جب ملک مسائل میں گھرے ہوئے ہوں تو ہر شخص کی ذمہ داری کئی گنابڑھ جاتی ہے اور اگر اس احساس ذمہ داری کے نتیجے میں قوم منجمد ھار سے نکل آئے تو وہ کندن بن جاتی ہے اور خوش قسمت ہوتی ہیں وہ قومیں جو ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں ۔ اِن دنوں پاکستان ایسے ہی حالات سے گزر رہا ہے جس میں ہر شخص کو اپنی ذمہ داری سے کئی کئی گنا بڑھ کر کام کرنا چاہیے اور اگر یہ رویہ بالائی سطح پر رواج پا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم حالات کو شکست نہ دے سکیں اور سرخرو نہ ہو سکیں ۔ ذمہ داری تو فرد سے لے کر اداروں تک سب کی ہے لیکن اس کی ابتداء اگرعمال حکومت سے ہو تو عام آدمی جو کہ اپنے غم روزگار میں ہی ڈوبا ہوا ہے مخلص رہنماؤں کے نقش قدم پر چلنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا اور نہ ہی راستہ ڈھونڈنے میں اپنا وقت ضائع کرے گا۔ اہل سیاست ہی وہ لوگ ہیں جو قوم کا راستہ سیدھا کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں نہ صرف یہ بلکہ یہ قوم کے مسائل کے حل کے بھی ذمہ دار ہیں۔ لیکن دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاست برائے خدمت کی بجائے سیاست برائے حکومت کا اصول کچھ اس طرح رائج ہو چکا ہے کہ فی الوقت تو اس سے چھٹکارے کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے بلکہ جمہوریت کے نام پر خاندانی سیاست چلتی چلی جا رہی ہے۔ اب تو میرٹ کی بجائے انتخاب کا یہی اصول ٹھہرتا جا رہا ہے۔ اس دوڑ میں نہ تو تعلیم اہم رہی ہے اور نہ جمہوری روایات۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کے بعد اپنے حال میں خوشحال ہو کر انہیں بد حالی پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور بے چارے عوام اپنی غربت، ناخواندگی، معاشی اور معاشرتی زبوں حالی کے ہاتھوں مجبوراََ اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کی فکر میں غلطاں و پریشاں انہیں ان کے حال پر چھوڑدیتے ہیں اور اگلے انتخابات میں کسی اور مسیحا کا انتظار شروع کر دیتے ہیں۔ یہاں یہ سب کچھ لکھنے سے میرا مقصد تنقید نہیں بلکہ وہ احساس ذمہ داری ابھارنا ہے جوپاک وطن کو مسائل سے نکال کرباہر کر سکے۔
اگر پاکستان میں سیاست کو سنجیدگی سے لیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایک مستحکم اور مضبوط جمہوریت نہ بن سکیں لیکن یہاں تو یہ حال ہے کہ اپنے انتخاب کا انتہائی فخریہ انداز میں اعلان کرنے والے اور رکن اسمبلی منتخب ہونے کی خوشی میں جشن منانے والے سیاست دان اسمبلی کے اجلاس تک میں شرکت کرنے کے روادار نہیں ہوتے۔ بارہا تو ایسا ہوتا ہے کہ اجلاس کا کورم تک پورا نہیں ہوتا کجا کہ تمام اراکین اس میں شرکت کریں اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو اسمبلی میں بیٹھے ہوئے اراکین کی اکثریت آئین سازی کے اصولوں بلکہ بسا اوقات تو پاکستان کے موجودہ آئین تک سے آگاہ نہیں ہوتے۔ وہ نیلسن مینڈیلا کانام تو جانتے ہیں اور جگہ جگہ استعمال بھی کرتے ہیں لیکن اُس نے اپنی قوم کی خدمت کیسے کی یہ جاننے تک کی کوشش نہیں کی جاتی۔ میرے خیال میں میں بہت دور چلی گئی ہوں ہمارے یہ سیاستدان قائداعظم کی تصویر کواپنے دفتر میں سجاکر سمجھ لیتے ہیں کہ وہ قائداعظم کی سیاست کے وارث ہو گئے ہیں لیکن اُن کے طرزِ سیاست کے بارے میں یہ کتنا جانتے ہیں یہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں۔اب بھی اگر خدمت کی سیاست اپنا لی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اہل سیاست کے بارے میں عوام کی رائے میں مثبت تبدیلی نہ لائی جاسکے۔ سیاستدان اور پارلیمنٹیرینز اگر اپنے لیے ایک لائحہ عمل مرتب کر لیں جس میں سر فہرست ملک اور قومی مفاد ہو تو وہ تاریخ بدل سکتے ہیں۔ اگر وہ اپنے مقام کو پہچان لیں اور بجائے یہ کہنے کے کہ سیاست میں سب جائز ہے اصولوں پر سیاست کریں تو نہ صرف ان کی بلکہ ملک و قوم کی عزت میں اضافہ ہوگا۔ ہم نے اپنے مسائل کو جو سڑکوں پر یا گلی محلوں میں حل کرنا شروع کیا ہوا ہے اس کی بجائے اگر ہمارے اراکین اسمبلی وسینٹ سنجیدگی دکھائیں اور ان مسائل پر اسمبلی یا سینٹ کے اجلاسوں میں غور کر لیا کریں اور وہاں بھی بجائے ہنگامہ آرائی اور بے مقصد تنقید کے ایسی آئین و قانون سازی کریں جو عوام کے مسائل حل کرے نہ کہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور پھر خود بھی ان قوانین کی پاسداری کریں خود کو اس سے مبراء نہ سمجھیں تو یہی ان کا اصل کام اور کامیابی ہے۔ لیکن وطن عزیز کی بدقسمتی کہیے کہ ہمارے نمائندے ایوان نمائنداگان کو صرف پکنک پوائنٹ سمجھتے ہیں اگر وہ اسے عام آدمی کے مسائل کے حل کی جگہ سمجھیں تو خود ہی وہ عام آدمی کی نظر میں اہم ہو جائیں گے اور جن خطابات سے عوام انہیں نوازتے ہیں ان کی بجائے انہیں وہ عزت دیں گے جو کسی قومی نمائندے کی ہونی چاہیے۔ عوام اس خوف میں مبتلاء نہیں رہیں گے کہ ان کے نام پر حاصل ہونے والے فنڈز ذاتی کاروبار کی نظر ہونگے یا ذاتی بینکوں میں جمع ہو جائیں گے اور ایک اور جرم یہ کیا جاتا ہے کہ اثاثے ظاہر کرتے ہوئے یہ لوگ چند لاکھ روپے نقد اور جائیداد کے مالک ہوتے ہیں یعنی کرپشن پر کرپشن۔ آزمائش شرط ہے کہ اگر آج بھی کوئی سیاستدان اپنے بے داغ دامن کے ساتھ کرپشن کے خلاف اٹھ کھڑا ہو تو وہ بھارت کی عام آدمی پارٹی سے بڑی کامیابی حاصل کرے گا لیکن اس جذبے کو ہر سطح پر بروئے کار لانا ہوگا۔ بلدیاتی اداروں سے لے کر ایوان بالا تک اگر پارلیمنٹ اپنا اصل کام یعنی قانون سازی کرے اور ساتھ ہی بلدیاتی ادارے عوامی خدمت اور منصوبوں کا بیڑہ اُٹھا لیں تو شاید صورت حال کومزید بہتر کیا جا سکے۔ بہر حال آج جب کہ ملک گوں نا گوں مشکلات کا شکار ہے اہل سیاست و حکومت کی ذمہ داری انتہائی بڑھ جاتی ہے اور ہم اس میدان میں جس مجرمانہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اب ہم مزید اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا ہمیں سیاست میں سے اس جملے کو خارج کرنا ہوگا کہ سیاست میں کوئی بات حتمی نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنی سیاست کو اصولوں پر استوار کرنا ہوگا تاکہ ہم دنیا میں ایک سرخرو اور با عزت قوم کہلا سکیں اللہ ہماری قوم پر اپنا رحم کرے، آمین۔

963
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 3
Loading...