بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے بالکل بجا کیونکہ اس آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے بھارت میں ہر روز کچھ نہ کچھ نیا ضرور ہو تا ہے کیونکہ اتنی بڑی آبادی میں کوئی توکوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور رکھے گا۔3,287,263 مربع کلو میٹرکے رقبے میں پیداوار بھی ہو گی۔یہ بھی درست ہے کہ بھارت کا جی ڈی پی بھی بڑھ رہا ہے لیکن اس چمکتی دمکتی ابھرتی اقتصادی قوت بھارت میں ہر رات لاکھوں بے خانماں لوگ سڑکوں پر بھی سوتے ہیں کیونکہ ان کی حکومت ان کو گھر نہیں دے سکتی یوں بھارت کو اپنی جی ڈی پی بڑھانے کے لیے سستے مزدور میسر آتے رہتے ہیں۔ بھارتی حکومت اپنے ملک کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دینے کی بجائے پروپیگنڈا کرنے اور پاکستان دشمنی پر اپنی توجہ زیادہ مبذول رکھتی ہے۔اگر اس اپنے عوام کی فکر ہوتی تو 1984 سے روتے بلکتے بلکہ سسکتے ہوئے بھوپال کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش ہی سہی کر چکا ہوتا۔1984 میں یونین کاربائیڈ سے خارج ہونے والی خطرناک تابکاری سے جس طرح 25ہزار افراد لمحوں میں لقمہء اجل بنے اور ایک نسل معذور اور اپاہچ پیدا ہوئی ان کی کوئی شنوائی آج تک نہ ہوئی اور آج بھی بھوپال کے لوگ سراپا احتجاج ہیں کہ نہ تو بھارت سرکار نے یونین کاربائیڈ سے کوئی ہرجانہ یا جرمانہ وصول کیا اور نہ ہی خود اِن متاثرین کی وہ مدد کی جس کے وہ مستحق تھے۔عالمی تنظیمیں کئی بار اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں کچھ بھارتی بچوں نے امریکہ میں یونین کاربائیڈ کے دفتر کے سامنے مظاہرہ بھی کیا لیکن بھارتی حکومت کو تاحال اس مسئلے کو حل کرنے کی فرصت نہ مل سکی ہے یعنی وہ اس کو ضروری کام سمجھ ہی نہیں رہی ۔
بھارت کو اللہ تعالی نے ایک اور نعمت سے نوازا ہوا ہے اور وہ ہے اس کی سرحد پر موجود ایک مسلمان ملک جو اس کے رعب میں آنے سے انکاری ہے لہذا بھارت اپنے ہاں ہونے والی ہر خرابی کی ذمہ داری اْس کے سر ڈال کر دنیا کے سامنے سر خرو ہونے کی کوشش کرتا ہے ۔ جیسے ممبئی حملوں کے بارے میں اْس نے کیا اور چمکتے بھارت کی چمکتی اِنٹیلیجنس ایجنسیاں اپنی ہر ڈیوٹی سے بری الذمہ ہو گئیں۔
بھارت جو اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے وہاں نہ تو اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہے اور نہ نچلی ذات کے ہندوؤں کو۔ مسلمانوں پر حملے تو ہندوؤں کے مقدس مذہبی فرائض میں شامل ہے اور کشمیر اس کام کے لیے بھارت کا بہترین انتخاب ہے۔ اسی ماہ جولائی میں ہی کشمیر میں ایک طویل کرفیو لگا رہا، زندگی معطل رہی، احتجاج کرنے والوں پر گولیاں اور لا ٹھیاں بر سائی گئی، اخبارات چار دن بعد شائع ہوئے، عالمی میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جو کچھ بھارتی میڈیا نے دکھا دیا بس دکھادیا ۔ یہ ہے ایک ہلکی سی جھلک چمکتے دمکتے اور ناقابل یقین بھارت کی جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے۔
مسلمانوں کے حقوق بھارت کے دیگر حصوں میں بھی محفوظ نہیں اِن کی مساجد ہندوءں کے نشانے پر رہتی ہیں بابری مسجد اس کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں رام مندر تعمیر کرنے کے لیے پھر سے منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور شیو سینا پھر سے اپنے مذموم عزائم طے کر نے کے لیے اکٹھی ہو رہی ہے۔2007 میں اجمیر شریف ، مالیگاوءں اور مکہ مسجد میں دھماکوں کا واحدگرفتار مجرم اسیم آنند ابھی بھی سزا سے محفوظ ہے اور باقی مفرورکیو نکہ یہ سب ہندؤ تھے جبکہ مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ میں اس قدر جلدی کی جاتی ہے کہ نام نہاد منصوبوں سے پہلے ہی انہیں پکڑ لیا جاتا ہے۔
پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ اِکا دْکا کوئی واقعہ ہو جائے تو اْسے پوری دْنیا میں اچھال دیا جاتا ہے جبکہ اْس کے لیے بھی بھارتی حکومت اور را کی امداد خارج از امکان نہیں ہوتی ۔ لیکن اْسے مذہبی شدت پسندی قرار دے دیا جاتا ہے جبکہ اْس میں کسی مذہبی جماعت اور مذہبی راہنما کا قطعا کوئی ہاتھ یا کردار نہیں ہوتا ۔ جب صرف مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے اور ایک انتہائی مکروہ تعصب کی بنا پر جب نبی پاکﷺ کے خاکے بنانے کی جسارت کی گئی اور مسلمان اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تو انہیں بنیاد پرست کہہ دیا گیاجبکہ اسی بھارت کو جسے آج کل خود بھارتیShining Indiaاور اہل مغرب صرف مسلمانوں اور پاکستان کی مخالفت کی وجہ سے ایشین ٹائیگرثابت کرنے کی کوشش میں مبتلاء ہے ان کے سترھویں صدی کے ایک راجہ شیوا جی جسکے کردارکو ہندو خواہ مخواہ افسانوی بنا کر پیش کرنے کے چکر میں رہتے ہیں پر ان کے عقائد کے خلاف کتاب لکھی گئی تو بھارت سرکار نے اس پر پابندی لگا دی۔امریکی مصنف جیمس لین کی کتابShiva Jee Hindu King in Islamic Indiaپر بھارتی سپریم کورٹ نے پابندی ختم کی لیکن شیو سینا اس کی فروخت کی اجازت نہیں دے ر ہی اور اسی دھمکی کی وجہ سے کوئی دکاندار اسے فروخت کرنے پر آمادہ نہیں لیکن حیر ت ہے اس سب کچھ کو بنیاد پرستی قرار نہیں دیا جاتا جسے بھارت میں سرکاری سر پرستی حا صل ہے۔
نکسل باڑی عظیم بھارت کے ماتھے پر ایک کَلنگ کا ٹیکہ ہیں جہاں حیرت انگیز جی ڈی پی نہ تونظر آتی ہے اور نہ پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خود بقول سونیا گاندھی کے ان دور درازکے قبائلی علاقوں میں ناقص حکومتی منصوبہ بندی کی وجہ سے ترقی کا نہ ہو نا ہی نکسل ازم کی وجہ ہے۔لیکن نکسل اب طفل تسلیوں کی حد سے آگے جا چکے ہیں وہ اس Shinning India کا حصہ بنے رہنے پر تیار نہیں جس کی ترقی میں ان کے ذرائع اور ان کا خون شامل ہے لیکن اس ترقی میں ان کا حصہ کوئی نہیں۔نکسل باڑی تو دور دراز کے علاقوں میں بستے ہیں بھارت کے توبڑے شہر غربت سے بھرے ہوئے نظرآتے ہیں کولکتہ دنیا کے گندے ترین شہروں میں سے ہے جبکہ میڈیا پر نظر آنے والے بھارت میں نہ تو غریب نظر آتا ہے نہ غربت حالانکہ 2011تک غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد 405ملین ہو جائیگی اور ممبئی اور کولکتہ جیسے شہروں میں ایک بہت بڑی تعداد کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے پر مجبورہے ۔ اب بھی سائیکل رکشہ وہاں نظر آتا ہے۔ یہ اکیسویں صدی کی ابھرتی ہوئی اقتصادی قوت بھارت کے اصل چہرے کی چند جھلکیاں ہیں جن کا دنیا کو نظر آنا ضروری ہے اور بھارت جیسے متعصب ملک کو جو اپنی اقلیتوں کی حفاظت نہیں کر سکتا جو اپنے لوگوں کو چھت مہیا نہیں کر سکتا جو اپنے دور درازعلاقوں میں ترقی نہیں پہنچا سکتا کو کوئی حق حاصل نہیں کہ اسے دنیا میں اتنی اہمیت دی جائے کہ اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کا اہل سمجھا جائے یا اْسے عظیم جمہوریت قرار دیا جائے بڑی جمہوریت ہونا تو خیر صرف تعداد کی بات ہے۔صرف پاکستان پر فوقیت دینے کی خاطربین الاقوامی ایجنسیاں بھارت کا اصل چہرہ نہ چھپائے بلکہ اسے دنیا کو ضرور دکھائے تاکہ دنیا اصل حقیقت سے آگاہ رہے اور بھارت کے پڑوسی اس کے شر سے محفوظ۔

1,051
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 1
Loading...