ہیں جہاں اپنے ملک سے باغی لوگ موجودہیں اور اپنی حکومتوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں ۔ ان لوگوں کو اپنے ملک توڑنے کے لیے علی الاعلان امداد فراہم کی جاتی ہے، ان کے نکتہ نظر کو پوری دنیا میں پھیلایا جاتا ہے،ان کے لیے تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کا نشانہ زیا دہ تر مسلمان ممالک ہی ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں بلوچستان کے مسئلہ کو ہوا بھی انہی لوگوں نے دی ہے اور دنیا میں اگر کہیں ایک دو بھی ناراض بلوچ ہیں تو ان کو مکمل طور پر حمایت فراہم کی جاتی ہے ۔ یو این پی او ان کے نکتہ نظر کو نہ صرف پھیلاتا ہے بلکہ انہیں پلیٹ فارم بھی فراہم کرتا ہے اور اپنی کانفرسوں میں بھی انکو برحق ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر میڈیا کے ذریعے ان کو سپورٹ کیا جاتا ہے ۔ بلوچستان کو یہ تنظیم مقبوضہ علاقہ ظاہر کر رہا ہے بلکہ یہاں تو سندھ کو بھی مقبوضہ اور گلگت بلتستان کو بے شنا خت ظاہر کیا گیا ہے ۔ پاکستان ایک آ زاد اور خود مختار ملک ہے جس میں مختلف قو میتیں بستی ہیں جو مختلف زبانیں بولتی ہیں لیکن ان کے درمیان ایک مظبوط رشتہ موجود ہے اور وہ ہے’’ اسلام‘‘ جس میں کوئی دوسرے سے پیچھے نہیں پھریہ تمام صوبے اور علاقے ایک دوسرے سے زمینی طور پر بھی جُڑے ہوئے ہیں۔ بے شک کہ بلوچستان ترقی میں دوسرے صوبوں سے پیچھے ہے لیکن یہ یاد رکھا جائے کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے اور یہاں کہیں بھی کسی بھی صوبے میں پسماندہ علاقوں کی کمی نہیں لیکن بلوچستان کی بد قسمتی یہ ہے کہ اس میں حکومت اکثر بلوچ سرداروں اور بلو چستان کے بڑے خاندانوں کی ہی رہی ہے جنہوں نے صوبے کی بجائے اپنے خاندان کی خدمت کی ہے ۔ یہاں اگر تعلیم کو ہی لیا جائے تو اس کی گھمبیر صورت حال کے لیے بھی یہی لوگ ذمہ دار ہیں کہ خود یہ سردار ایچی سن ، آکسفورڈ اور کیمبرج سے پڑھتے ہیں لیکن حکومت میں رہنے کے باوجود بلوچستان میں کوئی بڑا اور اچھا سکول کھولنے کی کوشش تک نہیں کرتے کیونکہ اسطرح رعایا کے پڑھنے لکھنے سے ان کی سرداری خطرے میں پڑتی ہے۔ بلوچستان کے حالات کے لئے حکومتیں اگر ذمہ دار ہیں تو خود سرکردہ بلوچ بھی کچھ کم ذمہ دار نہیں اور سچ یہ ہے کہ کسی بھی سطح پر بلوچستان کے مسائل کے لئے سنجیدہ کوشش کرنے کے بجائے اپنی سیاست ہی چمکائی جا رہی ہے اور یہ بالکل نہیں سوچا جا رہا کہ ہم خود کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ حیرت تو اس بات پر بھی ہے کہ ہماری حکومت بھی اس قسم کی تنظیموں پر نہ تو اس طرح نظر رکھ رہی ہیں جیسے کہ ضرورت ہے اور نہ ہی اُن کو کاونٹرکرنے کی کوشش کی جارہی ہیں اور یوں یہ دُشمن قوتیں بلا خوف و خطر اپنی گھناؤنی کوششوں میں مصروف ہیں اور مزید یہ کہ ان اداروں اور ان کی رپورٹوں کو ہمارا ’’آزاد میڈیا‘‘کوریج دے کر مزید شہہ دیتا ہے ۔ یو این پی اواور اس جیسی کسی دوسری تنظیم کو کسی بھی بین الا قوامی قانون کے تحت یہ حق حاصل نہیں کہ ہمارے قومی معاملات میں مداخلت کرے ۔ یو این پی اوکی اپنی کوئی قانونی یا مسلمہ حیثیت نہیں لیکن جو لوگ اس تنظیم کو استعمال کر رہے ہیں ان تک پہنچ اور ان سے شدید او ر موثر احتجاج کرنا ضروری ہے۔ ان تنظیموں کی فلاحی کاموں کی آڑ میں جاسوسی اور ملک دشمن سر گرمیوں پر نظر رکھنا بھی انتہائی اہم ہے ۔ دشمن صرف را، موساد، سی آئی اے اور دوسری خفیہ ایجنسیاں نہیں بلکہ یہ غیر سرکاری تنظیمیں بھی ہیں کہ یہ اُن ہی کے ایجنڈے پر کام کرتی ہیں اور اُن کی طرح خفیہ نہیں بلکہ ببانگ دہل کرتی ہیں۔ ان کا توڑ بھی ضروری ہے ورنہ قوم کی رگوں میں ان کا اُتارا ہوا زہر اگر سرائیت کر گیا تو کسی بھی دوسرے زہر سے زیادہ خطر ناک ہو گا۔ ہیگ میں بیٹھی ہوئی یہ تنظیم نہ تو بلوچوں کے غم میں مبتلا ہے نہ سندھیوں کے اور نہ بلتیوں اور گلگت کے لوگوں کے بلکہ ان کا مکروہ ایجنڈا پاکستان اور تیسری دنیا کے غریب ملکوں کو مغرب کی جاگیر بنانا ہے۔ لہٰذا ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لئے عوام ، حکومت ، عدالتوں ، فوج ، میڈیا اور خفیہ اداروں غرض ہرایک کو اپنے کان اور آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی تاکہ ہم ان کے شر سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔

1,273
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 10
Loading...