یوں تو بلوچستان کے نام نہاد قوم پرست عناصر وفاق اور خاص طور پر پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لیکن گذشتہ دنوں 25جنوری 2014ء کو اس حوالہ سے ایک انتہائی مذموم حرکت مشاہدہ کی گئی ۔ان عناصر کی جانب سے اس خبر کی پرزور الفاظ میں مذمت کی گئی کہ خضدار کے علاقہ ٹوٹک سے 150افراد کی اجتماعی قبروں کا سراغ ملا ہے ۔اس کے ساتھ ہی یہ گمراہ کن اور اشتعال انگیز شوشہ بھی چھوڑا گیا کہ یہ 150افراد دراصل لاپتہ افراد تھے۔ ظاہر ہے کہ اس کا مقصد عالمی سطح پر بلوچستان کو انسانی حقوق کے حوالہ سے ایک مسئلہ بنا کر پیش کرنا تھا تا کہ یہ عناصر اپنے مفادات حاصل کر سکیں ۔ 29جنوری 2014ء کو ہربیار مری ، میر سلیمان خان داؤد اور اس کے ایک معاون محراب سرجوونے امریکی کانگریس کے ارکان (لوئیس گومرتھ ، سٹیو کنگ ، ڈانا روہرہ باچر) سے لندن میں ملاقات کی ۔اس ملاقات کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ بلوچستان میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالہ سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کو مزید ہوا دی جائے۔
اس ملاقات کے فوراً بعد یعنی 30جنوری کو رکن کانگریس لوئی گومرتھ نے امریکی ایوان نمائندگان میں بلوچستان کی صورت حال کے حوالہ سے نہایت تند و تیز لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے اظہار خیال کیا اور بی ایس این کی قیادت کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ بھی دیا ۔ یہ تقریر امریکہ میں کیبل سیٹلائٹ پبلک افیئرز نیٹ ورک پر براہ راست نشر کی گئی۔ سینیٹر موصوف نے کینیڈا میں مقیم بی ایس این کے ایک حامی طارق فتح کا وہ مضمون بھی پڑھ کر سنایا جو 28جنوری 2014ء کو ’’ٹورنٹو سن‘‘ میں شائع ہوا تھا ۔ اس مضمون میں امریکی حکومت کو اس بناء پر ہدف تنقید بنایا گیا کہ امریکی وزیر خارجہ سینیٹر جان کیری نے 27جنوری 2014ء کو پاکستان کے مشیر برائے قومی و خارجہ امور،سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات کے دوران اجتماعی قبروں کے معاملہ کو نظر انداز کیا تھا ۔ سینیٹر گومرتھ نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے حوالہ سے پاکستان پر کڑی تنقید کی اور بی ایس این سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسندوں کے اس ایجنڈا کی حمایت کی جو وہ آزاد بلوچستان کے ضمن میں رکھتے ہیں۔
یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی کہ بی ایس این سے تعلق رکھنے والے عناصر نے بعض امریکی اراکین کانگریس کی حمایت اور تعاون سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم شروع کر رکھی ہے جس کا مقصد نہ صرف اپنی اہمیت اور ساکھ میں اضافہ کرنا ہے بلکہ پاکستان کی حکومت پر دباؤ بڑھانا اور بلوچ مسئلہ کو بین الاقوامی سطح پر اچھالنا ہے ۔ اسی مہم کے تحت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام درخواستیں بھی روانہ کی جا رہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے بلوچستان میں مبینہ نسل کشی کا سلسلہ بند کرائے اور اس مسئلہ کی تحقیقات بھی کرائے۔ 27جنوری 2014ء کو میر سلیمان خان نے عین اس وقت امریکی دفتر خارجہ میں ایک درخواست جمع کرائی جب امریکی وزیر خارجہ سینیٹر جان کیری کو پاکستان کے مشیر برائے قومی و خارجہ امور سرتاج عزیز سے ملاقات کرنا تھی ۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈہ کرنے کے ساتھ ساتھ بی ایس این کے کارکن دنیا کے اہم شہروں کی قابل ذکر عمارتوں کے سامنے اور عوامی مقامات پر ریلیاں بھی نکال رہے ہیں تا کہ وہ اپنے مؤقف کو نمایاں اور اجاگر کر سکیں ۔
بی ایس این کی طرف سے جو پروپیگنڈہ مہم شروع کی گئی ہے اس میں اجتماعی قبروں کے مسئلہ کو اچھالتے ہوئے اس کی ذمہ داری خفیہ ایجنسیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف سی پر عائد کی جا رہی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان کو بھی ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ اخلاقی بنیادوں پر اس ضمن میں بی ایس این کے کارکنوں کو حمایت اور امداد میسر آ سکے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی اراکین کانگریس کی فراہم کردہ حمایت اور حوصلہ افزائی کو بی ایس این کے کارکن اپنی ساکھ میں اضافہ کرنے اور علیحدگی پسندی کے سلسلہ میں بین الاقوامی سطح پر حمایت کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ مذکورہ بالا امریکی اراکین کانگریس (لوئی گومرتھ ، سٹیو کنگ ، ڈانا روہرہ باچر)اپنی پاکستان دشمنی ، مشکوک نظریات اور دوغلے کردار کے سبب مخصوص شہرت رکھتے ہیں چنانچہ ایسے افراد سے رابطہ کر کے بی ایس این کے کارکن دراصل اس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ وہ ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔
جہاں تک خضدار کے علاقہ ٹوٹک میں 150افراد کی اجتماعی قبروں کے حوالہ سے حقائق کا تعلق ہے تو اس باب میں صرف یہ نشاندہی کافی ہے کہ خضدار کے ڈپٹی کمشنر نے سپریم کورٹ میں بیان دیا کہ مذکورہ تعداد صرف 13تھی اور ان 13افراد کی شناخت کے لئے فرانزک شواہد اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔ بی ایس این اس مسئلہ کو محض اس لئے اچھالنے میں مصروف ہے تا کہ اس سے ذاتی مفادات حاصل کئے جا سکیں ۔ جہاں تک اس دعویٰ کا تعلق ہے کہ بلوچ عوام وفاق سے بیزار ہیں یا وہ آزاد بلوچستان کے حامی ہیں تو اس مضحکہ خیز اور گمراہ کن دعویٰ کی قلعی یوں کھل جاتی ہے کہ بلوچستان میں حال ہی میں بلدیاتی الیکشن منعقد ہوئے جن میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے نہایت جوش و خروش اور دلچسپی سے حصہ لیا ۔ قبل ازیں عام انتخابات کے نتیجہ میں صوبہ میں ایک سول حکومت قائم ہوئی جو کامیابی کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔
یہ حقیقت اپنی جگہ قابل توجہ اور فکر انگیز ہے کہ رقبہ کے اعتبار سے وطن عزیز کے سب سے بڑے صوبہ یعنی بلوچستان کو اقتصادی ، معاشی ، سماجی اور ترقیاتی سطح پر بعض ایسے مسائل درپیش ہیں جو فوری توجہ کے مستحق ہیں اور ان مسائل کا حل ناگزیر ہو چکا ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ان مسائل کے سبب اور حالات کے نتیجہ میں صوبہ کے عوام علیحدگی کے خواہاں ہیں۔ بلوچ عوام روایتی طور پر غیرت مند ، شجاع ، غیور اورمحب وطن ہیں۔ انہوں نے گذشتہ 65برسوں کے دوران وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار نہایت ذمہ داری اور استقامت کے ساتھ ادا کیا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ بلوچ عوام نے قیام پاکستان کے وقت بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ سیاسی رفاقت اور پاکستان دوستی کا جو عزم کیا تھا ، وہ اس پر آج بھی قائم ہیں ۔ سیاسی تناظر میں بلوچ عوام نے بجا طور پر جمہوری طرز فکر و عمل کو جلا بخشی اور اس سلسلہ میں کسی قربانی سے گریز نہیں کیا ۔
بلوچستان کے مسئلہ کو بعض عناصر جس انداز میں بیرون ملک اپنے حواریوں کی مدد سے اچھالنے میں مصروف ہیں اس سے یہ حقیقت بہرحال اجاگر ہوتی ہے کہ جن بین الاقوامی طاقتوں کی حریصانہ نگاہیں بلوچستان کے معدنی وسائل اور جغرافیائی محل وقوع پر مرکوز ہیں وہ ہی ان عناصر کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں جو واقعات رونما ہوئے ان کی تفصیل اسی حقیقت کی گواہ ہے۔غیر جانبدار اور حقیقت پسند مبصرین کا معروضی تجزیہ یہی ہے کہ افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کی واپسی کے بعد پاکستان اور ایران کے حالات خطہ میں امن کے قیام کے سلسلہ میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ اس تناظر میں اس حقیقت کی اہمیت میں اضافہ ہو جاتا ہے کہ بلوچستان کا علاقہ اپنی جغرافیائی ، تہذیبی، ثقافتی اور لسانی اعتبار سے پاکستان اور ایران کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔
بلوچستان کے عوام کو اگر سیاسی سطح پر شکایات ہیں تو ان کا ازالہ کیا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلہ میں اسلام آباد نے ہمیشہ فراخدلی اور حقیقت پسندی کے ساتھ اقدامات کئے ہیں ۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کی بھرپور کوشش ہے کہ بلوچ عوام کا وہ احساس محرومی (جو ماضی کے غلط فیصلوں اور اقدامات کا قدرتی رد عمل ہے )ختم کیا جائے ۔ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ ایسے اقدامات کے نتیجے میں ہی ان مٹھی بھر عناصر کے عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے گا جو خاکم بدہن آزاد بلوچستان کا نعرہ لگاتے ہیں، بیرون ملک سبز ہلالی پرچم کی توقیر پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور محض اپنے سطحی اور ذاتی مفادات کے لئے پاکستان دشمنی کا راستہ اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ ان نام نہاد قوم پرست عناصر کو یقینی طور پر یہ احساس اور شعور نہیں ہے کہ بلوچ عوام پاکستان کے ساتھ گہری نظریاتی بلکہ جذباتی وابستگی رکھتے ہیں ۔ وہ پاکستان کو متحد اور مضبوط دیکھنے کے حامی اور متمنی ہیں اور اس ضمن میں وہ اپنا قومی کردار نہایت قابل تحسین انداز میں ادا کر رہے ہیں۔ ایسے میں سول سوسائٹی ، میڈیا اور رائے عامہ تشکیل دینے والے اداروں اور شخصیات کا اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ مذکورہ نام نہاد قوم پرست عناصر کے گمراہ کن اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کا جواب دیں اور محب وطن بلوچ عوام کے مسائل کے حل کی خاطر کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کریں۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ناکامی ، مایوسی اور رسوائی یقینی طور پر بلوچستان کے نام نہاد قوم پرست عناصر کا مقدر بنے گی ۔

1,054
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...