طالبان کون ہیں اور آخر چاہتے کیا ہیں کیا کچھ طاقتوں نے ایسے ظالم لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک ملک دشمن اور اسلام دشمن قوت بنا لی ہے جو نہ انسان کو انسان سمجھتے ہیں نہ مسلمان کو مسلمان۔ اس گروہ کو بناتے ہوئے خاص خیال رکھا گیا ہے کہ اس کے ارکان میں انسانیت کی کوئی رمق نہ ہو ،وطن اور اہل وطن کا خون ان کے نزدیک پانی سے بھی ارزاں ہو ،یہ خود تو دین اور اسلام کے اصولوں کو توڑتے ہو ئے فخر محسوس کرتے ہوں لیکن دوسروں کا اسلام انہیں ناقص ہی نظر آتا ہو، خود ان کا جرم ثواب قرار پائے لیکن دوسرے کا ہر فعل ان کے نزدیک گناہ ہو۔ اسلام نے مثلہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے نبی پاک ﷺنے اس سے سختی سے منع فرمایا لیکن طالبان اس مکروہ فعل کو بڑی باقاعدگی سے سرانجام دیتے ہیں۔ اللہ نے انسانی جان کی تکریم بیان فرمائی لیکن طالبان انسانی جان کو کسی عزت کے قابل نہیں سمجھتے ۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو چلتی رہی جو متنی جو کوہاٹ روڈ پشاور پر واقع ایک گاؤں ہے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جنگریز کی ہے اس ویڈیو میں یہ شخص کچھ پولیس اہلکاروں کی سر کاٹنے کے بعد ان کے سروں سے فٹ بال کھیل رہا ہے۔ اس نے اِن سروں کو پکڑ کر تصویریں بنائیں ہیں یقین کریں ہاتھ کانپ رہا ہے یہ سب کچھ لکھتے ہوئے لیکن ایسا ہوا ہے اور یہ ویڈیو ایک سابق طالب رسول جان نے اَپ لوڈ کی ہے۔ یہ کونسا اسلام ہے اسلام تو امن اور محبت کا مذہب ہے یہ تو دشمن کو بھی معاف کر دینے کا سبق دیتا ہے اس میں عمال حکومت کا قتل کہاں جائز قرار دیا گیا ہے، حکم تو تب تک اطاعت کا ہے جب تک حکومت اور حاکم صاف صاف کفر کا اعلان نہ کر دے۔ جنگریز کی ویڈیو تو صرف ایک حوالہ ہے ورنہ بر بریت کی جو داستانیں ان لوگوں سے منسوب ہیں وہ ایک نہیں کئی ہیں اور ہر ایک بر بریت میں دوسرے سے بڑھ کر ہے اور دکھ اس بات کا ہے کہ پھر بھی ان کے حق میں کوئی آواز اٹھتی ہوئی سنائی دے دیتی ہے اور انہیں اپنی کاروائیاں تیز کرنے کے لیے موقع بھی مل جاتا ہے اورحوصلہ بھی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کہنے کو کہا جاتا ہے کہ یہ طالبان چند ہزار ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ انہوں نے اٹھارہ کروڑ عوام کا جینا حرام کیا ہوا ہے یہ خفیہ دشمن اپنا وار ہر جگہ بڑی آسانی سے کر جاتا ہے تو کیا ان کا جاسوسی نظام ہماری خفیہ ایجنسیوں اور حکومتی اداروں سے زیادہ مضبوط اور مر بوط ہے۔ بہر حال جو بھی ہے ان کی بر بریت ہر روز پاکستانیوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے ہر روز کبھی عوام کبھی پولیس کبھی فوج اور کبھی تو سیاسی شخصیات بھی ان دھماکوں اور حملوں کی نظر ہو رہے ہیں ابھی حال ہی میں کراچی میں ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کی شہادت اچانک ان کے روٹ تبدیل ہونے اور اچانک فون کالز بھی کچھ خطرناک اشارے دے ر ہے ہیں اور پھر حسب معمول تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اس