بلوچستان معدنی ذخائر سے بھر پور ہے اور اسی لیے دنیا کی نظروں میں کھٹکتا ہوا کانٹا ہے۔ پاکستان اس وقت بری طرح عالمی سازشوں کا نشانہ ہے ،دہشت گردی نے جتنا نقصان پاکستان کو پہنچایا ہے اتنا کسی اور ملک کو نہیں اور یہ دہشت گردی صرف طالبان تک محدود نہیں جنہیں عالمی اور علاقائی طاقتیں مدد فراہم کرتی ہیں بلکہ اس میں وہ دوسری تنظیمیں اور افراد بھی شامل ہیں جو اپنے ذاتی مفاد، اپنی دولت اور حکومت کی خاطر اس ملک کی جڑوں میں پانی دے رہے ہیں اور یہاں بھی اُن کی مددگار یہی بیرونی طاقتیں ہیں۔ بلوچستان میں بھارت کی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جو مسلسل بلوچستان لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے کو مدد فراہم کر رہا ہے یہاں سے بھارت ساختہ اسلحہ مل چکا ہے اور کئی اور ثبوت بھی بقول حکومت کے اس کے پاس موجود ہیں جو بھارتی وزیراعظم کو شرم الشیخ میں پیش بھی کیے گئے۔ اور اس بار پھر بی ایل اے اور خان آف قلات نے اپنے پرانے آقا سے مالی مدد کی درخواست کی لیکن اس بار ان سے معذرت کی گئی، وجہ پاکستان سے محبت یا بلوچستان میں اپنے کردار پر شرمندگی نہیں تھی بلکہ اس کی کچھ اور وجوہات تھیں ،تاہم جب یہ انوکھا کام ہوا تو بی ایل اے اور خان آف قلات کو اپنے دوسرے آقا کی طرف رجوع کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی اور وہ امریکہ کے در پر پہنچ گئے جہاں ان کی پوری طرح شنوائی ہوئی اور ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے تین ممبروں نے کانگریس میں بلوچستان کے بارے میں ایک بل پیش کردیا جس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا رونا رویا گیا۔ بل پیش کرنے والوں میں ڈانا روہبیشر، لوئی گومرٹ اور سٹیوکنگ شامل تھے۔ بل میں کہا گیا کہ’’ بلوچستان پاکستان، ایران اور افغانستان میں منقسم ہے، پاکستانی بلوچستان میں لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے اور یہ صوبہ بدامنی کا شکار رہے اور یہ بل، بلوچیوں کے حقوق اور حق خود اختیاری کی حمایت کرتا ہے کہ اِن کی آزاد ریاست ہو اور انہیں اپنا مقام خود متعین کرنے کا حق حاصل ہو ‘‘یعنی دوسروں کے معاملات میں کھلی مداخلت ،جس کا حق امریکہ صرف اور صرف اپنے لیے محفوظ سمجھتا ہے اس بل سے پہلے بھی امریکہ کے خارجہ امور کی ایک ذیلی کمیٹی نے بلوچستان میں انسانی حقوق کا رونا رویا جس کی صدارت کانگریس مین روہبشرا نے کی اور اس کی خاص بات یہ تھی کہ اس اجلاس میں لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) رالف پیٹر نے بھی شرکت کی۔ یہ وہ شخص ہے جس نے 2006 میں اسلامی دنیا اور مشرق وسطیٰ کا نیا نقشہ بنایا تھا اور پاکستان کے نقشے کے حصے بخرے کر دئیے تھے۔ ظاہر ہے بی ایل اے اور خان آف قلات کو اس سے زیادہ پاکستان دشمنی میں موزوں شخص کہاں سے ملتا جو اسامہ بن لادن کی تمام کاروائیوں کا بدلہ بھی پاکستان سے لینا چاہتا ہے حالانکہ وہ پاکستانی شہری نہیں تھا اور نہ ہی اُسے پاکستان نے بنایا تھا بلکہ وہ امریکہ ساختہ تھا لیکن امریکہ اپنے ہر کیے کی سزا دوسرے کو دینے کی روش اپنائے ہوئے ہے۔ اگر چہ امریکی حکومت نے اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے لیکن ساری دنیا کو قابو کرنے کے لیے کوشاں امریکہ اپنے عہدے داروں یا سیاست دانوں کو قابو کیوں نہیں کر سکتا جو فاٹا اور بلوچستان میں بالخصوص اور پورے پاکستان میں بالعموم منفی کردار ادا کر رہے ہیں۔اس بل سے امریکہ نے حکومتی سطح پر لا تعلقی کا اظہار کیا ہے تاہم امریکی حکومت کا کہنا کوئی حیثیت اس لیے نہیں رکھتا کہ اُس کی این جی اوز اور تھنک ٹینک مسلسل پاکستان مخالف کاروائیوں میں مصروف ہیں اور ہر منفی سروے میں پاکستان کو سب سے اوپر رکھ کر پوری دنیا میں اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔ یہی سلوک بلوچستان کے معاملے میں کیا جا رہا ہے اس کے مخصوص جغرافیائی ، معاشی اور معاشرتی حالات کا فائدہ بہت سی غیر ملکی طاقتیں اٹھا رہی ہیں اور ایسا کرنے میں ہمارے اپنے ہی کچھ لوگ انہیں امداد فراہم کرتے ہیں۔ہمارے اس صوبے کے حالات کو کچھ اس طرح اچھا لا جاتا ہے جیسے یہاں پاکستان کا نام بھی کوئی سننا گوارا نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے آئین کو تسلیم کیا جاتا ہے حالانکہ ابھی سال بھی نہیں گزرا کہ یہاں کے عوام نے پاکستان کے آئین کے تحت عام انتخابات میں بھر پور حصہ لیا، اپنے نمائندے چنے اور ڈاکٹر عبدالمالک کے زیر قیادت قومی دھارے میں شامل ہوکر آئین پاکستان کے ہی تحت قومی معاملات میں حصہ لے رہے ہیں ۔ جہاں تک بلوچستان میں حالات کا تعلق ہے اس کے بارے میں ہر پاکستانی کو تشویش ہے کیونکہ قدرتی وسائل سے بھر پور اس صوبے پر عالمی اور علاقائی طاقتوں کی نظریں مسلسل جمی ہوئی ہیں جس کے بارے میں، میں اور میرے جیسے قومی درد رکھنے والے مسلسل چیخ رہے ہیں کہ اس کی طرف سنجیدگی سے توجہ دی جائے نہ کہ اسے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے۔ امن و امان کے حالات ملک کی کسی کونے میں اچھے نہیں ہیں اغوا، دھماکے، قتل، ڈکیتی پورے ملک میں ہے افراد گم بھی ہر صوبے سے ہوتے ہیں لیکن بلوچستان کے معاملے کو ایک اور انداز میں اچھالا جاتا ہے اور ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ لاپتہ یا گمشدہ افراد کا مسئلہ صرف بلوچستان میں ہے اور یوں بی ایل اے اور دوسرے شرپسندوں کے نکتہء نظر کو مزید تقویت دے دی جاتی ہے۔
چاہے جو بھی کہہ دیا جائے بلوچستان پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور جس طرح کوئی بھی ملک اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت پسند نہیں کرتا ویسا ہی پاکستان کا نکتہء نظر ہے اور دوسروں کو پاکستان کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے ہاں یہاں مسئلہ یہ ہے کہ عوام تو بولتے ہیں لیکن حکومت معذرت خواہانہ رویہ اپنا لیتی ہے اور ظاہر ہے عالمی سطح پر اہمیت حکومتی نکتہء نظرکی ہوتی ہے عوامی رائے کو تو چیخ و پکار سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ بنگلہ دیش میں ملا عبدالقادر کو پاکستانی فوج کی مدد کرنے کی جرم میں سزا دیئے جانے پر پاکستان نے احتجاج کیا تو بنگلہ دیش نے اس پر غیر ضروری طور پر شدید ردِعمل ظاہرکیا اور اسے اپنے معاملات میں مداخلت کہا اور حسب معمول ہمارے کچھ اپنے لوگوں نے بھی ان کی حمایت کی حالانکہ معاملہ پاکستان سے ہی متعلق تھا اس لیے پاکستان کو احتجاج کا حق تھا۔ لیکن ہمارے ملک کے بارے معاملہ مختلف رکھا جاتا ہے ہر شخص اور ملک اس کے بارے میں رائے بھی دیتا ہے اور قرار دادیں اور بل بھی پاس کرتا ہے اور ہماری حکومت اور میڈیا دونوں خاموش رہتے ہیں بلکہ ہمارے جو دانشور ملک اور حکومت کی مخالفت میں فرق روا نہیں رکھتے یا سمجھتے نہیں ہیں وہ اِن بلوں اور قرار دادوں کو بطور حوالہ پیش کر دیتے ہیں اور یہ رویہ قومی معاملات میں ان کی غیر سنجیدگی کی غمازی کرتا ہے۔
بلوچستان کا مسئلہ سنجیدہ ہے اور اسے سنجیدگی سے لینا ضروری ہے حکومت، میڈیا، عدالتیں ،فوج اورخفیہ اداروں کو اس کے بارے میں ہوشمندی سے کام لینا ہوگا ۔ غیر ملکی مداخلت کے ثبوت نہ صرف دنیا کو بلکہ اپنے عوام کو بھی دینا ضروری ہیں خاص کر بلوچوں کو اور ان کے اپنے سرداروں کی خود غرضیاں بھی ان کے سامنے رکھنا ضروری ہیں تاکہ وہ جان سکیں کہ حربیار یا برا ہمداغ یا آغا میر سلیمان داود خان آف قلات یا کوئی اور ناراض سردار ان کے لیے نہیں بلکہ اپنی سرداری قائم رکھنے کے لیے مصروف عمل ہے اور اُن کا مقصد انہیں خوش رکھنا نہیں بلکہ اپنے غیر ملکی آقاؤں کی خوشی ہے یہ آقا بھی وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے کبھی امریکہ، کبھی کرزئی اور اکثر اوقات بھارت ہوتا ہے ۔ بلوچستان کے عوام کو یہ بات سمجھانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ اُن کا دشمن کون ہے اور دوست کون، اور حکومت امریکہ سے بھی خوفزدہ ہونا چھوڑکر اس سے احتجاج کرے کہ اس کے ملک سے ہمارے ملک کے خلاف سازش کیوں کی جاتی ہے اور اگر بالفرض ہم دنیا کی نظر میں اسامہ کو پناہ دینے کے مجرم ہیں تو ہمارا ہر غدار اور مجرم ان بڑی طاقتوں کا مہمان کیوں بن جاتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ دوسروں کو سمجھانے کے لیے حکومتی کاروائی کی ضرورت ہے اور اب ہم پاکستانی عوام صرف دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ ہماری حکومتوں کو حوصلہ اور ہمت دے کہ وہ اپنے ملک اور ہم عوام کے لیے بول سکیں کیونکہ عوام تو اب حکومت کے لیے بول بول کر تھکنے لگے ہیں اور بہر حال حکومت کا کام حکومت کا ہے جو اسے کرتے رہنا چاہیے لہٰذا اُسے بلوچستان کے حالات پر خصوصی توجہ کے ساتھ بیرونی دشمنوں پر نظر بھی رکھنی چاہیے اور ان کا توڑ بھی کرنا چاہیے۔

1,229
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 4
Loading...