برصغیر دنیا کا حساس ترین علاقہ ہے کیونکہ یہاں دو ایسے پڑوسی آباد ہیں جن کے رقبے ، آبادی اور ذرائع میں بہت بڑا فرق موجود ہے۔ روائتی ہتھیار بھی بھارت کے پاس پاکستان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں اور آئے دن وہ میزائیلوں کے تجربات بھی کررہاہے اور امریکہ ، روس اور اسرائیل سے دھڑادھڑ اسلحہ خرید بھی رہا ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان پر امریکہ کا احسان عظیم ہے کہ مدت پہلے کے خریدے ہوئے ایف سولہ طیارے جن کا ماڈل اب خاصا پرانا ہو چکا ہے احسان کر کے دے رہا ہے۔ چین اگر پاکستان کی دفاعی مدد کرے تو اس پر بھی اسلحے کے ڈیلروں یعنی امریکہ اور برطانیہ کو اعتراض ہوتا ہے۔ جو واحد بھارت کے برابر کی طاقت پاکستان کے پاس موجودہے وہ ایٹمی قوت ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت پاکستان پر حملہ نہیں کر پا رہا جس کا ارادہ بظاہر وہ کئی بار کر چکا ہے۔ طاقت کی اس دوڑ کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے جسے بھارت اپنی نیت کی بنیاد پر حل کرنے سے انکاری ہے جس کے لیے اس نے اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی رائے عامہ کی کبھی قطعاپرواہ نہیں کی۔ بلکہ دھونس او ر دھاندلی سے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے۔ ازل سے آزادی کو انسان کا بنیادی حق قرار دیا جاتا ہے کیونکہ خدا نے اسے آزاد پیدا کیا ہے لیکن بھارت تحریک آزادی کشمیر کو مسلسل دہشت گردی قرار دے رہا ہے۔آزادی کی تحریکیں وہاں تو ناجائز ہو سکتی ہیں جہاں عقیدے کا تضاد نہ ہو تہذیب ثقافت اور معاشرت میں ٹکراؤ نہ ہو جغرافیائی لحاظ سے کوئی مجبوری ہو جبکہ کشمیر کے معاملے میں ایسا نہیں لیکن بھارت اس بات پر مُصر ہے کہ کشمیری اسکے غلام رہیں۔ تحریک آزاد ی کشمیر میں تیزی کی تازہ لہر نے بھارتی حکومت کو بوکھلا کر رکھ دیا ہے۔ اس بار کوئی ایک طبقہ اپناحق آزادی لینے نہیں نکلا بلکہ کشمیر کا ہر فرد بشر بول اٹھا ہے خواتین اپنے جوانوں کا ماتم کرنے نہیں بلکہ بھارتی حکومت کے مقابلے پر نکلی ہیں اسی طرح نوجوانوں کے ساتھ بچے بھی تحریک آزادی میں شامل ہوچکے ہیں۔ جون 2010میں شہید ہونے والے تینتیس مجاہدین میں سے چار اور اگست کے پہلے پندرھواڑے کی انسٹھ شہادتوں میں سے ایک آٹھ سالہ بچے کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ اب کشمیر کے بوڑھے، جوان، مرد، عورت اور بچے سب بھارتی قبضے کی گھٹن سے آزادی چاہتے ہیں اور ان کو اب بھارت کا کوئی ظلم و ستم غلام نہیں رکھ سکتا اور بھارت یہ جانتا ہے کہ اسکی سات لاکھ غاصب فوج بھی تحریک آزادی کشمیر کو نہیں کچل سکتی۔ بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ قائم رکھنے میں مسلسل جنگی جرائم کا بھی مرتکب ہو رہا ہے اور کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہا آخر بے شمار اجتماعی قبریں کیوں دریافت ہو رہی ہیں لاپتہ کشمیری انہیں قبروں میں ہی تو دفن کر دیئے جاتے ہیں۔ بھارت نے کشمیر میں Lasar Dazzler جیسا ہتھیار بھی استعمال کیا جو مستقل اندھے پن کا باعث بنتا ہے۔ Lasar Dazzler ،1990 کی دہائی میں امریکہ میں بنایا گیا۔ جسکو شدید بین الاقوامی مزاحمت کے باعث بند کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ اور ریڈ کراس سمیت تقریبا تمام دنیا نے اس کی مخالفت کی۔ یہ ہتھیار دو سے تین میٹر چوڑی ایسی شعاع نکالتا ہے جو اگر ایک خاص حد سے بال برابر بھی زیادہ ہو جائے تو مستقل اندھے پن کا باعث بنتی ہے۔ یہ تو ایک جنگی جرم ہے جبکہ بھارت تو کسی بھی جرم اور حربے سے گریز نہیں کر رہا اور کشمیر کے لوگوں کے جذبہء حریت کو مسلسل دہشت گردی سے تعبیر کر رہا ہے اور اپنا جرم مسلسل پاکستان کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ بقول بھارت کے کشمیر میں تمام خرابی کا ذمہ دار پاکستان ہے پاکستان کشمیریوں کے جذبہء حریت کو ابھار رہا ہے بھارت اس بات کو جاننے کے باوجود کہ آزادی ہر انسان کی جبلی خواہش ہے اور وہ اسکو حاصل کرنے کی اپنی جان کی قیمت پر بھی خواہش کرتا ہے اور ایک بار پھر میں یہی کہونگی کہ جہاں عقیدے اور نظریات کا اختلاف موجود ہو وہاں اس جذبے کا ہونا نہیں بلکہ نا ہونا انوکھا ہے۔
بھارت خود بین الاقوامی طور پر جس کردار کا مالک ہے دنیا کو اس کا احساس کر لینا چاہیئے اور کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کیلئے بین الاقوامی برادری کو فعال کردار ادا کرنا چاہیئے اور بھارت کو اسکے منفی بلکہ تخریبی رویے بدلنے پر مجبور کرنا چاہیئے۔ خود بھارت کے حق میں بھی یہی بہتر ہے ورنہ اسکے فوجی ایک ظالمانہ جنگ لڑتے لڑتے اب جس ذہنی دباؤ کا شکار ہیں پورا بھارتی معاشرہ اسکے زیراثر آجائے گا ۔ بھارتی فوج میں اس وقت خود کشی کا رجحان جس قدر عام ہو رہا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارتی نوجوان نوکری کی خاطر بھی فوج میں نہیں جانا چاہتے حالانکہ انہیں پرکشش تنخواہ کا لالچ بھی دیا جاتا ہے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر بھارت پر اتنا دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادی کو تسلیم کر لے کیونکہ اندرونی طور پر تو بھارت سرکار کشمیریوں کے ہاتھوں مجبور نظر آ رہی ہے اور کشمیری بھی اب اپنا حق کسی طور پر بھی چھوڑنے پر آمادہ نظر نہیں آ رہے چاہے بھارت میڈیا کو کوریج کی اجازت دے یا نہ دے بین الاقوامی میڈیاکو کشمیر بدر کر دے وہ اس سے دنیا کی آنکھوں میں تو دھول جھونک دے گا لیکن جذبوں کو دبا نہ سکے گا۔ چاہے وہ کشمیری رہنماؤں کو پابند کر دے جیلیں ان سے بھر دے وہ روح آزادی کو پابند سلاسل نہ کر سکے گا۔
اقوام متحدہ ،امریکہ اور دوسری طاقتوں کو بھارتی طرف داری سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیئے اور کشمیریوں کے جائز حق کو حاصل کرنے میں انکی مدد کرنی چاہیئے۔ اس وقت دنیا کے امن کو جس مسئلے سے شدید ترین خطرہ ہے وہ یقیناًمسئلہ کشمیر ہے جو دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ کا باعث بن سکتا ہے اور اگر جنگ چھڑ جائے تو پھر اس کو روایتی جنگ رکھنا بہت مشکل اور ایٹمی جنگ بنا دینا بہت آسان ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے ہر دو طاقتیں اپنے بچاؤ کا آخری حربہ ضرور آزمائیں گی۔ اگر بھارت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ دے تو کشمیر کاسلگتا ہوا انگارہ نہ صرف علاقے کی تباہی کا باعث نہ بنے گا بلکہ دونوں ممالک اپنے وسائل اپنے عوام کی خوشحالی پر لگا سکیں گے لیکن خوشحالی کی شرط پوری کرنا صرف اور صرف بھارت کے ہاتھ میں ہے۔

822
PoorFairGoodVery GoodExcellent (No Ratings Yet)
Loading...