دنیا میں سب سے بڑی اقلیت بھارتی مسلمان، اکثر اوقات بھارتی اکثریت یعنی ہندؤں کے نشانے اور زد پر رہتے ہیں ۔ وہ ایک بڑی آبادی ہیں اور بظاہر ہندوستان یہ تاثر دیتا ہے کہ وہ ایک سیکولر ملک ہونے کی وجہ سے اپنی اقلیتوں کو تمام حقوق دیتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ انہیں ہندو شدت پسندوں سے تحفظ تک فراہم نہیں کر سکتا اورمسلم کش فسادات بھارت میں کوئی خاص واقعہ ہی نہیں ہوتا۔ اتر پردیش میں واقع ضلع مظفر نگر کے مسلمان بھی اگست اور ستمبر 2013 میں ایک ایسے ہی واقعے کا شکار ہوئے جب مقامی ہندو آبادی نے اُن کے اوپر دھاوا بولا ،درجنوں مسلمان شہید کر دیئے گئے اور درجنوں دیہات اور آبادیوں میں مسلمانوں کے گھروں اور املاک کو جلا دیا گیا ۔جب یہ مسلمان وہاں سے بھاگے تو بھی ان کے ساتھ ہر ظلم کیا گیا، لڑکیوں اور عورتوں کی اجتماعی بے حرمتی کی گئی بچوں تک نشانہ بنایاگیا ۔حکومت کو حالات کنٹرول کرنے کے لیے دس ہزار فوجی بھیجنا پڑے لیکن تب، جب مسلمان اپنی جانوں، مالوں اور گھروں سے محروم ہو چکے تھے ہاں یہ ضرور کیا گیا کہ انہیں کیمپوں میں منتقل کر دیا گیا لیکن یہاں ایک بار پھر اُنہیں بے یار و مدد گار چھوڑ دیا گیا اور شاملی اور مظفر نگر کے یہ باسی مختلف کیمپوں میں موسم اور حالات کی سختی کا شکار ہو کر حالات کی ستم ظریفی پرنو حہ کناں رہے اور جب سرد موسم سے شکست کھا کر بارہ بچے اپنی جانوں کی بازی ہار گئے تو ایک سرکاری اہلکار نے دنیا والوں کی معلومات میں بڑا سنگدلانہ اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ سردی سے بھی کبھی کوئی مرا ہے یہ مرنے والے نمونیا سے مرے ہیں سردی سے نہیں کیونکہ یہ سائبریا نہیں ہے یعنی ایک اور ہندو دہشت گرد ان متاثرین پر حملہ آور ہوا۔ لیکن ساتھ ہی بھارت نے اپنا فرض اولین بھی نہیں چھوڑا یعنی کسی نہ کسی طرح پاکستان کو اس معاملے میں بھی شامل کر لیا ۔ ابتدائی واقعات چونکہ کچھ ایسے واضح تھے کہ وہ یہ کام نہیں کر سکا تاہم وہ اپنے فرض سے غافل بھی نہیں تھا اور آخر اس نے آئی ایس آئی کو اس معاملے میں کسی نہ کسی طرح گھسیٹ ہی لیا۔ ان فسادات کے متاثرین کے حالات سے بے خبر دہلی پولیس نے دو آئمہ مساجد کو گرفتار کیا اور الزام لگایا کہ اُن کے لشکرِ طیبہ سے رابطے ہیں۔ دہلی سپیشل پولیس سیل کے کمشنر ایس این سری و ستوا نے کہا کہ لشکرِ طیبہ مظفر نگر کے متاثرین کو بہلا پھسلا کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے اور انہیں فسادات کا بدلہ لینے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے اورلشکرِ طیبہ کے شاہد اور راشدی اور ان کے ساتھیوں نے لیاقت اور ضمیر نامی اشخاص سے ملاقات کی ہے۔ شری صاحب نے ایک اور بودا انکشاف یہ بھی کیا کہ ضمیر سے کہا گیا کہ وہ اغوا برائے تاوان کی کچھ وارداتیں کر ے تاکہ یہ پیسہ مسجد کی تعمیر کے لیے استعمال ہو۔ یہاں کہانی میں کافی جھول ہے کیونکہ مسجدوں کی تعمیر مسلمان اللہ پر توکل کرکے شروع کرتا ہے اور پھر ہر مسلمان اس تعمیر کی تکمیل کو اپنا فرض سمجھنے لگتا ہے اور کوئی مسلمان یہ جملہ کہنا تو درکنار سننا بھی نہیں چاہتا کہ اغوا برائے تاوان کے پیسوں سے مسجد بنائے ، اس کے لیے اغوا برائے تاوان کی بجائے کوئی بھی دوسرا بہانہ شاید زیادہ مناسب ہوتا۔
