3اگست 2013ء کو ایران کے موجودہ صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنا منصب سنبھالنے کے بعد ایران کی عالمی سفارتی سطح پر تنہائی کو ختم کرنے کے لئے جو حکمت عملی اختیار کی اس کے مثبت اور خوشگوار نتائج اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک کلیدی اور مثبت پیش رفت تو نومبر 2013ء میں اس وقت مشاہدہ کی گئی جب جنیوا میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک عارضی معاہدہ طے پایا جس کے تحت ایران اپنے ایٹمی پروگرا م کو محدود پیمانے پر جاری رکھنے پر رضا مند ہوا اور اس کے جواب میں تہران کو عندیہ دیا گیا کہ اس کے منجمد شدہ اربوں مالیت کے اثاثے جزوی طور پر بحال کر دئیے جائیں گے۔ ایٹمی پروگرام کے حوالہ سے جنیوا میں بات چیت کا سلسلہ بہرحال جاری ہے اور اس ضمن میں اب ایک نہایت حوصلہ افزاء خبر یہ سامنے آئی ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے یورپی یونین کی سربراہ برائے امور خارجہ کیتھرین آشٹن کو ایران کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے ۔ مذاکرات میں حصہ لینے والی ایرانی ٹیم کے ڈپٹی، عباس عراقچی نے اس دورے کی تفصیلات کو بیان کئے بغیر بتایا کہ ایران اور عالمی طاقتوں نے اس بارے اتفاق رائے کر لیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے مستقبل کے بارے میں کیا پیش رفت ہو گی تا ہم اس پر عملدرآمد اسی صور ت میں ہو گا جب فریقین کی حکومتیں اس کی منظوری دے دیں گی ۔
عالمی سفارتی حلقوں میں اس خبر کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے کہ تہران کی طرف سے یورپی یونین کی ایک اہم عہدیدار کو دورہ کی دعوت دی گئی ہے ۔ ایک خیال یہ ہے کہ مذکورہ اقدام تہران کے سفارتی اعتماد اور خیر سگالی کا اظہار ہے جبکہ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ تہران اپنے اقتصادی اور معاشی مسائل کو حل کرنے کے لئے ماضی کے برعکس اب مفاہمت پر مبنی لچکدار رویہ اختیار کر رہا ہے جو دراصل صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی اعتدال پسندی پر مبنی پالیسی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔ اس حقیقت کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہو رہی ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان سفارتی سطح پر افہام و تفہیم سے عالمی امن اور خاص طور پر اس خطہ میں امن قائم کرنے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے ۔ اس سلسلہ میں یہ پیش رفت بھی نہایت فکر انگیز قرار دی جاتی ہے کہ جنیوا میں طے پانے والے معاہدہ کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان فاصلے تیزی سے کم ہوئے ہیں۔ اب واشنگٹن کے پالیسی ساز اس بارے نہایت سنجیدہ ہیں کہ افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کے انخلاء کے لئے پاکستان کی بجائے ایران کا راستہ اختیار کیا جائے اور وہاں کی چاہ بہار بندر گاہ پر توجہ مرکوز کی جائے ۔ امریکہ اور ایران کی قربت کے نتیجہ میں ہی مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کے کردار کے بارے میں متضاد آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں اب وہ گرمجوشی باقی نہیں رہی جو معاہدہ جنیوا سے پہلے مشاہدہ کی جاتی تھی ۔ ادھر عراق اور شام میں امن قائم کرنے کے سلسلہ میں اب واشنگٹن کی طرف سے سعودی عرب سے زیادہ اہمیت ایران کو دی جا رہی ہے ۔اس پس منظر میں یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر اجاگر ہو گئی ہے کہ عالمی سطح پر دوستی اور دشمنی کبھی مستقل نہیں رہتی ۔
دریں اثناء یہ خبر بھی نہایت اہم ہے کہ جنیوا میں ایران اور یورپی یونین جنیوا معاہدے پر عملدرآمد کے لئے متنازع امور کے حل پر متفق ہو گئے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق عبوری ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی عملی تفصیلات پر بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں ممالک متنازع امور کے حل پر متفق ہو گئے۔ معاہدے کی توثیق اور مشاورت کے لئے فریقین اپنے اپنے دارالحکومت سے رابطہ کریں گے جس کے بعد اس پر عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جینیفر سیکی نے کہا کہ ایران سے مذاکرات پر پیش رفت ہوئی ہے تا ہم اس حوالے سے معاہدہ طے پانے کی خبریں غلط ہیں۔ قبل ازیں ایران کے مذاکرات کار عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایران اور یورپی یونین نے عدم اتفاق والے تمام نکات کا حل تلاش کر لیا ہے لیکن امریکہ کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات درست نہیں۔ دریں اثنا ء یورپی یونین نے کہا کہ دونوں فریقوں نے جنیوا میں مذاکرات کے دوران نومبر میں طے پائے معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے بہت اچھی پیش رفت کی ہے ۔ اگر معاہدہ طے پاگیا تو مذکورہ معاہدہ 6ماہ کے عبوری دور کے لئے ہو گا ۔ اس دوران اگر ایران یورینیم کی افزودگی سے دستبردار ہو جاتا ہے تو پھر اس پر عائد پابندیوں میں نرمی کر دی جائے گی۔ اس کے تحت ایران افزودہ یورینیم کو 5فیصد کی سطح تک لائے گا۔ وہ اپنی بیس فیصد تک افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کر دے گا ۔
