یہ حقیقت اب تاریخ کا ایک مستند اور معتبر حوالہ بن چکی ہے کہ 35برس قبل ایران میں جو اسلامی انقلاب برپا ہوا تھا اس نے معاصر سیاسی ، سماجی ، ثقافتی اور عمرانی رجحانات کا دھارا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تبدیل کر کے رکھ دیا۔ 16جنوری 1979ء کو جب شاہ ایران نے شاہ پور بختیار کو ملک کا نیا وزیراعظم مقرر کرنے کے بعد خود ساختہ جلا وطنی کا سفر اختیار کیا تو ساری دنیا میں اسلامی انقلاب کی امید کی چاپ صاف سنائی دینا شروع ہو گئی تھی اور اس وقت یہ امید ایک واضح یقین کا روپ اختیار کر گئی جب یکم فروری 1979ء کو ایران کے جلا وطن روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی نے واپس اپنے وطن کی سرزمین پر قدم رکھا۔ اس کے دس روز بعد ہی شاہ پور بختیار نے روپوشی اختیار کرلی اور وہ راہ فرار اختیار کر کے پیرس جا پہنچا ۔ادھر یکم اپریل کو ہونے والے ریفرنڈم میں ایران کے عوام کی بھاری اکثریت نے اپنے قائد آیت اللہ خمینی کے اس تصور کو حقیقت کا روپ دیا کہ ایران کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا جائے اور اس سلسلہ میں ایک نیا آئین ترتیب اور تیار کیا جائے ۔
11فروری کو اب ایران کے قومی دن اور یوم اسلامی انقلاب کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے ۔ اس روز دنیا بھر میں ایران کے عوام اور ان کے دوست عوام نہایت جوش و خروش سے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات اور قوانین کے نفاذ کے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پرامن جمہوری اور سیاسی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ دنیا کے سامنے ایک ایسے اسلامی نظام کا عملی نمونہ پیش کیا جائے گا جو دین مبین کے ابدی اور عالمگیر اصولوں کا آئینہ دار ہو گا ۔ مبصرین کے نزدیک یہ حقیقت نہایت فکر انگیز سیاسی موضوع کی حیثیت اختیار کر چکی ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب محض ایک نظریاتی خواب نہیں بلکہ یہ عملی اور اطلاقی سطح پر جیتی جاگتی تعبیر کے روپ میں ساری دنیا کے سامنے ہے ۔
اسلامی انقلاب سے اب تک 35 برس کے اس عرصہ میں ایران کے عوام نے کئی اہم اور تاریخی سنگ میل عبور کئے ہیں ۔ ان میں امریکہ کے ساتھ سفارتی اور سیاسی سطح پر محاذ آرائی ، عراق کے ساتھ طویل جنگ ، ایران کے ایٹمی پروگرام کی کامیاب پیش رفت ، نظریاتی حریف ریاستوں اور طبقات کے ساتھ مسابقت اور اسلامی انقلاب کے اغراض و مقاصد کے حصول کے باب میں مسلسل جدوجہد قابل ذکر ہیں۔ ایرانی عوام نے اپنے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی کی شخصیت ، خدمات ، کردار، نظریات اور افکار کو ایک ایسی بلند و بالا سطح پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ دنیا بھر کے ارباب فکر و دانش کی توجہ، تحسین اور تقلید کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ آیت اللہ خمینی اب محض ایک تاریخ ساز شخصیت ہی نہیں رہے بلکہ وہ ایک طرز احساس او رتحریک کا مقام حاصل کر چکے ہیں اور آج کا ایران دراصل امام خمینی کی تعلیمات اور فلسفہ کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
اسلامی انقلاب کے نتیجہ میں ایران کے ملک و قوم نے مثالی انداز میں ترقی کرتے ہوئے جو ثمرات حاصل کئے ان کا مکمل احاطہ کرنا یہاں پر شاید ممکن نہ ہو گا البتہ یہ نشاندہی ضرور کی جا سکتی ہے کہ تعلیم ، صحت ، بجلی و انرجی، زراعت ، گیس و تیل، کیمونیکیشن ، رفاہ عامہ ، ماحولیات، معیشت ، دفاع، کھیل و ثقافت ، صنعت و حرفت ، نقل و حمل اور معدنیات کے شعبوں میں جو ترقی کی منازل طے کی گئیں، وہ اب دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے لئے قابل تقلید اور ترقی یافتہ ممالک کے لئے قابل غور تصور کی جاتی ہیں۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ تعلیم کے شعبہ میں ایران Free E-courseکی پروڈکشن کے حوالہ سے مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا مرکز ہے ۔ ایرانی مقالات کی تعداد 2011ء میں 21ہزار مقالہ جات سے تجاوز کر چکی تھی۔ فاصلاتی نظام تعلیم کے شعبہ میں ایران کو عالمی ادارہ SATنے پہلے درجہ پر فائز کیا ہے ۔ اسی طرح عمرانیات کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنسوں میں جو مقالہ جات پیش کئے گئے ان میں سے 25فیصد ایران کے دانشوروں ، تحقیق کاروں اور ماہرین کی علمی و فکری کاوشوں کا نتیجہ تھے۔ ایران میں اس وقت کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبہ کی تعداد 1979ء یعنی انقلاب کی کامیابی سے پہلے کے مقابلہ میں 20گنا زیادہ ہے ۔ اسی طرح معیشت اور اقتصادیات کے شعبہ میں اسلامی بینکاری سے مخصوص سرمایہ کے میدان میں ایران سر فہرست ہے ۔ ٹرانزٹ اکنامکس میں ایران علاقہ میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ اس کو دنیا کی اٹھارہویں اقتصادی طاقت کا درجہ حاصل ہے ۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کو دوسرا بڑا علاقائی ترقی کا مرکز تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اسی طرح سرمایہ کاری کے امکانات کے سلسلہ میں بھی یہ دنیا کے پہلے سات ممالک میں شمار کیا جاتا ہے ۔
صحت کا شعبہ کسی بھی قوم کے مستقبل کے باب میں غیر معمولی اہمیت کا حامل مانا جاتا ہے ۔ اس اعتبار سے جو حقائق سامنے آئے ہیں ان کے مدنظر وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ایران کا مستقبل نہایت روشن اور توانا ہے ۔ ان حقائق کے مطابق سکولوں کے طلباء میں دودھ کی تقسیم کے لحاظ سے ایران دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے ۔ خون سازی کے بنیادی سیلز کی پیوند کاری کے لئے ایران نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے اور 95فیصد سے زائد عمومی حیاتی ادویات ایران ہی میں تیار کی جاتی ہیں۔ اسی طرح ایران نے توکسین بوتو لینوم  میڈیسن تیار کر کے برطانیہ اور امریکہ کی اجارہ داری سے نجات حاصل کر لی ۔ دنیا میں پہلی بار ایرانی ماہرین نے ہی لہریں تقسیم کرنے والا استنت اروک کرونر تیار کیا ۔ ایرانی ڈاکٹر تورا سکوپی کے طریقہ سے بالوں کی آنرزی سرجری کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ اسی طرح ایران ہیپاٹائٹس کے علاج معالجہ کے میدان میں اپنے علاقہ کے ممالک میں سب سے آگے ہے جبکہ دماغ اور اعصاب کی سرجری میں بھی ایران علاقائی ممالک میں پہلے نمبر پر ہے ۔ پلاسٹک سرجری میں ایران کا شمار دنیا کے آٹھ بڑے ممالک میں ہوتا ہے اور ایران میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا عمل 95فیصد تک پہنچ چکا ہے ۔ دنیا میں پہلی مرتبہ ایران میں ہی آنکھوں کی شدید بیماری میں مبتلا افراد کے لئے مصنوعی آنکھ تیار کی گئی ۔
دفاع کے شعبہ میں بھی ایران نے اسلامی انقلاب کے بعد نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ ایران نے پہلا بغیر پائلٹ کے شمسی جہاز تیار کیا ہے ۔فولادی بموں والا ایرانی مقناطیسی اسلحہ بھی بنا لیا گیا ہے جبکہ ایران مکمل خلائی ٹیکنالوجی کے حامل 10ممالک کی صف میں شامل ہو چکا ہے ۔ ایرانی ماہرین نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے انتہائی جدید ترین ’’نور‘‘ میزائل اور زمین سے فضاء میں مار کرنے والا ’’مہراب‘‘ ریڈار میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ اس وقت ایران کثیر تعداد میں کروز میزائل بنا رہا ہے اور اس نے 80میگا پیکس دوربینوں کی ٹیکنالوجی بھی حاصل کر لی ہے ۔ جہاز سازی کی صنعت میں یہ دنیا کے پہلے 20ممالک میں شامل ہو چکا ہے اور اس نے سیٹلائٹ تیار کرنے کی ٹیکنالوجی کے حصول میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے ۔ یہ حقیقت اب کوئی راز نہیں رہی کہ ایران نے تارپیڈو تیار کرنے کی ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے اور وہ S-300کی طرز پر فضائی ڈیفنس سسٹم بھی تیار کر چکا ہے ۔ ایران دنیا کے 18ممالک کو عسکری ساز و سامان بر آمد کرتا ہے اور وہ میزائل سسٹم کی شبیہہ سازی کی پروڈکشن میں خود کفالت حاصل کر چکا ہے ۔
