سرزمین بے آئین انوار ایوب راجہ کا ایک خو بصورت ناول ہے لیکن اس میں عام ناول کی طرح کسی ہیرو ہیروئن کی محبت کی داستان نہیں بلکہ یہ وطن اور ملت کا درد اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس کتاب میں سندھ، خیبر پختون خواہ، پنجاب، بلوچستان اور کشمیر بھی ہے، اسلام کی عظمت رفتہ بھی،حال کے دکھ بھی اور سیاستدانوں کی خود غرضیوں کی روداد بھی۔ ناول کا مرکزی کردار ایک ہندو عورت نینا ہے جس کے آباواجداد کا تعلق خیبر پختونخواہ کے درہ تیراہ سے ہے جہاں سے وہ نقل مکانی کرکے صوبہ سندھ کے ضلع سکھر میں آکر آباد ہو جاتا ہے اور ایک خوشحال زندگی گزارتا ہے۔ نینا اب انگلینڈ میں رہتی ہے لیکن اپنی زمین سے اسکا پیار برقرار ہے اوراگر چہ محسوس تو عجیب ہوتا ہے لیکن ہندو مذہب سے تعلق ہونے کے باوجود وہ تمام مسلمان اکا برین کا ذکر ’’ہمارے اسلاف‘‘ کے طور پر کرتی ہے۔ یہ کردار نبی پاک ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر انتہائی فخر اور احترام سے کرتا ہے اور تاریخ میں ان کے شاندار کردار کا نہ صرف معترف ہے بلکہ اُن پر فخر بھی کرتا ہے۔ نیناپاکستان اور اس کی تاریخ سے محبت کرتی ہے ، اس کے دکھوں پر دکھی ہے اور اس کی کامیابیوں پر خوش اور شادمان وہ ایک اقلیت سے تعلق رکھتی ہے لیکن پاکستانی ہے اور پاکستان اُس کی رگ و پے میں نظر آتا ہے۔ یہ کتاب مصنف کی اپنی مٹی سے محبت کا ایک خوبصورت شاہکار ہے اسلامی تاریخ کے شاندار ابواب بھی اس کتاب کا حصہ ہیں اور غیروں اور اپنوں کی سازشوں کا پول بھی کھولا گیا ہے۔ دراصل یہ اس خطے کی سیاسی سرگزشت ہے جو عالمی طاقتوں کی ہمارے خطے میں مفادات اور اِن کے حصول کے لیے ان کی آپس کی سر دوگرم جنگوں اور ہماری تباہی کی داستان پر مشتمل ہے۔ کتاب انوار صاحب کے وسیع مطالعے، تحقیق اور تاریخ اور سیاست پر ان کی گہری نظر کا ایک خوبصورت تحریری ثبوت ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور اسے پڑھ کر قاری یقیناًاپنے ماضی اور حال کے بارے میں بہت کچھ جان سکتا ہے۔ اللہ کرے کہ وطن کے لیے جو درد مصنف کے دل میں ہے وہ ان لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جو اس ملک میں کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہیں تو کچھ بعید نہیں کہ ہم ایک شاندار مستقبل کی طرف اپنا سفر شروع کریں اور منزل بھی پالیں۔

Sar Zmeen Bay Aaen

 

960
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 2
Loading...