ہر کوئی جانتا ہے کہ وطن عزیز میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے جو واقعات رونما ہوتے ہیں ان میں گاہے کئی ’’خفیہ ہاتھ ‘‘اس مہارت اور صفائی کے ساتھ اپنا کام دکھاتے ہیں کہ ان کا کوئی نام و نشان اور شناخت دکھائی نہیں دیتے۔ ہمارے دشمن اپنے حساس اداروں اور نیٹ ورک کی مدد سے ہمارے خلاف سازشوں کے ایسے پیچیدہ اور دکھائی نہ دینے والے جال بنتے ہیں کہ عام سادہ لوح شہری اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ دشمن کے ایجنٹ روپ بدل بدل کر ایسی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں جن سے رائے عامہ متاثر ہوتی ہے اور وقت آنے پر دشمن کو اپنی مذموم کارروائیوں کو نتیجہ خیز بنانے میں معاونت میسر رہتی ہے۔ دشمن کے ایجنٹ اگرچہ انتہائی چالاکی اور مکاری کے ساتھ اپنے مذموم عزائم کو حاصل کرنے کے لئے متحرک اور سرگرم رہتے ہیں لیکن ان کی گردن دبوچنے اور ان کی سرگرمیوں کو ناکام بنانے کے لئے ذمہ دار قومی ادارے بھی ہمہ وقت چوکس اور مستعد رہتے ہیں۔ گاہے ان قومی اداروں کی کارکردگی اور کامیابیوں کو میڈیا میں نمایاں کوریج حاصل نہیں ہوتی جس کے باعث عام شہری ان سے بڑی حد تک بے خبر ہی رہتے ہیں۔
قومی امور کا مطالعہ اور مشاہدہ کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کی بجا طور پر شدید خواہش ہے کہ اس کے تعلقات پڑوسی ممالک کے ساتھ پرامن اور باوقار ہوں ۔ مجموعی طور پر اس حوالہ سے صورت حال نہایت اطمینان بخش ہے لیکن جب معاملہ بھارت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کا ہوتا ہے تو احوال قدرے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ موجودہ حکومت کی روز اول سے ہی کوشش رہی کہ نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کو برابری کی سطح پر اور پر وقار انداز میں آگے بڑھایا جائے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے ہر موقع پر دو ٹوک اور واضح الفاظ میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ دوستی کے داعی ہیں ۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو پاکستان کا دورہ کرنے کی سرکاری طور پر دعوت بھی دی۔ ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو بھارت کے ساتھ دوستی کو وسعت دینے اور باہمی اختلافات کو فراموش کر کے بہتر مستقبل کی امید کو یقین میں تبدیل کرنے کے پرجوش حامی ہیں۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ تجارت ، سفارت اور اقتصادیات کے شعبوں میں بھارت کے ساتھ تعاون کا دائرہ مزید بڑھایا جائے البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر قیام امن اور دوستی کے لئے کی گئی کوئی بھی کوشش حقیقی معنوں میں کامیاب اور سود مند ثابت نہیں ہو سکے گی۔
بھارت کی سیاسی قیادت اپنے طور پر پاکستان کے ساتھ دوستی اور امن کے جو دعوے کرتی ہے وہ اس وقت نقش برآب ثابت ہوتے ہیں جب بھارت کی عسکری قیادت کے ’’کرتوت‘‘ بے نقاب ہوتے ہیں۔ ماضی قریب میں ایک بھارتی جرنیل نے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں یہ حیرت انگیز انکشاف کیا تھا کہ موصوف نے اپنی حکومت کی منظوری حاصل کئے بغیر پاکستان کے خلاف کارروائی کے منصوبے بلکہ سازش پر عمل کیا تھا ۔ ایسے واقعات بھی شنید رہے کہ بھارت کے حساس اداروں نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ۔ اس ضمن میں بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی حوصلہ افزائی اور مالی امداد کا سلسلہ صیغہ راز میں نہیں رہ سکا ۔ افغانستان میں بھارت نے پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ تقریباً 9قونصل خانے قائم کر رکھے ہیں ۔ اس بارے کوئی شک و شبہ نہیں کہ غیر ضروری طور پر قائم کئے گئے ان سفارتی دفاتر کے عملہ میں زیادہ تعداد بھارتی حساس اداروں کے اہلکاروں کی ہے اور یہاں پر ان سادہ لوح پاکستانی نوجوانوں کو تربیت اور امداد دی جاتی ہے جو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے گمراہ کن پروپیگنڈہ کا شکار ہو کر اپنے احساس محرومی کی تشفی کے لئے وہاں تک جا پہنچتے ہیں۔ بھارت کی اس مداخلت کے شواہد قومی اور بین الاقوامی سطح پر نہایت فکر انگیز پہلو اجاگر کرتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت کے عسکری اور خاص طور پر حساس ادارے ایسی سازشوں کی تیاری میں بھی ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں جن کا مقصد پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو دہشت گردی کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کرنے کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر رسواء اور بدنام کرنا ہے ۔ نئی دہلی کی بدنیتی کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر تجارت کی سہولت کو بھی اپنے عسکری مفادات کے حصول اور حساس اداروں کی ریشہ دوانیوں کو کامیاب بنانے کے لئے استعمال کر رہا ہے ۔ اس کا ایک نہایت کھلا اور بین ثبوت اس وقت سامنے آیا جب 10جنوری 2014ء کو آزاد کشمیر میں چکوٹھی کراسنگ پوائنٹ پر سیکورٹی کے اہلکاروں نے معمول کی چیکنگ کے دوران 2 ایسے کارٹن برآمد کئے جن میں فوجی یونیفارم میں شامل 64جرسیاں موجود تھیں۔ یہ کارٹن اس ٹرک پر لادے گئے تھے جو کوہالہ(مظفر آباد) کے رہائشی نعیم عباسی کا سامان لے کر جا رہا تھا ۔نعیم نے انکشاف کیا کہ یہ ٹرک دراصل لاہور سے تعلق رکھنے والے سبحانی کا سامان لے کر مقبوضہ کشمیر میں سری نگر میں واقع کنگ انٹرپرائزرز کی طرف جا رہا تھا۔ اس کمپنی کا مالک ہلال احمد خان ہے جو مقبوضہ کشمیر کا باشندہ ہے ۔ اس نے مزید بتایا کہ راجہ شاہین نامی شخص جو ہلال احمد خان کا کزن ہے، راولپنڈی کی پی ڈبلیو ڈی کالونی میں کرائے کے ایک مکان میں رہائش پذیر ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ راجہ شاہین نے مقبوضہ کشمیر سے نقل مکانی کی ہے ۔ تقریباً تین ماہ قبل ہلال احمد خان نے پاکستان کا دورہ کیا تھا ۔ وہ واہگہ کے راستے پاکستان پہنچا تو واہگہ بارڈر پر اس کو سبحانی نے خوش آمدید کہا تھا۔ اپنے قیام کے دوران ہلال احمد خان نے اپنے کزن راجہ شاہین کے ساتھ تقریباً ایک ماہ کا عرصہ راولپنڈی میں گزارا۔ پولیس نے مقبوضہ کشمیر کے ایک رہائشی ظہور نامی شخص کا سراغ بھی لگایا ہے جو چکوٹھی کراسنگ پوائنٹ سے یونیفارم مقبوضہ کشمیر بھیجا کرتا تھا ۔ اس شخص کو لاہور کے دہلی گیٹ میں پاک فوج کے یونیفارم کی بعض اشیاء کی خریداری کرتے دیکھا گیا تھا اور بعد ازاں اس سے پاک فوج کی 100جرسیاں، 6پیٹیاں اور یونیفارم کی دیگر اشیاء برآمد کی گئی تھیں۔ اس کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ کئی مرتبہ لاہور آ چکا ہے ۔ اس کی سری نگر (مقبوضہ کشمیر ) میں ایک دکان ہے ۔ ظہور کو 11جنوری 2014ء کو واہگہ کے راستے بھارت واپس یعنی ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا ۔
اس تشریح اور تفصیل کی ضرورت نہیں ہے کہ اگر 10جنوری 2014ء کو پاک فوج کی یونیفارم اور اس سے متعلق اشیاء چکوٹھی کراسنگ پوائنٹ سے مقبوضہ کشمیر کو بھیجنے میں کامیابی ہو جاتی تو اس کے سنگین نتائج بر آمد ہوتے ۔ پاکستان کے مخالف اور دشمن اداروں کو پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع مل جاتا اور وہ اس کو دہشت گرد سرگرمیوں سے منسوب کر دیتے۔ ماضی میں ایسا متعدد بار ہو چکا ہے کہ بھارتی حکام نے کسی پاکستانی شہری کو گرفتار کر کے اس پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ بھارتی حکام کی خواہش اور ہدایت کے مطابق یہ بیان دینے پر مجبور ہو گیا کہ اس کو پاکستان کی حکومت نے جاسوسی یا تخریب کاری کے لئے بھارت بھیجا تھا ۔ ایسے واقعات کی بھی کمی نہیں جن میں بھارتی حساس ادارے یوں ملوث پائے گئے کہ انہوں نے سادہ لوح اور بے گناہ پاکستانی شہریوں کو سال ہا سال تک قید تنہائی کے عذاب سے دو چار کئے رکھا ۔ اس ضمن میں تازہ ترین واقعہ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے شوکت علی کا ہے جو 2011ء میں غلطی سے سرحد پار کر گیا اور بھارتی حکام نے اس کو گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیا ۔ گذشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کی امبھ پھالہ جیل میں شوکت علی کی موت واقع ہو گئی ۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ شوکت نے پھندہ لگا کر خودکشی کی لیکن شوکت کے والد کا اصرار ہے کہ اس کا بیٹا خودکشی نہیں کر سکتا بلکہ اس کے بیٹے کو جیل حکام نے ہلاک کیا ہے ۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس واقعہ پر اظہا ر تشویش کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔
یہ واقعات دراصل اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ دوستی اور قربت کی جس خواہش کا اظہار کیا جاتا ہے وہ درحقیقت ’’بغل میں چھری، منہ میں رام رام ‘‘ کی عملی تشریح ہے ۔ بھارت کے حساس اداروں کی بھرپور کوشش ہے کہ ایک طرف تو پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے رجحانات کو ہوا دی جائے تا کہ داخلی طور پر بدامنی ، انتشار اور افراتفری کا ماحول پیدا ہو سکے ۔ دوسری طرف ایسے واقعات کی ترتیب اور تشکیل کو یقینی بنایا جائے جن سے بین الاقوامی سطح پر اس جھوٹ کو سچ ثابت کیا جائے کہ پاکستان دہشت گردی کا حامی اور سرپرست ہے ۔ بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر 10جنوری 2014ء کو چکوٹھی کراسنگ پوائنٹ سے پاک فوج کی یونیفارم کی جرسیاں اور دیگر سامان سری نگر سمگل کرنے کی کوشش کامیاب ہو جاتی تو اس سامان کو ثبوت کے طور پر پیش کر کے نئی دہلی کی طرف سے پاکستا ن کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کو کس طرح ایک اشتعال انگیز مہم کا حصہ بنا دیا جاتا ۔

772
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...