حملے اور قتل کی ذمہ داری قبول کر لی یعنی طالبان ہر صورت اپنے سامنے آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے پر قادر ہیں اور بڑی دھوم دھام سے اپنے مظالم کا اعلان کرتے ہیں اور بسا اوقات تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اپنی دہشت بٹھانے کے لیے اور لوگوں کو خود سے مزید خوفزدہ کرنے کے لیے عام جرائم بلکہ ذاتی وجوہات کی بنا پر ہونے والے قتل بھی اپنے ذمہ لے لیتے ہیں ۔ یعنی وحشت و بربریت کی داستانوں میں یوں اضافہ کہ کوئی اُن کے سامنے دم بھی نہ مار سکے اور اگر کبھی کبھی یہ لوگ پکڑے جائیں تو اسی خوف اور وحشت کے مارے ثبوتوں کی عدم فراہمی کی تو جیہہ کے ساتھ چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ جنگریز جیسے مجرموں کی اگر چہ ویڈیو تک منظر عام پر آچکی ہے اور اگر وہ زندہ ہے اور پکڑا جائے تو لگتا تو ایسا ہے کہ اُس کا جرم بھی ثابت کرنے کے لیے ثبوت ڈھونڈے جائیں گے۔ کیونکہ اس سے پہلے با رہا ایسا ہو چکا ہے کہ بزبان خود اقرار کرنے والے مجرم چھوڑ دئیے گئے ہیں اور کسی سقہ طالب کو فوج یا پولیس نے از خود گولی ماردی ہو تو بھی انسانی حقوق کے نام پر تنظیموں ، این جی اوز اور میڈیا نے جو شور اٹھایا وہ بھی سب جانتے ہیں اور کہیں عدالت سزا سنا دے تو پھر حکومت عمل درآمد سے کتراتی ہے اور متاثر ہوتے ہیں عوام۔
پریشانی، دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت ، فوج خفیہ ادارے ،قانون نافذ کرنے والے ادارے ، پولیس ، ایف سی، رینجرز، سی آئی ڈی اور دیگر ادارے اپنے تمام تر وسائل کے باوجود ان کا راستہ نہیں روک پا رہے۔ یہ بھی درست ہے کہ خود کش جان سے گزرے ہوئے لوگ ہوتے ہیں اور ان کی راہ روکنا مشکل ہے لیکن آخر ان کے ماسٹر مائنڈز جب منصوبہ سازی کرتے ہیں اور شہروں کے بیج میں کرتے ہیں تو ان کی خبر کسی کو بھی کیسے نہیں ہو پاتی مثال کے طور پر چوہدری اسلم کو مارنے والاخود کش اگر واقعی نعیم اللہ تھا اور کراچی کا رہائشی تھا تو کیسے وہ سب کی نظروں سے چھپا رہا اور ہنگو کا بہادر اور جری نوجوان اعتزاز اپنی کم عمری کے باوجود اگر خود کش حملہ آور کو پہچان کر اُس سے نبرد آزما ہوتا ہے تو آخر اس بچے سے پہلے اُسے کوئی کیوں پہچان نہیں پاتا۔ دراصل کو تاہیاں ہر سطح پر ہیں سزا و جزا کا عمل سخت ہو تو شاید بہتری کی صورت نکل آئے۔ پہنچنا جڑ تک ہے صرف شاخ تراشی سے بات نہیں بنے گی۔ جنگ ریز ہو، فضل اللہ ہو، شاہد اللہ شاہد ہویا عقیل عرف ڈاکٹر عثمان یہ سب انسانیت سے گرے ہوئے لوگ ہیں اور کسی رعایت اور ہمدردی کے مستحق نہیں اور نہ ہی ان کے لیے کسی عدالتی کاروائی اور ثبوت کی ضرورت ہے ان کے جرائم اور مظالم اور ان کے بیانات خود ان کے خلاف ثبوت ہیں خدارا حکومت اور ذمہ دار ادارے ہر ممکن طریقے سے ان کو کیفر کردار تک پہنچا کر ملک کا امن بحال کریں تاکہ پاکستانی بھی امن کی فضا میں سانس لے سکیں اور ایک بار پھر ہم ایک پُر امن زندگی گزار سکیں کیونکہ یہ ہمارا بنیادی حق ہے۔

1,835
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 4
Loading...