بین الاقوامی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں اب اس حقیقت کو کسی بحث اور دلیل کے بغیر تسلیم کیا جاتا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً کوہ ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے زیادہ گہری ہے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان قریبی اور دوستانہ تعلقات باہمی احترام اور تعاون کی بنیاد پر قائم ہیں۔ اہل چین کو ہنوز وہ وقت یاد ہے جب پاکستان نے اقوام متحدہ میں چین کو اس کا سفارتی حق دلانے کے لئے جرا¿ت مندانہ کردار ادا کیا تھا اور اسی طرح اہل پاکستان بھی کبھی یہ حقیقت فراموش نہیں کر سکتے کہ چین نے آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستانی عوام کا غیر مشروط انداز میں بھرپور ساتھ دیا ۔ جب بھی پاکستان کو اس کے روایتی حریف کی طرف سے خطرات لاحق ہوئے تو چین نے آگے بڑھ کر پاکستان کی حمایت کا حق ادا کیا ۔ دونوں ممالک کا بیشتر عالمی امور اور مسائل کے بارے میں یکساں موقف ہے اور وہ اس کا ہر بین الاقوامی فورم پر برملا اظہار کرتے ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر چین نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے اور پاکستان نے بھی ہمیشہ چین کے حق میں اپنی آواز بلند کی ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی ، صنعتی ، سرمایہ کاری ، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں نہایت حوصلہ افزاءپیش رفت مشاہدہ کی گئی ۔ اس ضمن میں یہ بات نہایت قابل ذکر ہے کہ چین پاکستان کو توانائی کے بحران سے نجات دلانے کے لئے قابل تحسین عملی اقدامات کر رہا ہے ۔ 2جنوری کو چشمہ پاور پلانٹ کے احاطہ میں اس وقت ایک تاریخ ساز واقعہ رونما ہواجب ایٹمی بجلی پیداوار کے لئے ”سٹیٹ آف آرٹ“ چشمہ فور کے 186ٹن وزنی گنبد کو دیو ہیکل کرین فضا میں بلند کر رہی تھی اور جب اس کی تنصیب کا عمل مکمل ہوا تو پاکستان سول نیو کلیئر انرجی کا ایک اہم سنگ میل عبور کر کے ایک نئی منزل کی جانب اپنا سفر شروع کر چکا تھا۔ دیو ہیکل کرین نے 25منٹ میں کنکریٹ سے تیار کردہ ”گنبد“ کو چشمہ 4 کے ایٹمی بجلی گھر کی عمارت کے اوپر نصب کر دیا۔اب پاکستان جنریشن تھری کے پلانٹ لگانے کی جانب پیش رفت کرے گا۔ پاکستان چشمہ 4 کے بعد 300میگا واٹ پلانٹس کی تنصیب بند کر رہا ہے اور چشمہ تھری اور چشمہ فور کو 2016ءچلانے کے لئے ٹیکنیشن اور انجینئرز کی تربیت کا کام تیزی سے جاری ہے۔ پاکستان کے انجینئرز چشمہ تھری اور چشمہ کے آپریشن کو 2016ءمیں سنبھال لیں گے۔ چشمہ پاور پلانٹس کا عمارتی کمپلیکس ایک ناقابل عبور حفاظتی حصار کے اندر واقع ہے۔ چشمہ جہلم کینال کے کنارے اس کمپلیکس میں سنجیدگی اور وقار کا تاثر نمایاں نظر آتا ہے۔ پاکستان دنیا کا پانچواں ملک ہے جس نے سول نیو کلیئر پاور کی ایک لا متناہی دنیا میں قدم رکھا ۔ چشمہ نیو کلیئر کمپلیکس کی تنصیبات یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ پاکستان چین کے فنی تعاون سے سول نیو کلیئر پاور میں اب تیز ی سے قدم بڑھائے گا۔ چشمہ ہی میں 1100میگا واٹ کا ایک نیا پلانٹ لگانے کی بھی تجویز ہے۔ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ4 کا سول ورک مکمل ہو چکا ہے جبکہ مظفر گڑھ میں ایک نئے پاور پلانٹ کے قیام کی منظوری دیدی گئی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے چشمہ نیو کلیئر پاور پلانٹ سول ورک کی تکمیل کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان قانونی طور پرامن نیوکلیئر ملک ہے۔ چشمہ 3 اور چشمہ 4 ‘ 2016 ءتک 630 میگا واٹ بجلی کی پیداوار دینا شروع کر دیں گے۔ پاک چین اکنامک کو ریڈور(CPEC) کے منصوبے پر عملدرآمد سے اس خطے کی اہمیت اور وقعت میں اضافہ ہو گااور یہ اس خطے میں سبز انقلاب لائے گا۔ داسو اور بھاشا ڈیم بناکر ہم 9ہزار میگاواٹ بجلی حاصل کریں گے۔ ہمارا ایٹمی پروگرام پرامن اور کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی سسٹم فول پروف ہے ۔ ہم سول ایٹمی توانائی کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاری لائیں گے۔ دراصل ایٹمی تعاون پاک چین دوستی کی زندہ مثال ہے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ چشمہ 4 سے 340میگا واٹ سستی بجلی سسٹم میں آئے گی۔ یہ منصوبہ سال 2016ءمیں مکمل کیا جائے گا۔ اس سے پہلے 600میگا واٹ کے دو منصوبوں سی ون اور سی ٹی چین کے تعاون سے مکمل کئے گئے ہیں۔چین نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ اگر آپ سخت محنت کو اپنا شعار بنائیں گے تو منزل آپ کے قدم چومے گی چنانچہ پاکستان چین کے نقش قدم پر چل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہ صرف جوہری توانائی بلکہ نو ہزار میگا واٹ کے داسو و دیامر بھاشا ڈیم کے منصوبے بھی مکمل کریں گے۔ چین کی جانب سے سول نیو کلیئر تعاون اور فنانسنگ فراہم کرنے پر ہم اس کے شکر گزار ہیں۔ چشمہ4منصوبہ کے لئے پاکستانی انجینئرز اور چینی ماہرین کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ ہمیں چین کی دوستی پر فخر ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کا مشکل وقت میں ساتھ دیا ۔