بھارت میں مسلمان بالخصوص اور دوسری اقلیتیں بالعموم جن حالات میں رہ رہے ہیں اُن میں انہیں بہکانے کے لیے کسی اور کی ضرورت ہی نہیں ہے خود شدت پسند ہندؤں کا رویہ ہی یہ کام آسانی سے سر انجام دے دیتا ہے۔ 23 فروری کو بھارت کے ایک اردو اخبار میں ہرش مندر نے اپنے مضمون’’ فرقہ وارانہ فسادات بل۔۔۔۔ حکومت بھی سنجیدہ نہیں‘‘ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا کہ بھارت کے ہر مسلمان کی کہانی کے کسی نہ کسی سر ے پر کہیں نہ کہیں فسادات ضرور ہیں، وہ جب اپنی عمر بھرکی پونجی لٹا کر اُسے دوبارہ بناتا ہے تو پھر وہ لوٹ لی جاتی ہے۔
ایک اور اخبار کی ایک خبر کے مطابق ضلع شاملی کے گاؤں بہاوڑی میں کرنل ناہر سنگھ نے کہا ’’سبھی مسلمان ملک کے غدار ہیں انہیں ملک سے باہر نکال دیا جائے‘‘۔ نریندر سنگھ مودی کی مسلمان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی تو نہیں لیکن جب وہ کھلم کھلا کہے گا کہ ہم صرف ہندؤں کے ذمہ دار ہیں تو بھارت کا مسلمان خود ہی بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اسے یہ سوچ دینے کے لیے نہ کسی آئی ایس آئی کی ضرورت ہوگی نہ کسی لشکرِ طیبہ کی۔ لہٰذا بھارت دوسروں پر الزامات عائد کرنے کے بجائے اپنے مجرم خود اپنے اندر تلاش کرے ۔ مظفر نگر کے باسیوں نے اپنے گھروں کو جیسے برباد ہوتے اور اپنوں کا خون بہتے دیکھا ہے اور پھر کیمپوں میں جس کسمپر سی کے عالم میں وہ رہ رہے ہیں کیا یہ کہانی کوئی اور جا کر انہیں سنائے گا اور کیا کوئی اور انہیں بتائے گا کہ وہ مظلوم ہیں۔ بھارت حکومت کے لیے اپنے فرائض سے سبکدوشی اور صرف نظری کا سب سے آسان طریقہ ہر واقعے میں پاکستان کو ملوث کرنا ہے ۔ وہ مسلمانوں کی پسماندگی، اُن کی غربت اور ان کی زبوں حالی پر اگر غور کرتی تو شاید اس کے اور مسلمانوں کے حق میں بھی بہتر ہوتا۔ کشمیر کی نگینہ اختر اور لالی زمان جب دہلی کو دیکھ کر ششدر رہ جائیں گی کہ اُن کے کشمیر جنت نظیر اور دہلی کے گنجان آباد شہر میں ترقی کا کتنا فرق ہے تو وہ اپنے ملک اور حکومت کے بارے اپنے جو خیالات بنائیں گی وہ کسی لشکرِ طیبہ کے محتاج نہیں اور نہ ہی پاکستان کی آئی ایس آئی کو اُن پر کام کرنا پڑتا ہے۔ بھارت جس دراندازی کا رونا ساری دنیا میں روتا ہے اُس کی جڑیں خود اُس کے اپنے ملک میں پھوٹتی اور پنپتی ہیں۔ مسلما نوں کے خلاف تعصب جب مسلمانوں کو نظر آئے گا تو ظاہر ہے وہ اس کے خلاف احتجاج ضرور کریں گے اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ نہ صرف متعصب ہندؤں بلکہ متعصب حکومت کے بھی زیر عتاب رہتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بھارت کے ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان ترقی کا ایک بہت بڑا فرق موجود نہ ہوتا نہ ہی وہ تعلیم میں پیچھے رہتے اور نہ ہی نوکریوں میں۔ دراصل بھارت دنیا دکھاوے کو تو قوانین بھی بنالیتا ہے اور دوچار مسلمانوں کو کسی عہدے پر فائز بھی کر دیتا ہے لیکن مسلمان حقیقت میں حکومتی مراعات سے بہت کم فیض یاب ہوتے ہیں۔ بھارت کے لیے بہتر یہی ہے اور مظفر نگر کے مسئلے سمیت دوسرے مسائل کا حل بھی یہی ہے کہ وہ اپنی اقلیتوں کو وہ حقوق ضرور دے جو بحیثیت انسان اور بحیثیت بھارت کے شہری ان کا حق ہے۔ جو تخصیص اب وہ برت رہا ہے اور جس طرح سے مسائل سے انکار کر کے انہیں پاکستان کے کھاتے میں ڈال رہا ہے اگر وہ اپنا یہی رویہ اسی طرح بر قرار رکھے گا تو وہ کسی بھی طرح اِن نسلی و مذہبی مسائل پر قابو نہ پا سکے گا جو دنیا میں اُس کی پہچان ہیں۔

1,199
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...