پچیس دسمبر آیا اور گزر گیا، ہم نے ہر سال کی طرح یوم قائداعظم منایا، سکولوں میں بھی پروگرام منعقد کیے گئے اور تنظیموں نے بھی مختلف تقر یبات کے ذریعے اپنے قا ئد کو یاد کیا اگر چہ اس قوم نے اپنے بانی کے حق کو کبھی اُس طرح ادا نہیں کیا جیسا کہ کیا جانا چاہیے تھا۔ کچھ عرصے سے ہمارے کچھ بزعم خود دانشور اور الیکٹرانک میڈیا کے اینکرز دو قومی نظریے کو چیلنج کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے نظریے کو سیکولر ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اور یوں مغربی آقاؤں کے منظور نظر بن کر اپنی دنیا سنوارنے کی کوشش میں مبتلا ہیں اور ان کا یہی رویہ اس بار یوم قائد پر بھی رہا ۔حیرت انگیز طور پر تقریبا تمام بڑے چینلز قائداعظم کے نظریہء حکومت پر پروگرام پیش کرتے رہے اور موضوع بحث تھاقائداعظم سیکولر پاکستان بنانا چاہتے تھے یا اسلامی جمہوریہ یعنی پاکستان کے بنیادی نظریے کوہی مشکوک بنانے کی کوشش ۔
مغلوں کی نا اہل حکومت کے ختم ہونے کے بعد انگریز کی حکومت ،مسلمانوں کی زبوں حالی، پسماندگی اور بحیثیت مسلمان قوم کے ان کے خلاف ہندو اور انگریز کا تعصب اور اس تعصب کے نتیجے مسلمانوں کے اندر بیداری سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے۔ خود مسلم لیگ کا قیام کا نگریس میں ہندؤں کی بالادستی کے مقابلے پر عمل میں لایا گیا۔ اس جماعت کے تمام بانی مسلمان تھے اور تمام مسلمانوں نے اس جماعت کو بحیثیت مسلمان جماعت کے قبول کیا اور اس کے جھنڈے تلے جمع ہوکر ایک اسلامی ریاست کے حصول کی کوشش کی ۔آج ہمارے ہاں کچھ لوگ اس لفظ اسلامی کو مسلم ریاست میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کچھ لفظ مسلم کو بھی ہٹا کر سیکولر کا سابقہ لگا رہے ہیں ۔ لیکن تاریخ کہتی ہے کہ برصغیر کا مسلمان قائداعظم اور مسلم لیگ کے پیچھے اس لیے چلا تھا کہ انہوں نے نعرہ لگایا تھا پاکستان کا مطلب کیا لاَ اِلہٰ الاللہ اور نہ تو کبھی قائداعظم اور نہ ہی کسی اور مسلمان رہنما نے اس نعرے کی مخالفت کی اور نہ ہی انہوں نے کسی کو یہ نعرہ لگانے سے روکا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ کون سا جذبہ، ارادہ اور نظریہ تھا جس کو بنیاد بناکر ایک نئے ملک کا مطالبہ کیا گیا تھا پھر آج نظریات کیسے تبدیل ہو گئے کون ہے جس کے کہنے پر ملک کا بنیادی نظریہ ہلایا جا رہا ہے قائداعظم کو زبردستی کیوں سیکولر بنایا جا رہا ہے اور ایسا کرنے والے کچھ روشن خیالوں نے تو ٹیلی وژن پر بیٹھ کر یہ بھی فرمایا کہ ہمار آئین اسلامی کیسے ہو سکتا ہے کیوں کہ اسلام اورریاست کا آپس میں کوئی تعلق نہیں انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ قرآن آئین کی کتاب نہیں لہٰذا یہ حکومت میں معاون نہیں ہے معاذاللہ با لفاظ دیگر وہ قرآن جس کو دنیا چودہ پندرہ سو سال سے مکمل ضابطہ حیات سمجھ رہی ہے وہ معاشرے کو نہیں چلا سکتا حالانکہ حکومت دراصل معاشرے کو چلانے کاہی دوسرا نام ہے یعنی اس قدر بے علم لوگ بھی نظام حکومت اور اسلام کے بارے میں بات کرتے ہیں خدا کی قدرت ہے، بلکہ ان صاحب نے تو کچھ معاملات کی خاص کر نشاندہی بھی کی یعنی اپنی مرضی منوانے کے لیے یوں اپنے دین پر خود انگلی اٹھائی جائے انتہائی افسوس کی بات ہے، لیکن’’ دانشوروں ‘‘کے اس گروپ کو اپنا مقصد پورا کرنا ہے چاہے جس قیمت پر بھی ہو۔ ان کے نزدیک مسئلہ یہ نہیں کہ قائداعظم کا نظریہ کیا تھا یا وہ کیسا پاکستان چاہتے تھے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اور ان کے آقا کیسا پاکستان چاہتے ہیں،یک اپا ہچ پاکستان ایک ایسا پاکستان جو دجالی منصوبوں کے آگے جھک جائے اور اس کے عوام جو اس بات پر فخر کرتے تھے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے وہ فخر ختم کر دیا جائے۔ بات یہ ہے کہ ہم قومی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے نئی نئی بحثیں کیوں چھیڑ رہے ہیں اور اِن چند معاملات کو جن پر قوم کا ایک ہی نکتہ نظر ہے ان پر بھی نا اتفاقی پیدا کیوں کی جا ری ہے ۔ پاکستان ستانوے فیصد مسلمانوں کا ملک ہے جنہوں نے بقائمی ہوش و ہواس دین اسلام کو قبول کیا ہے اورا سے اپنا رکھا ہے اور اِن میں سے سوائے چند لوگوں کے کسی کو اسلام اور اسلامی نظریہء حکومت سے اختلاف بھی نہیں تو پھر بحث کس چیز کی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ چند لوگ جب اسلامی نظریہ یا اسلامی جمہوریہ پاکستان پر بحث کرتے ہیں تو اس میں اقلیتوں کے حقوق کو شامل کر دیتے ہیں بھلا اقلیتوں کے حقوق سے کس کو احتراز یا اعتراض ہے وہ پاکستان کے شہری ہیں اور اپنے بل بوتے پر جو چاہے کر سکتے ہیں وہ ایک عام پاکستانی کی طرح اِس ملک میں انجینئر بھی ہیں، ڈاکٹر بھی ہیں، قانون دان اور سیاست دان بھی ہیں اور حتیٰ کہ استاد بھی ہیں ،وہ اپنی عبادت کرنے میں اُسی طرح آزاد ہیں جیسے کوئی مسلمان مسجد جانے کے لیے، میں نے سندھ میں مندر بھی بھرے ہوئے دیکھے ہیں پنجاب میں گوردوارے بھی اور پورے پاکستان میں چرچ بھی۔ کبھی کبھار اگر کوئی نا خوشگوار وا قعہ ہو جاتا ہے تو اس کے لیے ملک کے آئین اور قانون کو الزام دینا سرا سر زیادتی ہے اور اسے روکنے کے لیے سیکولر ہونے کی ضرورت ہے اور نہ قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنے کی ۔ان ’’دانشوروں‘‘ کے پاس اپنی بات منوانے کے لیے قائد کی 11 اگست 1947 کی تقریر کا واحد حوالہ ہے لیکن وہ یہ نہیں کہتے کہ قائد نے مسلمان اور ہندو کی بات کی تھی اسلام اور ہندومت کی نہیں ۔ ایسا بھی ہرگز نہیں کہ اسلام کسی مذہب کے ماننے والوں سے اُس کے حقوق چھینتا ہے بلکہ جتنا اسلام بحیثیت مذہب یہ حقوق دیتا ہے اتنا کوئی دوسرا مذہب نہیں اس کی سب سے بڑی مثال تو دنیا کا پہلا لکھا ہوا معاہدہ ،میثاق مدینہ ہے جس میں خود پیغمبر اسلام ﷺنے مدینہ کی اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو مذہبی آزادی عطا کی اور آپﷺ کے بعد آپ ﷺ کے خلفاء نے اسے اپنا فرض سمجھا۔ حضرت عمرؓ نے جب ایک بوڑھے یہودی کو بھیک مانگتے دیکھا اور پوچھنے پر انہیں بتایا گیا کہ وہ جز یہ ادا کرنے کے لیے بھیک مانگ رہاہے تو فر مایا اس نے اپنی جوانی اگر حکومت کو ٹیکس دینے میں لگادی تو کیا اب اس بڑھاپے میں اُسے بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دیا گیاہے ، اور آپ نے اس کو نہ صرف ٹیکس سے مثتشنیٰ قرار دے دیا بلکہ بیت المال سے اس کے لیے وظیفہ مقرر کیا، لیکن ہمارے یہ ’’روشن خیال لا علم‘‘ جس طرح قائداعظم کی صرف ایک تقریر کو بطور حوالہ استعمال کرتے ہوئے باقی تمام تقاریر کو بھول جاتے ہیں بلکہ دراصل پڑھتے ہی نہیں ہیں اس سے بھی بڑھ کر یہ اسلام اور تاریخ اسلام سے نا واقف ہیں، اور یوں ایک قومی جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وہ بھارت کی مثال تو دیتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ عملی طور پر آج بھی وہاں مسلم کش فسادات میں مسلمانوں کا خون بہتا ہے ،عیسائی اب بھی ہندؤں کا نشانہ بنتے ہیں اور خود ہندو آج بھی برہمن، شودر اور دِلت ہے۔
میں جانتی ہوں کہ میرے قاری مجھے اکثر اپنے میڈیا سے شاکی پا کر شاید مجھے قنوطی خیال کرتے ہوں لیکن آج کے دور میں میڈیا اور اس کے اثر سے ا نکار نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا ایک غیر اہم مسئلے کو اہم اور اہم کو غیر اہم بنا سکتا ہے اور جب تمام چینلز ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے لیے ایک ہی مسئلے کو لے کر بیٹھ جائیں اور ایک جیسے خیالات نشر کر یں تو اس ملک کے عوام جنہیں غم روز گار سے ہی فرصت نہیں وہ کہاں قائد کے نظریات پڑھیں ،کہاں ان کی تقریر یں ڈھونڈیں، وہ تو وہی سچ سمجھنے لگتے ہیں جو انہیں دکھایا اور بتایا جاتا ہے۔ میڈیا سے دست بستہ درخواست ہے کہ خدا را اپنی تاریخ کا چہرہ مت مسخ کریں اور نہ ہی اپنے کا برین کو متنازعہ بنائیے ان کے بارے میں تو تاریخ وہی لکھے گی جو تھا آپ کے بگاڑنے سے یہ بگڑے گی نہیں لیکن ملک میں جن تنازعات کو جنم دیا جا رہا ہے اس کا ازالہ بھی مشکل ہوگا اور علاج بھی اور قوم اس دہشت گردی کو برداشت بھی نہیں کر پائے گی کیونکہ یہ سچ ہے کہ انتہا پسندی کے ایک سرے پر طالبان ہیں اور اسلام کی اپنی تشریح کر رہے یں تو دوسرے پر خود کو روشن خیال ثابت کرنے والے یہ چند لوگ ہیں اور درمیان میں عوامِ پاکستان ہیں جو اسلام کو اپنا رہنما سمجھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کے بزرگوں نے پاکستان کی بنیاد لاَ اِ الہٰ الاَ اللہ پر رکھی تھی اور بالکل درست رکھی تھی۔ قائداعظم نے اسے اسلامی قوانین کی تجربہ گاہ سمجھا اور کہا اور ایک نہیں کئی کئی بار کہا۔ یہاں اسلام کو آزمایا ہی کب گیا ہے جو پرویز ہو د بھائی اور اسی طبقہ کے لوگ اسلامی قوانین کی شکایت کر رہے۔ پاکستان اسلامی ملک ہی رہے گا آپ اسے لاکھ مسلم ریاست کہیں، یاد رکھیے مسلمان کا مذہب اسلام ہوتا ہے اور ان کی حکومت اسلامی اوراگر ملک میں جمہوریت ہو تو ملک اسلامی جمہوریہ ہی کہلائے گا اور اسی لیے پاکستان اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی رہے گا ۔ اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو اور اسے اندرونی و بیرونی ہر قسم کے دشمنوں سے محفوظ رکھے ، آمین۔

2,310
PoorFairGoodVery GoodExcellent Votes: 4
Loading...