موجودہ دور میں بجلی اور انرجی کے شعبہ میں پیش رفت کے بغیر کوئی ملک ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا ۔ اس تناظر میں ایران کے احوال انتہائی حوصلہ افزاء ہیں۔ یہ دنیا میں بجلی پیدا کرنے والا 15واں بڑا ملک ہے اور ایرانی ماہرین ایک ایسا بجلی گھر قائم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جو شمسی اور ہوائی بجلی کا مرکب ہے ۔ اسی طرح بجلی کی صنعت میں ایران دنیا میں تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے اور اس نے شمسی بجلی گھروں کی تعمیر کے سلسلہ میں مطلوبہ ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے ۔ بو شہر کا ایٹمی بجلی گھر اس اعتبار سے اب منفرد مقام حاصل کر چکا ہے کہ یہاں پر ایران کے ایٹمی پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے مراحل طے کئے جاتے ہیں۔ دنیا میں پہلی مرتبہ الیکٹرانک چارج فائبر بھی ایران ہی میں تیار کیا گیا ہے ۔ بجلی گھروں کی تنصیب کی پیش رفت کے حوالہ سے بھی ایران کو دنیا بھر میں سر فہرست تسلیم کیا گیا ہے ۔
زرعی شعبہ میں ایران کی ترقی کے لئے یہ نشاندہی کافی ہے کہ اس نے گندم کی پیداوار ، صنعتی خشک دودھ اور آلوؤں کے بیج کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کر لی ہے ۔ زعفران کی اعلیٰ قسم کا 96فیصد ایران ہی میں تیار کیا جاتا ہے اور اخروٹ اور بادام کی پیداوار کے اعتبار سے اب ایران کو دنیا میں تیسرا بڑا ملک ہونے کا درجہ حاصل ہے ۔ کھجور کی پیداوار کے اعتبار سے بھی یہ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ دودھ اور اس سے متعلق اشیاء کی پیداوار کے میدان میں ایران ایشیاء بھر میں پانچویں نمبر پر ہے ۔ ایران دینی کتب کی اشاعت کے شعبہ میں سر فہرست ہے جبکہ اسلامی انقلاب رونما ہونے کے بعد 200سے زائد انسائیکلو پیڈیا شائع ہو چکے ہیں ۔ اسی طرح یہ دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جہاں پر 24گھنٹے کام کرنے والے کتب خانے موجود ہیں۔
یہ حقائق اور اعداد و شمار اگرچہ اسلامی انقلاب کے ثمرات کا مکمل جائزہ اور محاکمہ تو پیش نہیں کرتے تا ہم ان سے یہ حقیقت ضرور اجاگر ہوتی ہے کہ 11فروری 1979ء کو ایران کے عوام نے جس اسلامی انقلاب کو اپنی زندگی اور قومی تاریخ کا حصہ بنایا تھا وہ اب دنیا بھر میں اپنی مثال آپ بن چکا ہے ۔ ایران میں جمہوریت نے جس تیزی سے اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں ، اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی انقلاب کے رونما ہونے کے بعد اب ڈاکٹر حسن روحانی ساتویں منتخب صدر ہیں جنہوں نے 3اگست 2013ء کو اپنے عہدہ کا حلف اٹھایا تھا ۔ سات ماہ کی قلیل مدت میں ہی انہوں نے اپنی اعتدال پسندی اور دور اندیشی سے ایران کو عالمی برادری میں ایک مرتبہ پھر نمایاں مقام دلایا ہے ۔ انہوں نے ایک طرف تو ایران کے ایٹمی پروگرام کے تسلسل کو یقینی بناتے ہوئے دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ نومبر 2013ء میں جنیوا معاہدہ کے تحت منجمد شدہ اربوں مالیت کے ایرانی اثاثوں کو جزوی طور پر بحال کرایا اور دوسری طرف عالمی سفارتی حلقوں میں ایران کی تنہائی کا خاتمہ بھی کیا۔ واشنگٹن کی طرف سے یہ واضح اور حوصلہ افزاء عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کا اعادہ نہیں کرے گا۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ کی عرب اور خاص طور پر خلیج کی ریاستوں میں بھی ایران کے بارے میں دوستانہ تعلقات کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ حال ہی میں فرانس اور مراکش کی طر ف سے ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے حوالہ سے بھی سفارتی سطح پر پیش رفت کی خبریں آئی ہیں۔
اس اسلامی انقلاب کے ثمرات سے دنیا نہ صرف استفادہ کر رہی ہے بلکہ اپنی خوشحالی اور ترقی کے لئے جدوجہد کرنے والے ممالک کے عوام میں یہ احساس اور شعور بھی اجاگر ہو رہا ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب اپنے نظریاتی اور فکری اثاثے کی بنیاد پر ان کے لئے راہنما ثابت ہو سکتا ہے ۔ اس بناء پر وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ایرانی اسلامی انقلاب نے نہ صرف ایران بلکہ دنیا بھر کے باشعور اور باضمیر افراد کے دل و دماغ میں اپنے لئے جگہ بنا رکھی ہے ۔

891
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...