دریں اثناءبرطانوی اخبار ”فنانشل ٹائمز“ نے ایٹمی شعبہ میں پاک چین تعاون کے حوالہ سے لکھا کہ پاکستان میں ملٹری ہارڈ ویئر اور ایٹمی ٹیکنالوجی کی فراہمی سے چین کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان پہلا ملک ہو گا جہاں چین پہلی بار ایٹمی پلانٹ تعمیر کرے گا۔ کراچی کے دو ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کے لئے ساڑھے چھ ارب ڈالر کا قرض چین کا سرکاری بینک ادا کرے گا جسے پاکستان20برس میں واپس کرے گا۔ اسلام آباد میں ایک سینئر مغربی سفارت کار نے خیال ظاہر کیا کہ کراچی منصوبے کے لئے اتنی بھاری چینی سرمایہ کاری ایک بہت اہم اشارہ ہے ۔چین کی حکومت اور عوام کی طرف سے واضح عندیہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے پاکستانی دوستوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ چین نے جوہری توانائی کے لئے 6.5ارب ڈالر کا قرض دے کر پاکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔ کراچی میں دو ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کے لئے اتنی بھاری رقم پاکستان میں کسی بھی ایک منصوبے کے لئے چین کی طرف سے کی جانے والی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے ۔
قومی امور کے بارے میں حقیقت پسندی اور دور اندیشی کا رویہ رکھنے والے مبصرین کا یہ تجزیہ نہایت فکر انگیز تصور کیا جاتا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کو درپیش اقتصادی ، معاشی اور مالیاتی مسائل کے حل کے سلسلہ میں چین کی طرف سے جو تعاون اور مدد فراہم کی جا رہی ہے ، اس کے اثرات مستقبل میں نہایت مثبت اور خوشگوار مرتب ہوں گے ۔ عالمی حالات کے تناظر میں یہ حقیقت بھی اجاگر ہو رہی ہے کہ مستقبل میں چین عالمی برادری میں اقتصادی اعتبار سے ایک مضبوط ملک کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے گا۔ اس کی صنعتی ترقی کے احوال کا بیان تو ایک الگ مضمون کا تقاضا کرتا ہے تا ہم یہ نشاندہی بروقت ہے کہ چین نے گذشتہ تین عشروں کے دوران خود کو عالمی سیاست کی پیچیدگیوں میں ملوث کرنے کی بجائے اپنی تمام تر توجہ اقتصادی اور معاشی استحکام پر مرکوز رکھی اور اس نے (کئی مرتبہ اشتعال انگیز ی کے باوجود )کبھی صبر اور تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی ایک بڑی تعداد تو بہرحال چین کے تعاون کی متمنی اور منتظر رہتی ہے ، گاہے کئی ترقی یافتہ ممالک بھی چین کی توجہ اور اعانت پر انحصار کر رہے ہیں۔
پاک چین دوستی اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ دونوں ممالک میں کسی حکومت کی تبدیلی سے اس دوستی پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہو سکا بلکہ اس کی بجائے ہر تبدیلی کے بعد اس کی جہت اور وسعت کے نئے پہلو اجاگر ہوئے ۔ دونوں ممالک کے عوام اور پالیسی سازوں سمیت حکومت کو بخوبی احساس ہے کہ ان کی دوستی باہمی احترام کے سنہری اصول پر قائم ہے ۔ پاکستان اور چین کی دوستی کو جہاں بین الاقوامی سطح پر رشک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے وہاں اس دوستی کے حاسد بھی گاہے متحرک مشاہدہ کئے جاتے ہیں ۔ میڈیا کے حوالے سے ایسی گمراہ کن خبریں اور تجزئیے پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں حقائق کی بجائے خود ساختہ خدشات اور واہمات نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ حالیہ دنوں میں اس منصوبہ اور تصور کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان ایک اقتصادی کوریڈور قائم کیا جائے گا۔ اس پروپیگنڈہ کو بھی ہوا دی گئی کہ پاکستان میں چین کے باشندے ، خاص طور پر انجینئرز محفوظ نہیں ہیں ۔اس پروپیگنڈہ کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ پاکستان اور چین کی دوستی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں لیکن اس کے باوجود یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کا سفر کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور یہ دوستی حقیقی معنوں میں مثالی دوستی کا استعارہ بنی ہوئی ہے
1,082
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...