تہران میں ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین ہونے والے مذاکرات کامیاب رہے ہیں اور تمام تصفیہ طلب معاملات طے پا گئے ہیں۔ نائب وزیر خارجہ عباس ارقچی کے حوالے سے بتایا کہ جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات میں تمام تصفیہ طلب معاملات کا حل نکال لیا گیا ہے۔ ایران اور دنیا کی چھ عالمی طاقتیں ایران کو جوہری ہتھیاروں سے باز رکھنے کے لئے مذاکرات کر رہے ہیں۔ عالمی طاقتیں ایران کو یورینیم کی افزودگی روکنے یا محدود کرنے کے عوض اس پر عائد اقتصادی پابندیوں کو کم یا ختم کرنے کے وعدہ کرتی رہی ہیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس ارقچی نے کہا کہ تمام تصفیہ طلب معاملات طے پا گئے ہیں اور اب اس معاہدے پر عملدرآمد کا انحصار ان حکومتوں پر ہے جو ایران کے ساتھ مذاکرات میں شریک تھیں ۔
قبل ازیں مذاکرات کا آغاز ہوا تو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے تہران کے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکی روئیے کو دشمنی پر مبنی قرار دیا تھا ۔ خامنہ ای نے کہا کہ ہم نے پہلے اعلان کیا تھا کہ بعض طے شدہ امور پر اگر ہم نے محسوس کیا تو ہم امریکہ سے بات چیت کریں گے اور اس سے کہیں گے کہ وہ منفی روئیے سے گریز کرے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے اس حوالے سے امریکہ کے لئے لفظ امریکا کے بجائے شیطان کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جوہری مذاکرات کے دوران امریکہ کی دشمنی ظاہر ہو گئی یہ محسوس کیا گیا کہ امریکہ، ایران، اہل ایران، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایسے میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی تفصیلات پر مفاہمت ہو گئی ۔ ایران کی خبر رساں ایجنسی نے تہران کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی تفصیلات پر مفاہمت ہو گئی ہے ۔ ایرانی مذاکرات کار حامد کا کہناتھا کہ تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدے پر عملدر آمد کے لئے اتفاق ہو گیا ہے ۔
ان دنوں یہ انکشاف بھی ہوا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا راستہ ہموار کرنے کا ایک اہم کردار صدر اوباما کا غیر معروف افسر جیک سولیوان ہے ۔ سولیوان گذشتہ برس اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کے ساتھ پیرس کے دورے کے دوران اچانک غائب ہو گئے تھے۔ اس کے بعد وہ کچھ روز بعد کلنٹن کے دورہ منگولیا کے موقع پر ان کے ساتھ نظر آئے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس دوران وہ خفیہ طور پر مشرق وسطیٰ کے ملک اومان چلے گئے جہاں انہوں نے ایرانی حکام سے ملاقات کی۔ جیک سولیوان پہلے امریکی افسر تھے جنہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کئے اور ان کی ذاتی کوشش سے اوباما انتظامیہ اور ایران کے ساتھ مذاکرات کا آغاز بہت پہلے ہو چکا تھا ۔ سینئر امریکی حکام نے اس سے قبل بھی ایک خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ جیک سولیوان اور دیگر امریکی حکام نے ایران کے ساتھ پانچ خفیہ ملاقاتیں کی تھیں۔
یہاں یہ بات نہایت قابل ذکر ہے کہ ایکغیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی جوہری توانائی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے دوسری جنریشن میں ایک ہزار آئی آر ٹو ایم سنیٹری فیوجز نصب کئے ہیں تا ہم حالیہ جوہری معاہدے کے باعث ان میں یو ایف 6گیس نہیں بھری گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تیسری اور چوتھی جنریشن پر بھی کام جاری ہے لیکن ابھی ان میں سینٹری فیوجز کی تنصیب بارے حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ حقائق اور حالات اس امر کو اجاگر کرتے ہیں کہ ایران کی حکومت اور قیادت اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کوئی ایسا سمجھوتہ کرنے کے لئے ہر گز آمادہ نہیں جو ایران کے مفادات سے متصادم ہو ۔بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ سفارت کاری ، دور اندیشی اور تدبر کے ساتھ درپیش مشکلات کا وقار اور جرات مندی کے ساتھ سامنا کیا جائے ۔

785
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...